الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ قَضَاءِ مَا يَفُوتُ مِنَ الصَّلَاةِ النَّافِلَةِ وَالْأَوْرَادِ
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
حدیث نمبر: 1238
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُوْتِرْ إِذَا ذَكَرَهُ أَوِ اسْتَيْقَظَ) )
سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نمازِ وتر سے سو جائے یا اس کو بھول جائے تو جب اسے یاد آئے یا جب وہ بیدار ہو، وتر ادا کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1238]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1431، والترمذي: 465، وابن ماجه: 1188، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11284»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1431
حدیث نمبر: 1239
عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّبْحِ وَلَمْ يَكُنْ رَكَعَ رَكْعَتَي الْفَجْرِ فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ حِينَ فَرَغَ مِنَ الصُّبْحِ فَرَكَعَ رَكْعَتَي الْفَجْرِ فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ؟) ) فَأَخْبَرَهُ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا
سیدنا قیس بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ وہ نماز فجر کے لیے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فجر کی نماز میں ہی پایا، جبکہ انھوں نے فجر کی دو سنتیں ادا نہیں کی تھیں، پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور جب نمازِ فجر سے فارغ ہوئے تو فجر کی سنتیں ادا کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے؟ پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور کچھ نہ کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1239]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث مرسل، قال ابوداود في سننه (1268): وروي عبد ربه ويحييٰ ابنا سعيد ھذا الحديث مرسلا، وقوله ھنا (عبد الله بن سعيد) خطأ، والصواب (عبد ربه بن سعيد)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23162»
الحكم على الحديث:
ھذا حديث مرسل
حدیث نمبر: 1240
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاتَتْهُ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْعَصْرِ فَصَلَّاهُمَا بَعْدُ
زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عصر سے پہلے والی دو رکعتیں فوت ہو گئی تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عصر کے بعد ادا کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1240]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27369»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
42. بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ بِعَدَمِ قَضَاءِ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ إِذَا فَاتَتْ
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی¤قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
حدیث نمبر: 1241
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا؟ فَقَالَ: ( (قَدِيمَ عَلَيَّ مَالٌ فَشَغَلَنِي (وَفِي رِوَايَةٍ: قَدِيمَ عَلَيَّ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ فَحَبَسُونِي) عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ) ) فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفَنَقْضِيَهُمَا إِذَا فَاتَتَا؟ قَالَ: ( (لَا) )
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر ادا کی، پھر میرے گھر تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسی نماز پڑھی، جو آپ نہیں پڑھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ مال آ گیا تھا، بس اس نے مشغول کیے رکھا، ایک روایت میں ہے: میرے پاس بنو تمیم کا وفد آیا تھا، اس نے مجھے ان دو رکعتوں سے روک دیا، جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا، پس میں نے ان کو اب ادا کیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر یہ دو رکعتیں ہم سے رہ جائیں تو ہم ان کی قضائی دیا کریں؟ آپ نے فرمایا: جی نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1241]
تخریج الحدیث: «صلاة النبي صلي الله عليه وآله وسلم ركعتين بعد العصر صحيح، وھذا اسناد اختلف فيه۔ أخرجه ابو يعلي: 7028، وابن حبان: 2653، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 306، وقوله: افنقضيھما، قال: لا زيادة ضعيفة تفرد بھا يزيد بن هارون، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27213»
وضاحت: فوائد: … تخریج کے تحت وضاحت ہے کہ عصر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا ثابت ہے۔ البتہ حدیث کے آخر میں رہی ہوئی سنن کی قضائی نہ دینے والی بات سنداً ثابت ہیں۔ اس لیے عصر کے بعد سورج زرد ہونے سے پہلے سنن کی قضائی بھی ٹھیک ہے اور ویسے بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
صلاة النبي صلي الله عليه وآله وسلم ركعتين بعد العصر صحيح
43. باب
اذان اور اقامت کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: Q1242]
44. 1 - بَابُ الْأَمْرِ بِالْأَذَانِ وَتَأْكِيدِ طَلَبِهِ
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 1242
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ بِالشَّامِ يُقَالُ لَهُ مَعْدَانُ، كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَفَقَدَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَلَقِيَهُ يَوْمًا وَهُوَ بِدَمَقْسِ قَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: يَا مَعْدَانُ! مَا فَعَلَ الْقُرْآنُ الَّذِي كَانَ مَعَكَ؟ كَيْفَ أَنْتَ وَالْقُرْآنُ الْيَوْمَ؟ قَالَ: قَدْ عَلَّمَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَأَحْسَنَ، قَالَ: يَا مَعْدَانُ! أَفِي مَدِينَةٍ تَسْكُنُ الْيَوْمَ أَوْ فِي قَرْيَةٍ؟ قَالَ: لَا، بَلْ فِي قَرْيَةٍ قَرِيبَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي قَرْيَةٍ قَرِيبَةٍ دُونَ حِمْصَ) قَالَ: مَهْلًا وَيْحَكَ يَا مَعْدَانُ! فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَا مِنْ خَمْسَةٍ أَهْلِ أَبْيَاتٍ لَا يُؤَذَّنُ فِيهِمْ بِالصَّلَاةِ وَتُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، وَإِنَّ الذِّئْبَ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ) ) فَعَلَيْكَ بِالْمَدَائِنِ وَيْحَكَ يَا مَعْدَانُ
عبادہ بن نسی کہتے ہیں: شام میں ایک معدان نامی آدمی تھا، سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ اسے قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے اُسے گم پایا۔ پھر ایک دن جب دابق مقام پر اسے ملے تو کہنے لگے: معدان! وہ قرآن جو تیرے پاس تھا، اس کا کیا بنا؟ آج کل تیرا اور قرآن کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے وہ سکھایا اور اچھا سکھایا۔سیّدنا ابو درداء نے پوچھا: معدان! آج کل شہر میں رہتے ہو یا کسی دیہات میں؟ معدان نے جواب دیا: نہیں، میں ایک دیہات میں سکونت پذیر ہوں، وہ شہر کے قریب ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ایسے دیہات میں ہوں جو حمص شہر کے قریب ہے۔ سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: چھوڑ، تجھ پر افسوس ہے معدان! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جہاں پانچ گھر واقع ہوں اور ان میں نہ اذان دی جاتی ہو نہ نماز قائم کی جاتی ہو، ان پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے اور (تجھے ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ) بھیڑیا علیحدہ رہنے والی بکری کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ اس لیے تجھ پر شہروں میں رہنا لازم ہے۔اے معدان! تجھ پر افسوس ہے! [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1242]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حاتم بن ابي نصر۔ أخرجه ابوداود: 547، والنسائي: 2/ 106، وابن خزيمة: 1486، وابن حبان: 2101، والحاكم: 1/ 211، 246 و 2/ 482، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28063»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 1242M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ فَلَا يُؤَذَّنُ وَلَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ) ) قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ: قَالَ السَّائِبُ: يَعْنِي الْجَمَاعَةَ فِي الصَّلَاةِ
یہ روایت دوسری سند کے ساتھ اس طرح مروی ہے: وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس بستی میں تین شخص رہتے ہوں اور ان میں نہ اذان دی جاتی ہو نہ نماز قائم کی جاتی ہو، ان پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے، اس لیے تجھ پر جماعت لازم ہے، کیونکہ بھیڑیا صرف دور رہنے والی بکری کو ہی کھاتا ہے۔ ابن مہدی نے کہا کہ سائب کا خیال ہے کہ تجھ پر جماعت لازم ہے سے نماز باجماعت مراد ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1242M]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، انظر الحديث بالطريق السابق: 224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28064»
وضاحت: فوائد: … جو بکری جنگل میں ریوڑ اور مالک سے الگ ہو جاتی ہے، بھیڑیا اور دوسرے درندے اس کا کیا حشر کرتے ہیں، ہر ایک پر واضح ہے۔ اسی طرح جو بندہ نماز باجماعت سے دور رہتا ہے، وہ شیطان کے وسوسوں میں پھنس کر خیر و بھلائی کے کاموں سے دور ہوجاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں مصیبتیہ ہے کہ روحانی طہارت کے فقدان کی وجہ سے وہ یہ سمجھ نہیں پاتا کہ اس کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 1243
عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَّابٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا مَعَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِنَا فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ: ( (ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ثُمَّ لْيُؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ) )
سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم تقریبا ایک عمر کے نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور بیس راتیں قیام کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے رحیم اور نرم دل تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا ہم اپنے گھر والوں کے مشتاق ہو گئے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے ان (افراد)کے متعلق پوچھا جو ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے تھے؟ جب ہم نے ساری بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں میں واپس چلے جاؤ اور ان میں رہو، اور ان کو (دین)سکھاؤ،ان کو حکم دو کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے، پھر تم میں بڑی عمر والا امامت کروائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1243]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6008، ومسلم: 674، 292، وعند البخاري وغيره زيادة: ((وصلوا كما رايتموني اصلي))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15683»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں نماز کے وقت اذان دینے کا حکم اور ترغیب دلائی جا رہی ہے، مزید درج ذیل روایات پر غور کریں:
سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، وہ سفر پر جانا چاہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ((اِذَا اَنْتُمَا خَرَجْتُمَا فَاَذِّناَ ثُمَّ اَقِیْمَا ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُکُمَا۔)) یعنی جب تم سفر کرو تو (نماز کے وقت) اذان دو اور اقامت کہو اور تم میں سے بڑا آدمی جماعت کروائے۔ (صحیح بخاری: ۶۳۰، صحیح مسلم: ۶۷۴)
سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((یَعْجَبُ رَبُّکَ مِنْ رَاعِیْ غَنَمٍ فِیْ رَاْسِ شَظِیَّۃٍ بِجَبَلٍ یُؤَذِّنُ لِلصَّلَاۃِ وَیُصَلِّیْ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: اُنْظُرُوْا اِلٰی عَبْدِیْ ھٰذَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیْمُ لِلصَّلَاۃِ،یَخَافُ مِنِّیْ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ وَاَدْخَلْتُہُ الْجَنَّۃَ۔)) (ابوداود: ۱۲۰۳، نسائی: ۲۱/۲۰)
یعنی: تمہارا رب بکریوں کے اس چرواہے پر تعجب کرتا ہے، جو پہاڑ کی چوٹی پر (بکریاں چرا رہا ہوتا ہے، جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو) وہ اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ (اس کے اس عمل کو دیکھ کر) کہتے ہیں: میرے بندے کی طرف دیکھو، اذان دیتا ہے اور نماز کے لیے اقامت کہتا ہے(پھر نماز ادا کرتا ہے) یہ مجھ سے ڈرتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فقہ الحدیثیہ ہے کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان کہنی چاہیے، امام نسائی نے اس حدیث پر یہی باب قائم کیا ہے۔ مسيء الصلاۃ والی حدیث کے بعض طرق کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اذان اور اقامت کہنے کا بھی حکم دیا تھا۔ لہٰذا ان دونوں چیزوں میں تساہل نہیں برتنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۴۱) ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اذان و اقامت کا تعلق نماز سے ہے نہ کہ لوگوں کی تعداد یا مسجد سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی احادیث مبارکہ میں ان دونوں کا حکم دیا اور سفر و حضر میں ان پر مداومت و مواظبت اختیار کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر طلوع فجر کے بعد ادا کی تھی، اس میں بھی اذان و اقامت کا اہتمام کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ اذان اور اقامت واجب ہیں، جیسا کہ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اور امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک ہے۔ مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ حسب ِ امکان لوگوں کو مسجد میں جاکر نماز باجماعت کا اہتمام کرنا چاہیے، اگر وہ سفر یا کسی شرعی عذر کی بنا پر مسجد میں نہ پہنچ سکیں تو جہاں نماز ادا کریں، وہاں اذان، اقامت اور جماعت کا اہتمام کریں۔ ہم جہالت یا غفلتیا لاپرواہییا جھجک کی بنا پر ان امور سے غفلت برت رہے ہیں۔
سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، وہ سفر پر جانا چاہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ((اِذَا اَنْتُمَا خَرَجْتُمَا فَاَذِّناَ ثُمَّ اَقِیْمَا ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُکُمَا۔)) یعنی جب تم سفر کرو تو (نماز کے وقت) اذان دو اور اقامت کہو اور تم میں سے بڑا آدمی جماعت کروائے۔ (صحیح بخاری: ۶۳۰، صحیح مسلم: ۶۷۴)
سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((یَعْجَبُ رَبُّکَ مِنْ رَاعِیْ غَنَمٍ فِیْ رَاْسِ شَظِیَّۃٍ بِجَبَلٍ یُؤَذِّنُ لِلصَّلَاۃِ وَیُصَلِّیْ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: اُنْظُرُوْا اِلٰی عَبْدِیْ ھٰذَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیْمُ لِلصَّلَاۃِ،یَخَافُ مِنِّیْ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ وَاَدْخَلْتُہُ الْجَنَّۃَ۔)) (ابوداود: ۱۲۰۳، نسائی: ۲۱/۲۰)
یعنی: تمہارا رب بکریوں کے اس چرواہے پر تعجب کرتا ہے، جو پہاڑ کی چوٹی پر (بکریاں چرا رہا ہوتا ہے، جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو) وہ اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ (اس کے اس عمل کو دیکھ کر) کہتے ہیں: میرے بندے کی طرف دیکھو، اذان دیتا ہے اور نماز کے لیے اقامت کہتا ہے(پھر نماز ادا کرتا ہے) یہ مجھ سے ڈرتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فقہ الحدیثیہ ہے کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان کہنی چاہیے، امام نسائی نے اس حدیث پر یہی باب قائم کیا ہے۔ مسيء الصلاۃ والی حدیث کے بعض طرق کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اذان اور اقامت کہنے کا بھی حکم دیا تھا۔ لہٰذا ان دونوں چیزوں میں تساہل نہیں برتنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۴۱) ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اذان و اقامت کا تعلق نماز سے ہے نہ کہ لوگوں کی تعداد یا مسجد سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی احادیث مبارکہ میں ان دونوں کا حکم دیا اور سفر و حضر میں ان پر مداومت و مواظبت اختیار کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر طلوع فجر کے بعد ادا کی تھی، اس میں بھی اذان و اقامت کا اہتمام کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ اذان اور اقامت واجب ہیں، جیسا کہ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اور امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک ہے۔ مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ حسب ِ امکان لوگوں کو مسجد میں جاکر نماز باجماعت کا اہتمام کرنا چاہیے، اگر وہ سفر یا کسی شرعی عذر کی بنا پر مسجد میں نہ پہنچ سکیں تو جہاں نماز ادا کریں، وہاں اذان، اقامت اور جماعت کا اہتمام کریں۔ ہم جہالت یا غفلتیا لاپرواہییا جھجک کی بنا پر ان امور سے غفلت برت رہے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6008
45. 2 - بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَالْمُؤَذِّنِينَ وَالْأَئِمَّةِ
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1244
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِمَا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا) ) فَقُلْتُ لِمَالِكٍ: أَمَا يَكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الْعَتَمَةَ؟ قَالَ: هَٰكَذَا قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان کہنے اور پہلی صف کے اندر شامل ہونے میں کیا فضیلت ہے تو وہ ان پر قرعہ ڈالیں اور اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ نماز کی طرف جلدی پہنچنے میں کیا اجر وثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اگر وہ جان لیں کہ نماز عشاء اور نماز فجر میں کیا اجر ہے تو یہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شامل ہوں اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔ عبد الرزاق کہتے ہیں: میں نے مالک سے پوچھا کہ کیا عشاء کی نماز کو عَتَمَۃ کہنا مکروہ نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: جس نے مجھے حدیث بیان کی اس نے ایسے ہی کہا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 615، 653، 654، 720، 2689، ومسلم: 437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7724»
وضاحت: فوائد: … نماز ِ عشاء کو عَتَمَۃ کہنا جائز ہے، تفصیلی بحث آگے گی۔
سیّدناابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ اذان کہنے میں کیا
سیّدناابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ اذان کہنے میں کیا
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 615
حدیث نمبر: 1245
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي التَّأْذِينِ لَتَضَارَبُوا عَلَيْهِ بِالسُّيُوفِ) )
سیّدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ اذان کہنے میں کیا(اجروثواب)ہے تو وہ اس (ثواب کے حصول کے لیے) تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑ پڑیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1245]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،لضعف دراج، وھو ابن سمعان ابو السمح، في روايته عن ابي الهيثم۔ و ابن لھيعة سيء الحفظ۔ أخرجه عبد بن حميد في المنتخب: 934۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11261»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں اس آدمی کا تذکرہ ہو رہا ہے، جو لوگوں سے دور ہے اور کسی مسجد میں پہنچنا اس کے لیے ناممکن ہے۔ وہ نیکی اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے جو خلوت میں کی جائے، جہاں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی دیکھنے والا نہ ہو، جہاں اطاعت و فرمانبرداری کی بنیاد صرف اور صرف خشیت ِ الٰہی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہماری خلوتوں اور جلوتوں میںیکسانیت پیدا ہو جائے۔ (آمین) لیکن ذہن نشین رہے کہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو مقدم سمجھا جائے، مثلا نمازِ باجماعت ادا کرنا، اس کا تعلق خلوت سے نہیںہے۔ اب اگر کوئی آدمییہ کہنا شروع کر دے کہ وہ فرضی نماز بھی خلوت میں ادا کرے گا، تو اس کا یہ کہنا درست نہ ہو گا، کیونکہ شرعی فیصلہ جماعت کے حق میں ہے۔ ہاں اگر کسی کو نماز باجماعت کی وجہ سے ریاکاری اور نمود و نمائش کا خطرہ ہو تو وہ تعوذ پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے خلوص کی توفیق طلب کرے، نہ یہ کہ وہ جماعت ہی ترک کر دے۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فقہ الحدیثیہ ہے کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان کہنی چاہیے، امام نسائی نے اس حدیث پر یہی باب قائم کیا ہے۔ مسيء الصلاۃ والی حدیث کے بعض طرق کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اذان اور اقامت کہنے کا بھی حکم دیا تھا۔ لہٰذا ان دونوں چیزوں میں تساہل نہیں برتنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۴۱)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف