🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى عَدَمَ نَقْضِ الْوُضُوءِ بِمَسِّ الذَّكَرِ
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 789
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا إِذَا مَسَّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: ( (هَلْ هُوَ إِلَّا مِنْكَ، أَوْ بَضْعَةٌ مِنْكَ) )
۔ (تیسری سند) سیدنا طلقؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے تو کیا وہ وضو کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہی ہے، (اس سے وضو کرنے کی کیا ضرورت ہے)۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 789]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16404»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث سیدنا طلق کے حوالے سے مشہور ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ شرمگاہ کو چھونے سے وضو متاثر نہیں ہوتا۔ مذکورہ بالا تین احادیث کے مضمون میں بظاہر تعارض نظر آ رہا ہے اور وہ اس طرح کہ بعض احادیث میں شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا ذکر ہے، جبکہ بعض کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے،ان روایات کی بنیاد پر سلف و خلف میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ آیا شرمگاہ کو چھونا ناقض وضو ہے یا نہیں۔ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ وضو ٹوٹ جاتا ہے، بشرطیکہ چھونے کی صورت یہ ہو کہ ہاتھ اور شرمگاہ میں کوئی پردہ حائل نہ ہو، جیسا کہ سیدنا بسرہ اور سیدنا ابوہریرہؓ کی روایات کے الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے۔ لیکن سیدنا طلق کی روایت کا کیا جائے گا؟ محدثین نے جمع و تطبیق کے جتنے طریقے مقرر کیے ہیں، ان سب کی روشنی میں سیدنا بسرہ کی روایت پر عمل کیا جائے گا، مثال کے طور پر:
(۱)سیدنا طلق کی روایت کا تعلق اس صورت سے ہے، جب ہاتھ اور شرمگاہ کے درمیان پردہ حائل ہو، یہی تطبیق مناسب نظر آ رہی ہے، اس طرح سے دونوں روایات پر عمل کرنا ممکن ہو جائے گا۔
(۲)اگر اسانید کو دیکھا تو سیدنا بسرہ کی روایت راجح قرار پاتی ہے۔
(۳)اگر احتیاط کے معاملے کو سامنے رکھا جائے تو سیدہ بسرہؓ کی روایت پر عمل کرنا چاہیے، جس میں شرمگاہ کو چھونے کو ناقضِ وضو قرار دیا گیا ہے۔
(۴) اگر اباحت اور حظر میں تعارض پیدا ہو جائے تو حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، سیدہ بسرہؓکی حدیث کا تعلق حظر سے ہے۔
(۵)اگر متعارض امور میں سے ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس اعتبار سے بھی سیدنا طلق ؓکی حدیث منسوخ اور سیدہ بسرہؓ کی حدیث ناسخ اور قابل عمل قرار پاتی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سیدنا بسرہ ؓ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے شرمگاہ کے چھونے کوناقضِ وضو سمجھا جائے گا، واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16404
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لَمْسِ الْمَرْأَةِ وَتَقْبِيلِهَا
عورت کو چھونے اور اس کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 790
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ عُرْوَةُ: قُلْتُ لَهَا: مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ؟ فَضَحِكَتْ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیوی کابوسہ لیا اور پھر وضو کیے بغیر نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ میں (عروہ) نے کہا: یہ بیوی آپ ہی ہوں گی؟ یہ سن کر سیدہ مسکرا پڑیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 790]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 179، والترمذي: 86، وابن ماجه: 502، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26285»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 179
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 791
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يُقَبِّلُ وَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ
سیدہ عائشہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر کے نماز پڑھتے، پھر اپنی بیوی کا بوسہ لیتے اور پھر وضو کیے بغیر مزید نماز پڑھتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 791]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24833»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 503
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 792
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا وَالْبُيُوتُ لَيْسَ يَوْمَئِذٍ فِيهَا مَصَابِيحُ
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سویا کرتی تھی اور میری ٹانگیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبلہ کی سمت میں ہوتی تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ مجھے دباتے اور میں اپنی ٹانگوں کو سمیٹ لیتی تھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے تو میں ان کو بچھا دیتی، ان دنوں میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 792]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 382، 513، 1209، ومسلم: 512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25663»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں مؤخر الذکر حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے اندر اپنی زوجۂ محترمہ کے جسم کو چھوا ہے۔ خاوند کا اپنی بیوی کے وجود کو مس کرنا یا بوسہ دینا، اس سے وضو متأثر نہیں ہوتا، ہاں اگر اس کی وجہ سے مذی کے قطرے خارج ہو جائیں تو یہ علیحدہ بات ہو گی اور قطروں کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ سورۂ نساء کی آیت (۴۳) میں {اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَائَ} سے مراد بیویوں کے ساتھ مباشرت اور جماع ہے، مطلق چھونا نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 382
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الْقَيْءِ وَالْقَلْسِ وَالرُّعَافِ
قے، ڈکار اور نکسیر سے وضو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 793
عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ، قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ، قَالَ: صَدَقَ، أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ
معدان بن ابی طلحہ کہتے ہیں: سیدنا ابو درداءؓ نے مجھے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی اور پھر روزہ افطار کر دیا، اس کے بعد مسجد ِ دمشق میں مولائے رسول سیدنا ثوبانؓ سے جب میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان کو بتلایا کہ سیدنا ابو درداء ؓ نے مجھے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی اورپھر روزہ افطار کر دیا، انھوں نے کہا: جی انھوں نے سچ کہا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا پانی بہایا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 793]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 87، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22740»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 87
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 794
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَقَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَفْطَرَ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از خود قے کی تھی، اس لیے روزہ افطار کر دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 794]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28087»
وضاحت: فوائد: … سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں فاء سببیت کے لیے ہے یا تعقیب کے لیے، اگر سببیت کے لیے تسلیم کریں تو یہ مسئلہ ثابت ہو گا کہ قے سے روزہ اور وضو متاثر ہوتے ہیں، اور اگر اس کو تعقیب کے لیے تسلیم کیا جائے تو پھر صرف یہ ثابت ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالترتیب تین کام کیے، یہ ثابت نہیں ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی وجہ سے روزہ توڑا اور وضو کیا، جیسا کہ امام طحاوی نے کہا: (سیدنا ابو الدرداء اور سیدنا ثوبانؓ) کی احادیث سے یہ استدلال تو نہیں کیا جا سکتا کہ قے کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ان میں تو صرف یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی اور اس کے بعد روزہ توڑ دیا۔ زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ قے کے بعد وضو کر لیا جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ فاء سببیت کے لیے ہو۔ رہا مسئلہ قے کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جانے کا، تو اس حدیث کو درج ذیل حدیث کی روشنی میں سمجھا جائے گا: سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ وَھُوَ صَائِمٌ فَلَیْسَ عَلَیْہِ قَضَائٌ وَاِنِ اسْتَقَائَ فَلْیَقْضِ۔)) … جسے روزے کی حالت میں قے آ جائے اس پر قضا نہیں، لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر قے کر دے تو وہ قضائی دے۔ (ابوداود: ۲۳۸۰، ترمذی: ۷۱۶، ابن ماجہ: ۱۶۷۶) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی وجہ سے از خود قے کی، اس وجہ سے روزہ توڑ دیا۔ راجح مسلک کے مطابق ڈکار اور نکسیر ناقضِ وضو نہیں ہیں، اس موضوع کی درج ذیل روایت ضعیف ہے۔ سیدہ عائشہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَصَابَہُ قَیْئٌ اَوْ رُعَافٌ اَوْ قَلْسٌ اَوْ مَذْیٌ فَلْیَنْصَرِفْ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) … جسے (نماز میں) قے آ جائے یا نکسیر پھوٹ پڑے یا ڈکار آ جائے یا مذی آ جائے تو وہ (نماز سے) نکل جائے اور وضو کرے۔ (ابن ماجہ: ۱۲۲۱) لیکن یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش راوی ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْإِبِلِ
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 795
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: ( (إِنْ شِئْتَ تَوَضَّأْ مِنْهُ وَإِنْ شِئْتَ لَا تَوَضَّأْ مِنْهُ) ) قَالَ: أَفَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ) ) قَالَ: فَنُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: ( (لَا) ) قَالَ: أَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، صَلِّ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ) )
سیدنا جابر بن سمرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بکری کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو وضو کر لے اور چاہے تو وضو نہ کرے۔ اس نے کہا: تو کیا ہم اونٹ کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کیا کر۔ اس نے کہا: کیا ہم اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا ہم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کر۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 795]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21328»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 360
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 796
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا براء بن عازبؓ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 796]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 184، 493، والترمذي: 81، وابن ماجه: 494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18737»
وضاحت: فوائد: … سیدنا براء بن عازب ؓکی حدیث یوں ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹ کے گوشت سے وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو کیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتُصَلُّوْا فِیْھَا، فَاِنَّھَا مِنَ الشَّیَاطِیْنِ۔)) … تم ان میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطانوں میں سے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں نماز پڑھو، پس بیشک یہ جانور تو برکت ہے۔ معلوم ہوا کہ اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مزاج میں شیطنت پائی جاتی ہے، اس وجہ سے وہ نمازی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب، مینگنیاں اور گوبر وغیرہ پاک ہے، ایک دلیل کا ذکر ان احادیث میں بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، جبکہ ان باڑوں کی ہر جگہ پیشاب اور مینگنیوں سے متاثر ہوتی ہے، حدیث نمبر (۴۵۳)کی شرح میں اس مسئلہ پر بحث کی جا چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 184
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 797
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ ذِي الْغُرَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَرَضَ أَعْرَابِيٌّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تُدْرِكُنَا الصَّلَاةُ وَنَحْنُ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ أَفَنُصَلِّي فِيهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا) ) قَالَ: أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) قَالَ: أَفَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (نَعَمْ) ) قَالَ: أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا؟ قَالَ: ( (لَا) )
سیدنا ذو الغرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل رہے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اونٹوں کے باڑوں میں ہی نماز کا وقت ہو جائے تو کیا ہم ان میں نماز پڑھ لیا کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا ہم ان کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہم ان کے گوشت سے وضو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 797]
تخریج الحدیث: «ھو صحيح لكن من حديث البراء بن عازب، الذي تقدم برقم: 796، لا من حديث ذي الغرة ھذا۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 709، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16746»

الحكم على الحديث:
ھو صحيح لكن من حديث البراء بن عازب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 798
عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ، قَالَ: ( (تَوَضَّأُوا مِنْ أَلْبَانِهَا) ) وَسُئِلَ عَنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: ( (لَا تَوَضَّأُوا مِنْ أَلْبَانِهَا) )
سیدنا اسید بن حضیرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کے دودھ سے (وضو کرنے کے) بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے دودھ سے وضو کیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بکریوں کے دودھ کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے دودھ سے وضو نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 798]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، وقد اختلف عليه فيه، وعبد الرحمن ابن ابي ليلي لم يسمع من اسيد بن حضير۔ أخرجه ابن ماجه: 496، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19307»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنا ہو گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں