الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي الْوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ
ہواخارج ہونے سے وضو کرنا
حدیث نمبر: 760
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا وَضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ أَوْ رِيحٍ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو کرنا نہیں ہے، مگر ہوا کی آواز سے یا بو پا لینے سے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 760]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 515، والترمذي: 74، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9302»
وضاحت: فوائد: … امام بیہقی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ درج بالا حدیث دراصل درج ذیل حدیث کا اختصار ہے: سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا وَجَدَ اَحُدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہٖ حَرَکَۃً فِیْ دُبُرِہٖ، فَاَشْکَلَ عَلَیْہِ اَحْدَثَ اَمْ لَمْ یُحْدِثْ، فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتًا اَوْ یَجِدَ رِیْحًا۔)) … جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں اپنی دُبُر میں کوئی حرکت پائے اور اسے یہ شبہ پڑ جائے کہ وہ بے وضو ہو گیا ہے یا نہیں، تو وہ اس وقت تک (نئے وضو کے لیے) نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بدبو نہ پا لے۔ (صحیح مسلم: ۳۶۲، واللفظ لاحمد: ۹۳۵۵) بہرحال اس حدیث ِ مبارکہ سے اوپر والی احادیث کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 515
حدیث نمبر: 761
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ) ) قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ حَضَرَمَوْتَ: مَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے وضو ہو جانے والا جب تک وضو نہیں کرے گا، اس وقت تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔ یہ سن کر حضرموت کے ایک باشندے نے ان سے سوال کیا: اے ابوہریرہ! حَدَث سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: پھسکی چھوڑنا یا گوز مارنا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 761]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 135، 6954، ومسلم: 225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8064»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر ہوا خارج ہونے سے ہی وضو ٹوٹتا ہے، اس لیے سیدنا ابو ہریرہ ؓنے صرف اِس چیز کا ذکر کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 135
حدیث نمبر: 762
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَتْ سَلْمَى مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ امْرَأَةُ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَبِي رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي رَافِعٍ: ( (مَالَكَ وَلَهَا يَا أَبَا رَافِعٍ؟) ) قَالَ: تُؤْذِينِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بِمَ آَذَيْتِيهِ يَا سَلْمَى؟) ) قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا آَذَيْتُهُ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ أَحْدَثَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِهِمُ الرِّيحُ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَقَامَ فَضَرَبَنِي، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ وَيَقُولُ: ( (يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّهَا لَمْ تَأْمُرْكَ إِلَّا بِخَيْرٍ) )
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ کی لونڈی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام سیدنا ابو رافعؓ کی بیوی سیدہ سلمی اپنے خاوند کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں، اس نے اس کو مارا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو رافعؓ سے فرمایا: ابو رافع! تیرا اور اس کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلمی! تو نے اس کو کون سی تکلیف دی ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو کوئی تکلیف نہیں دی، یہ بات ضرور ہوئی کہ نماز کے اندر اس کا وضو ٹوٹ گیا، اس لیے میں نے اس سے کہا: اے ابو رافع! بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب کسی کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ وضو کیا کرے، لیکن یہ کہنا تھا کہ انھوں نے اٹھ کر مجھے مارنا شروع کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر مسکرانے لگ گئے اور یہ فرمانے لگے: ابو رافع! اس نے تو تجھے خیر کا ہی حکم دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 762]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 280، والطبراني في الكبير: 24/ 765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26870»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 280
41. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ وَالْوَدْيِ وَدَمِ الِاسْتِحَاضَةِ
مذی، ودی اور استحاضہ کے خون سے وضو کرنا
حدیث نمبر: 763
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (أَمَّا الْمَنِيُّ فَفِيهِ الْغُسْلُ وَأَمَّا الْمَذِيُّ فَفِيهِ الْوُضُوءُ) )
سیدنا علیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی، اس کے بارے میں میرے سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مَنِی میں غسل ہوتا ہے اور مذی میں وضوہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 763]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 132، 178، ومسلم: 303 بلفظ قريب منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 662 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 662»
وضاحت: فوائد: … مذی سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، مذی کے باقی احکام حدیث نمبر (۴۶۵)کے فوائد میں گزر چکے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 132
حدیث نمبر: 764
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحِيضْتُ، فَقَالَ: ( (دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضَتِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ عَلَى الْحَصِيرِ) )
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دیا کر، پھر غسل کر کے نماز پڑھا کر اور ہر نماز کے لیے وضو کیا کر، اگرچہ اس خون کے قطرے چٹائی پرگرتے رہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 764]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 299، 300، وابن ماجه: 624، وأخرجه البخاري: 327، و مسلم: 334 من حديث فاطمة بنت ابي حبيش، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24646»
وضاحت: فوائد: … جس مرد اور عورت کو مستقل طور پر کوئی ایسی بیماری ہوجس سے وضو ٹوٹ جاتا ہو، مثلا پیشاب کے قطروں کا مسلسل آتے رہنا، گیس کا مسلسل خارج ہوتے رہنا، پیشاب اور پائخانے کے راستہ سے خون کا بہتے رہنا، بعض مریضوں کے پائخانے کا مسلسل خارج ہوتے رہنا، ان تمام لوگوں کا استحاضہ والی خاتون کا حکم ہے۔ ان افراد کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہر مستقل نماز کے لیے علیحدہ وضو کیا جائے گا، مثلا ایک آدمی زوال سے پہلے دو رکعت صلاۃ الاوابین پڑھتا ہے، پھر زوال کے بعد نماز ظہر ادا کرتا ہے اور اس کے متصل بعد نماز جنازہ پڑتا ہے، چونکہ یہ تین مستقل نمازیں ہیں، اس لیے تینوں کے لیے علیحدہ علیحدہ وضو کیا جائے گا، اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کے لیے بھی ایک دفعہ وضو کر لیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ فرض نمازوں کے پہلے یا بعد والی سنتیں اُن ہی کے تابع ہوتی ہیں، اس لیے ان کے لیے علیحدہ وضو کی ضرورت نہیں ہے۔
ہمارا نظریہ یہ ہے کہ قرآن مجیدکو چھونے کے لیے وضو کرنا چاہیے، اگر زبانی یا چھوئے بغیر دیکھ کر تلاوت کرنی ہو تو اس کے لیے وضو ضروری نہیں، مستحبّ ہے۔
ہمارا نظریہ یہ ہے کہ قرآن مجیدکو چھونے کے لیے وضو کرنا چاہیے، اگر زبانی یا چھوئے بغیر دیکھ کر تلاوت کرنی ہو تو اس کے لیے وضو ضروری نہیں، مستحبّ ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 299
42. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي الشَّكِّ فِي الْحَدَثِ
بے وضگی کا شک پڑ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 765
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ حَرْكَةً فِي دُبُرِهِ فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ يُحْدِثْ فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی دُبُر میں کوئی حرکت پائے، جس کی وجہ سے وہ اِس اشکال میں پڑ جائے کہ وہ بے وضو ہو گیا ہے یا نہیں، تو ایسی صورت میں وہ (وضو کے لیے) اس وقت تک نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ پالے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 765]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 362، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9344»
وضاحت: فوائد: … دُبُر: اس لفظ کے یہ مختلف معانی ہیں: پیٹھ، سرین، ہر چیز کا پچھلا حصہ، آخری حصہ۔ لیکن یہاں اس سے مراد پائخانہ والی جگہ کے پاس والا اندرونی حصہ ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 362
حدیث نمبر: 766
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَّ بِهِ كَمَا يَبُسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ فَإِذَا سَكَنَ لَهُ أَضْرَطَ بَيْنَ إِلْيَتَيْهِ لِيَفْتِنَهُ عَنْ صَلَاتِهِ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا لَا يَشُكُّ فِيهِ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز ادا کر رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کو وسوسے میں ڈالنے کے لیے اس کے پاس آ کر وہ اس طرح مختلف حیلے استعمال کرتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور کو روکنے کے لیے بِس بِس کرتا ہے، جب وہ بندہ اس (شیطان سے) مانوس ہو جاتا ہے تو وہ اس کے سرینوں میں گوزمارتا ہے، تاکہ وہ اس کو نماز کے سلسلے میں فتنے میں ڈال دے۔ (تو یاد رکھو کہ) جب تم میں کوئی آدمی اس چیز کو محسوس کرے تو وہ اس وقت تک (وضو کے لیے) نہ جائے، جب تک واضح طور پر آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 766]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8351»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 767
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَأْخُذُ شَعْرَهُ مِنْ دُبُرِهِ فَيَمُدُّهَا فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ، فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا) )
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس کی دُبُر کے بَالَ پکڑ کر کھینچتا ہے، اس سے بندے کو یہ وہم ہو نے لگتا ہے کہ وہ ہوا خارج ہونے کی وجہ سے بے وضو ہو گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں کوئی آدمی وضو کے لیے اس وقت تک نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 767]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرج نحوه ابن ماجه: 514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11934»
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرج نحوه ابن ماجه: 514
حدیث نمبر: 768
عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ (عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْهُ، فَقَالَ: ( (لَا يَنْفَتِلُ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا) )
سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ شکایت کی ہے کہ وہ نماز کے اندر (وضو توڑ دینے والی) ایسی چیز پاتا ہے کہ اس کو یہ خیال آنے لگتا ہے کہ واقعی کچھ ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسی صورتحال میں وہ جب تک بو نہ پا لے یا آواز نہ سن لے، اس وقت تک نماز سے نہ پھرے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 768]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 137، 177، 2056، ومسلم: 361، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16564»
وضاحت: فوائد: … طہارت کے معاملے میں وسوسہ اور شک و شبہ ان لوگوں پر غالب آ جاتے ہیں، جو مذکورہ بالا احادیث میں پیش کیے گئے احکام سے غافل ہو جاتے ہیں، ہر انسان جانتا ہے کہ ہوا کے خارج ہونے کا تعلق صرف اس سوراخ اور اس کے ارد گرد کی جگہ سے نہیں ہے، جہاں سے گیس خارج ہوتی ہے، بلکہ انسان کا وجود اور طبیعت پہلے سے ہی آگاہ ہو جاتے ہیں اور ان کو پورا شعور ہو جاتا ہے کہ کیا ہوا ہے اور کیا ہونے والا ہے، اس لیے اگر کوئی آدمی اپنے سرینوںکے درمیان کوئی حرکت یا کوئی پھونک محسوس کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ اس سے ہوا خارج ہو گئی ہے، اگر شیطان اس کو اس قسم کے شبہ میں ڈالنے کی کوشش کرے تو وہ اپنے نفس سے آواز آنے یا بد بو آنے کی شرط لگا لے، وگرنہ اپنے احساس کو شیطانی وسوسے کا نتیجہ سمجھ کر دفع کر دے۔ جن لوگوں کو غسل، استنجا، پیشاب کے قطروں اور وضو کے بارے میں وسوسوںکی بیماری پڑ جاتی ہے، ان سے گزارش ہے کہ وہ شریعت کے پابند رہیں اور درج بالا احادیث پر غور کر کے شیطان کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں۔ میں بندۂ ناچیز میں وہمی اور وسوسی لوگوں کا علاج کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے، اس لیے جب تک میرے زندہ ہونے کا امکان ہو، اس قسم کے لوگ رابطہ کر سکتے ہیں، بلکہ ہر آدمی کو یہ مہارت حاصل ہونی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 137
43. (3) باب فى الوضوء من النوم، وفيه فصول
نیند کی وجہ سے وضو کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: Q769]