🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْحَصِيرِ وَالْبُسُطِ وَالْفِرَاءِ وَالْخُمْرَةِ
چٹائی، ٹاٹوں،پوستینوںاور اوڑھنیوں پر نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1444
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوڑھنی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1444]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 331، وابن ماجه: 1030، وابن حبان: 2310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2061، 2426)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2426»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابٌ فِي الصَّلَاةِ فِي ثَوْبِ النَّوْمِ وَشَعْرِ النِّسَاءِ وَحُكْمِ ثَوْبِ الصَّغِيرِ
سونے والے کپڑے اور عورتوں کی شمیزوں میں نماز پڑھنے کا بیان اور چھوٹے بچے کے کپڑے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1445
عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يَنَامُ مَعَكِ فِيهِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، مَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى
سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے، جس میں آپ کے ساتھ سوتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، لیکن جب تک اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1445]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 366، والنسائي: 1/ 155، وابن ماجه: 540، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27404، 26760)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27296»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1446
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أُصَلِّي فِي ثَوْبِي الَّذِي آتِي فِيهِ أَهْلِي؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، إِلَّا أَنْ تَرَى فِيهِ شَيْئًا تَغْسِلُهُ) )
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پو چھا: کیا میں اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں جس میں اپنی بیوی کے پاس آتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن اگر تو اس میں کوئی(گندگی والی) چیز دیکھے تو اسے دھو لیا کر۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1446]
تخریج الحدیث: «صحيح، الا انه اختلف في رفع ھذا الحديث ووقفه، ومال الامام احمد وابو حاتم الي وقفه، وصححه مرفوعا ابن حبان والبوصيري۔ أخرجه ابن ماجه: 542، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20825)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21110»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1447
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ قَالَ: ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا، قَالَ بِشْرٌ: هُوَ الثَّوْبُ الَّذِي يُلْبَسُ تَحْتَ الدِّثَارِ
محمد بن سرین کہتے ہیں: مجھے یہ بتایا گیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری شمیزوں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ ایک راوی بشر کہتے ہیں کہ یہ وہ کپڑا ہے جسے قمیص کے نیچے پہنا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1447]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد فيه انقطاع، أخرجه ابوداود: 368، والترمذي: 600، والنسائي: 8/ 217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24698)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25205»
وضاحت: فوائد: … یہ وہ کپڑا ہے جسے قمیص کے نیچے پہنا جاتا ہے سے مراد وہ لباس ہے جو بدن کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے، اس کو تحتانی لباس کہتے ہیں، ہمارے ہاں عام طور پر عورتوں کے ایسے کپڑے کو شمیز کہا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1448
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ أَوْ أُمَيْمَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ وَهِيَ بِنْتُ زَيْنَبَ يَحْمِلُهَا إِذَا قَامَ وَيَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ حَتَّى فَرَغَ
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امامۃیا امیمہ بنت ابی العاص کو اٹھائے ہوئے دیکھا،یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھی، جب آپ کھڑے ہوتے تو اسے اٹھالیتے تھے اور جب رکوع کرتے تو اسے نیچے رکھ دیتے حتی کہ آپ نماز سے فارغ ہوجاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1448]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 516، ومسلم: 543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22519، 22524)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22886»
وضاحت: فوائد: … آخری حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران نماز اپنی نواسی کو اٹھائے رکھا، یہ فرضی نماز کا واقعہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ اس عمل کا تعلق جواز سے ہے۔ یہ تمام دعوے اور تاویلیں باطل ہیں کہ یہ رخصت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص تھی،یا منسوخ ہو چکی ہے، یا اس کا تعلق نفلی نماز سے ہے۔ مزید اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بچے کے جسم اور کپڑے کو پاک ہی سمجھا جائے گا، جب تک نجاست کے اثرات واضح نہ ہو جائیںیایقینی طور پر علم نہ ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امہات المؤمنین کے تحتانی لباس میں نماز نہ پڑھنا، علامہ عظیم آبادی نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ عورتوں کے ان کپڑوں سے اجتناب کرنا چاہیے، جن کے بارے میں پلید ہو جانے کاخطرہ ہو اور یہی حکم باقی کپڑوں کا ہے۔ (عون المعبود: ۱/ ۳۳۶) امام ابوداود نے یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد یہ باب قائم کیا ہے: باب الرخصۃ فی ذلک اور اس مین یہ حدیث ذکر کی ہے: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چادر پہن کر نماز پڑھتے، جبکہ اس کا کچھ حصہ آپ کی کسی حائضہ بیوی پر ہوتا تھا۔ (ابوداود: ۳۶۹، ابن اجہ: ۶۵۳) لیکن اس حدیث سے رخصت کی گنجائش نکالنا محل نظر ہے، کیونکہ عورت کا لباس زیب تن کرنا اور بات ہے اور خاوند کے لباس کے بعض حصے کا اس کی بیوی سے لگ جانا اور اس پر پڑ جانا اور بات ہے۔ شرعی نصوص کی روشنی میں اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ نجس کپڑا زیب تن کرنا منع ہے، اسی طرح مرد حضرات اس لباس سے بھی گریز کریں گے، جو عورتوں کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طبعی طور پر امہات المؤمنین کا تحتانی لباس نہ پہنتے ہوں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 516
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. (أبواب القبلة)
قبلہ کے آداب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: Q1449]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ مُدَّةِ اسْتِقْبَالِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَتَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنْهُ إِلَى الْكَعْبَةِ
بیت المقدس کے قبلہ رہنے کی مدت اورپھر کعبہ کی طرف تحویلِ قبلہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1449
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَى أَجْدَادِهِ أَوْ أَخْوَالِهِ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَّهُ صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ وَأَنَّهُ صَلَّى أَوَّلَ صَلَاةٍ صَلَّاهَا صَلَاةَ الْعَصْرِ وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلَّى مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ مَسْجِدٍ وَهُمْ رَاكِعُونَ فَقَالَ: أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ، قَالَ: فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَكَانَ الْيَهُودُ قَدْ أَعْجَبَهُمْ إِذْ كَانَ يُصَلِّي قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَهْلُ الْكِتَابِ فَلَمَّا وَلَّى وَجْهَهُ قِبَلَ الْبَيْتِ أَنْكَرُوا ذَلِكَ
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ پہنچے تو سب سے پہلے اپنے اجداد یا ماموؤں کے پاس ٹھہرے، جن کا تعلق انصار سے تھا،آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سولہ یا سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے رہے، جبکہ آپ کو پسند یہ تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو۔ (بالآخر ایسے ہی ہوا اور) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلی نماز جو اس کی طرف پڑھی، وہ عصر تھی،کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ان میں سے ایک آدمی ایک مسجد والوں کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس نے ان سے کہا: میں اللہ کو گواہ بناکر کہتاہوں کہ (قبلہ تبدیل ہو چکا ہے اور) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نماز پڑھی ہے۔ وہ (یہ اعلان سن کر رکوع کی)حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ کو بیت اللہ کی طرف پھیر دیا جائے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تو یہودیوں اور اہل کتاب کویہ اچھا لگتا تھا (کیونکہ اس کو وہ اپنی اقتدا سمجھتے تھے)، اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رخ بیت اللہ کی طرف پھیر لیا تو انہوں نے اسے برا جانا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1449]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 40، 4486، ومسلم: 525، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18496)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18690»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 40
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1450
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ أَتَاهُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ قُرْآنٌ اللَّيْلَةَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قباء میں کچھ لوگ نمازِ فجر ادا کررہے تھے، ان کے پاس ایک آنے والے نے آکر کہا: رات رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے، جس کے مطابق آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم بھی اس کی طرف منہ کرلو۔ ان لوگوں کے چہرے شام (یعنی بیت المقدس) کی طرف تھے، وہ (یہ اعلان سن کر) کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1450]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 503، 4491، ومسلم: 526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5934)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5934»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کوئی آدمی ناسمجھی اور لاعلمی کی بنا پر غیر قبلہ کی طرف شروع کر دیتا ہے تو اس کی نماز درست ہو گی اور دورانِ نماز علم ہو جانے کی صورت میں وہ نماز کو جاری رکھتے ہوئے قبلہ کی طرف گھوم جائے گا۔ شرعی احکام میں خبر واحد قطعی حجت ہے، صحابہ کرام کی جماعت نے ایک آدمی کی خبر کی بنا پر اپنا قبلہ تبدیل کر لیا تھا۔ حدیث ِ مبارکہ بھی قرآن مجید کی طرح حجت ہے، کیونکہ بیت المقدس کا قبلہ ہونا، قرآن مجید میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہیں، جبکہ صحابہ کرام سولہ سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے، یہ عمل احادیث کی روشنی میں تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 503
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1451
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ صُرِفَتِ الْقِبْلَةُ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے سولہ مہینے تک نماز پڑھتے رہے، پھر قبلہ تبدیل ہوگیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1451]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 334، والبزار: 418، والطبراني: 11066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2252، 3270، 2991)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3270»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1452
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ آدَمَ وَأَبِي مَرْيَمَ وَأَبِي شُعَيْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ بِالْجَابِيَةِ فَذَكَرَ فَتْحَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَحَدَّثَنِي أَبُو سِنَانٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ آدَمَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: لِكَعْبٍ أَيْنَ تَرَى أَنْ أُصَلِّيَ؟ فَقَالَ: إِنْ أَخَذْتَ عَنِّي صَلَّيْتَ خَلْفَ الصَّخْرَةِ، فَكَانَتِ الْقُدْسُ كُلُّهَا بَيْنَ يَدَيْكَ، فَقَالَ عُمَرُ: ضَيَّحْتُ الْيَهُودِيَّةَ، لَا، وَلَكِنْ أُصَلِّي حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَقَدَّمَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَبَسَطَ رِدَاءَهُ فَكَنَسَ الْكُنَاسَةَ فِي رِدَائِهِ وَكَنَسَ النَّاسُ
عبید بن آدم، ابو مریم، اور ابو شعیب سے مروی ہے کہ سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جابیہ میں تھے۔ پھر راوی نے بیت المقدس کی فتح کا ذکر کیا۔ ابو سلمہ کہتے ہیں: مجھے ابوسفیان نے عبید بن آدم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا کہ وہ سیّدنا کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے: میں نماز کہاں پڑھوں، آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میری رائے لینا چاہتے ہو تو صخرہ کے پیچھے نماز پڑھ لو، سارے کا سارا قدس آپ کے سامنے آجائے گا، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس طرح تو یہودیت کی مشابہت اختیار کرلوں گا، نہیں، لیکن میں وہاں نماز پڑھوں گا، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازپڑھی تھی۔ پھر وہ آگے بڑھے اور قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور نماز ادا کی، پھر آکر صفائی کی اور کوڑا اپنی چادر میں اکٹھا کر لیا اور پھر لوگوں نے بھی صفائی کی۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1452]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي سنان عيسي بن سنان الحنفي، أخرجه ابو عبيد في الاموال: 430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 261)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 261»
وضاحت: فوائد: … یہ امیر المؤمنین سیّدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہیں، جنھوںنے ممکنہ حدتک اہل کتاب کی مشابہت اختیار کرنے سے گریز کیا اور وہ اسی قسم کے اسلام کو اپنی عزت و غیرت کا نشان سمجھتے تھے۔ کاش! آج کل کے مسلم حکمرانوں کو بھییہ نقطہ سمجھ آ جاتا۔ یہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تواضع ہے کہ اپنی جگہ کی خود صفائی کر رہے ہیں، جبکہ وہ لاثانی خلیفۃ المسلمین ہیں۔ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي سنان عيسي بن سنان الحنفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں