الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابٌ فِي الْمَسْحِ عَلَى ظَهْرِ الْخُفِّ
موزے کی پشت پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 751
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَهْرَ قَدَمَيْهِ وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ بِالْغُسْلِ
عبد ِ خیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا علیؓ کو دیکھا کہ انھوں نے پاؤں کی پشت پر مسح کیا اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پاؤں کے ظاہری حصے پر مسح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں یہی سمجھتا کہ پاؤں کا نیچے والا حصہ مسح کا زیادہ حقدار ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 751]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه عبدالرزاق: 57، والحميدي: 47، والنسائي في الكبري: 1200، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1014»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے دوسرے طرق میں موزوں پر مسح کا ذکر ہے، اس لیے ہم نے اس حدیث میں غسل کے لفظ کے معانی مسح کرنے کے کیے ہیں۔ اِس مسح کا طریقہ یہ ہے ہاتھ گیلا کر کے پاؤں کے سامنے والے ظاہری حصے پر پھیر دیا جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه عبدالرزاق: 57
36. بَابٌ مَا جَاءَ فِي مَسْحِ أَسْفَلِ الْخُفِّ وَأَعْلَاهُ
موزوں کے نیچے والے اور اوپر والے دونوں حصوں پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 752
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ثَنَا ثَوْرٌ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ عَنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ أَسْفَلَ الْخُفِّ وَأَعْلَاهُ
سیدنا مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں کے نیچے والے اور اوپر والے، دونوں حصوں پر مسح کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 752]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الوليد بن مسلم يدلس ويسوّي، ثم ان بين ثور بن يزيد ورجاء بن حيوة انقطاعا۔ أخرجه ابوداود: 165، والترمذي: 97، وابن ماجه: 550، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18383»
وضاحت: فوائد: … موزوںکے صرف ظاہری حصوں پر مسح کیا جائے گا، پچھلے باب میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
37. بَابٌ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ
جرابوں اورجوتوں پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 753
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 753]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 159، والترمذي: 99، وابن ماجه: 559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18393»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۶۸۱)کی شرح میں جرابوں پر مسح کرنے وضاحت کی جا چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 159
حدیث نمبر: 754
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ
سیدنا اوس بن ابی اوسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا، اس میں جوتوں پر مسح کیا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 754]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 160، وزاد: ومسح علي نعليه وقدميه، وعند الطبراني والحازمي: ومسح علي قدميه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16258»
الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 160
حدیث نمبر: 755
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ
۔ (دوسری سند) سیدنا اوس بن ابو اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور جوتوں پر مسح کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 755]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك النخعي، ولانقطاعه، يعلي بن عطاء لم يدرك اوس بن ابي اوس، بينھما والد يعلي، وھو مجھول، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16268»
وضاحت: فوائد: … جوتوں پر مسح کے جائز ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں، ایک یہ کہ جوتوںکے ساتھ موزے یا جرابیں بھی پہنی ہوئی تھیں، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باوضو ہونے کے باوجود یہ وضو کررہے تھے، جس میں پاؤں پر مسح کیا جاتا ہے، جیسا کہ چند ابواب پہلے اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شريك النخعي
حدیث نمبر: 756
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسِ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ فَتَوَضَّأَ
۔ (تیسری سند) سیدنا اوس ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قوم کی دو کنووں کے درمیان والی نالی کے پاس گئے اور وضو کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 756]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16256»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16256
38. (أبواب نواقض الوضوء)
نواقض الوضو کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: Q757]
39. بَابٌ فِي نَقْضِ الْوُضُوءِ بِمَا خَرَجَ مِنَ السَّبِيلَيْنِ. وَفِيهِ فُصُولٌ¤(الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ)
(بول و براز کے) راستوں سے خارج ہونے والی ہر چیز سے وضو ٹوٹ جانے کا بیان¤پیشاب اور پائخانہ سے وضو کرنا
حدیث نمبر: 757
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ: كُنَّا نَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَأْمُرُنَا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ، وَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَهْوَرِيُّ الصَّوْتِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ) )
زر بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال ؓ کے پاس گیا اور موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم سفر میں پائخانہ، پیشاب اور نیند کی وجہ سے تین دنوں تک موزوں کو نہ اتارا کریں، البتہ جنابت سے اتارنا پڑیں گے۔ اتنے میں ایک بلند آواز والا بدّو آیا اور اس نے کہا: اے محمد! ایک آدمی، ایک قوم سے محبت تو رکھتا ہے، لیکن وہ ابھی تک اس کو ملا نہیں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی ان کے ساتھ ہو گا، جن سے وہ محبت رکھتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 757]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 3535، والنسائي: 1/ 98، وابن ماجه: 478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18260»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ پائخانہ، پیشاب اور نیند کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 3535
40. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي الْوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ
ہواخارج ہونے سے وضو کرنا
حدیث نمبر: 758
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا نَكُونُ بِالْبَادِيَةِ فَتَخْرُجُ مِنْ أَحَدِنَا الرُّوَيْحَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ، وَقَالَ مَرَّةً: فِي أَدْبَارِهِنَّ
سیدنا علی بن طلق ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جنگل میں ہوتے ہیں اور کسی کی ہوا نکل جاتی ہے، (ایسے میں کیا کریں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حق کو بیان کرنے سے نہیں شرماتا، جب تم میں کوئی اس طرح کرتا ہے تو وہ وضو کیا کرے اور عورتوں کو پشت سے استعمال نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 758]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مسلم بن سلام مجھول۔ أخرجه الترمذي: 1166، وابوداود: 205، 1005، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 655»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے آخری جملے کی وضاحت: معلوم ہوا کہ بیوی کو پشت سے استعمال کرنا یعنی اس سے غیر فطری جماع کرنا حرام ہے، خاوندوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس عضو کو حق زوجیت کا محل قرار دیا ہے، اسی کو استعمال کریں۔ غیر فطری جماع سے مراد پائخانہ والی جگہ کو استعمال کرنا ہے، اس کا یہ مفہوم نہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو الٹا نہیں لٹا سکتا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ} (سورۂ بقرہ: ۲۲۳) یعنی: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ یہودیوں کا خیال تھا کہ اگر عورت کو پیٹ کے بل لٹا کر مباشرت کی جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ ان کے خیال کی تردید کی جا رہی ہے کہ چت لٹا کر مباشرت کی جائے یا پیٹ کے بل یا کروٹ پر، اس سے اولاد میں کوئی فرق نہیں پڑتا، ضروری یہ ہے کہ ہر صورت میں عورت کی مباشرت والی جگہ ہی استعمال ہو۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 759
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشُمُّ ثَوْبَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: مِمَّ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا وَضُوءَ إِلَّا مِنْ رِيحٍ أَوْ سَمَاعٍ) )
محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سیدنا سائب بن خباب ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے کو سونگ رہے تھے، میں نے کہا: ایسے کیوں کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: صرف بدبوسے یا ہوا کی آواز سن لینے سے وضو ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 759]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 516، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15591»
وضاحت: فوائد: … یہ حکم اس شخص کے لیے ہے، جس کو وضو کر لینے کے بعد وضو کے ٹوٹ جانے کا شک پڑ جائے،یعنی جب تک اسے بدبو پا لینے یا آواز سن لینے کے ساتھ یہ یقین نہ ہو جائے کہ واقعی وضو ٹوٹ گیا ہے، تو اس کا پہلا وضو برقرار رہے گا۔ اگلی حدیث کے فوائد میں مذکورہ حدیث سے یہی مفہوم واضح ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 516