الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ
مسواک کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 559
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ تَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُتِيَ، فَقَالَ: ( (مَا لِي أَرَاكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا، اسْتَاكُوا، لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ) )
سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ تم میرے پاس اس حال میں آئے ہو کہ تمہارے دانتوں پر میل کچیل اور زردی نظر آ رہی ہے، مسواک کیا کرو، اگر امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں نے مسواک کو وضو کی طرح فرض کر دینا تھا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 559]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو علي الزراد مجھول۔ أخرجه البزار: 498، والطبراني: 1301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:1835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1835»
وضاحت: فوائد: … امام صنعانی نے کہا: مسواک کی فضیلت میں ایک سو سے زیادہ احادیث منقول ہیں، لیکن بڑا تعجب ہے کہ اتنی کثیر احادیث کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد نے بلکہ کئی فقہاء نے غفلت برتی ہے، پس یہ بڑی ناکامی ہے۔ (سبل السلام: ۱/ ۴۱)
الحكم على الحديث: ضعیف
50. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ عِنْدَ الصَّلَاةِ
نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 560
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ عِشَاءَ الْآخِرَةَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَيَقُولُ قَائِلٌ: أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى، أَلَا دَاعٍ يُجَابُ، أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى، أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرُ لَهُ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا اور نماز عشا کو رات کے پہلے ایک تہائی حصے تک مؤخر کر دیتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب رات کا پہلا ایک تہائی گزرتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور طلوع فجر تک یہیں رہتے ہیں، اس دورانیے میں ایک کہنے والا یہ کہتا رہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ اس کو دیا جائے، کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کو جواب دیا جائے، کیا شفا طلب کرنے والا کوئی مریض ہے کہ اس کو شفا دے دی جائے اور بخشش طلب کرنے والا کوئی گنہگار ہے کہ اس کو بخش دیا جائے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 560]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الدارمي: 1484، وأخرجه البيھقي: 1/ 36 الي قوله: ثلث الليل الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 967»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 561
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ) ) قَالَ: فَكَانَ زَيْدٌ يَرُوحُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَسِوَاكُهُ عَلَى أُذُنِهِ بِمَوْضِعِ قَلَمِ الْكَاتِبِ، مَا تُقَامُ صَلَاةٌ إِلَّا اسْتَاكَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔“ سیدنا زید رضی اللہ عنہ جب مسجد کی طرف آتے تھے تو کاتب کے قلم کی طرح ان کے کان پر مسواک ہوتی تھی، جب بھی نماز کھڑی کی جاتی تھی تو وہ نماز سے پہلے مسواک کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 561]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 47، والترمذي: 23، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22026»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 562
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 562]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 477، والدارمي: 1485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 607»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 563
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (فَضْلُ الصَّلَاةِ بِالسِّوَاكِ عَلَى الصَّلَاةِ بِغَيْرِ السِّوَاكِ سَبْعِينَ ضِعْفًا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسواک والی نماز کی فضیلت اس نماز پر ستر گنا زیادہ ہے، جس کے ساتھ مسواک نہ کی جائے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 563]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، وھذا اسناد منقطع، محمد بن اسحاق لم يسمع ھذا الحديث من الزھري۔ أخرجه الحاكم: 1/ 145، والبيھقي: 1/ 38، وابن خزيمة: 137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26871»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 564
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَوْلَا أَنَّ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ كَمَا يَتَوَضَّأُونَ) )
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ اس طرح مسواک کرنے کا حکم دے دیتا، جیسے وہ وضو کرتے ہیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 564]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 7127، والبخاري في التاريخ الكبير: 9/ 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27960»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر ہر نماز کے ساتھ مسواک استعمال کرنا چاہیے، اگرچہ وضو نہ بھی کرنا ہو اور اگر مسواک کی وجہ سے مسوڑھوں سے خون وغیرہ نکل آئے تو اس سے وضو متأثر نہیں ہو گا، اس کی مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
51. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ عِنْدَ الْوُضُوءِ
وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 565
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ (وَفِي رِوَايَةٍ: لَأَمَرْتُهُمْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ بِوُضُوءٍ وَمَعَ كُلِّ وُضُوءٍ سِوَاكٌ) وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ شَطْرِ اللَّيْلِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا اور نماز عشا کو ایک تہائی رات یا نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔“ ایک روایت میں ہے: ”میں ان کو ہر نماز کے ساتھ وضو کا اور ہر وضو کے ساتھ مسواک کا حکم دے دیتا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 565]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 887، ومسلم: 252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7406»
وضاحت: فوائد: … وضو کے ساتھ مسواک کرنا تو نماز کی خاطر ہے، جیسا کہ دوسری روایت کے الفاظ سے ثابت ہو رہا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کے علاوہ بھی مسواک کرتے تھے، جیسا کہ اگلے ابواب میں وضاحت آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 566
وَعَنْهُ أَيْضًا بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَقَدْ كُنْتُ أَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَبَعْدَ مَا أَسْتَيْقِظُ وَقَبْلَ مَا آكُلُ وَبَعْدَ مَا آكُلُ حِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قَالَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سننے کے بعد سونے سے پہلے، جاگنے کے بعد، کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد مسواک کرتا تھا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 566]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر لمرفوعه الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9183»
الحكم على الحديث: صحیح
52. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي كَيْفِيَّةِ التَّسَوُّكِ بِالْعُودِ وَتَسَوُّكِ الْمُتَوَضِّئِ بِإِصْبَعِهِ عِنْدَ الْمَضْمَضَةِ
لکڑی سے مسواک کرنے کی کیفیت اور کلی کرتے وقت وضو کرنے والے آدمی کا اپنی انگلی سے مسواک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 567
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَاكُ وَهُوَ وَاضِعٌ طَرْفَ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ يَسْتَنُّ إِلَى فَوْقَ، فَوَصَفَ حَمَّادٌ كَأَنَّهُ يَرْفَعُ سِوَاكَهُ، قَالَ حَمَّادٌ: وَوَصَفَهُ لَنَا غَيْلَانُ قَالَ: كَانَ يَسْتَنُّ طُولًا
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر داخل ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا کنارہ زبان پر تھا اور اوپر کو مسواک کر رہے تھے۔ حماد رحمہ اللہ نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا کہ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مسواک کو اٹھا رہے تھے، پھر حماد رحمہ اللہ نے کہا کہ غیلان رحمہ اللہ نے ہمیں یہ کیفیت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طول میں مسواک کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 244، ومسلم: 254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19975»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زبان پر لمبائی میں مسواک کی جائے گی، نیز مسواک صرف دانتوں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 568
عَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَابِ الرَّحْبَةِ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِي وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ، فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِهِ فِي فِيهِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا [الْحَدِيثُ سَيَأْتِي بِطُولِهِ فِي بَابِ صِفَةِ الْوُضُوءِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى]
ابو مطر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس رحبہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھاؤ،“ یہ زوال کا وقت تھا، پس انہوں نے قنبر غلام کو بلایا اور کہا: ”پانی کا برتن میرے پاس لاؤ،“ پس انہوں نے ہتھیلیوں اور چہرے کو تین تین دفعہ دھویا، تین بار کلی کی اور انگلی کو منہ میں داخل کیا اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا۔ (پوری حدیث باب صفة الوضوء میں آئے گی۔) [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 568]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف المختار بن نافع ولجھالة ابي مطر البصري۔ أخرجه عبد بن حميد: 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1356»
الحكم على الحديث: ضعیف