الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ اسْتِحْبَابِ السُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي وَالدُّنُوِّ مِنْهَا وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ وَأَيْنَ تَكُونُ مِنْ الْمُصَلَّى
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان¤اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
حدیث نمبر: 1482
عَنْ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ سَأَلَهُ ابْنُ عُمَرَ عَنْ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ دُخُولِهِ الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر کیا کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ستون اپنی دائیں طرف، ایک بائیں طرف اورتین اپنے پیچھے کر کے نماز پڑھی تھی، جبکہ قبلہ او رآپ کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 505، ومسلم: 1329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4891، 5927)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24391»
وضاحت: فوائد: … یہ سترہ کے قریب ہونے کی مقدار ہے، تین ہاتھ کا فاصلہ ساڑھے چار فٹ کے برابر ہوتا ہے، عام طور پرنماز کے لیے بچھائی جانے والی صفوں کی مقدار بھییہی ہوتی ہے۔ اونٹ کے پالان کی پچھلی لکڑی کی مقدار کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) ایک ہاتھ (ڈیڑھ فٹ) اور (۲) دو تہائی ہاتھ (ایک فٹ)، دوسرا قول زیادہ مشہور ہے۔ سترے کی مقدار کا خلاصہ یہ ہوا کہ وہ اس کی اونچائی کم از کم ایک فٹ ہونی چاہیے، ڈیڑھ فٹ کا اہتمام کرنا زیادہ محتاط عمل ہے، چوڑائی کے بارے میں کوئی قید نہیں، وہ دیوار اور ستون بھی ہو سکتا ہے اور کوئی برچھی اور تیر وغیرہ بھی۔
مذکورہ بالا احادیث سے سترہ کی اہمیت واضح ہو رہی ہے، مزید احادیث و اقوال یہ ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُصَلِّ اِلَّا اِلٰی سُتْرَۃٍ، وَلَاتَدَعْ اَحَدًا یَمُرُّ بَیْنَیَدَیْکَ، فَاِنْ اَبٰی فَلْتُقَاتِلْہُ فَاِنَّ مَعَہُ الْقَرِیْنَ۔)) یعنی: تو نماز ادا نہ کر مگر سترہ کی طرف اور کسی کو سامنے سے نہ گزرنے
دے، اگر کوئی رکنے سے انکار کرتا ہے تو اس سے لڑائی کر، کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہے۔ (صحیح مسلم، مستدرک حاکم، صحیح ابن خزیمہ واللفظ لہ) سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فَلْیُصَلِّ اِلٰی سُتْرَۃٍ وَلْیَدْنُ مِنْھَا، …۔)) یعنی: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھے تو وہ سترہ کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے۔ (ابو داود، ابن ماجہ) سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((لَقَدْ رَاَیْتُ اَصْحَابَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَبْتَدِرُوْنَ السَّوَارِیَ عِنْدَ الْمَغْرِبِ، حَتّٰییَخْرُجَ النَّبِیُُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَھُمْ کَذَالِکَ یُصَلُّوْنَ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ۔)) یعنی: میں صحابہ کو دیکھتا کہ وہ مغرب کے وقت (اذان ِ مغرب کے بعد نماز مغرب سے پہلے والی دو رکعتیں پڑھنے کے لیے) ستونوں کی طرف لپکتے، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آتے۔ اور ایک روایت میں ہے: (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو) وہ مغرب سے پہلے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری) قرہ بن ایاس تابعی کہتے ہیں: میں دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، جب سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو انھوں نے میری گدی سے پکڑا اور مجھے سترے کے قریب کر کے کہا: اس کی طرف نماز پڑھا کرو۔ (صحیح بخاری معلقا، مصنف ابن ابی شیبہ) سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کوئی آدمی نماز پڑھے تو وہ سترے کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے، تاکہ اس کے سامنے سے شیطان نہ گزرتا رہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: چار چیزیں اکھڑ مزاجی اور بدخلقی سے ہیں: (۱) آدمی کا سترے کے بغیر نماز پڑھنا، …۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، بیہقی) جناب ِ نافع تابعی کہتے ہیں: جب سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ستونوں تک نہ پہنچ پاتے تو مجھے کہتے: اپنی پیٹھ میری طرف پھیر کر (میرے سامنے ہو جاؤ)۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) ان دلائل اور آثار کے باوجود اس وقت مسلمانوں کی اکثریت اس سنت سے غافل ہے، قارئین کو ان دلائل کی روشنی میں اپنے کیے کا جائزہ لے لینا چاہیے۔
مذکورہ بالا احادیث سے سترہ کی اہمیت واضح ہو رہی ہے، مزید احادیث و اقوال یہ ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُصَلِّ اِلَّا اِلٰی سُتْرَۃٍ، وَلَاتَدَعْ اَحَدًا یَمُرُّ بَیْنَیَدَیْکَ، فَاِنْ اَبٰی فَلْتُقَاتِلْہُ فَاِنَّ مَعَہُ الْقَرِیْنَ۔)) یعنی: تو نماز ادا نہ کر مگر سترہ کی طرف اور کسی کو سامنے سے نہ گزرنے
دے، اگر کوئی رکنے سے انکار کرتا ہے تو اس سے لڑائی کر، کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہے۔ (صحیح مسلم، مستدرک حاکم، صحیح ابن خزیمہ واللفظ لہ) سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فَلْیُصَلِّ اِلٰی سُتْرَۃٍ وَلْیَدْنُ مِنْھَا، …۔)) یعنی: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھے تو وہ سترہ کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے۔ (ابو داود، ابن ماجہ) سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((لَقَدْ رَاَیْتُ اَصْحَابَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَبْتَدِرُوْنَ السَّوَارِیَ عِنْدَ الْمَغْرِبِ، حَتّٰییَخْرُجَ النَّبِیُُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَھُمْ کَذَالِکَ یُصَلُّوْنَ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ۔)) یعنی: میں صحابہ کو دیکھتا کہ وہ مغرب کے وقت (اذان ِ مغرب کے بعد نماز مغرب سے پہلے والی دو رکعتیں پڑھنے کے لیے) ستونوں کی طرف لپکتے، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آتے۔ اور ایک روایت میں ہے: (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو) وہ مغرب سے پہلے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری) قرہ بن ایاس تابعی کہتے ہیں: میں دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، جب سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو انھوں نے میری گدی سے پکڑا اور مجھے سترے کے قریب کر کے کہا: اس کی طرف نماز پڑھا کرو۔ (صحیح بخاری معلقا، مصنف ابن ابی شیبہ) سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کوئی آدمی نماز پڑھے تو وہ سترے کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے، تاکہ اس کے سامنے سے شیطان نہ گزرتا رہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: چار چیزیں اکھڑ مزاجی اور بدخلقی سے ہیں: (۱) آدمی کا سترے کے بغیر نماز پڑھنا، …۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، بیہقی) جناب ِ نافع تابعی کہتے ہیں: جب سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ستونوں تک نہ پہنچ پاتے تو مجھے کہتے: اپنی پیٹھ میری طرف پھیر کر (میرے سامنے ہو جاؤ)۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) ان دلائل اور آثار کے باوجود اس وقت مسلمانوں کی اکثریت اس سنت سے غافل ہے، قارئین کو ان دلائل کی روشنی میں اپنے کیے کا جائزہ لے لینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 505
34. بَابُ دَفْعِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مِنْ آدَمِيٍّ وَغَيْرِهِ
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
حدیث نمبر: 1483
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نمازپڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دے،اگر کوئی (رکنے سے) انکار کرتاہے تواس سے لڑے کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1483]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 506، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5585)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5585»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 506
حدیث نمبر: 1484
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ) )
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نمازپڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے اور اپنی طاقت کے مطابق اسے ہٹائے،اگر وہ (رکنے سے) انکار کرے تواس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1484]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 505، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11299)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11319»
وضاحت: فوائد: … گزرنے والے پر شیطان کا اطلاق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ شیطانی فعل کر رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 505
حدیث نمبر: 1485
عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ صَاحِبِ سُلَيْمَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي مُعْتَمًّا بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ مُرْخِي طَرَفَيْهَا مِنْ خَلْفٍ مُصْفَرِّ اللَّحْيَةِ، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفَهُ فَقَرَأْ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ: ( (لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُّ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ إِصْبَعَيَّ هَاتَيْنِ، الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ) )
سلیمان کے ساتھی ابو عبید کہتے ہیں: میں نے عطا بن یزید لیثی کودیکھا، وہ نماز پڑھ رہے تھے، انھوں نے سیاہ رنگ کی پگڑی باندھ کر اس کا کنارہ پیچھے لٹکایا ہوا تھا اور داڑھی کو زرد کر رکھا تھا، میں ان کے آگے سے گزرنے لگا لیکن انہوں نے مجھے روک دیا، پھر کہا: مجھے سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں تھے، آپ نے قراءت کی لیکن قراءت آپ پر خلط ملط ہونے لگی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کاش تم مجھے اور ابلیس کو دیکھتے، میں نے اپنا ہاتھ جھکایا (اور اسے پکڑ لیا پھر) اس کا گلا گھونٹتا رہا حتی کہ مجھے اس کے لعاب کی ٹھنڈک ان دونوں انگلیوں یعنی انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی کے درمیان محسوس ہوئی،اور اگر میر ے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ اس حال میں صبح کرتا کہ مسجد کے ستون کے ساتھ باندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔ اس لیے تم سے جوشخص یہ طاقت رکھتا ہے کہ (اس کی نماز کے دوران) کوئی اس کے اور قبلہ کے درمیان حائل نہ ہو تو ایسا ہی کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1485]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مختصرا ابوداود: 699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11780)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11802»
وضاحت: فوائد: … حضرت سلیمان کییہ دعا مراد ہے: {رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ} (ص: ۳۵) یعنی: انھوں نے کہا: اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی شخص کے لائق نہ ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابلیس پر قابو تو پا لیا تھا، صرف اس کو باندھنا باقی تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از راہ تواضع ایسا نہ کیایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے زیادہ طاقت نہیں تھی۔ پہلی بات ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، کیونکہ ایک جِنّ کو اس طرح باندھ دینے سے حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت سے تشبیہ لازم نہیں آتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی دعا کا ادب کرتے ہوئے یہ کام بھی نہ کیا۔ حدیث ِ مبارکہ کا آخری حصہ قابل توجہ ہے کہ نمازی اپنے سامنے سترہ رکھے اور پھر کسی چیز کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 1486
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَأَبِي بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَرَّتْ امْرَأَةٌ بِالْبَطْحَاءِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَأْخَّرِي، فَرَجَعَتْ حَتَّى صَلَّى ثُمَّ مَرَّتْ
سیّدنا عبد اللہ بن زید اور ابو بشر انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ان کو بطحاء مقام پر نماز پڑھا رہے تھے، ایک عورت نے گزرنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اشارہ کیا کہ وہ پیچھے ہوجائے، پس وہ وا پس لوٹ گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پھر وہ گزری۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1486]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 751، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21888)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22233»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بوقت ِ ضرورت دورانِ نماز ایسا اشارہ کیا جا سکتا ہے، جس سے کوئی بات سمجھانا مقصود ہو، اس کو اِشَارَۃ مُفْہِمَۃ کہتے ہیں۔ کئی دوسری احادیث سے بھییہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 1487
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ أَوْ عُمَرُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا قَالَ: فَرَجَعَ، قَالَ: فَمَرَّتْ ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، قَالَ: فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (هُنَّ أَغْلَبُ) )
محمد بن قیس اپنی ماں سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ کے آگے سے عبد اللہ یا عمر رضی اللہ عنہما گزرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے (ان کو واپس ہو جانے کا) اشارہ کیا، پس وہ واپس چلے گئے، پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی گزرنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو روکنے کے لیے اپنے ہاتھ سے اسی طرح ا شارہ کیا، لیکن وہ گزر گئی’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: یہ عورتیں (مخالفت کرنے میں) زیادہ غالب ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1487]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة والدة محمد بن قيس، أخرجه ابن ماجه: 948، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26523)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27058»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة والدة محمد بن قيس
حدیث نمبر: 1488
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيَّ فَمَنَعْتُهُ فَأَبَى، فَسَأَلْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: لَا يَضُرُّكَ يَا ابْنَ أَخِي
ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ رہا تھا، میرے سامنے سے ایک آدمی گزرا،میں نے اسے روکا، لیکن اس نے رکنے سے انکار کردیا۔ پھرمیں نے سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! وہ تجھے نقصان نہیں دے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1488]
تخریج الحدیث: «صحيح، فيه سويد بن سعيد، لكنه قد توبع، أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 523)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 523»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ اس نمازی کو اس سے زیادہ روکنے کی طاقت نہ ہو، اس لیے سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے یہ بات کہی ہو، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طاقت کے مطابق گزرنے والے کو روکنے کی تلقین کی ہے۔ بہرحال یہ موقوف روایت ہے، اس باب میں مرفوع احادیث واضح ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 1489
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ حَتَّى قَامَتَا بَيْنَ يَدَيْهِ عِنْدَ رَأْسِهِ فَنَحَّاهُمَا وَأَوْمَأَ بِيَدَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ دو بچیاں آئیں اور آپ کے سامنے کھڑی ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہٹایااور اپنے دائیں بائیں اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1489]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 716، 717، والنسائي: 2/ 65، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2899، 3167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2899»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 1490
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَعْلَى الْوَادِي نُرِيدُ أَنْ نُصَلِّيَ، قَدْ قَامَ وَقُمْنَا إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا حِمَارٌ مِنْ شَعْبِ أَبِي دُبٍّ شَعْبِ أَبِي مُوسَى فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ فَلَمْ يُكَبِّرْ وَأَجْرَى إِلَيْهِ يَعْقُوبُ بْنُ زَمْعَةَ حَتَّى رَدَّهُ
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی وادی کے بالائی حصے میں تھے، ہم چاہتے تھے کہ نماز پڑھیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ہم بھی کھڑے ہوگئے، لیکن اچانک شعبِ ابی دبّ یعنی شعبِ ابی موسیٰ سے ایک گدھا ہماری طرف نکل آیا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اورتکبیر نہ کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یعقوب بن زمعہ کو اس کی طرف دوڑایا حتی کہ ا س نے اسے واپس لوٹا دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1490]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عمرو بن شعيب لم يدرك عبد الله بن عمرو، أخرجه عبد الرزاق: 2333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6898)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6898»
وضاحت: فوائد: … مکہ میں ایک وادی کا نام شعب ابی دبّ ہے، آج کل اس کو دَحْلَۃ الجِنّ کہتے ہیں، کسی راوی نے اس گھاٹی کے مقام کی وضاحت کرنے کے لیے شعب ِ ابی موسی کہا ہے، نہ کہ اس لیے کہ عہد نبوی مین یہ اس کا دوسرا نام تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 1491
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِلَى جَدْرٍ اتَّخَذَهُ قِبْلَةً فَأَقْبَلَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُدَارِئُهَا وَيَدْنُو مِنَ الْجَدْرِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَصِقَ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ خَلْفِهِ
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دیوار کو قبلہ بنا کر انہیں نماز پڑھا رہے تھے، ایک بکر ی کا بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے روکتے رہے اور دیوار کے قریب ہوتے گئے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیٹ دیوار کے ساتھ لگ گیا اور وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے گزر گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1491]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابوداود: 708، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6852م)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6852»
وضاحت: فوائد: … عام دوسری احادیث سے بھییہی ثابت ہوتا ہے کہ دوران جماعت امام کا سترہ مقتدیوں کا بھی سترہ ہوتا ہے، اس حدیث ِ مبارکہ سے اس مسئلہ کی وضاحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلا کہ دوران جماعت مقتدی کے سامنے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے بکری کے بچے کے گزرنے کا یہ مطلب ہوا کہ وہ پہلی صف کے نمازیوں کے سامنے سے گزر رہا تھا۔
لغت میں بَہْمَۃٌ کا اطلاق بھیڑ کے نر اور مادہ بچے پر ہوتا ہے، لیکن تغلیباً بکری کے بچے کو بھی کہہ دیتے ہیں۔
لغت میں بَہْمَۃٌ کا اطلاق بھیڑ کے نر اور مادہ بچے پر ہوتا ہے، لیکن تغلیباً بکری کے بچے کو بھی کہہ دیتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح