🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. بَابُ دَفْعِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مِنْ آدَمِيٍّ وَغَيْرِهِ
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1492
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَثَمَّ بَهْمَةٌ أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ تَجَافَى
زوجہ ٔ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے اور وہاں بکری کا کوئی بچہ ہوتا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزرنا چاہتا تو (وہ گزر جاتا)۔آپ (سجدہ میں اپنے ہاتھ اپنے پہلوؤں سے) دور کرلیتے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1492]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 496، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26809)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27345»
وضاحت: فوائد: … سنن ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ اِذَا سَجَدَ جَافٰی بَیْنَیَدَیْہِ حَتّٰی لَوْ اَنَّ بَھْمَۃً اَرَادَتْ اَنْ تَمُرَّ تَحْتَ یَدَیْہِ مَرَّتْ۔)) بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو ہاتھوں کے درمیان فاصلہ کرتے، (یعنی ان کو پہلوؤں سے جدا کرتے) حتی کہ اگر کوئی میمناآپ کے سامنے والے حصے کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو وہ گزر جاتا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 496
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1493
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فَجَعَلَ جَدْيٌ يُرِيدُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ وَيَتَأَخَّرُ، قَالَ حَجَّاجٌ: يَتَقِيْهِ وَيَتَأَخَّرُ حَتَّى يُرَى وَرَاءَ الْجَدْيِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، بکری کا ایک بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بچنے کے لیے آگے پیچھے ہونا شروع کر دیا۔ حجاج نے کہا: اس سے بچ رہے تھے اور بچتے بچتے پیچھے ہو گئے، حتی کہ بکری کے بچے کے پیچھے نظر آ نے لگے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1493]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 709، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2653، 3174)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3174»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ نمازی اپنے سامنے سے گزرنے والی ہر چیز کو دفع کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرے، اس مقصد کے لیے اسے لڑنے، اشارہ کرنے اور نقل و حرکت کی بھی اجازت ہے۔
دیگر نسخوں کو سامنے رکھیں تو مفہوم یہ ہے کہ بکری کا بچہ آپ کے پیچھے سے گزر گیا جیسے کہ حدیث نمبر ۱۴۹۱ میں گزرا ہے۔ (مزید تفصیل دیکھیں: محقق مسند احمد: ۵/۲۵۷) (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ التَّغْلِيظِ فِي الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي وَبَيْنَ سُتْرَتِهِ
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1494
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو جُحَيْمِ بْنُ أُخْتِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَسْأَلُهُ مَا سَمِعَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَأَنْ يُقْعَدَ أَرْبَعِينَ) ) لَا أَدْرِي مِنْ يَوْمٍ أَوْشَهْرٍ أَوْسَنَةٍ ( (خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ) )
بسر بن سعدکہتے ہیں کہ سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بھانجے ابو جہیم نے مجھے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی طرف یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے متعلق کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اگر (گزرنے والا) چالیس کھڑا رہے تو یہ اس کے لیے گزر جانے سے بہتر ہے۔ اب میں یہ نہیں جانتا کہ چالیس دن مراد ہیں یا مہینےیا سال۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 510، ومسلم: 507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17051، 17540)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17177»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 510
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1495
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا وَهُوَ يُنَاجِي رَبَّهُ كَانَ أَنْ يَقِفَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مِائَةَ عَامٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْطُوَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی آدمی کو اس گناہ کا پتہ چل جائے جو اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرنے والے کے آگے سے گزر جانے کی وجہ سے ہوتا ہے تو اسے ایسا قدم اٹھانے کی بہ نسبت یہ بات زیادہ پسند ہو گی کہ وہ اس مکان پر سو سال کھڑا رہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1495]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8824»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8824
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1496
عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ قَالَ: لَقِيْتُ رَجُلًا مُقْعَدًا بِتَبُوكَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَتَانٍ أَوْ حِمَارٍ فَقَالَ: ( (قَطَعَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ) ) فَأُقْعِدَ
یزید بن نمران رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں تبوک میں چلنے سے قاصر ایک معذور آدمی کو ملا اور اس سے (اس معذوری کے متعلق) دریافت کیا۔ اس نے کہا: میں گدھی یا گدھے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزرا، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز قطع کردی ہے،اللہ تعالیٰ اس کے چلنے کو قطع کر دے۔ پس میں معذور ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1496]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16725»
وضاحت: فوائد: … شام کے ایک دیہاتی علاقے کا نام تبوک ہے، یہ علاقہ مدین کے قریب پڑتا ہے۔ اس معاملے میں تاکید اورمبالغہ پیدا کرنے کے لیے چالیس کا مطلق طور پر ذکر کیا گیااور گھڑییا دن یا مہینےیا سال کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی گئی۔ جن روایات میں سال کا ذکر ملتا ہے، وہ ضعیف ہیں۔

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16725
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ مَنْ صَلَّى وَبَيْنَ يَدَيْهِ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1497
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ مِنَ اللَّيْلِ وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نفل پڑھتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوئی ہوتی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1497]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 772»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 772
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1498
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: حَدَّثَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهَا وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ عِنْدَ عُمَرَ: فَلَعَلَّهَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ! قَالَتْ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ عُرْوَةُ: أُخْبِرُكَ بِالْيَقِينِ وَتَرُدُّ عَلَيَّ بِالظَّنِّ، بَلْ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ
محمد بن جعفر بن زبیر کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے امیر مدینہ عمر بن عبد العزیز کو یہ حدیث بیان کی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عائشہ کی طرف نماز پڑھتے تھے اور وہ آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں۔ ابو امامہ بن سہل کہنے لگے: ابوعبداللہ! شاید انھوں نے یہ کہا ہوکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوتی تھیں؟یہ سن کر عروہ نے کہا: میں تجھے یقین کے ساتھ خبر دے رہا ہوں اور تو مجھ سے گمان والی بات کر رہا ہے، (حقیقت یہ ہے کہ) وہ جنازے کی طرح واقعی آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26889»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کے سامنے سے گزرنا اور چیز ہے اور اس کے سامنے بیٹھے رہنا یا سوئے رہنا اور چیز ہے۔ اسی طرح جن روایات کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سجدہ کرتے وقت اپنی ٹانگوں کو پیچھے کر لیتی تھیں، پھر آگے کر دیتی تھیں، ان سے بھی گزرنا ثابت نہیں ہوتا۔

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26889
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1499
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَلَنَا كُلَيْبَةٌ وَحِمَارَةٌ تَرْعَى فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمْ تُؤَخَّرَا وَلَمْ تُزْجَرَا
سیّدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملا قات کرنے کے لیے ہماری بستی میں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز عصر ادا کی، جبکہ ہماری کتوری اور گدھی، جو چر رہی تھی، آپ کے سامنے تھیں، لیکن نہ ان کو پیچھے ہٹایا گیا اور نہ ڈانٹا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1499]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1797»
وضاحت: فوائد: … کون سے امور نماز کو قطع کر دیتے ہیں؟ اس تفصیل کا بیان باب مبطلات الصلاۃ میں ہو گا۔

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1797
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ صَلَّى خَلْفَهُ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ مُرُورُ شَيْءٍ
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1500
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِي الصَّفِّ فَلَمْ يَقُلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں اور فضل گدھی پر سوار ہو کر آئے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر کر اس سے اترے، اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور ہم صف میں داخل ہوگئے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کچھ نہ کہا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1500]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4412، ومسلم: 504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1891)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1891»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4412
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1501
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْتُ وَقَدْ نَاهَزْتُ الْحُلْمَ أَسِيرُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ يَعْنِي حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْهَا فَرَتَعَتْ فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں اسی حالت میں پہلی صف کے بعض حصے کے سامنے آ پہنچا، وہاں اس سے اترا، وہ چرنے لگی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑا ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1501]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1857 وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2376)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2376»
وضاحت: فوائد: … یہ شریعت کی کمال رخصت ہے کہ مقتدی لوگوں کو سترہ نہ رکھنے کی رخصت دی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ دورانِ جماعت مقتدی کے سامنے سے گزرنا جائز ہے، حدیث نمبر (۴۲۶) مین یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران جماعت بکری کے بچے کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے یعنی پہلی صف کے لوگوں کے سامنے سے گزر گیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1857 وانظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں