🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. بَابُ صِفَةِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَعَدَدِ كَلِمَتِهِمَا وَقِصَّةِ أَبِي مَحْذُورَةَ
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1276
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمُؤَذِّنَ يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ، وَقَالَ حَجَّاجٌ يَعْنِي مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، وَكُنَّا إِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ شُعْبَةُ: لَا أَحْفَظُ غَيْرَ هَذَا
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اذان (کے کلمات) دو دو مرتبہ او راقامت کے ایک ایک مرتبہ تھے، البتہ مؤذن اقامت میں قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ (دو دفعہ) کہتا تھا، اور ہم جس وقت اقامت سنتے تو وضو کر کے نماز کے لیے نکلتے تھے۔امام شعبہ کہتے ہیں: مجھے تو صرف یہی کچھ یاد ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1276]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 510، 511، والنسائي: 2/3، وابن خزيمة: 374، وابن حبان: 1677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5569»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 510
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1277
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوْتِرَ الْإِقَامَةَ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا او راقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم کیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1277]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 605، 607، ومسلم: 378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:12024، 12971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12024»
وضاحت: فوائد: … درج بالا روایات پر غور کریں، اذان و اقامت کی دو دو صورتیں بیان کی گئی ہیں:
(۱) ترجیع والی اذان اور اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات: ترجیع والی اذان کہنا بھی سنت ہے، جس میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ چار چار دفعہ کہا جاتا ہے۔ (مسلم)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو ترجیع والی اذان سکھائی تو اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات کی تعلیم دی۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 605
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1278
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَنَسٌ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوْتِرَ الْإِقَامَةَ، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ
(دوسری سند)سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا اور اقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم دیا گیاتھا، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ کے علاوہ۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1278]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1278»
وضاحت: فوائد: … درج بالا روایات پر غور کریں، اذان و اقامت کی دو دو صورتیں بیان کی گئی ہیں:
(۱) ترجیع والی اذان اور اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات: ترجیع والی اذان کہنا بھی سنت ہے، جس میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ چار چار دفعہ کہا جاتا ہے۔ (مسلم)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو ترجیع والی اذان سکھائی تو اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات کی تعلیم دی۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
مذکورہ بالا روایات میں سے ایک روایت میں ہے: سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ سُنَّۃَ الْاَذَانِ۔ یعنی: اے اللہ کے رسول! مجھے مسنون اذان کی تعلیم دو۔ جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترجیع والی اذان کی تعلیم دی۔ (ابو داود)
اور ایک روایت میں ہے: سیّدنا ابو محذرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اذان کے انیس اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے۔ (ابوداود، ابن ماجہ، نسائی) اور کلمات کییہ تعداد ترجیع والی اذان میںہوتی ہے۔
یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ کی درخواست پر ان کو مکہ مکرمہ کا مؤذن مقرر کیا تھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی۵۹ ھ تک حرم مکی میں مؤذن مقرر رہے اور یہی اذان دیتے رہے، (ملاحظہ ہو: اسد الغابۃ: ۶/ ۲۷۳) ان کے بعد ان کی اولاد بھی اسی منصب پر فائز رہی اور یہی اذان کہتی رہی۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان کا واقعہ غزوۂ حنین کے بعد ۸ ھ میں اور سیّدنا عبد اللہ بن زید کی خواب کا واقعہ پہلی سن ہجری میں پیش آیا، اس لیے ترجیع والی اذان کے حکم کو باقی سمجھا جائے اور اسے منسوخ نہ قرار دیا جائے۔
امام شافعی، امام احمد، امام مالک اور جمہور کے نزدیکیہ اذان مستحب ہے۔
احناف ترجیع والی اذان کے قائل نہیں ہیں، ان کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ کو تعلیم دینے کی خاطر شہادتین کا دوبارہ تذکرہ کیا تھا، نہ کہ اذان کے کلمات کی حیثیت سے اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی خواب والی اذان میں شہادتین کییہ زیادتی نہیں ہے۔ لیکن درج بالا دلائل و حقائق سے احناف کے اس خیال کا ردّ ہو رہا ہے۔
احناف کو اپنے قوانین کا لحاظ کرتے ہوئے یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے تھی کہ راویٔ حدیث نے خود بھی ترجیع والی اذان کو سنت سمجھا اور تقریباً پچاس سال تک یہی اذان دیتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تمام سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ احناف کا ایک قانون یہ ہے: العبرۃ بما رأی لا بما روی (راوی کے اپنے خیال اور فتوے پر اعتبار کیا جائے گا، نہ کہ اس کی روایت پر)۔ اور اس مسئلہ میں تو روایت اور رائے دونوں کا ایک مفہوم ہے۔
(۲) دوہری اذان او راکیری اقامت:
بعض دلائل اوپر گزر چکے ہیں، ایک حدیث میں واضح طور پر سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اکیری اقامت کہنے کا حکم دیا گیا ہے، مزید دلیلیںیہ ہیں:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِشْفَعِ الْأَذَانَ، وَأَوْتِرِ الإِقَامَۃَ۔)) یعنی: اذان دوہری اور اقامت اکیری کہا کر۔ (الدارقطني في الأفراد رقم ۵۰ ج ۲، الصحیحۃ: ۱۲۷۶)
سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ کو کسی آدمی نے خواب میں دوہری اذان اور اکیری اقامت کی تعلیم دی، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّھَا لَرُؤْیَا حَقٌّ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) یعنی: بے شک ان شاء اللہ یہ خواب حق ہے۔ یہی خواب سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بھی تصدیق کی۔ (ابوداود: ۴۹۹، ابن ماجہ: ۷۰۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اذان کے دو دو کلمات اور اقامت کا ایک ایک کلمہ ہوتا تھا، لیکن قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ دو دفعہ کہے جاتے تھے۔ (ابوداود، نسائی)
اقامت میں قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ والے الفاظ دو دفعہ کہے جائیں گے، جیسا کہ مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے۔
خطابی نے کہا: حرمین، حجاز، شام، یمن، مصر، مغرب اور دیگر بعید اسلامی ممالک میں اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ کہنے پر عمل ہے۔ سیّدنا عمر، سیّدنا عبد اللہ بن عمر، سیّدنا انس رضی اللہ عنہما اور امام حسن بصری، امام زہری، عمر بن عبد العزیز، امام احمد وغیرہ کا بھییہی مذہب ہے۔
معلوم نہیں کہ ان حقائق کے باوجود لوگ اکیری اقامت کہنے سے کیوں کتراتے ہیں؟
تنبیہ: … اشھد انّ امیرا لمؤمنین علی ولی اللّٰہ کے الفاظ شیعہ لوگوں کی طرف سے اذان میں زیادہ کیے گئے ہیں،یہ الفاظ کسی صحیح، بلکہ ضعیف حدیث سے بھی ثابت نہیں ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ فقہ جعفریہ میں بھی اذان میں ان کلمات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
اسی طرح اذان کی ابتدا میں الصلوۃ والسلام … کے الفاظ سنت سے ثابت نہیں، عہد نبوی کے مؤذن سیّدنا بلال، سیّدنا ابن ام مکتوم اور سیّدنا ابومحذورہ وغیرہیہ الفاظ نہیں کہتے تھے۔ البتہ اذان کے بعد مسنون درود اور مخصوص دعائیں پڑھنا باعث ِ فضیلت ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1278
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1279
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ (أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ وَيَدُورُ وَأَتَتَبَّعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ يَعْنِي يَمِينًا وَشِمَالًا وَإِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ)
سیّدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہتے ہوئے دیکھا کہ وہ (حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہتے وقت) گھوم رہے تھے اور میں ان کے منہ کو اِدھر اُدھرہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ ایک روایت میں مزید فرمایا: کہ دائیں بائیں گھوم رہے تھے او راپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1279]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري:633، 634، ومسلم: 503، 251، وابوداود: 520، والترمذي: 197، وابن ماجه: 711، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18966»
وضاحت: فوائد: … سنن ابو داود کی روایت مین یہ الفاظ ہیں: لَوّٰی عُنُقَہٗیَمِیْنًا وَ شِمَالًا وَلَمْ یَسْتَدِرْ (اپنی گردن کو دائیں بائیں پھیرا اور خود پورے نہیں گھومے)۔ لیکن امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ ولم یستدر کے الفاظ شاذ بلکہ منکر ہیں، کیونکہ اس کی سند میں قیس بن ربیع ضعیف ہے۔ احادیث ِ مبارکہ میں صرف چہرے اور گردن کے پھیرنے کا ذکر ہے۔ ہاں اگر مؤذن کی گردن گھومنے کے ساتھ جسم بھی گھوم جائے تو اس میں ان شاء اللہ شرعاً کوئی قباحت نہ ہو گی۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البخاري:633
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1280
عَنِ ابْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ لَنَا وَلِمَوَالِينَا، وَالسِّقَايَةَ لِبَنِي هَاشِمٍ، وَالْحِجَامَةَ لِبَنِي عَبْدِ الدَّارِ
ابن ابی محذورہ اپنے باپ یا دادا سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے اور ہمارے موالیوں کے لیے اذان، اور بنوہاشم کے لیے حاجیوں کو پانی پلانا، اور بنو عبد الدار کے لیے سنگی لگانا خاص فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1280]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ھذيل بن بلال وھو ابو البھلول الفزاري المدائني۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 6737 وفي الاوسط: 761، والحاكم: 3/514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27795»
وضاحت: فوائد: … اذان کو سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے خاندان کے ساتھ مخصوص کرنے کییہ وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ خصوصیت کے ساتھ اس کا علم رکھتے تھے اور وہ خوبصورت اور بلند آواز والے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ھذيل بن بلال وھو ابو البھلول الفزاري المدائني۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 6737 وفي الاوسط : 761
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَخْذِ الْأُجْرَةِ عَلَى الْأَذَانِ
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1281
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، فَقَالَ: ( (أَنْتَ إِمَامُهُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا) )
سیّدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری قوم کا امام بنا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے)، تو اُن کا امام ہے، ان میں سے زیادہ کمزور کا خیال رکھنا او رایسا مؤذن مقرر کرنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لیتا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1281]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 1/199، والبھيقي: 1/ 429، وابن خزيمة: 423، وأخرجه مسلم: 468، 187، وابن ماجه: 988 بلفظ: ((اذا اممت قوما، فاخف بھم الصلاة۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16270 الي16277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16380»
وضاحت: فوائد: … امامت انتہائی پاکیزہ اور افضل منصب ہے اور بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے، اس کا مزید اندازہ اس حقیقت سے لگا لینا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اس قسم کی ذمہ داریاں مختلف لوگوں کو سونپتے تھے اور بوجوہ مختلف لوگوں کو امامت سے معزول بھی کر دیتے تھے۔ بہرحال جو شخص شریعت کی روشنی میں اپنے آپ کواس کا اہل سمجھتا ہو، تو اس کے لیے امامت کا مطالبہ کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان جیسے منصب کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر ادا کیا جائے اور اس کے عوض کچھ نہ لیا جائے، یہی افضل و اعلی ہے۔ یہ بات ضرور ہے کہ اس حدیث سے اجرت لینے کی حرمت ثابت
نہیں ہوتی۔ اگر مقصود اجر و ثواب کا حصول ہو تو اجرت لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، جیسا کہ تعلیم قرآن پر اجرت لینے کا مسئلہ ہے۔ چونکہ عبادت کے لحاظ سے اذان اور تعلیم قرآن دونوں ایک ہی چیز ہیں، اس لیے ہم قارئین کے استفادہ کے لیے مؤخر الذکر کی اجرت کے جواز پر دلالت کرنے والی دو دلیلیں ذکر کر دیتے ہیں:
(۱)سیّدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے ایک بستی کے سردار کوسورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور اس کے عوض بکریوں کا ایک ریوڑ لیا۔ دوسرے صحابہ کرام نے ناپسند کیا اور اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: ((اَخَذْتَ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ اَجْرًا۔)) یعنی: تو نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پراجرت لی۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو انھوں نے اس کی شکایت کی۔ جواباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا کِتَابُ اللّٰہِ۔)) (بخاری) یعنی: سب سے زیادہ جس چیز پر تم اجرت لینے کاحق رکھتے ہو وہ اللہ کی کتاب ہے۔ (صحیح بخاری: ۲۲۷۶) حافظ ابن حجرنے کہا: ((واستدل منہ للجمھور فی جواز الاجرۃ علی تعلیم القرآن۔)) (فتح الباری) یعنی: اس حدیث سے جمہور کے لیے استدلال کیا گیا ہے جو تعلم القرآن پر اجرت کے جواز کے قائل ہیں۔
(۲)بیوی کا حق مہر خاوند پر فرض ہے، اس کی تفصیلیوں ہے کہ سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کا نکاح قرآن مجید کی تعلیم کو حق مہر ٹھہرا کر کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ یہ تھے: ((اِذْھَبْ فَقَدْ اَنْکَحْتُھَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ۔)) (بخاری، مسلم) یعنی: جا، میں نے اس قرآن کے بدلے جو تیرے پاس ہے تیرا اس عورت کے ساتھ نکاح کر دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود قرآن مجید کی تعلیم کی اجرت دلوائی ہے۔ امام مالک نے کہا: یہ تعلیمِ قرآن پر اجرت ہی تھی، اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے۔ (فتح الباری) بہرحال تعلیم قرآن کا مقصود اجر و ثواب کا حصول قرآن مجید کی اشاعت ہونا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 1/199
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسْتَمِعُ عِنْدَ سَمَاعِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَبَعْدَ الْأَذَانِ
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1282
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ، قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ حَتَّى إِذَا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: ( (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ) )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیّدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت مؤذن کو (اذان دیتے ہوئے) سنتے تو جو وہ کہتا وہی آپ کہتے، حتی کہ جب وہ حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ پر پہنچتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1282]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه البزار في مسنده: 3868، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 41، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 144، والطبراني في الكبير: 924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27731»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه البزار في مسنده : 3868
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1283
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) ) قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَشْهَدُ أَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ) ) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَجِدُونَهُ رَاعِيَ غَنَمٍ أَوْ عَازِبًا عَنْ أَهْلِهِ) ) فَلَمَّا هَبَطَ الْوَادِي قَالَ: مَرَّ عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ فَقَالَ: ( (أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا؟ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا) )
سیّدنا عبد اللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مؤذن کو أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہتے ہوئے سن کر أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہا، پھر اس نے أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے أَشْہَدُ أَنِّیْ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے گھر والوں سے دور نکلنے والا پاؤ گے۔ عبد اللہ بن ربیعہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی میں اُترے تو بکری کے ایک (مردار) بچے کے پاس سے گزرے جسے پھینک دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو اس کے مالکوں کے ہاں حقیر خیال کرتے ہو؟ (تبھی تو انھوں نے اسے پھینک دیا)۔ یقینایہ دنیا اللہ کے ہاں مالکوں پر اس بچے سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1283]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد فيه عبد الله بن ربيعة السلمي، اختلف في صحبته، والظاهر انه تابعي۔ وفي باب القول مثل ما يقول المؤذن احاديث ثابتة والجملة الاخيرة: ((أترون ھذه ھينة)) صحيح لغيره۔ أخرجه والنسائي: 2/19، وابن ابي شيبة: 13/ 245، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19172»

الحكم على الحديث:
ھذا اسناد فيه عبد الله بن ربيعة السلمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1284
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الْمُنَادِي قَالَ: ( (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ) )
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اذان کہنے والے کو سنا کرتے تھے تو فرماتے: أشہد أن لا إلہ إلا اللہ اور أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1284]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، لم يذكروا لميمون بن مھران سماعا من عائشة رضي الله عنها۔ وأخرج أبوداود: 526، وابن حبان: 1683، والحاكم: 1/ 204 عن عائشة قالت: كان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم اذا سمع المؤذن قال: ((وأنا وأنا۔)) واسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25446»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1285
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ كَمَا يَقُولُ حَتَّى يَسْكُتَ
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتے تو اس کے خاموش ہونے تک وہی کہتے جو وہ کہتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1285]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي في الكبري: 9865، وابن خزيمة: 413، والحاكم: 1/ 204، وابن ابي شيبة: 1/ 227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27303»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي في الكبري : 9865
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں