الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَجْرِيدِ الْمَنْكِبَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَجَوَازِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
حدیث نمبر: 1405
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي كَيْسَانَ مَا أَدْرَكْتَ مِنَ النَّبِيِّ؟ قَالَ: رَأَيْتُهُ يُصَلِّي عِنْدَ الْبِئْرِ الْعُلْيَا بِئْرِ بَنِي مُطَيْعٍ مُتَلَبِّبًا فِي ثَوْبٍ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا رَكْعَتَيْنِ
(دوسری سند) عبد الرحمن بن کیسان کہتے ہیں:میں نے اپنے باپ سیّدنا کیسان رضی اللہ عنہ سے سوال کیاکہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا چیز پائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے آپ کو بنو مطیع کے کنویں بئر علیا کے پاس ایک کپڑے میں لپٹ کر ظہر یا عصر کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ نماز دو رکعت پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1405]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابن ماجه: 1051، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15446)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15525»
وضاحت: فوائد: … توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔ مُتَلَبِّبًا: سینے پر کپڑے کو جمع کیا ہوا تھا، یعنی توشیح والی صورت اختیار کی ہوئی تھی۔ اس انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی چادر سے ستر بھی ڈھانپ لیا اور کندھوں پر بھی کپڑا کر لیا۔ لیکنیہ عمل اس وقت ہو گا جب چادر کھلی ہو گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 1406
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفٌ بِهِ وَرِدَاؤُهُ قَرِيبٌ لَوْ تَنَاوَلَهُ بَلَغَهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ هَٰذَا لِيَرَانِيَ الْحَمْقَى أَمْثَالُكُمْ فَيُفْشُوا عَلَى جَابِرٍ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ جَابِرٌ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَجِئْتُهُ لَيْلَةً وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، قَالَ: ( (يَا جَابِرُ! مَا هَٰذَا الِاشْتِمَالُ؟ إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ) )
سعید بن حارث کہتے ہیں: ہم سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس اس حالت میں داخل ہوئے کہ وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی اوپر والی چادر ان کے اتنی قریب تھی کہ اگر وہ اسے پکڑنا چاہتے تو پکڑ لیتے۔ بہرحال جب انھوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے اس لباس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تا کہ تمہارے جیسے بیوقوف مجھے دیکھ کر جابر پر ایسی رخصت کا چرچاکریں جس کی اجازت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی تھی۔ پھر سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، جب میں (دورانِ سفر) رات کے وقت آپ کے پاس آیا تو آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ مجھ پر بھی ایک ہی کپڑا تھا، اس لیے میں نے اس کے ساتھ اشتمال کیا اور آپ کی ایک جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جابر! یہ اشتمال کیسا ہے؟ جب تو اس حالت میں نماز پڑھے کہ تجھ پر ایک ہی کپڑا ہو، اگر وہ وسیع ہو تو اس سے التحاف کر لیا کر اور کپڑا تنگ ہونے کی صورت میں صرف ازار باندھ لیا کر۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1406]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 361، وأخرج نحوه مسلم: 3008، 3010، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14518)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14572»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے پتہ چلا ہے کہ مجبوری کی صورت میں صرف ستر کو ڈھانپنا کافی ہے، کندھے ننگے ہی رہیں گے۔ اگرچہ دو کپڑوں میں نماز افضل ہے، سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کا مقصد لوگوں پر اس رخصت کو واضح کرنا ہے، تاکہ ضرورت کے وقت ان کو کوئی پریشانی نہ ہو۔
اشتمال: اس حدیث میں اشتمال پر انکار کیا گیا، اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
(۱) … کپڑے کو جسم پر اس طرح لپیٹ لینا کہ ہاتھ بھی باہر نہ رہے۔
(۲) … توشیح اور التحاف کی طرح ایک ہی چادر کو ازار کے لیے استعمال کرکے کندھوں پر ڈالنا، لیکن اس موقع پر کپڑا تنگ ہونے کی وجہ سے ستر سے سکڑا ہوا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا اور صرف ازار باندھ لینے کا حکم دیا۔
التحاف: لفظی معنی تو کپڑا لپیٹنا ہے، لیکن مرادی معنییہ ہے کہ اگر ایک کپڑا ہو تو نماز میں اس کو جسم کے وسط میں اس طرح نہ باندھا جائے کہ کندھے ننگے رہ جائیں،بلکہ اس کے کناروں کو کندھوں پر ڈال دیا جائے۔ ہاں اگر کپڑا تنگ ہو تو ازار باندھ لینا ہی کافی ہو گا۔
اشتمال: اس حدیث میں اشتمال پر انکار کیا گیا، اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
(۱) … کپڑے کو جسم پر اس طرح لپیٹ لینا کہ ہاتھ بھی باہر نہ رہے۔
(۲) … توشیح اور التحاف کی طرح ایک ہی چادر کو ازار کے لیے استعمال کرکے کندھوں پر ڈالنا، لیکن اس موقع پر کپڑا تنگ ہونے کی وجہ سے ستر سے سکڑا ہوا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا اور صرف ازار باندھ لینے کا حکم دیا۔
التحاف: لفظی معنی تو کپڑا لپیٹنا ہے، لیکن مرادی معنییہ ہے کہ اگر ایک کپڑا ہو تو نماز میں اس کو جسم کے وسط میں اس طرح نہ باندھا جائے کہ کندھے ننگے رہ جائیں،بلکہ اس کے کناروں کو کندھوں پر ڈال دیا جائے۔ ہاں اگر کپڑا تنگ ہو تو ازار باندھ لینا ہی کافی ہو گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 361
حدیث نمبر: 1407
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: صَلِّ بِنَا كَمَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشَدَّهُ تَحْتَ الثَّدْيَيْنِ
عبد اللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہمیں اس طرح نماز پڑھائیں جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا تھا، پس انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی، جبکہ ان کاکپڑا پستانوں والی جگہ کے نیچے باندھا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1407]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14120)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14751»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 518
حدیث نمبر: 1408
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أَزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ أَمْثَالَ الصِّبْيَانِ مِنْ ضِيقِ الإِزَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! لَا تَرْفَعْنَ رُؤُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ
سیّدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے مردوں کو نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں ازار تنگ ہونے کی وجہ سے بچوں کی طرح اپنے ازار اپنی گردنوں میں باندھے ہوئے دیکھا، کسی کہنے والا نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! اس وقت تک اپنے سر نہ اٹھانا جب تک مرد نہ اٹھا لیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1408]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 362، 814، 1215، ومسلم: 441 وابوداود!: 630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15562)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15647»
وضاحت: فوائد: … مجبوری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ازار میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے اس حدیث کا معنییہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقتدیوں کا ستر ننگا ہو رہا تھا۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب لباس تنگ ہو تو نقل و حرکت کے وقت یا کسی اور وجہ سے بے پردگی ہو سکتی ہے، اس لیے عورتوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی گئی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 362
حدیث نمبر: 1409
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ (بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ بِمَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ (وَفِي رِوَايَةٍ) فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ میں فتح کے دن ایک کپڑے کے دوکنارے مخالف سمت سے کندھوں سے گزار کر آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا اور ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی نماز کی آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1409]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1103، 1176، 4292، و مسلم: 336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26900)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27442»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1103
19. بَابُ اسْتِحْبَابِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبَيْنِ وَجَوَازِهَا فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَمَا يَفْعَلُ مَنْ صَلَّى فِي قَمِيصٍ وَاحِدٍ تَبْدُو مِنْ عَوْرَتِهِ
دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان¤اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
حدیث نمبر: 1410
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ بْنِ بَقِيَّةَ قَالَ: قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ سُنَّةٌ كُنَّا نَفْعَلُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ إِذَا كَانَ فِي الثِّيَابِ قِلَّةٌ، فَأَمَّا إِذْ وَسَّعَ اللَّهُ فَالصَّلَاةُ فِي الثَّوْبَيْنِ أَزْكَى
ابو نضرہ بن بقیہ کہتے ہیں کہ سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک کپڑے میں نماز پڑھنا سنت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا کرتے تھے اور ہم پر کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن یہ لباس اس وقت تھا جب کپڑوں میں قلت تھی، اب اگر اللہ نے وسعت کر دی ہے تو دوکپڑوں میں نماز ادا کرنا زیادہ پاکیزگی والا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1410]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه عبد الرزاق: 1384، وأخرجه البيھقي مطولا: 2/ 238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21276)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21598»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 1411
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي بُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ مُتَوَشِّحٍ بِهِ مَا عَلَيْهِ غَيْرُهُ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یقینا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کے وقت حضر می چادرلپیٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس کے علاوہ آپ پر اور (کوئی کپڑا) نہیں تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1411]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن حبان: 2570، وابويعلي: 2446، والطبراني: 11520، وعبد الرزاق: 1369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2320، 2384)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2384»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 1412
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَادَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: ( (أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آواز دی اور پوچھا: کیا کوئی آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: کیا بھلا ہر ایک کے پاس دو دو کپڑے ہیں؟ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1412]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 365، ومسلم: 515، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7149)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7149»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 365
حدیث نمبر: 1413
(زَادَ فِي رِوَايَةٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَتَعْرِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَثِيَابُهُ عَلَى الْمِشْجَبِ
(دوسری سند) سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تو ابو ہریرہ کو پہچانتا ہے کہ وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھتا ہے حالانکہ اس کے مزید کپڑے کھونٹی (ہینگر) پر لٹکے ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1413]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 358، ومسلم: 515، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7251)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7250»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ ہے کہ دوسرے کپڑے کی موجودگی میں بھی ایک کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 358
حدیث نمبر: 1414
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا لَمْ يَكُنْ لِلرَّجُلِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَزَرَّ بِهِ ثُمَّ لْيُصَلِّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ ذَلِكَ، وَيَقُولُ: لَا تَلْتَحِفُوا بِالثَّوْبِ إِذَا كَانَ وَحْدَهُ كَمَا تَفْعَلُ الْيَهُودُ، قَالَ نَافِعٌ: وَلَوْ قُلْتُ لَكَ إِنَّهُ أَسْنَدَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَرَجَوْتُ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُ
نافع کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: جب آدمی کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو تو وہ اسے ازار بنا کر نماز پڑھ لیا کرے، کیونکہ میں نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا تھا۔ اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جب ایک ہی کپڑا ہو تو اس سے اس طرح التحاف نہ کیا کرو، جس طرح کہ یہودی کرتے ہیں۔ نافع کہتے ہیں: اگر میں یہ کہہ دوں کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا تھا تو مجھے امید ہے کہ جھوٹا نہیں قرار پاؤں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1414]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 635، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 96، 6356)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 96»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد کی دوسری روایت (۶۳۵۶) کے الفاظ یہ ہیں: انھوں نے کہا: لَایَشْتَمِلْ اَحَدُکُمْ فِیْ الصَّلَاۃِ اِشْتِمَالَ الْیَھُوْدِ، لِیَتَوَشَّحْ، مَنْ کَانَ لَہٗثَوْبَانِفَلْیَأْتَزِرْ وَلْیَرْتَدْ، وَمَنْ لَّمْ یَکُنْ لَہٗثَوْبَانِفَلْیَأْتَزِرْ، ثُمَّ لِیُصَلِّ۔ یعنی: کوئی آدمی نماز مین یہودیوں کی طرح چادر نہ لپیٹا کرے، البتہ توشیح کر لیا کرے، جس کے پاس دو کپڑے ہوں تو وہ ایک سے ازار بنا لے اور ایک سے اوپر والی چادر، اور جس کے پاس دو کپڑے نہ ہوں تو وہ صرف ازارباندھ کر نماز پڑھ لیا کرے۔ (یہودیوں کی طرح لپیٹنے سے مراد یہ ہے کہ ایک کپڑے کو یوں لپیٹ لیا جائے کہ ہاتھ بھی باہر نہ رہے۔)
توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔
توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن