🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. 2 - بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَالْمُؤَذِّنِينَ وَالْأَئِمَّةِ
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1256
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1256]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16986»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلْمُؤَذِّنُوْنَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسلم) سب سے لمبی گردنوں والے مؤذن لوگ ہوں گے کا مفہوم کیا ہے؟ مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں، اگر اس کو حقیقی معنی پر ہی محمول کر لیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا، کیونکہ آج بھی مناسب حد تک گردن کا لمبا ہونا حسنکی علامت ہے۔مزید کچھ مفاہیم درج ذیل ہیں:
کثیر اجرو ثواب والے
سب سے زیادہ اعمال والے
یہ الفاظ ان کی سرداری سے کنایہ ہیں، کیونکہ عرب لوگ سیادت کو لمبی گردنوں سے تعبیر کرتے رہتے ہیں۔ان سے مرادیہ ہے کہ ان کو فرحت و مسرت نصیب ہو گی اور وہ ندامت و پشیمانی سے محفوظ رہیں گے۔ جب لوگوں کے منہوں تک پسینہ پہنچے گا تو مؤذنوں کی گردنیں لمبی ہو جائیں گی، تاکہ وہ اس کرب و اذیت سے محفوظ رہیں۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم387
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1257
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَالْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ وَيُصَدِّقُهُ مَنْ سَمِعَهُ مِنْ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى مَعَهُ) )
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اگلی صف پر رحمت بھیجتے ہیں اور مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخش دیا جاتا ہے، اور اس کو سننے والی خشک اور ترچیز اس کی تصدیق کرتی ہے، اور اسے اس کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کا اجرو ثواب بھی ملے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ((وله مثل اجر من صلي معه))۔ وھذا اسناد ضعيف۔ قتاده بن دعامة مدلس، وقد عنعن، وفي سماعه من ابي اسحاق السبيعي نظر۔ أخرجه النسائي: 2/ 13، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18700»
وضاحت: فوائد: … اذان کے کئی فضائل کے باوجود اذان دینے کے سلسلے میں عجیب قسم کی بے رغبتی پائی جاتی ہے، شاید بعض لوگ ایسے بھی ہوں کہ نہ انھوں نے زندگی بھراذان دی ہو گی اور نہ ان میں اس کی تڑپ پیدا ہوئی ہو گی۔ (العیاذ باللہ تعالی) رہا مسئلہ پہلی صف کا، تو جس مسجد میں نمازیوں کی دو تین صفیں بن جاتی ہیں، وہاں اکثر طور پر ابتدائے نماز کے وقت پانچ چھ نمازی ہوتے ہیں اور کئی لوگ پہلے پہنچ جانے کے باوجود پچھلی صفوں میں بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں، بالخصوص جمعۂ مبارکہ کا خطبہ سنتے وقت۔ یہ سب امور دین میں بے رغبتی کی صورتیں ہیں۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: … اس بات پر بھی بڑا تعجب ہے کہ علمائے اسلام اور مبلغ حضرات نے بھی عملی طور پر اس عظیم عبادت اور شعارِ اسلام سے بے رخی اختیار کر رکھی ہے، بہت کم دیکھا گیا ہے کہ کوئی عالم کسی مسجد میں اذان دے رہا ہو، بلکہ بسااوقات وہ اذان دینے سے شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور انھیں تعجب ہوتا ہے کہ وہ یہ نیکی کریں، لیکن امامت کی باری آتی ہے تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں، بلکہ جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا شکوہ دائر کرواتے ہیں کہ اس زمانے میں اتنی اجنبیت کیوں پائی جا رہی ہے۔ (صحیحہ: ۴۲)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ((وله مثل اجر من صلي معه))۔ وھذا اسناد ضعيف۔ قتاده بن دعامة مدلس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. بَابُ الْأَمْرِ بِرَفْعِ الصَّوْتِ بِالْآذَانِ وَفَضْلِهِ وَاسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ بَيْنَ الْآذَانِ وَالْأَقَامَةِ وَهُرُوبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهَا
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1258
عَنِ ابْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَكَانَ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ! إِذَا أَذَّنْتَ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَيْسَ شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ، جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ) ) وَقَالَ مَرَّةً: يَا بُنَيَّ! إِذَا كُنْتَ فِي الْبَرَارِي فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَسْمَعُهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ وَلَا شَيْءٌ يَسْمَعُهُ إِلَّا شَهِدَ لَهُ) )
ابو صعصعہ،جو کہ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے، کہتے ہیں: سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا:میرے پیارے بیٹے! جب تو اذان کہے تو بلند آواز سے اذان کہا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ہر چیز جو اس کو سنتی ہے وہ اس کے لیے گواہی دیتی ہے، وہ جن ہو یا انسان ہو یا پتھر ہو۔ اور ایک مرتبہ کہا: میرے بیٹے! جب تو خشکی (یعنی بے آباد علاقوں) میں ہو تو اذان کے لیے اپنی آواز کو اونچا کیا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کوئی جن، کوئی انسان، کوئی پتھر اور کوئی چیز اس کو نہیں سنتی مگر وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 723، وابن خزيمة: 389، وابو يعلي: 982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11031)۔ وأخرجه البخاري: 609، 3296 بالفاظ آتية۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11045»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 723
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1259
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ لَهُ: إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَّ صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
اور انہی ابو صعصعہ سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ سیّدنا ابو سعید نے کہا: جب تو اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان کہے تو اذان میں اپنی آواز کو بلند کیا کر، کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو بھی جن، انسان اور کوئی چیز سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ میں نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11325»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11325
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1260
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ فَيَقُولُ لَهُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ مِنْ قَبْلُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ يُصَلِّي) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا اتنی دور بھاگ جاتا ہے کہ اذان نہیں سنتا، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو بھاگ جاتا ہے، جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور انسان اور اس کے نفس کے درمیان حائل ہو کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔وہ (نمازی کو) کہتا ہے: تو فلاں کام یاد کر، فلاں کام یاد کر، وہ کام جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتے(وہ یاد کراتا ہے)، نتیجتاً آدمی ایسی حالت میں ہو جاتا ہے کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1260]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 608، 1222، ومسلم: 389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9933»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 608
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1261
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا سَمِعَ الشَّيْطَانُ الْمُنَادِيَ يُنَادِي بِالصَّلَاةِ وَلَّى وَلَهُ ضَرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الصَّوْتَ، فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ فَإِذَا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ) )
اور انہی سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شیطان مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا اتنا دور چلا جاتا ہے کہ آواز نہ سن سکے، جب مؤذن فارغ ہو جاتا ہے تو وہ واپس آ کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر جب مؤذن اقامت کہنا شروع کرتا ہے تو شیطان اسی طرح کرتا ہے، (یعنی بھاگ جاتا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9159»
وضاحت: فوائد: … شیطان کی اس کیفیت کا سبب شدت ِ خوف اور ہیبت ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اذان کے کلمات سنی ان سنی کرنے کے لیےیا اذان کی توہین کرنے کے لیے جان بوجھ کر یہ کیفیت اختیار کرتا ہو۔ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ نماز کو نمازی پر خلط ملط کر دیا جائے، جب سیّدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے شیطان کے وسوسوں سے متعلقہ یہی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شیطان کو خنزب کہتے ہیں، جب تو اسے محسوس کرے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کر اور اپنی بائیں جانب تین بار تھوک۔ میں نے ایسے ہی کیا، پس اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ سے دور کر دیا۔ (مسلم: ۲۲۰۳) معلوم ہوا کہ جب شیطان نماز میں وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرے تو أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھ کر بائیں جانب تین دفعہ تھوک دیا جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 389
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1262
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ هَرَبَ الشَّيْطَانُ حَتَّى يَكُونَ بِالرَّوْحَاءِ) ) وَهِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ ثَلَاثُونَ مِيلًا
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے، یہاں تک کہ روحاء مقام تک پہنچ جاتا ہے، اور یہ مقام مدینہ سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1262]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 388، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14457»
وضاحت: فوائد: … اذان، اللہ تعالیٰ کی کبریائی و بڑائی، وحدانیت و یکتانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت و نبوت کی شہادتوں اور لوگوں کے لیے خیر وفلاح کی دعوتوں پر مشتمل ہے، جب یہ اثر انگیز الفاظ شیطان کے کانوں میں پڑتے ہیں تو وہ بے برداشتہ اور دل برداشتہ ہو کر بھاگ پڑتا ہے اور ایسے مقام تک پہنچ کر سکون کی سانس لیتا ہے، جہاں اسلام کے عظیم شعار کے عظیم کلمات سنائی نہ دیتے ہوں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 388
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1263
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا ردّ نہیں کی جاتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1263]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔أخرجه الترمذي: 212، 3594، وابوداود: 521، وابن خزيمة: 425، وابن حبان: 1696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12200، 12584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12612»
وضاحت: فوائد: … مسجد کے خادم، مؤذن اور دوسرے متعلقہ لوگوں سمیت اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اس وقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔ انسان کی عجلت پسندی، بے صبری اور عدم برداشت نے اسے نقصان دیا ہے۔ یہ سب امور تعلق باللہ کے کمزور ہونے کا نتیجہ ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔أخرجه الترمذي: 212
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1264
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ) )
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ وھذا اسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14745»
وضاحت: فوائد: … نماز کے لیے بلانے سے مراد اذان ہے، اس حدیث کے درج ذیل شاہد سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ فُتِحَتْ اَبْوَابُ السَّمَائِ وَاسْتُجِیْبَ الدُّعَائُ۔)) یعنی: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے۔ (أخرجہ الطیالسی: ۲۱۰۶، وابو یعلی: ۴۰۷۲، والطبرانی فی الدعا: ۴۸۵، والبغوی: ۴۲۸ باسنادین ضعیفین)

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ وھذا اسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. بَابُ بَدْءِ الْأَذَانِ وَرُؤْيَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَسَبَبِ مَشْرُوعِيَّةِ التَّثْوِيبِ فِي الْفَجْرِ
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب¤اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1265
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا بِلَالُ! قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ) )
نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مسلمان مدینہ میں آئے تو نماز کے وقت کا اندازہ لگا کر اکٹھے ہوا کرتے تھے، کوئی نماز کے لیے اذان نہیں کہا کرتا تھا۔ ایک دن لوگوں نے اس کے متعلق بات چیت کی، کسی نے یہ مشورہ دیا کہ عیسائیوں کی ناقوس جیسی ناقوس بنا لو اور بعض نے کہا کہ یہودیوں کے قرن جیسا قرن بنا لیتے ہیں، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ تم لوگ (نماز کے وقت) ایک ایسے آدمی کو کیوں نہیں بھیج دیا کرتے جو نماز کے لیے اعلان کر دے گا۔ (یہ رائے پسندیدہ تھی اس لیے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اعلان کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1265]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 604، و مسلم: 377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6357»
وضاحت: فوائد: … ناقوس: عیسائی لوگ اپنی نمازوں کے اوقات کا اعلان کرنے کے لیے ایک لمبی لکڑی پر چھوٹی لکڑی مارتے ہیں، اسے ناقوس کہتے ہیں۔
قرن(بوق): اس میں ایک طرف سے پھونک مارنے سے دوسری طرف سے آواز نکلتی ہے، نمازوں کے اوقات کی خبر دینے کا یہیہودیوں کا انداز تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 604
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں