الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ فِي الْفَصْلِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
حدیث نمبر: 1306
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مؤذن اذان کہہ کر ٹھہر جاتا اور اقامت نہ کہتا، جب وہ دیکھ لیتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (گھر سے) نکل آئے ہیں تو اقامت کہنا شروع کر دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1306]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 537، والترمذي: 202، وابن خزيمة: 1525، وابو عوانة: 2/ 30، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21085»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 537
حدیث نمبر: 1307
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ (وَفِي رِوَايَةٍ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ) فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي) )
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جائے اور ایک روایت کے مطابق جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو تم نہ اٹھا کرو حتی کہ مجھے دیکھ لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1307]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 604، والترمذي: 592، والنسائي: 2/ 81، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22901»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقتدیوں کے کھڑے ہونے کا تعلق امام سے ہے، نہ کہ اقامت سے۔ لیکن درج ذیل حدیث قابل غور ہے: سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلتے نہیں تھے، اس وقت تک سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اقامت نہیں کہتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو وہ آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔ (صحیح مسلم) ان دو احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے انتظار میں ہوتے، جونہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتے تو اقامت کہنا شروع کر دیتے، پھر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے ہو جاتے، لیکن بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ ہو جاتے، اس لیے صحابہ کرام کو اپنی آمد سے پہلے کھڑے ہونے سے ہی منع کر دیا۔ جن روایات میں صحابہ کرام کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے کھڑے ہونے کا بیان ہے، ان کو درج بالا حدیث میں مذکورہ نہی سے پہلے پر یا پھر جواز پر محمول کیا جائے، اول الذکر بات زیادہ مناسب ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 604
حدیث نمبر: 1308
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا بِلَالُ! اجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ نَفَسًا يَفْرُغُ الْأَكِلُ مِنْ طَعَامِهِ فِي مَهْلٍ وَيَقْضِي الْمُتَوَضِّئُ حَاجَتَهُ فِي مَهْلٍ) )
سیّدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ کر کہ کھانے والا اپنے کھانے سے باآسانی فارغ ہوسکے اور وضو کرنے والا آرام سے اپنی حاجت پوری کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1308]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي الفضل وفي الباب عند الترمذي: 195، 196 واسناده ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21609»
وضاحت: فوائد: … یاد رہے کہ سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کییہ حدیث سیّدنا جابر، سیّدنا ابو ہریرہ اور سیّدنا سلمان فارسی سے بھی مروی ہے، اس لیے ان مختلف اسانید کی بنا پر یہ قابل حجت ہے۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے تمام طرق ذکر کر کے کہا: یہی میرا خیال ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، کیونکہ اس کے طرق شدید ضعف سے خالی ہیں، ما سوائے تیسرے طریق کے۔ (صحیحہ: ۸۸۷) نماز با جماعت ادا کرنے والے نمازی کواذان کے بعد کون سی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اس کو پورا کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہو سکتا ہے، شریعت نے اس کا تعین بھی کر دیا اور اس کا حل بھی پیشکر دیا۔ لوگوں کی فطرتی ضروریات اور حاجات کو مد نظر رکھا، تاکہ تمام لوگ نماز با جماعت کا شرف حاصل کر لیں۔ اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اذان اور جماعت کے درمیان تقریبا۱۵، ۱۶ منٹ کا وقفہ ہونا چاہئے۔ ہمارے ہاں اکثر مساجد میں نماز مغرب کی اذان کے بعد فوراً جماعت کھڑی کر دی جاتی ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں دو رکعت نفل ادا کرنے کا اہتمام کیا جاتا تھا، اس سنت پر عمل کرنے کی وجہ سے لوگ دو رکعت نفلی نماز بھی ادا کر سکتے ہیں اور اذان سن کر نماز کی تیاری کرنے والے آسانی کے ساتھ جماعت میں شریک بھی ہو سکتے ہیں۔ روحِ اذان بھییہی ہے کہ اذان کے بعد کچھ مہلت دی جائے، کیونکہ اذان کا ایک مقصد نمازیوں کو بلانا بھی ہے، اس لیے ان کے پہنچنے کا انتظار کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي الفضل وفي الباب عند الترمذي: 195
حدیث نمبر: 1309
عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ أَنَّهُ أَذَّنَ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا أَخَا صُدَائٍ! إِنَّ الَّذِي أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ) )
زیاد بن نُعیم حضرمی بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، پھر سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا چاہی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: صدا کے بھائی! جس نے اذان کہی ہو وہی اقامت کہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1309]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن زياد الافريقي۔ أخرجه الترمذي: 199، وابن ماجه: 717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17537 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن زياد الافريقي۔ أخرجه الترمذي: 199
حدیث نمبر: 1310
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَذِّنْ يَا أَخَا صُدَائٍ!) ) قَالَ: فَأَذَّنْتُ وَذَلِكَ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ، قَالَ: فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يُقِيمُ أَخُو صُدَائٍ، فَإِنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ) )
سیّدنا زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: صدا کے بھائی! اذان کہو۔ زیاد کہتے ہیں: پس میں نے اذان کہی، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب فجر روشن ہوئی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کرکے نماز کے لیے اٹھے تو سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا چاہی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدائی اقامت کہے کیونکہ جو اذان کہتاہے، و ہی اقامت کہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1310]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول و أخرجه عبد الرزاق: 1817 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17679»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول و أخرجه عبد الرزاق: 1817 مختصرا
حدیث نمبر: 1311
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أُرِيَ الْأَذَانَ قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: ( (أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ) ) فَأَلْقَيْتُهُ فَأَذَّنَ، قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا رَأَيْتُ، أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ، قَالَ: ( (فَأَقِمْ أَنْتَ) ) فَأَقَامَ هُوَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ
سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اذان کا خواب دیکھا، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آکر بتایا، لیکن آپ نے فرمایا: یہ کلمات بلال کو سکھا۔ پس میں نے وہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو سکھائے، پھر انہوں نے اذان کہی،جب سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! خواب میں نے دیکھا ہے، اس لیے میرا ارادہ ہے کہ اقامت تو میں کہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: (ٹھیک ہے) تو ہی اقامت کہہ لے۔ پس سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، جبکہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1311]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي سھل محمد بن عمرو الانصاري الواقفي، وقد اختلف في اسناده۔ أخرجه ابوداود: 512، 513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16590»
وضاحت: فوائد: … مؤذن کو ہی چاہیے کہ وہی اقامت کہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک مین یہی عمل رائج تھا اور اسی سے نظم و ضبط برقرار رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کوئی دوسرا آدمی بھی اقامت کہہ سکتا ہے۔ جن قولی احادیث میں اقامت کو مؤذن کے ساتھ خاص کیا گیا ہے یا دوسرے کو کہنے کی اجازت دی گئی ہے، وہ ضعیف ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي سھل محمد بن عمرو الانصاري الواقفي
54. بَابُ تَغْلِيظِ التَّخَلُّفِ عَنْ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ وَالْخُرُوجِ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْأَذَانِ
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
حدیث نمبر: 1312
عَنْ سَهْلِ عَنْ أَبِيهِ (مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (الْجَفَاءُ كُلُّ الْجَفَاءِ وَالْكُفْرُ وَالنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِيَ اللَّهِ يُنَادِي يَدْعُو إِلَى الْفَلَاحِ وَلَا يُجِيبُهُ) )
سیّدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ظلم ہی ظلم ہے، بلکہ کفر و نفاق ہے کہ ایک شخص مُنَادِی (مؤذن) کو سنتا ہے کہ وہ فلاح کی طرف دعوت دے رہا ہوتا ہے، لیکن وہ اس کا جواب نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1312]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 394، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15712»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد
حدیث نمبر: 1313
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هَاشِمٌ ثَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَشَرِيكٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: أَمَّا هَٰذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ شَرِيكٍ: ثُمَّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا كُنْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَلَا يَخْرُجْ أَحَدٌ مِنْكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ) )
ابو شعثاء کہتے ہیں کہ ایک آدمی مؤذن کے اذان کہہ دینے کے بعد مسجد سے نکل گیا، اسے دیکھ کر سیّدنا ا بو ہر یر ہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اِ س شخص نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ شریک کی بیان کردہ حدیث میں ہے: پھر سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ: جب تم مسجد میں ہو اور نماز کے لیے اذان ہوجائے تو تم میں سے کوئی (مسجد سے باہر) نہ نکلے یہاں تک کہ نماز پڑھ لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1313]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 2588، وأخرجه ابن ماجه: 733، والنسائي: 2/ 29، وابو عوانة: 2/ 8، وابن خزيمة: 1506والدارمي: 1205 الي قوله: فقد عصي ابا القاسم۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9315، 10933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10946»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 2588
حدیث نمبر: 1314
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ الْأَذَانَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اس حالت میں اذان سنے کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اسے رکھ نہ دے، یہاں تک کہ اپنی ضرورت پوری کرلے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1314]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2350، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9468»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2350
حدیث نمبر: 1315
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا رَوْحٌ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ
اور دوسری سند کے ساتھ مروی حدیث میں یہ زائد بات ہے: سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور مؤذن اُس وقت اذان کہتا جب فجر طلوع ہوجاتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه البيھقي: 4/ 218، والحاكم: 1/ 203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10638»
وضاحت: فوائد: … (۱) اذان کے بعد کسی شرعی عذر کے بغیر ادائیگی ٔ نماز سے پہلے نہیں نکلنا چاہیے، آج کل اکثر لوگوں کا رویہیہ ہے کہ اگر وہ اذان کے وقت مسجد میں موجود ہوں تو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر جماعت کے شروع ہونے تک مسجد سے باہر چلے جاتے ہیں اور کوئی پروا نہیں کرتے۔ درج ذیل احادیث پر غور کریں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَسْمَعُ النِّدَائَ أَحَدٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ھٰذَا ثُمَّ یَخْرُجُ مِنْہُ إِلاَّ لِحَاجَۃٍ ثُمَّ لَا یَرْجِعُ إِلاَّ مُنَافِقٌ۔)) یعنی: وہ آدمی منافق ہے، جو میری اس مسجد میں موجود ہو، اذان سنے اور ضرورت کے بغیر نکل جائے اور پھر واپس نہ لوٹے۔ (مسند احمد، مسند طیالسی، صحیحہ: ۲۵۱۸)
(۲) … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث میں مسجد نبوی کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس حدیث کا مفہوم تمام مساجد کو شامل ہے، کیونکہ کثیر احادیث جماعت کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور مسجد سے نکلنے کی وجہ سے یہ واجب فوت ہو جاتا ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۱۸) جو لوگ مسجد کے انتہائی قریب اور فارغ ہونے کے باوجود نماز باجماعت کا یا سرے سے نماز کا اہتمام نہیں کرتے، ان کو درج ذیل احادیث پر غور کرنا چاہیے۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ((یَارَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّی أَسْمَعُ النَّدَائَ وَلَعَلِّیْ لَا أَجِدُ قَائِدًا؟ قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتَ النِّدَائَ، فَأَجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) اے اللہ کے رسول! میں اذان تو سنتا ہوں لیکن میرے پاس کوئی قائد نہیں (جو مجھے مسجد میں لے آئے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اذان سنے تو اللہ تعالیٰ کے داعی کی پکار پر لبیک کہہ (اور مسجد میں پہنچ)۔ (دارقطنی: ۱۹۷، سنن بیہقی: ۳/ ۵۷، صحیحہ: ۳۵۴) سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یَأْتِ فَـلَا صَلَاۃَ لَہٗاِلَّامِنْعُذْرٍ۔)) (ابوداود،ابن ماجہ) یعنی: جو آدمی اذان سننے کے باوجود نماز باجماعت کے ساتھ ادا نہ کرے تو اس کی کوئی نماز نہیں، الا یہ کہ کوئی عذر ہو۔
(۳) … اگر اس باب کی تمام روایات پر غور کیا جائے تو ثابت ہو گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں اذان کی ابتدا اللہ اکبر اللہ اکبر کے الفاظ سے ہوتی تھی اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم تھی،
لیکن بعد میں بدعتی لوگوں اور روافض نے اعوذ باللہ … یا بسم اللہ … یا الصلاۃ والسلام … وغیرہ کا اضافہ کر لیا۔
(۴) … سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے شروع میں سحری کرنے والے کے لیے ایک رخصت کا بیان ہے کہ وہ بامر مجبوری طلوع فجر کے باوجود سحری کا کھانا کھا سکتا ہے۔ کلیہ تو یہی ہے کہ طلوع فجرِ صادق سے ہی سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کے لیے اذان فجر کو معیار قرار دیا تھا، کیونکہ طلوع فجر اور اذان فجر کا ایک وقت ہوتا ہے، اس حدیث میں ایک رخصت کا بیان ہے کہ اگر کسی آدمی سے تاخیر ہو جاتی ہے اور وہ اذان سے پہلے سحری سے فارغ نہیں ہو پاتا تو اسے چندلقمے کھا لینے کی اجازت ہے۔ حدیث کے الفاظ پر غور کیا جائے کہ کس شخص کو ضرورت پورا کرنے کی اجازت ہے۔ اس رخصت کا یہ مفہوم نہیں کہ اذان سننے کے بعد تفصیل کے ساتھ چائے وائے اور مختلف ڈشوں کا اہتمام شروع ہو جائے۔ (انتہت ابواب الاذان والاقا مۃ)
(۲) … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث میں مسجد نبوی کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس حدیث کا مفہوم تمام مساجد کو شامل ہے، کیونکہ کثیر احادیث جماعت کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور مسجد سے نکلنے کی وجہ سے یہ واجب فوت ہو جاتا ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۱۸) جو لوگ مسجد کے انتہائی قریب اور فارغ ہونے کے باوجود نماز باجماعت کا یا سرے سے نماز کا اہتمام نہیں کرتے، ان کو درج ذیل احادیث پر غور کرنا چاہیے۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ((یَارَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّی أَسْمَعُ النَّدَائَ وَلَعَلِّیْ لَا أَجِدُ قَائِدًا؟ قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتَ النِّدَائَ، فَأَجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) اے اللہ کے رسول! میں اذان تو سنتا ہوں لیکن میرے پاس کوئی قائد نہیں (جو مجھے مسجد میں لے آئے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اذان سنے تو اللہ تعالیٰ کے داعی کی پکار پر لبیک کہہ (اور مسجد میں پہنچ)۔ (دارقطنی: ۱۹۷، سنن بیہقی: ۳/ ۵۷، صحیحہ: ۳۵۴) سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یَأْتِ فَـلَا صَلَاۃَ لَہٗاِلَّامِنْعُذْرٍ۔)) (ابوداود،ابن ماجہ) یعنی: جو آدمی اذان سننے کے باوجود نماز باجماعت کے ساتھ ادا نہ کرے تو اس کی کوئی نماز نہیں، الا یہ کہ کوئی عذر ہو۔
(۳) … اگر اس باب کی تمام روایات پر غور کیا جائے تو ثابت ہو گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں اذان کی ابتدا اللہ اکبر اللہ اکبر کے الفاظ سے ہوتی تھی اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم تھی،
لیکن بعد میں بدعتی لوگوں اور روافض نے اعوذ باللہ … یا بسم اللہ … یا الصلاۃ والسلام … وغیرہ کا اضافہ کر لیا۔
(۴) … سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے شروع میں سحری کرنے والے کے لیے ایک رخصت کا بیان ہے کہ وہ بامر مجبوری طلوع فجر کے باوجود سحری کا کھانا کھا سکتا ہے۔ کلیہ تو یہی ہے کہ طلوع فجرِ صادق سے ہی سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کے لیے اذان فجر کو معیار قرار دیا تھا، کیونکہ طلوع فجر اور اذان فجر کا ایک وقت ہوتا ہے، اس حدیث میں ایک رخصت کا بیان ہے کہ اگر کسی آدمی سے تاخیر ہو جاتی ہے اور وہ اذان سے پہلے سحری سے فارغ نہیں ہو پاتا تو اسے چندلقمے کھا لینے کی اجازت ہے۔ حدیث کے الفاظ پر غور کیا جائے کہ کس شخص کو ضرورت پورا کرنے کی اجازت ہے۔ اس رخصت کا یہ مفہوم نہیں کہ اذان سننے کے بعد تفصیل کے ساتھ چائے وائے اور مختلف ڈشوں کا اہتمام شروع ہو جائے۔ (انتہت ابواب الاذان والاقا مۃ)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه البيھقي: 4/ 218