الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسْتَمِعُ عِنْدَ سَمَاعِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَبَعْدَ الْأَذَانِ
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
حدیث نمبر: 1296
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَشَهَّدُ مَعَ الْمُؤَذِّنِينَ
سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤذنوں کے ساتھ شہادت والے کلمے کہا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1296]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 614، والنسائي: 2/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16966»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 614
حدیث نمبر: 1297
عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمُؤَذِّنِ وَكَبَّرَ الْمُؤَذِّنُ اثْنَتَيْنِ، فَكَبَّرَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِثْنَتَيْنِ، فَشَهِدَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ الْمُؤَذِّنُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: هَٰكَذَا حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
مجمع بن یحی انصاری کہتے ہیں: میں سیّدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور وہ مؤذن کی طرف رخ کیے ہوئے تھے، مؤذن نے دو دفعہ اللہ اکبر کہا، جواب میں سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بھی دو دفعہ اللہ اکبر کہا، مؤذن نے دو مرتبہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ کہا، سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بھی دو مرتبہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ کہا، پھر مؤذن نے دو دفعہ أشہد أن محمدا رسول اللہ کہا تو سیّدنا ابو امامہ نے بھی دو دفعہ أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ کہا، پھر میری طرف رُخ کر کے فرمایا: مجھے سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے ہی بیان کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1297]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن حبان: 1688، وأخرجه البخاري: 612، 613، والنسائي: 2/ 24 بالفاظ مختلفة۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16828، 16841،16862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16987»
وضاحت: فوائد: … اذان کے موقع پر کیے جانے والے اذکار کا خلاصہ یہ ہے، مذکورہ بالا احادیث میں ان کے اجرو ثواب کا ذکر ہو چکا ہے:
۱۔صدقِ دل سے مؤذن کے ساتھ اذان کے کلمات دوہرانا اور حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے جواب میں لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ کہنا۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ اور اشھد ان محمد رسول اللہ کے جواب میں اَنَا (اور میں بھی) کہنا بھی درست ہے۔ (مسلم)
۲۔اذان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا
۳۔پھر یہ دعاپڑھنا: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّدًا نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضَیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَہ۔)) اس دعا کے آخر میں اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادِ کا اضافہ کرنا بھی درست ہے۔
۴۔ ((وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْنًا۔)) یہ دعا کب پڑھی جائے؟ اسی باب میں اس پر بحث ہو چکی ہے۔
تنبیہ: … کیا اقامت کے کلمات کا بھی جواب دینا چاہیے؟ بعض اہل علم نے درج ذیل روایت اور اس مفہوم کی روایات سے یہ استدلال کیا ہے کہ اقامت کا بھی جواب دے جائے: سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَائَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ۔)) یعنی: جب تم ندا سنو تو اس طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۱۱، صحیح مسلم: ۳۸۳)
استدلال: … چونکہ ندا کا لفظ عام ہے، اس کا اطلاق اذان اور اقامت دونوں پر ہوتا ہے، اس لیے اقامت کے کلمات کا جواب بھی دینا چاہیے۔ لیکنیہ استدلال محل نظر ہے، کیونکہ اس موضوع کی کئی روایات میں صرف اذان کو موضوع بحث بنا کر اس کے کلمات کا جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیےیہاں بھی ندا کے لفظ کو اذان پر محمول کرنا چاہیے۔ اس حدیث کے لفظ مؤذن سے بھییہ اشارہ ملتا ہے کہ اس حدیث میں ندا سے مراد اذان ہے۔ وگرنہ جہاں بھی لفظ ندا اور مؤذن استعمال ہو گا، ان سے اذان اور اقامت دونوں کو مراد لیا جائے گا، مثلا: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَالَ حِیْنَیَسْمَعُ النِّدَائَ: اَللّٰھُمَّ رَبَّّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ … … حَلَّّتْ لَہٗشَفَاعَتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (صحیح بخاری: ۶۱۴)
ہماری رائے یہ ہے کہ کسی واضح دلیل سے اقامت کے کلمات کا جواب دینا ثابت نہیں ہوتا، اس لیےیہ اہتمام نہیں ہونا چاہیے۔ اس موضوع کی درج ذیل حدیث واضح ہے، لیکن اس کی سند کمزور ہے:
سیّدنا ابو امامہ یا کسی دوسری صحابی سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا شروع کی، جب انھوں نے قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَقَامَھَا اللّٰہُ وَ اَدَامَھَا (اللہ اس کو قائم دائم رکھے) اور دیگر کلمات کے جواب میں اسی طرح کہا جیسے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی (اذان والی) حدیث میں گزراہے۔ (ابوداود: ۵۲۸)
یہ حدیث تین وجوہات کی بنا پر ضعیف ہے:
۱۔محمد بن ثابت عبدی ضعیف ہے۔
۲۔ رجل من اہل الشام مبہم یعنی مجہول ہے۔
۳۔شہر بن حوشب متکلم فیہ ہے۔
۱۔صدقِ دل سے مؤذن کے ساتھ اذان کے کلمات دوہرانا اور حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے جواب میں لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ کہنا۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ اور اشھد ان محمد رسول اللہ کے جواب میں اَنَا (اور میں بھی) کہنا بھی درست ہے۔ (مسلم)
۲۔اذان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا
۳۔پھر یہ دعاپڑھنا: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّدًا نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضَیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَہ۔)) اس دعا کے آخر میں اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادِ کا اضافہ کرنا بھی درست ہے۔
۴۔ ((وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْنًا۔)) یہ دعا کب پڑھی جائے؟ اسی باب میں اس پر بحث ہو چکی ہے۔
تنبیہ: … کیا اقامت کے کلمات کا بھی جواب دینا چاہیے؟ بعض اہل علم نے درج ذیل روایت اور اس مفہوم کی روایات سے یہ استدلال کیا ہے کہ اقامت کا بھی جواب دے جائے: سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَائَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ۔)) یعنی: جب تم ندا سنو تو اس طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۱۱، صحیح مسلم: ۳۸۳)
استدلال: … چونکہ ندا کا لفظ عام ہے، اس کا اطلاق اذان اور اقامت دونوں پر ہوتا ہے، اس لیے اقامت کے کلمات کا جواب بھی دینا چاہیے۔ لیکنیہ استدلال محل نظر ہے، کیونکہ اس موضوع کی کئی روایات میں صرف اذان کو موضوع بحث بنا کر اس کے کلمات کا جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیےیہاں بھی ندا کے لفظ کو اذان پر محمول کرنا چاہیے۔ اس حدیث کے لفظ مؤذن سے بھییہ اشارہ ملتا ہے کہ اس حدیث میں ندا سے مراد اذان ہے۔ وگرنہ جہاں بھی لفظ ندا اور مؤذن استعمال ہو گا، ان سے اذان اور اقامت دونوں کو مراد لیا جائے گا، مثلا: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَالَ حِیْنَیَسْمَعُ النِّدَائَ: اَللّٰھُمَّ رَبَّّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ … … حَلَّّتْ لَہٗشَفَاعَتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (صحیح بخاری: ۶۱۴)
ہماری رائے یہ ہے کہ کسی واضح دلیل سے اقامت کے کلمات کا جواب دینا ثابت نہیں ہوتا، اس لیےیہ اہتمام نہیں ہونا چاہیے۔ اس موضوع کی درج ذیل حدیث واضح ہے، لیکن اس کی سند کمزور ہے:
سیّدنا ابو امامہ یا کسی دوسری صحابی سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا شروع کی، جب انھوں نے قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَقَامَھَا اللّٰہُ وَ اَدَامَھَا (اللہ اس کو قائم دائم رکھے) اور دیگر کلمات کے جواب میں اسی طرح کہا جیسے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی (اذان والی) حدیث میں گزراہے۔ (ابوداود: ۵۲۸)
یہ حدیث تین وجوہات کی بنا پر ضعیف ہے:
۱۔محمد بن ثابت عبدی ضعیف ہے۔
۲۔ رجل من اہل الشام مبہم یعنی مجہول ہے۔
۳۔شہر بن حوشب متکلم فیہ ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن حبان: 1688
51. بَابُ الْأَذَانِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ وَتَقْدِيمِهِ عَلَيْهِ فِي الْفَجْرِ خَاصَّةً
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1298
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لَا يَخْرُمُ ثُمَّ لَا يُقِيمُ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَإِذَا خَرَجَ أَقَامَ حِينَ يَرَاهُ
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ سورج ڈھلتے وقت اذان کہاکرتے تھے اور اس کا کوئی لفظ نہیں چھوڑتے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکلنے تک اقامت نہ کہتے، البتہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلتے تو آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1298]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 606، وابن ماجه: 713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21139»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 606
حدیث نمبر: 1299
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ إِنَّمَا يُنَادِي أَوْ قَالَ يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ وَيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَٰكَذَا وَلَكِنْ حَتَّى يَقُولَ هَٰكَذَا) ) وَضَمَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو أَصَابِعَهُ وَصَوَّبَهَا وَفَتَحَ مَا بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ يَعْنِي الْفَجْرَ
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال کی اذان تم میں سے کسی کو اس کی سحری سے نہ روکے،کیونکہ وہ تو صرف اس لیے اذان کہتا ہے کہ قیام کرنے والے کو واپس لوٹا دے اورسوئے ہوئے کو بیدار کر دے اور (فجر صادق میں روشنی) اس طرح (اوپر کو) ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ اس طرح (افق میں) پھیل جاتی ہے۔ اور ابن ابی عدی ابو عمر نے (اس تمثیل کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنی انگلیوں کو ملا کر جھکایا اور شہادت والی انگلیوں کے درمیان کشادگی کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1299]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 621، 5248، 7247، ومسلم: 1093، وابوداود: 2347، 2347، والنسائي: 4/ 148، وابن ماجه: 1696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3717»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں سحری والی اذان کی حکمت بیان کی جا رہی ہے کہ قیام کرنے والا نماز فجر کے لیے کچھ راحت کر لے یا روزہ کا ارادہ رکھنے کی صورت میں سحری کر لے اور سونے والا جاگ کر غسل یا وضو کرے اور نماز فجر کے لیے تیارہو جائے۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے میں اختصار کے ساتھ فجر کاذب اور فجر صادق کے فرق کو بیان کیا جا رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 621
حدیث نمبر: 1300
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ (عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلِ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بلال رات کے وقت اذان کہتا ہے اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان کہہ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1300]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 617، ومسلم: 1092، والترمذي: 203، والنسائي: 2/10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4551»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 617
حدیث نمبر: 1301
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ) ) قَالَ: وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُبْصِرُ، لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَقُولَ النَّاسُ: قَدْ أَصْبَحْتَ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرویہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم ایک نابینا آدمی تھے، اس لیے وہ اس وقت تک اذان نہیں کہتے تھے جب تک لوگ اسے یہ نہ کہہ دیتے کہ تو نے صبح کردی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1301]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 617، 2656، ومسلم: 1092، والترمذي: 203، والنسائي: 2/10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4551، 6051 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6051»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 617
حدیث نمبر: 1302
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو مؤذن تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5686»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ طلوع فجر سے پہلے یعنی رات والی اذان سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اور طلوع فجر کے بعد والی اذان سیّدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ دیا کرتے تھے، لیکن ان کییہ باریاں تبدیل بھی ہوتی رہتی تھیں اور بسا اوقات سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ طلوع فجر کے بعد والی اذان دیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں نماز ِ فجر کی اذان سے پہلے بھی ایک اذان دی جاتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس اذان کا مقصد بیان کر دیاہے کہ قیام کرنے والے بس کر دیں اور سونے والے بیدار ہو جائیں، بہرحال ان دو اذانوں میں اتنا وقفہ ہونا چاہیے کہ سحری کا آسانی سے بند و بست کیا جا سکے، جیسا کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان ہو چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَا اَنَسُ! اِنِّیْ اُرِیْدُ الصِّیَامَ، اَطْعِمْنِیْ شَیْئًا۔)) یعنی: انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، کوئی چیز کھلاؤ۔ میں کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انس! کسی آدمی کو تلاش کرو، جو میرے ساتھ کھانا کھائے۔ میں سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو تلاش کر کے لایا۔ انھوں نے آ کر کہا: میں نے ستو پیا ہے اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سحری کی، پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں اور پھر نماز کے لیے چلے گئے۔ (نسائی: ۲۱۶۷) یہ نفلی روزے کا واقعہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ رمضان کے علاوہ بھی سحری کے وقت اذان دی جاتی تھی،یہ رمضان کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 222
52. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَذَانِ لِلْجُمُعَةِ وَالْيَوْمِ الْمَطِيرِ
جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1303
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا، فِي الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ، قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ، وَلِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ
سیّدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کا جمعہ وغیرہ تمام نمازوں کے لیے ایک ہی مؤذن ہوا کرتا تھا، یہاں تک کہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے۔ سیّدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے روز جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوتے تو سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان کہتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اترتے تو سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1303]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه أبوداود: 1088، 1089، وابن ماجه: 1135، وابن خزيمة: 1837۔ وأخرج البخاري: 913، 915 و ابوداود: 1087 بنحوه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15807»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه أبوداود: 1088
حدیث نمبر: 1304
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَذَانَيْنِ حَتَّى كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ فَكَثُرَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَاءِ
سیّدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابو بکر اورسیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ادوار میں (جمعہ کے لیے اذان اور اقامت) دو اذانیں ہوا کرتی تھیں،یہاں تک کے سیّدناعثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آ گیا اور لوگوں کی کثرت ہوگئی تو سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے زوراء مقام پر ایک اور اذان کہنے کا حکم دے دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1304]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 912، والترمذي: 516، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15728 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15819»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 912
حدیث نمبر: 1305
عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ يَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ
سیّدنا عمر بن اوس رضی اللہ عنہ کو بنو ثقیف کے ایک آدمی نے بتایاکہ اس نے بارش والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن کو حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کے بعد صَلُّوْا فِی رِحَالِکُمْ (اپنے گھروں میں پڑھ لو) کہتے ہوئے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1305]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 14بلفظ متقارب، وأخرجه عبد الرزاق في المصنف: 1925، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15433، 23167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23554»
وضاحت: فوائد: … ان الدینیسر یعنی: دین آسان ہے۔ کا ایک مفہوم اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جہاں شریعت نے عام حالات میں مسجد میں نماز باجماعت کو ضروری قرار دیا، وہاں کسی عذر کی وجہ سے رخصت کی گنجائش بھی رکھ دی۔بارش یا سخت سردی کے موسم میں اذان میں مندرجہ طریقوں سے تبدیلییا اضافہ کیا جائے گا۔
۱۔ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کے بعد صَلُّوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ (گھروں میں نماز پڑھ لو) کہنا، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔
۲۔ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کے بجائے صَلُّوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ گھروں میں نماز پڑھ لو کہنا۔ (بخاری، مسلم)
۳۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دورانِ سفرسردی والییا بارش والی رات کو مؤذن کو حکم دیا کہ وہ اذان دے اور آخر مین یہ کلمات کہہ دے: اَلَا صَلُّوْا فِیْ الرِّحَالِ (خبردار! اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھ لو۔) (بخاری، مسلم، بعض روایات میں سفر کا ذکر نہیں ہے)
۳۔ اذان کے بعد وَمَنْ قَعَدَ فَـلَا حَرَجَ (اگر کوئی نہ آئے تو کوئی حرج نہیں) کہنا بھی درست ہیں۔ (مسند ابن ابی شیبہ: ۲/۵/۲، بیھقی: ۱/ ۳۹۸، صحیحہ: ۲۶۰۵)
جمعہ کی اذانیں کتنی ہیں؟
مسنون طریقہیہی ہے کہ عام نمازوں کی طرح جمعہ کے لیے بھی ایک اذان دی جائے اور ایک اقامت کہی جائے، دو اذانوں کا یہی مفہوم ہے۔ عہد ِ نبوی، عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں اور عہد عثمانی کی ابتدا میں اذان و اقامت کا یہی طریقہ رائج رہا، اب بھی اسی کو ترجیح دینی چاہیے۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بعض وجوہات کی بنا پر مسجد نبوی سے ایک میل دور زورائ مقام پر اذان کے کلمات کہلوانے کا اہتمام کیا تھا۔ آج کل مسجد کے اندر ہی پہلی اذان دینے کا استدلال سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل سے کرنا محل نظر ہے، کیونکہ وہ تو مقام زوراء پر اذان دلواتے تھے۔
۱۔ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کے بعد صَلُّوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ (گھروں میں نماز پڑھ لو) کہنا، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔
۲۔ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کے بجائے صَلُّوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ گھروں میں نماز پڑھ لو کہنا۔ (بخاری، مسلم)
۳۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دورانِ سفرسردی والییا بارش والی رات کو مؤذن کو حکم دیا کہ وہ اذان دے اور آخر مین یہ کلمات کہہ دے: اَلَا صَلُّوْا فِیْ الرِّحَالِ (خبردار! اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھ لو۔) (بخاری، مسلم، بعض روایات میں سفر کا ذکر نہیں ہے)
۳۔ اذان کے بعد وَمَنْ قَعَدَ فَـلَا حَرَجَ (اگر کوئی نہ آئے تو کوئی حرج نہیں) کہنا بھی درست ہیں۔ (مسند ابن ابی شیبہ: ۲/۵/۲، بیھقی: ۱/ ۳۹۸، صحیحہ: ۲۶۰۵)
جمعہ کی اذانیں کتنی ہیں؟
مسنون طریقہیہی ہے کہ عام نمازوں کی طرح جمعہ کے لیے بھی ایک اذان دی جائے اور ایک اقامت کہی جائے، دو اذانوں کا یہی مفہوم ہے۔ عہد ِ نبوی، عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں اور عہد عثمانی کی ابتدا میں اذان و اقامت کا یہی طریقہ رائج رہا، اب بھی اسی کو ترجیح دینی چاہیے۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بعض وجوہات کی بنا پر مسجد نبوی سے ایک میل دور زورائ مقام پر اذان کے کلمات کہلوانے کا اہتمام کیا تھا۔ آج کل مسجد کے اندر ہی پہلی اذان دینے کا استدلال سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل سے کرنا محل نظر ہے، کیونکہ وہ تو مقام زوراء پر اذان دلواتے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 14بلفظ متقارب