الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي لَوْمِ الْقَاعِدِ
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ عَفَّانُ: قَالَ حَمَّادٌ: أَنَا أَيُّوبُ وَقَيْسٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا ثُمَّ نَامُوا ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا، قَالَ قَيْسٌ: فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّأُوا
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا، یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ بالآخر سیدنا عمر بن خطاب ؓآئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! نماز پڑھائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، راوی نے اس قسم کی کوئی بات ذکر نہیں کی کہ انھوں نے وضو کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 769]
تخریج الحدیث: «أخرج نحوه البخاري: 7239، ومسلم: 642، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2195»
الحكم على الحديث:
أخرج نحوه البخاري: 7239
حدیث نمبر: 770
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، قَالَ عَفَّانُ: أَوْ أُخِّرَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً فَقَامَ مَعَهُ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ، أَوْ قَالَ: بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَذْكُرْ وَضُوءًا
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز عشاء کے لیے اقامت کہہ دی گئی یا ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا گیا، پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ سرگوشی کرنے لگے، یہاں تک کہ لوگ سونے لگ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور وضو کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 770]
تخریج الحدیث: «أخرج نحوه البخاري: 7239، ومسلم: 642، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13868»
الحكم على الحديث:
أخرج نحوه البخاري: 7239
حدیث نمبر: 771
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ وَلَا يَتَوَضَّأُونَ
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام سو جاتے تھے اور پھر نیا وضو نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 771]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 376، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13983»
وضاحت: فوائد: … مسند بزار (۲ /۳۳۴) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانُوْا یَضَعُوْنَ جُنُوْبَھُمْ، فَمِنْھُمْ مَنْ یَتَوَضَّأُ وَمِنْھُمْ مَنْ لَا یَتَوَضَّأُ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اپنے پہلوؤں پر سوجاتے تھے، پھر (نماز ادا کرتے وقت) کوئی وضو کرتا تھا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ بیٹھ کر اور لیٹ کر سونے میں اس اعتبار سے فرق کرنا درست نہیں ہے کہ بیٹھنے والے کا وضو برقرار رہتا ہے اور لیٹ جانے والے کا ٹوٹ جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 376
حدیث نمبر: 772
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا نَوَّامًا وَكُنْتُ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَيَّ ثِيَابِي نَمْتُ، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: فَأَنَامُ قَبْلَ الْعِشَاءِ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَرَخَّصَ لِي
سیدنا علیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ سونے والا آدمی تھا، اس لیے جب میں مغرب پڑھتا اور مجھ پر میرے کپڑے ہوتے تو میں سو جاتا، پھر ایک دفعہ یحیی بن سعید نے علیؓ کی بات نقل کرتے ہوئے یہ کہا: تو میں عشاء سے پہلے سو جاتا پس جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رخصت دے دی۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 772]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن ابي ليلي سييء الحفظ، وجدة ابن الاصبھاني لاتُعرف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 892»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام بیٹھ کر بھی سو جاتے تھے اور لیٹ کر بھی، لیکن اِس نیند کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ لیکن درج ذیل دو احادیث میں نیند کو مطلق طور پر ناقضِ وضو قرار دیا گیا ہے:
(۱) سیدنا صفوانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ یَأْمُرُنَا (یَعْنِی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِذَا کُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِیْنَ أَنْ لَّا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ اِلَّا مِنْ جَنَابَۃٍ وَلٰـکِنْ مِن غَائِطٍ وَبَولٍ وَنَوْمٍ۔
… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر کر رہے ہوں تو تین دنوں اور راتوں تک پائخانے، پیشاب اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتارا کریں، البتہ جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔ (ترمذی: ۳۵۳۵، نسائی: ۱/ ۹۸، ابن ماجہ: ۴۷۸، واللفظ لاحمد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب اور پائخانہ کی طرح نیند بھی مطلق طور پر ناقضِ وضو ہے۔
(۲) سیدنا علیؓسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وِکَائُ السَّہِ الْعَیْنَانِ فَمَنْ نَامَ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) … بیشک آنکھیں، دُبُر کے لیے تسمہ ہیں، اس لیے جو سو جائے، وہ وضو کرے۔ (ابوداود: ۲۰۳، ابن ماجہ: ۴۷۷) سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ، فَاِذَا نَامَتِ الْعَیْنَانِ اسْتَطْلَقَ الْوِکَائُ۔)) … بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۷۹،دارمی: ۱/ ۱۸۴، بیھقی: ۱/ ۱۱۸، دارقطنی: ۱/ ۱۶۰) یہ احادیث بھی مطلق طور پر اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ نیند مطلق طور پر وضو کو توڑ دیتی ہے۔
(۳) تیسری بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کو اس طرح پایا گیا کہ بیٹھے بیٹھے ان کو نیند آ گئی اور نیند کے دوران آواز کے ساتھ ان کی ہوا خارج ہوئی، لیکن ان کو علم تک نہ ہو۔ پھر ان کو بتلایا گیا کہ اُن کا وضو ٹوٹ چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس باب کی احادیث اور ان کی شرح سے ثابت ہوتا ہے کہ نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا، جبکہ درج بالا تین احادیث سے یہ پتہ چل رہا کہ نیند ناقض وضو ہے۔ راجح مذہب کے مطابق ان نصوص میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ درج بالا جن احادیث میں نیند کے ناقضِ وضو ہونے کا ذکر ہے، ان کو ناسخ سمجھ کر نیند کو مطلق طور پر وضو توڑ دینے والا امر قرار دیا جائے اور جن احادیث میں صحابہ کے سونے اور پھر وضو نہ کرنے کا ذکر ہے، ان کو منسوخ سمجھا جائے، اس صورت کی درج ذیل وجوہات ہیں:
(۱) اگر اباحت اور حظر میں تعارض پیدا ہو جائے تو حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، ان روایات میں نیند کا ناقضِ وضو ہونا حظر ہے۔
(۲)اگر متعارض امور میں سے ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس اعتبار سے نیند کو توڑ دینے والے حکم پر مشتمل احادیث ناسخ اور قابل عمل قرار پاتی ہیں۔
(۳) متعارض نصوص میں احوط یعنی زیادہ احتیاط والی نص پر عمل کیا جائے اور اِن احادیث میں زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ نیند کو ناقضِ وضو سمجھ لیا جائے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ صورتیں اس وقت اختیار کی جاتی ہیں جب واضح طور پر نسخ کا علم نہ ہو سکے۔ اونگھ اور اس کی طرح کی ہلکی نیند، جس میں شعور باقی رہتا ہے، ناقض و ضو نہیں ہے۔
صحابہ کے نیند سے وضو نہ کرنے کی صورت کو بھی ہلکی نیند پر محمول کر لیا جائے جس سے شعور باقی رہتا ہے تو اس طرح بھی متعارض نصوص کا تعارض ختم ہو سکتا ہے۔ علامہ عبیداللہ رحمانی رحمتہ اللہ علیہ نے (مرعاۃ المفاتیح، ص: ۳۹۶، رقم الحدیث: ۳۱۹) میں ابو علامہ محمد بن اسماعیل صنعانی نے سبل السلام کے آغاز میں اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
(۱) سیدنا صفوانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ یَأْمُرُنَا (یَعْنِی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِذَا کُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِیْنَ أَنْ لَّا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ اِلَّا مِنْ جَنَابَۃٍ وَلٰـکِنْ مِن غَائِطٍ وَبَولٍ وَنَوْمٍ۔
… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر کر رہے ہوں تو تین دنوں اور راتوں تک پائخانے، پیشاب اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتارا کریں، البتہ جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔ (ترمذی: ۳۵۳۵، نسائی: ۱/ ۹۸، ابن ماجہ: ۴۷۸، واللفظ لاحمد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب اور پائخانہ کی طرح نیند بھی مطلق طور پر ناقضِ وضو ہے۔
(۲) سیدنا علیؓسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وِکَائُ السَّہِ الْعَیْنَانِ فَمَنْ نَامَ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) … بیشک آنکھیں، دُبُر کے لیے تسمہ ہیں، اس لیے جو سو جائے، وہ وضو کرے۔ (ابوداود: ۲۰۳، ابن ماجہ: ۴۷۷) سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ، فَاِذَا نَامَتِ الْعَیْنَانِ اسْتَطْلَقَ الْوِکَائُ۔)) … بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۷۹،دارمی: ۱/ ۱۸۴، بیھقی: ۱/ ۱۱۸، دارقطنی: ۱/ ۱۶۰) یہ احادیث بھی مطلق طور پر اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ نیند مطلق طور پر وضو کو توڑ دیتی ہے۔
(۳) تیسری بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کو اس طرح پایا گیا کہ بیٹھے بیٹھے ان کو نیند آ گئی اور نیند کے دوران آواز کے ساتھ ان کی ہوا خارج ہوئی، لیکن ان کو علم تک نہ ہو۔ پھر ان کو بتلایا گیا کہ اُن کا وضو ٹوٹ چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس باب کی احادیث اور ان کی شرح سے ثابت ہوتا ہے کہ نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا، جبکہ درج بالا تین احادیث سے یہ پتہ چل رہا کہ نیند ناقض وضو ہے۔ راجح مذہب کے مطابق ان نصوص میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ درج بالا جن احادیث میں نیند کے ناقضِ وضو ہونے کا ذکر ہے، ان کو ناسخ سمجھ کر نیند کو مطلق طور پر وضو توڑ دینے والا امر قرار دیا جائے اور جن احادیث میں صحابہ کے سونے اور پھر وضو نہ کرنے کا ذکر ہے، ان کو منسوخ سمجھا جائے، اس صورت کی درج ذیل وجوہات ہیں:
(۱) اگر اباحت اور حظر میں تعارض پیدا ہو جائے تو حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، ان روایات میں نیند کا ناقضِ وضو ہونا حظر ہے۔
(۲)اگر متعارض امور میں سے ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس اعتبار سے نیند کو توڑ دینے والے حکم پر مشتمل احادیث ناسخ اور قابل عمل قرار پاتی ہیں۔
(۳) متعارض نصوص میں احوط یعنی زیادہ احتیاط والی نص پر عمل کیا جائے اور اِن احادیث میں زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ نیند کو ناقضِ وضو سمجھ لیا جائے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ صورتیں اس وقت اختیار کی جاتی ہیں جب واضح طور پر نسخ کا علم نہ ہو سکے۔ اونگھ اور اس کی طرح کی ہلکی نیند، جس میں شعور باقی رہتا ہے، ناقض و ضو نہیں ہے۔
صحابہ کے نیند سے وضو نہ کرنے کی صورت کو بھی ہلکی نیند پر محمول کر لیا جائے جس سے شعور باقی رہتا ہے تو اس طرح بھی متعارض نصوص کا تعارض ختم ہو سکتا ہے۔ علامہ عبیداللہ رحمانی رحمتہ اللہ علیہ نے (مرعاۃ المفاتیح، ص: ۳۹۶، رقم الحدیث: ۳۱۹) میں ابو علامہ محمد بن اسماعیل صنعانی نے سبل السلام کے آغاز میں اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
45. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي أَنَّ نَوْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْقُضُ وُضُوءَهُ وَلَوْ مُضْطَجِعًا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
حدیث نمبر: 773
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح سو گئے کہ آواز کے ساتھ سانس لینے لگے، پھر جب اٹھے تو نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 773]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، وأخرجه البخاري: 6316، ومسلم: 763 مطولا، لكن فيهما ذكر انه صلي الله عليه وآله وسلم نام ثم قام وصلي ولم يتوضأ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2084»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 774
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدہ عائشہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث روایت کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 774]
حدیث نمبر: 775
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وَضُوءًا خَفِيفًا فَقَامَ فَصَنَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَمَا صَنَعَ ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ فَصَلَّى فَحَوَّلَهُ فَجَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ، فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ، فَكُنَّا نَقُولُ لِعَمْرٍو: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہؓ کے گھر رات گزاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، ہلکا سا وضو کیا اور نماز شروع کر دی، سیدنا ابن عباسؓ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح عمل کیا اور پھر آ کر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پھیر کر دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو کر لیٹ گئے، یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا (اور نمازِ فجر کی اطلاع دی)، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے چلے گئے اور وضو نہیں کیا۔ دوسری روایت میں ہے: سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی دو سنتیں پڑھ لیں تو لیٹ گئے اور خرّاٹے لینے لگے، پس ہم عمرو سے کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: میرے آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 775]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 138، 726، 859، ومسلم: 763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1912»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 138
حدیث نمبر: 776
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ وَأَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا
سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح سو جاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خرّاٹوں کی آواز آنے لگتی، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ عکرمہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو حفاظت کی گئی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 776]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البيھقي: 1/ 121، وحديث ابن عباس روي في المسند بالفاظ مختلفة ومطولة ومختصرة و منھا ما رواه الشيخان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2194»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ناقضِ وضو نہیں تھی، کیونکہ نیند کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بیدار رہتا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه البيھقي: 1/ 121
46. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي وُضُوءِ مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
حدیث نمبر: 777
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ وَأَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی سجدے کی حالت میں سو جائے، اس پر کوئی وضو نہیں ہے، وضو اس پر ہے جو لیٹ کر سو جاتا ہے، کیونکہ جب بندہ لیٹ کر سوتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے اور سست پڑ جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 777]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، يزيد بن عبد الرحمن مختلف فيه۔ أخرجه ابوداود: 202، والترمذي: 77، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2315 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2194»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث اور وہ تمام روایات، جن میں بیٹھنے اور لیٹ کر سونے میں فرق کیا گیا ہے، وہ ضعیف ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 778
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الْعَيْنَ وَكَاءُ السَّهْوِ فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ) )
سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جو سو جائے، وہ وضو کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 778]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: حسن۔ أخرجه ابوداود: 203، وابن ماجه: 477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 887 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 887»
الحكم على الحديث:
قال الالباني: حسن۔ أخرجه ابوداود: 203