الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ اسْتِحْبَابِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبَيْنِ وَجَوَازِهَا فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَمَا يَفْعَلُ مَنْ صَلَّى فِي قَمِيصٍ وَاحِدٍ تَبْدُو مِنْ عَوْرَتِهِ
دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان¤اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
حدیث نمبر: 1415
عَنْ زُهَيْرٍ قَالَ: ثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحٌ بِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِأَبِي الزُّبَيْرِ: الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ: الْمَكْتُوبَةَ وَغَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ
سیّدنا جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کپڑے میں توشیح کر کے نماز پڑھتے تھے۔ بعض لوگوں نے ابو زبیر سے پوچھا کہ کیا فرض نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: فرض اور غیر فرض دونوں نمازیں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1415]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 518،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14120)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14396»
وضاحت: فوائد: … توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کندھے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 518
حدیث نمبر: 1416
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَكُونُ فِي الصَّيْدِ فَأُصَلِّي وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ؟ قَالَ: ( (فَزُرَّهُ وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا شَوْكَةً) )
سیّدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! چونکہ میں شکار میں ہوتا ہوں، تو کیا میں صرف قمیص میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (پڑھ سکتے ہو لیکن) اس کو بٹن لگا لو، اگرچہ کانٹے کے علاوہ اورکچھ نہ ملے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1416]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 632، و، النسائي: 2/70، وابن خزيمة: 777، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16520، 16522)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16637»
وضاحت: فوائد: … اگر نمازی نے صرف قمیص پہنی ہوئی تو اسے چاہیے کہ بٹن وغیرہ کے ذریعے اس کو اوپر سے بند کر لے، وگرنہ اوپر سے ستر ننگے ہونے کا خطرہ ہو گا۔
ننگے سر نماز پڑھنا
ہمارے ہاں نماز میں سر ننگا رکھنے کو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے اور بسااوقات تو ایسے نمازی کی مخالفت کرنے کے لیے جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے۔ بہرحال شریعت کا اپنا مزاج اور پابندیاں ہیں۔ اس ضمن میں درج ذیل بحث پر غور کریں۔
مردوزن کے نماز کے لباس کے بارے میںدرج بالا ابواب میں کئی روایات گزر چکی ہیں، کسی ایک حدیث میں بھی مرد کے لیے سر ڈھانپنے کو نماز کا لباس نہیں قرار دیا گیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور کئی صحابہ سے ننگے سر نماز پڑھنا ثابت ہو گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درج ذیل حدیث پر غور فرمائیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تـُقْبَلُ صَلَاۃُ حَائِضٍ إِلاَّ بِخِمَارٍ۔)) یعنی: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں ہوتی۔ (ابوداود: ۶۴۱، وتقدم فی ھذ المسند) اس حدیث سے واضح طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ سر کو ڈھانپنے کی قید عورت کے لیے ہے، مرد کی سر ننگے نماز ہو جاتی ہے۔
بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس وقت کپڑوں میں تنگی تھی، اب وسعت کے زمانے میں سر ڈھانپنا ضروری ہے۔ یہ محض ان کی خام خیالی ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں بعض مواقع پر بے شمار مال و دولت جمع ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں بعض صحابہ کرام امیر تھے، تیسری بات جو اہم ہے کہ اگر سر کو ڈھناپنا ضروری ہوتا تو شریعت میں اس کی وضاحت کر دی جاتی۔ صحابہ کرام کے ادوار میںیقینا بہت مال و دولت جمع ہو گیا تھا۔ لیکن سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کیا ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں۔ پھر ایک آدمی نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اسی قسم کا سوال کیا، آپ نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے وسعت پیدا کر دی ہے تو تم بھی وسعت سے کام لو، یعنی آدمی ازار اور چادر میںیا ازار اور قمیص میںیا ازار اور چوغے میں،یا شلوار اور چادر میں،یا شلواور قمیص میں،یا شلوار اور چوغے میںیا نیکر اور چوغے میںیا نیکر اور قمیص میں نماز پڑھے۔ (صحیح بخاری: ۳۶۵) معلوم ہوا کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وسعت کے زمانے میں بھی سر کو ڈھانپنا نماز کا لباس نہیں سمجھا۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ پگڑی باندھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اورشریف و معزز لوگوں نے اسی لباس کو اختیار کیا ہے، لیکن نماز میں اس کا اہتمام کرنے یا نہ کرنے سے نماز کے اجرو ثواب میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی۔ قارئین کو یہ فرق سمجھنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مختلف ملبوسات پہننا ثابت ہیں، لیکن ان سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کو نماز کے لیے ضروری سمجھ لیا جائے،مثلا موزے پہننا اور ان میںنماز پڑھنا۔
سیدسابق نے کہا: احناف کے نزدیک ننگے سر آدمی کی نماز میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ وہ خشوع کی خاطر ننگے سر نماز پڑھنے کو افضل سمجھتے ہیں، بہرحال کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے، جو نماز میں سر ڈھانپنے کی افضیلت پر دلالت کرے۔ (فقہ السنہ: ۱/ ۴۳) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سر ڈھانپنا نماز کے لباس میں سے نہیں ہے، اس لیے لوگوں کو خواہ مخواہ کی تنگیوں میں نہیں ڈالنا چاہیے، اور مسجدوں کو میل کچیل سے بھری ہوئی پلاسٹک وغیرہ کی بنی ہوئی ٹوپیوں سے پاک رکھنا چاہیے۔
ننگے سر نماز پڑھنا
ہمارے ہاں نماز میں سر ننگا رکھنے کو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے اور بسااوقات تو ایسے نمازی کی مخالفت کرنے کے لیے جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے۔ بہرحال شریعت کا اپنا مزاج اور پابندیاں ہیں۔ اس ضمن میں درج ذیل بحث پر غور کریں۔
مردوزن کے نماز کے لباس کے بارے میںدرج بالا ابواب میں کئی روایات گزر چکی ہیں، کسی ایک حدیث میں بھی مرد کے لیے سر ڈھانپنے کو نماز کا لباس نہیں قرار دیا گیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور کئی صحابہ سے ننگے سر نماز پڑھنا ثابت ہو گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درج ذیل حدیث پر غور فرمائیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تـُقْبَلُ صَلَاۃُ حَائِضٍ إِلاَّ بِخِمَارٍ۔)) یعنی: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں ہوتی۔ (ابوداود: ۶۴۱، وتقدم فی ھذ المسند) اس حدیث سے واضح طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ سر کو ڈھانپنے کی قید عورت کے لیے ہے، مرد کی سر ننگے نماز ہو جاتی ہے۔
بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس وقت کپڑوں میں تنگی تھی، اب وسعت کے زمانے میں سر ڈھانپنا ضروری ہے۔ یہ محض ان کی خام خیالی ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں بعض مواقع پر بے شمار مال و دولت جمع ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں بعض صحابہ کرام امیر تھے، تیسری بات جو اہم ہے کہ اگر سر کو ڈھناپنا ضروری ہوتا تو شریعت میں اس کی وضاحت کر دی جاتی۔ صحابہ کرام کے ادوار میںیقینا بہت مال و دولت جمع ہو گیا تھا۔ لیکن سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کیا ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں۔ پھر ایک آدمی نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اسی قسم کا سوال کیا، آپ نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے وسعت پیدا کر دی ہے تو تم بھی وسعت سے کام لو، یعنی آدمی ازار اور چادر میںیا ازار اور قمیص میںیا ازار اور چوغے میں،یا شلوار اور چادر میں،یا شلواور قمیص میں،یا شلوار اور چوغے میںیا نیکر اور چوغے میںیا نیکر اور قمیص میں نماز پڑھے۔ (صحیح بخاری: ۳۶۵) معلوم ہوا کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وسعت کے زمانے میں بھی سر کو ڈھانپنا نماز کا لباس نہیں سمجھا۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ پگڑی باندھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اورشریف و معزز لوگوں نے اسی لباس کو اختیار کیا ہے، لیکن نماز میں اس کا اہتمام کرنے یا نہ کرنے سے نماز کے اجرو ثواب میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی۔ قارئین کو یہ فرق سمجھنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مختلف ملبوسات پہننا ثابت ہیں، لیکن ان سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کو نماز کے لیے ضروری سمجھ لیا جائے،مثلا موزے پہننا اور ان میںنماز پڑھنا۔
سیدسابق نے کہا: احناف کے نزدیک ننگے سر آدمی کی نماز میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ وہ خشوع کی خاطر ننگے سر نماز پڑھنے کو افضل سمجھتے ہیں، بہرحال کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے، جو نماز میں سر ڈھانپنے کی افضیلت پر دلالت کرے۔ (فقہ السنہ: ۱/ ۴۳) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سر ڈھانپنا نماز کے لباس میں سے نہیں ہے، اس لیے لوگوں کو خواہ مخواہ کی تنگیوں میں نہیں ڈالنا چاہیے، اور مسجدوں کو میل کچیل سے بھری ہوئی پلاسٹک وغیرہ کی بنی ہوئی ٹوپیوں سے پاک رکھنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
20. بَابُ كَرَاهِيَةِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالْاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
ااشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ اور ایک کپڑے میں گوٹھ مانے کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 1417
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ: الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لباس کی دو حالتوں سے منع فرمایا: بولی بکّل مارنے سے اور آدمی کے کپڑے کے ساتھ اس طرح گوٹھ مارنے سے کہ اس کی شرمگاہ پر اس میں سے کچھ نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8949) وأخرج مثله البخاري: 368، 584۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9425»
وضاحت: فوائد: … اِشْتِمَالُ الصَّمَّائ سے کیا مراد ہے؟ حافظ ابن حجر نے کہا: اہلِ لغت کہتے ہیں: کسی شخص کا ایک کپڑے کو اپنے جسم پر اس لپیٹنا کہ نہ تو وہ اس سے کسی جانب کو بلند کرتا ہو اور نہ ہی اتنی جگہ باقی ہو کہ اس کا ہاتھ نکل سکے۔ ابن قتیبہ نے کہا: صمّائ کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ اس کی صورت تمام سوراخوں کو بند کر دیتی ہے، اس طرح وہ سخت چٹان کی طرح ہو جاتی ہے، جس میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا۔ جبکہ فقہاء نے کہا: آدمی اپنے جسم پر کپڑا لپیٹے اور پھر اس کا ایک کنارہ اٹھا کر کندھے پر رکھ دے اور اس طرح اس کی شرم گاہ ننگی ہونے لگے۔ (فتح الباری: ۱/ ۶۲۹) سنن ابی داود (۴۰۸۰) کی روایت سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے، اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لباس کی دو قسموں سے منع کیا ہے: آدمی کا اس طرح گوٹھ مارنا کہ اوپر سے اس کی شرمگاہ ننگی ہو رہی ہو اور اس طرح کپڑا پہننا کہ ایک جانب ننگی رہ جائے اور کپڑا کندھے پر ڈال دے۔ اگرچہ اس حدیث کے ایک راوی سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی تعریف، فقہاء کی تعریف سے ملتی جلتی ہے، لیکن علامہ عظیم آبادی کہتے ہیں: لفظ صَمّائ کو سامنے رکھا جائے تو اس معنی کی گنجائش نہیں ملتی، اصمعی کا بیان کردہ معنی اس لفظ کے زیادہ قریب ہے، وہ کہتے ہیں: آدمی کا ایک کپڑے سے اپنا سارا جسم اس طرح ڈھانپ لینا کہ ہاتھ نکالنے کے لیے بھی کوئی سوراخ نہ بچے اور اس طرح وہ اپنے ہاتھوں سے موذی چیزوں سے دفاع نہ کر سکے۔ (عون المعبود: ۱/ ۱۱۲۲) حبوہ (گوٹھ مارنا): سرین کے بل بیٹھ کر گھٹنے کھڑے کر کے ان کے گرد سہارا لینے کے لیے دونوں ہاتھ باندھ لینایا کمر اور گھٹنوں کے گردکپڑا باندھنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اس انداز میں بیٹھ جایاکرتے تھے، اس لیے ایسے انداز میں بیٹھنا جائز ہے، بشرطیکہ بیٹھنے والا ننگا نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ اس حدیث سے بھی معلوم ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 1418
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَرْتَدُوا الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلَا يَحْتَبِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک کپڑے میں بولی بکّل نہ مارو اور تم میں سے کوئی نہ بائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے، نہ ایک جوتے میں چلے اور نہ ایک کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1418]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2099، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14118)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14917»
وضاحت: فوائد: … اشتمال الصمائ اور گوٹھ مارنے کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ بائیں ہاتھ سے کھانے اور ایک جوتے میں چلنے سے منع کیا گیا، کیونکہیہ دونوں شیطان کی عادتیں ہیں: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لِیَأْکُلْ أَحَدُکُمْ بِیَمِیْنِہٖ، وَلْیَشْرَبْ بِیَمِیْنِہٖ، وَلْیَأْخُذْ بِیَمِیْنِہٖ، وَلْیُعْطِ بِیَمِیْنِہٖ، فَإِنَّ الشَّیْطَانُیَأْکُلُ بِشِمَالِہٖ،وَیَشْرَبُ بِشِمَالِہٖ،وَیُعْطِیْ بِشِمَالِہٖ،وَیَأْخُذُ بِشِمَالِہٖ۔)) یعنی: ہر کوئی دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں سے پئے، دائیں ہاتھ سے لے اور دائیں ہاتھ سے ہی دے، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے۔ (ابن ماجہ: ۲/۳۰۳، احمد: ۲/۳۲۵/ ۳۴۹، صحیحہ: ۱۲۳۶)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَمْشِيْ فِيْ النَّعْلِ الْوَاحِدَۃِ۔)) یعنی: بیشک شیطان ایک جوتا پہن کر چلتا ہے۔ (مشکل الآثار للطحاوی: ۲/۱۴۲، الصحیحۃ: ۳۴۸)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَمْشِيْ فِيْ النَّعْلِ الْوَاحِدَۃِ۔)) یعنی: بیشک شیطان ایک جوتا پہن کر چلتا ہے۔ (مشکل الآثار للطحاوی: ۲/۱۴۲، الصحیحۃ: ۳۴۸)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2099
21. (أبواب اجتناب النجاسة فى مكان المصلى وثوبه وبدنه والعفو عما لا يعلم منها)
نمازی کی جائے نماز، کپڑے اور بدن کا نجاست سے پاک ہونے کا بیان اور جو نجاست معلوم نہ ہو اس سے در گزر کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: Q1419]
22. بَابُ الْأَمَاكِنِ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا وَالْمَأْذُونِ فِيهَا لِلصَّلَاةِ
ان جگہوں کا بیان جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور جن میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے
حدیث نمبر: 1419
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كُلُّ الْأَرْضِ مَسْجِدٌ وَطَهُورٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ) )
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبرستان اور حمام کے علاوہ ساری زمین مسجد ہے اور پاک کرنے والی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1419]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 492، و الترمذي: 317، وابن ماجه: 745، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11784، 11788)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11806»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ممکنہ صورت میں فرضی نماز مساجد میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، بصورت دیگر چند مخصوص مقامات کے علاوہ ساری زمین کو جائے نماز قرار دیا ہے، جبکہ سابقہ امتوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے عبادت خانوں میں ہی پہنچ کر نماز ادا کریں۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے ((اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَھُنَّ اَحَدٌ قَبْلِیْ: … وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَ طَھُوْرًا …)) پر بحث کرتے ہوئے کہا: زیادہ راجح قول خطابی کا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل لوگوں کے لیے صرف مخصوص عبادت خانوں میں نماز ادا کرنا جائز تھا، جیسے کلیسا اور گرجا گھر وغیرہ، اس کی تائید عمرو بن شعیب والی روایت سے ہوتی ہے، جس مین یہ الفاظ بھی ہیں: ((وَکَانَ مَنْ قَبْلِیْ اِنَّمَا کَانُوْا یُصَلُّوْنَ فِیْ کَنَائِسِھِمْ)) (اور مجھ سے پہلے والے لوگ اپنے اپنے گرجا گھروں میں نماز پڑھتے تھے) اور بزار کی روایت کردہ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((وَلَمْ یَکُنْ مِنَ الْاَنْبِیَائِ اَحَدٌ یُصَلِّیْ حَتّٰییَبْلُغَ مِحْرَابَہٗ۔)) (اور (مجھسےقبل) کوئی نبی ایسا نہیں تھا جو اپنے محراب میں پہنچنے سے پہلے نماز پڑھتا ہو)۔ (فتح الباری: ۱/ ۵۷۶)
حمام کے معانی گرم پانی کے ہیں، لیکن بعد میں اس لفظ کو جائے غسل کے لیے استعمال کیا جانے لگا، اگرچہ غسل گرم پانی سے کیا جائے یا ٹھنڈے پانی سے۔ اس ضمن میں درج ذیل روایت ذہن نشین رہنی چاہیے: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع کیا: کوڑا خانہ، ذبح خانہ، مقبرہ، گزر گاہ، حمام، اونٹ کا باڑہ، بیت اللہ کی چھت۔ (ترمذی، ابن ماجہ) لیکنیہ روایت ضعیف ہے۔ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اس کی تفصیل اور وجہ آگے آ رہی ہے۔ اَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ میں بَابُ النَّہْیِ عَنْ أِتِّخَاذِ قُبُوْرِ الْأَنْبِیَائِ وَالصَّالِحِیْنَ مَسَاجِدَ لِلتَّبَرُّکِ وَالتَّعْظِیْم، میں قبرکو جائے نماز بنانے سے متعلقہ بعض احادیث گزر چکی ہیں۔
حمام کے معانی گرم پانی کے ہیں، لیکن بعد میں اس لفظ کو جائے غسل کے لیے استعمال کیا جانے لگا، اگرچہ غسل گرم پانی سے کیا جائے یا ٹھنڈے پانی سے۔ اس ضمن میں درج ذیل روایت ذہن نشین رہنی چاہیے: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع کیا: کوڑا خانہ، ذبح خانہ، مقبرہ، گزر گاہ، حمام، اونٹ کا باڑہ، بیت اللہ کی چھت۔ (ترمذی، ابن ماجہ) لیکنیہ روایت ضعیف ہے۔ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اس کی تفصیل اور وجہ آگے آ رہی ہے۔ اَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ میں بَابُ النَّہْیِ عَنْ أِتِّخَاذِ قُبُوْرِ الْأَنْبِیَائِ وَالصَّالِحِیْنَ مَسَاجِدَ لِلتَّبَرُّکِ وَالتَّعْظِیْم، میں قبرکو جائے نماز بنانے سے متعلقہ بعض احادیث گزر چکی ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 1420
عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا تُصَلُّوا إِلَى الْقُبُورِ وَلَا تَجْلِسُوا عَلَيْهَا (وَفِي لَفْظٍ) لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهَا) )
سیّدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قبروں کی طرف نماز نہ پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: قبروں پر بیٹھو نہ ان پر نماز پڑھو۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1420]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 972، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17216)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17348»
وضاحت: فوائد: … ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ قبر پر بیٹھا جائے، نہ اس پر یا اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 972
حدیث نمبر: 1421
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے اور اونٹوں اور گائیوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھتے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1421]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف ابن لھيعة وحيي بن عبد الله المعافري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6658)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6658»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1422
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ وَمَعَاطِنَ الْإِبِلِ فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ نہ پاؤ تو بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کرو اور اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1422]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 348، وابن ماجه: 768، 795، وابن حبان: 1384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9825، 10365)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10370»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الترمذي: 348
حدیث نمبر: 1423
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَعْقُوبُ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ (سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
سیّدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1423]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 770، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15341)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15416»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح