الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ صَلَّى خَلْفَهُ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ مُرُورُ شَيْءٍ
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1503
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ كَانَ عَلَى حِمَارٍ هُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَنْصَرِفْ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا أَوْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَنْصَرِفْ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: وہ اور بنوہاشم کا ایک لڑکا گدھے پر تھے، وہ گدھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزر گیا، جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے نہ نکلے، اتنے میں بنو عبد المطلب کی دو لڑکیوں نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کر دیا اورنماز سے نہ نکلے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1503]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 716، 717، والنسائي: 2/ 65، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3167)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3167»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 1505
عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، قَالَ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمْ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ كَلْبًا وَحِمَارًا، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقْبَلْتُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِللنَّاسِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْهُ مُسْتَقْبِلَهُ نَزَلْتُ عَنْهُ وَخَلَّيْتُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَانِي عَمَّا صَنَعْتُ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَجَاءَتْ وَلِيدَةٌ تَخَلَّلُتِ الصُّفُوفَ حَتَّى عَاذَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَاهَا عَمَّا صَنَعَتْ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ فَخَرَجَ جَدْيٌ مِنْ بَعْضِ حُجَرَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ يَجْتَازُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ: أَفَلَا تَقُولُونَ: الْجَدْيُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟
حسن عرنی رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں: سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس یہ بات ذکر کی گئی کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو قطع کر دیتی ہیں، وہ کہنے لگے: بری بات ہے کہ تم نے مسلمان عورت کو کتے اور گدھے کے برابر کردیا ہے، میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں گدھے پر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب میں آپ کے سامنے قریب ہوگیا تو میں اس سے اترا اور اسے چھوڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اپنی نماز دہرائی اور نہ مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور ایک دفعہ یوں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک بچی صفوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ لی، اس سے بھی نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز دہرائی اور نہ اسے ایسا کرنے سے منع کیا۔ ایک اور واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی حجرے سے ایک بکری کا بچہ نکل آیا اور آپ کے سامنے سے گزر نے لگا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے روک دیا۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اب تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ بکری کا بچہ نماز توڑ دیتا ہے؟ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1505]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم، لكنه متابع، ثم ھو منقطع۔ أخرجه الطبراني: 12703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2222، 2804)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2222»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے بچے کو بھی دورانِ نماز سامنے سے گزرنے سے روکا ہے، اس لیے لوگوں کو یہ بھی کہنا چاہیے کہ اس سے بھی نماز منقطع ہو جاتی ہے۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حدیث تو ثابت ہے کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو قطع کر دیتے ہیں۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو اس کا علم نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ مختلف الزامی امور کا تذکرہ کر رہے ہیں، گدھے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے قریب ہوجانا، اس سے گزرنا لازم نہیں آتا، بچی کامعاملہ تو اسے شعور نہ ہونے کی وجہ سے واضح ہے۔ کون سے امور نماز کو قطع کر دیتے ہیں؟ اس تفصیل کا بیان باب مبطلات الصلاۃ میں ہو گا۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
38. بَابُ مَنْ صَلَّى إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ
سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1506
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي فَضَاءٍ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فضا میں نماز پڑھی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سا منے کوئی چیز نہیں تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1506]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، حجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن، أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 278، والبيھقي: 2/ 273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1965)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1965»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 1507
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِهِ يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ سُتْرَةٌ
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: مجھے کثیر بن کثیر بن مطلب نے بیان کیا اور اس نے اپنے کسی گھر والے کواپنے دادا سے بیان کرتے ہوئے سنا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنوسہم والے دروازے کے پاس نماز پڑھی، جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے اور آپ اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہیں تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1507]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الواسطة بين كثير بن كثير وجدّه، وقد اختلف فيه علي سفيان بن عيينة، وانظر التفصيل في ھذا المكا، أخرجه ابوداود: 2016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27241)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27783»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الواسطة بين كثير بن كثير وجدّه
حدیث نمبر: 1508
وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ عَمَّنْ سَمِعَ جَدَّهُ يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ سُتْرَةٌ
ایک مرتبہ امام سفیان نے کہا: مجھے کثیر بن کثیر نے اپنے دادے سے سننے والے کے واسطے سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنو سہم کے دروازے کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، لوگ آپ کے آگے سے گزر رہے تھے او ر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہیں تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1508]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، انظر الحديث: 471۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27784»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1509
قَالَ: سُفْيَانُ وَكَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَنْبَأَ عَنْهُ قَالَ: ثَنَا كَثِيرٌ عَنْ أَبِيهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: لَيْسَ مِنْ أَبِي سَمِعْتُهُ، وَلَكِنْ مِنْ بَعْضِ أَهْلِي عَنْ جَدِّي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَافِ سُتْرَةٌ
ابن جریج یہ خبر دیتے ہیں کہ سفیان کہتے ہیں کہ ان کو کثیر نے اپنے باپ سے بیان کیا، لیکن جب سفیان نے کثیر سے سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے نہیں سنا،بلکہ کسی رشتہ دار سے سنا اور وہ میرے دادا سے روایت کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو سہم کے دروازے کے قریب نماز پڑھی اور آپ کے او رطواف کرنے والوں کے درمیان کوئی سترہ نہیں تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1509]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، انظر الحديث: 471۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27785»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے اس مسئلہ میں خانہ کعبہ کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف