🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابُ مُدَّةِ اسْتِقْبَالِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَتَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنْهُ إِلَى الْكَعْبَةِ
بیت المقدس کے قبلہ رہنے کی مدت اورپھر کعبہ کی طرف تحویلِ قبلہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1453
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ أُمِّ حَرَامٍ الْأَنْصَارِيَّ وَقَدْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَتَيْنِ وَعَلَيْهِ ثَوْبُ خَزٍّ أَغْبَرُ وَأَشَارَ إِبْرَاهِيمُ بِيَدِهِ إِلَى مَنْكِبَيْهِ فَظَنَّ كَثِيرٌ أَنَّهُ رِدَاؤُهُ
ابراہیم بن ابی عبلہ کہتے ہیں: میں نے سیّدناعبد اللہ بن ام حرام انصاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا،انہوں نے اپنے اوپر گندمی رنگ کا اونی ریشمی کپڑا لیے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ ابراہیم نے اپنے ہاتھ سے کندھوں کی طرف اشارہ کیا، جس سے کثیر بن مروان نے سمجھا کہ وہ چادر مراد لے رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1453]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف جدا من اجل كثير بن مروان، أخرجه ابن الأثير في اسد الغابة: 3/ 352۔ وانظر الحديث الآتي بالطريق الثاني۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18049 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18213»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1454
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا أُبَيٍّ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرَامٍ الْأَنْصَارِيِّ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَتَيْنِ جَمِيعًا وَعَلَيْهِ كِسَاءُ خَزٍّ أَغْبَرُ
(دوسری سند)میں نے ابو اُبَیّ انصاری کو دیکھا، انھوں نے مجھے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی، جبکہ اس نے اپنے اوپر گندمی رنگ کی اونی ریشمی چادر لی ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1454]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري في التاريخ: 3/ 335، والطبراني في مسند الشاميين: 13، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18048 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18213»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ وُجُوبِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ فِي الْفَرِيضَةِ
فرض نماز میں قبلہ رخ ہونے کا وجوب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1455
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا شَهِدُوا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں، جب تک وہ یہ گواہی نہ دے دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جب وہ گواہی دے دیں گے، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کریں گے، ہمارا ذبیحہ کھائیں گے او رہماری نماز پڑھیں گے تو ان کے خون و مال ہم پر حرام ہو جائیں گے،مگر حق کے ساتھ اوران کے لیے وہی ہو گا جو دوسرے عام مسلمانوں کے لیے ہے اور ان پر بھی وہی ہو گا جو دوسرے مسلمانوں پر ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1455]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13056)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13087»
وضاحت: فوائد: … کتاب الایمان کے باب نمبر (۹) میں اس حدیث کی شرح گزر چکی ہے۔ خون اور مال کی حفاظت کے لیے ادائیگی ٔ نماز کے وقت کعبہ کی طرف رخ کرنے کو شرط قرار دینے سے اس فریضہ کی اہمیت کا پتہ چل رہا ہے، مذاہب عالم میں کعبہ کو قبلہ قرار دینا صرف اسلام کی خاصیت ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 392
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1456
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُسِيءِ فِي صَلَاتِهِ: ( (إِذَا أَرَدْتَّ أَنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وَضُوءَكَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ ثُمَّ كَبِّرْ) ) (الحديث)
سیّدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسیء الصلاۃ کو فرمایاتھا: جب تو نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو وضو کر اوروضو اچھا کر، پھر قبلہ رخ ہوجا، پھر اللہ اکبر کہہ۔ الحدیث۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح وھذا اسناد حسن، أخرجه البخاري في القراء ة خلف الامام: 112، وابن حبان: 1787، وأخرجه اصحاب السنن و(انظر للتفصيل: 18995)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19206»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک طویل حدیث ہے، جو کئی احکام و مسائل پر مشتمل ہے، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں قبلہ رخ ہونے کا حکم دیا ہے۔ متعلقہ آدمی نے اچھے انداز میںنماز ادا نہیں کی تھی، اس لیے اس کو مُسِیْئُ الصَّلَاۃ کہتے ہیں، جن کا لفظی معنییہ ہے: نماز کو خراب کرنے والا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح وھذا اسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1457
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ وَهُوَ عَلَى الرَّاحِلَةِ وَيُوْمِئُ بِرَأْسِهِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ
سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سواری پر نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا،آپ اپنے سر سے اشارہ کرتے تھے (اور اس چیز کی کوئی پروا نہ کرتے کہ) جس طرف بھی آپ کا رخ ہو جاتا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرض نماز میں ایسا نہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1457]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1097، ومسلم: 701، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15672، 15695)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15783»
وضاحت: فوائد: … نفلی اور فرضی نمازوں میں قبلہ رخ نہ ہونے کی کن صورتوں میں گنجائش ہے؟ اس موضوع پر باب نمبر (۴) اور (۵) میں بحث کی جائے گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1097
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي الْكَعْبَةِ
کعبہ کے اندر نفلی نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1458
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَجَلَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ وَهَلَّلَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْبَيْتِ فَوَضَعَ صَدْرَهُ عَلَيْهِ وَخَدَّهُ وَيَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ كَبَّرَ وَهَلَّلَ وَدَعَا ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ بِالْأَرْكَانِ كُلِّهَا، ثُمَّ خَرَجَ فَأَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ وَهُوَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: ( (هَٰذِهِ الْقِبْلَةُ، هَٰذِهِ الْقِبْلَةُ) ) مَرَّتَيْنِ أَوْثَلَاثًا
سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اورتکبیر و تہلیل بیان کی،پھر اپنے سامنے والے بیت اللہ کے حصے کی طرف کھڑے ہوئے اور اپنا سینہ، رخسار اور ہاتھ اس پر رکھ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تہلیل بیان کی اور دعا بھی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام کونوں میں یہی عمل کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہو کر قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دو یا تین مرتبہ فرمایا: یہی قبلہ ہے،یہی قبلہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 5/ 220، وابن خزيمة: 3005، وأخرجه البخاري: 398، ومسلم: 1330 بلفظ: ان النبي صلي الله عليه وآله وسلم لما دخل البيت دعا في نواحيه كلھا ولم يصل فيه حتي خرج، فلما خرج ركع ركعتين في قبُل الكعبة، وقال: ((ھذه القبلة۔))۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21754، 21823)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22166»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1459
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسِ يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِالدُّخُولِ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْقِبْلَةِ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقَالَ: ( (هَٰذِهِ الْقِبْلَةُ) )
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھاکہ کیاآپ نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ تمہیں صرف بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ اس میں داخل ہونے کا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اس میں داخل ہونے سے منع تو نہیں کرتے تھے، البتہ میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا: سیّدنااسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کے سارے کونوں میں دعا کی اور نماز نہیں پڑھی،یہاں تک کہ باہر تشریف لے آئے،باہر نکل کرقبلہ کے سامنے دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: یہ قبلہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1459]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين و أخرج المرفوع منه البخاري: 398، ومسلم: 1330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21754، 21809)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22152»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين و أخرج المرفوع منه البخاري: 398
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1460
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَ عَنْ بِلَالٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْبَيْتِ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسِ يَقُولُ: لَمْ يُصَلِّ فِيهِ وَلَكِنَّهُ كَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ
عمرو بن دینار سے مروی ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی۔ انھوں نے کہا: سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تو یہ بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں نماز نہیں پڑھی تھی،البتہ اس کے مختلف کونوں میں تکبیر کہی (اللہ کی بڑائی بیان کی) تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن خزيمة: 3008، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 390، والطبراني: 1033، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24416»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1461
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَأَلَ بِلَالًا هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: کہ انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں، دو ستونوں کے درمیان دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1461]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 397، 1167 وفيه: نعم ركع ركعتين بين ھاتين الساريتين۔ قال: ثم خرج فصلي في وجه الكعبة ركعتين۔ وأخرجه مسلم: 1329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23885، 23907، 23922)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24382»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 397
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1462
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَجَاهَكَ حِينَ تَدْخُلُ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ
سیّدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور ان دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی، جو تیرے داخل ہوتے وقت تیرے سامنے پڑتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، أخرجه الطيالسي: 1365، والطبراني في الكبير: 8398، والبيھقي في السنن: 2/ 328، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15462»
وضاحت: فوائد: … عام قارئین کے لیے درج بالا احادیث میں تناقض پایا جا رہا ہے، کیونکہ سیّدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی، لیکن سیّدنا بلال اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے۔ اس میں حقیقت میں تضاد کی کوئی صورت نہیں پائی جا رہی، محدثین کااس امر پر اتفاق ہے کہ اس باب میں سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ہی لیا جائے گا، کیونکہ ان کے پاس زیادہ علم ہے اور ان کی حدیث مثبت ہے، جس کو نفی والی حدیث پر مقدّم کیا جاتا ہے۔ پورے واقعہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام نے بیت اللہ میںداخل ہو کر دراوزہ بند کر دیا تھا اور ہر کوئی دعا میں مصروف ہو گیا تھا، اس لیے ممکن ہے کہ سیّدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے نہ دیکھا ہو اور سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا ہو۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ دو علیحدہ علیحدہ واقعات ہیں، جیسا امام ابن حبان نے کہا: میرے نزدیک راجح بات یہ ہے کہ ان دو احادیث کا تعلق دو مختلف واقعات سے ہے، فتح مکہ کے موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو نماز پڑھی، لیکن حجۃ الوداع کے موقع پر داخل تو ہوئے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔ (تلخیص از صحیح ابن حبان: ۷/ ۴۸۳) تطبیق کے بعد معلوم ہوا کہ کعبہ کی عمارت کے اندر فرضی اور نفلی دونوں نمازیں پڑھنا جائز ہیں، امام احمد اور امام ابوحنیفہ سمیت جمہوراہل علم کا یہی خیال ہے، کیونکہ ایسی غیر اضطراری صورت میں نفل اور فرض دونوں نمازوں کے لیے قبلہ کا ایک حکم ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں