الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. (أبواب السترة أمام المصلى وحكم المرور دونها)
نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: Q1473]
33. بَابُ اسْتِحْبَابِ السُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي وَالدُّنُوِّ مِنْهَا وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ وَأَيْنَ تَكُونُ مِنْ الْمُصَلَّى
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان¤اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
حدیث نمبر: 1473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا وَلَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھے تواپنے سامنے کوئی چیز رکھ لیا کرے، اگر کوئی چیزنہ پائے تو لاٹھی گاڑھ لیا کرے اور لاٹھی اس کے پاس نہ ہو تو اپنے سامنے ایک لکیر کھینچ لیا کرے، کیونکہ ایسا کرنے کے بعد اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی چیز اسے نقصان نہیں دے سکی گی۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1473]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطرابه وجھالة راويه ابي محمد بن عمرو بن حريث، أخرجه ابوداود: 690، وابن ماجه: 943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7392)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7386»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، اس لیے نمازی کو اپنے سامنے کوئی چیز رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، لکیر کھینچنا کفایت نہیں کرے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لاضطرابه وجھالة راويه ابي محمد بن عمرو بن حريث
حدیث نمبر: 1474
عَنْ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ لِصَلَاتِهِ وَلَوْ بِسَهْمٍ) )
سیّدنا سبرۃ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی نماز پڑھے تو وہ اپنی نمازکے لیے سترہ رکھ لیا کرے، اگر چہ وہ تیر ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1474]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 278، والطبراني في الكبير: 6542، وابن خزيمة: 810، والحاكم: 1/ 252، والبيھقي: 2/ 270، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15340)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15415»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 1475
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَيَعْرِضُ الْبَعِيرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: سَأَلْتُ نَافِعًا فَقُلْتُ: إِذَا ذَهَبَتِ الْإِبِلُ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ ابْنُ عُمَرَ؟ قَالَ: كَانَ يَعْرِضُ مُؤَخَّرَةَ الرَّحْلِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ (وَفِي لَفْظٍ) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُصَلِّي إِلَيْهَا
عبید اللہ بن نافع، سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اور قبلہ کے درمیان (یعنی اپنے سامنے) اونٹ بٹھا کرنماز پڑھتے تھے۔ عبید اللہ کہتے ہیں: میں نے نافع سے سوال کیا: جب اونٹ چلا جاتا تو سیّدنا ابن عمر کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: تو وہ اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی رکھ لیتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری کے سامنے ہوتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1475]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 507، ومسلم: 502، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4468، 6128)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6128»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کا نماز میں اپنے سامنے سترہ رکھنے کا اہتمام تھا، کیا آج اس قسم کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ نقطہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کسی سنت کو زیادہ اہم یا کم اہم قرار دینے کا دارومدار ہمارے مزاج یا ذہن پر نہیں ہے، بلکہ آیات و احادیث پر ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 507
حدیث نمبر: 1476
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ تُرْكَزُ لَهُ الْحَرْبَةُ فِي الْعِيدَيْنِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دونوں عیدوں کی نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نیزہ گاڑدیا جاتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1476]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 498، 972، ومسلم: 501، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4614، 5840)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5840»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث مبارکہ کا تعلق اگرچہ میدانیا کھلی جگہ سے ہے، لیکن اس کا یہ مطلب کیسے کشید کر لیا جائے کہ مساجد اور گھروں میں سترے کی ضرورت نہیں ہے، ایک مقام پر ایک سنت کا اہتمام کرنے سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ دوسرے مقام پر اس کی اہمیت کم ہو جائے، جبکہ عام حکم بھی موجود ہو اور مساجد کے اندر سترے کا اہتمام کرنے کی احادیث بھی موجود ہوں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 498
حدیث نمبر: 1477
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مِثْلُ مُؤَخَّرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدِي أَحَدِكُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ عَلَيْهِ) ) وَقَالَ عُمَرُ مَرَّةً: ( (بَيْنَ يَدَيْهِ) )
سیّدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نماز پڑھ رہے ہوتے او ر ہمارے سامنے سے چوپائے گزر جاتے تھے، جب ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس چیز کا ذکر کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جیسی کوئی چیز ہو تو پھر آگے سے گزر جانے والی چیز نقصان نہیں دیتی۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1388)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1388»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 499
حدیث نمبر: 1478
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رُكِزَتِ الْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَصَلَّى إِلَيْهَا وَالْحِمَارُ يَمُرُّ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے برچھی گاڑ دی گئی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی اور گدھا برچھی کے پیچھے سے گزرتا رہا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1478]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن خزيمة: 840، وأخرج بنحوه الطبراني: 11620، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2175) وأخرجه البخاري: 4412، ومسلم: 504 بلفظ آخر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1891)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2175»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 1479
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ (وَفِي رِوَايَةٍ بِالْبَطْحَاءِ) الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ قَدْ أَقَامَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا النَّاسُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) قَالَ: قِيلَ لَهُ: مِثْلُ مَنْ أَنْتَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَبْرِي النَّبْلِ وَأَرِيشُهَا
سیّدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ابطح یا بطحاء میں ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعتیں پڑھائی تھیں۔ آپ کے سامنے وہ برچھی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سامنے کھڑا کیا تھا، اس کے پیچھے سے لوگ، گدھے اور عورتیں گزرتے رہے۔ ایک روایت میں ہے: ان سے پوچھا گیا کہ تم اس وقت کس جیسے تھے؟ انہوں نے جواب دیا:میں تیر درست کرتا تھا او را س کے پر بناتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 495، 499، 3566، ومسلم: 503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18743، 18746)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18953»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 495
حدیث نمبر: 1480
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ) )
سیّدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سُترے کی طرف نماز پڑھے تو وہ اس کے قریب ہوجائے تاکہ شیطان اس پر اس کی نماز قطع نہ کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 695،والنسائي: 2/ 62، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16090)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16188»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں دیا گیا حکم عام ہے اور اس کی وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے کہ سترہ نہ ہونے کی صورت میں نماز شیطان کی وجہ سے متأثر ہو گی۔ اس لیے ہر مقام پر سترے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 1481
عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهَا أَنَّهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى عَمُودٍ وَلَا عُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًا
سیّدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی ستون یا لکڑی یا درخت کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہو، مگر آپ اسے اپنی دائیں یا بائیں سمت کی طرف کر لیتے او ربالکل اس کے سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، الوليد بن كامل لين الحديث، والمھلب بن حجر وضباعة مجھولان، أخرجه ابوداود: 693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24321»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، اس باب کی دوسری احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ نمازی کے سامنے کم از کم اونٹ کی پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہونی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا