الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ جَوَازِ تَطَوُّعِ الْمُسَافِرِ عَلَى رَاحِلَةٍ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
حدیث نمبر: 1463
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى نَاقَتِهِ تَطَوُّعًا فِي السَّفَرِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر قبلے کے علاوہ دوسری طرف رخ کر کے نفلی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1463]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1100، ومسلم: 702، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12277، 13113)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12302»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1100
حدیث نمبر: 1464
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ خَلَّى عَنْ رَاحِلَتِهِ فَصَلَّى حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تو ایک دفعہ قبلہ رخ ہو کر نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے، پھر اپنی سواری کوچھوڑ دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جاری رکھتے، سواری جس طرف مرضی رخ کر لیتی۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1464]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 1225، وانظر الحديث السابق: 434، ھو نفس ھذا الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13109)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13140»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کو تکبیر تحریمہ کہتے وقت ایک دفعہ قبلہ رخ ہو جانا چاہیے، اس کے بعد سفر کی نوعیت کے مطابق قبلہ سے رخ پھیر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 1465
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي التَّطَوُّعِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ، يُوْمِئُ إِيمَاءً، وَيَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ
سیّدنا ابوسعید خدری او ر سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھ لیتے تھے۔ وہ جس طرف مرضی رخ کر لیتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود کے لیے اشارہ کرتے تھے او ر رکوع کی بہ نسبت سجدہ کے لیے زیادہ جھک جاتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1465]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 493، والبزار: 691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11701)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11724»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1466
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1466]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 1227، والترمذي: 351، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14555)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14609»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ سواری کا منہ مشرق کی طرف تھا، آپ اشارے کے ساتھ سجدہ اور رکوع کرتے اور رکوع کی بہ نسبت سجدے کے لیے زیادہ جھکتے تھے، میں نے آ کر سلام کہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: فلاں فلاں کام کا کیا بنا؟ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اگر مدینہ منورہ میں مشرق کی طرف منہ کیا جائے تو نمازی کی دائیں جانب کعبہ کی طرف ہو جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 1467
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُقْبِلًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ، وَفِيهِ نَزَلَتْ: {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ}
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف آتے ہوئے اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، سواری جدھر مرضی رخ کر لیتی تھی،یہ آیت اسی مسئلے کے بارے نازل ہوئی: {أَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} (تم جس طرف بھی منہ کرواللہ کا چہرہ وہاں ہی ہے)۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1467]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1000، ومسلم: 700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4470، 4714)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4714»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں بیان کردہ صورت میں غالب اوقات یا پوری نماز میں کعبہ کی طرف نمازی کی پشت رہے گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1000
حدیث نمبر: 1468
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُوَجَّهٌ (وَفِي رِوَايَةٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ) إِلَى خَيْبَرَ
سیّدنا عبداللہ بن عمر سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ خیبر کی طرف تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1468]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه مسلم: 700، وقد تقدم: انظر: 438۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4520»
وضاحت: فوائد: … خیبر مشرق کی سمت میں پڑتا تھا، جیسا کہ اس حدیث کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ خیبریعنی مشرق کی طرف تھا۔ (مسند احمد: ۵۲۰۶)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 1469
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ التَّطَوُّعَ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ: رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ
نافع کہتے ہیں:میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو سواری پر نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جس طرف بھی اس کا رخ ہو جاتا۔ جب میں نے ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1469]
تخریج الحدیث: «تقدم، انظر: 438۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4470»
الحكم على الحديث:
تقدم
حدیث نمبر: 1470
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: تَلَقَّيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ فَلَقِيْنَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ تُصَلِّي إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ؟ فَقَالَ: لَوْ لَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ مَا فَعَلْتُ
انس بن سیرین کہتے ہیں: جب سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام سے آئے،تو ہم انہیں عین التمر مقام پر ملے، ہم نے دیکھا کہ وہ ا پنی سواری پر غیر قبلہ کی طرف نمازپڑھ رہے تھے، پس ہم نے ان سے کہا: آپ غیر قبلہ کی طرف نمازپڑھتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا:اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی ایسے نہ کرتا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1470]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1100، ومسلم: 702، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13113)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13144»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1100
حدیث نمبر: 1471
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ النَّوَافِلَ فِي كُلِّ جِهَةٍ
سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سواری کی پیٹھ پر ہر جہت کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1471]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1093، ومسلم: 701، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15672، 15686)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15772»
وضاحت: فوائد: … عین التمر مقام،شام کے ساتھ ملا ہوا عراق کے راستے پر پڑتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو سکے فرضی اور نفلی نماز میں قبلہ رخ ہونے کا اہتمام کیا جائے گا، مذکورہ بالا احادیث میں سواری جیسے عذر کی بنا پر نفلی نماز کے لیے قبلہ رخ ہونے کے معاملے میں ایک رخصت دی گئی ہے۔ البتہ حدیث نمبر (۴۳۵) سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازی کو تکبیر تحریمہ کہتے وقت ایک دفعہ قبلہ رخ ہو جانا چاہیے، اس کے بعد سفر کی نوعیت کے مطابق قبلہ سے رخ پھیر لینے میں کوئی حرج نہیں، ذہن نشین رہنا چاہیے کہ یہ رخصت سفر و حضر کے لیے عام ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ آرام دہ سفر اور گاڑیاں ہونے کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس سنت پر عمل نہیں کیا جاتا، بلکہ اکثریت کو دوران سفر موسیقی اور فحش گانے سننے یا گندی اور حیا باختہ فلمیں دیکھنےیا گپ شپ لگانے کا نشہ کی حد تک شوق ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے مہربان نبی کی اطاعت و فرمانبرداری کا اہتمام کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1093
31. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي صَلَةِ الْفَرْضِ عَلَى الرَّاحِلَةِ لِعُذْرٍ
عذر کی وجہ سے سواری پر فرض نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 1472
عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْتَهَى إِلَى مَضِيقٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَالسَّمَاءُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَالْبِلَّةُ مِنْ أَسْفَلِهِمْ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَلَّى بِهِمْ يُوْمِئُ إِيمَاءً يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ أَوْ يَجْعَلُ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ
سیّدنا یعلی بن مرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ ایک تنگ جگہ کی طرف گئے، آپ اپنی سواری پر تھے، صورتحال یہ تھی کہ اوپر سے بارش برس رہی تھی اور نیچے کیچڑ تھا، ادھر نماز کا وقت ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اذان اور اس کے بعد اقامت کہی،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر ہی آگے بڑھے اور ان کونماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع و سجود کے لیے اشارے کیے اور رکوع کی بہ نسبت سجدے کے لیے ذرا پست ہو کر اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1472]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمرو بن عثمان لايعرف كوالده۔ أخرجه الترمذي: 411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17716»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن عذر اور مجبوری کی صورت میں سواری پر فرضی نماز پڑھنا جائز ہے، دلائل درج ذیل ہیں، دوسری دلیل زیادہ واضح ہے: (۱) … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَا یُکَلِّفَ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا} (سورۂ بقرہ:) یعنی: اللہ تعالیٰ کسی نفس کو تکلیف نہیں دیتا، مگراس کی طاقت کے مطابق۔ یہ ایک عام قانون ہے، ہر شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنی طاقت کا اندازہ کر کے اس پر عمل کر سکتا ہے، مثلا بیٹھ کر یا لیٹ کر یا وضو اور غسل کی بجائے تیمم کر کے یا زمین پر یا سواری پر نماز ادا کرنا۔ نیز درج ذیل دو امور پر غور کریں:
(الف): … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استحاضہ والی اس خاتون کو نماز پڑھنے کا حکم دیا، جس کی شرمگاہ سے دوران نماز خون جاری رہتا تھا، البتہ اس کے لیےیہ ضروری ہے کہ ہر نماز سے پہلے وضو کر لے۔
(ب): … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کی نماز کو درست قرار دیا تھا، جس نے پانی نہ ہونے کی وجہ سے وضو کے بغیر نماز پڑھ لی تھی، ابھی تک تیمم کرنے کی رخصت نہیں دی گئی تھی۔ امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث سے یہ استدلال کشید کیا ہے اور حق کہا کہ جس آدمی کے پاس پانی اور مٹی دونوں نہیں ہوں گے، وہ وضو اور تیمم کے بغیر نماز پڑھے گا، کیونکہ وجہ اور سبب ایک ہے۔ اگر خون بہنے کے باوجود اور وضو کے بغیر نماز پڑھنے کی رخصت دی جا سکتی ہے، تو یقینا کسی عذر کی صورت میں سواری پر نماز پڑھنا بھی درست ہو گا۔ قارئین ذہن نشین کر لیں کہ آج کل ایسی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ پانی اور مٹی دونوں نمازی کی دسترس میں نہیں ہوتے۔ ان دنوںمیں سواری کو عذر قراردینے کی صورت یہ ہے کہ آدمی کسی گاڑی پر سفر کر رہا ہے، سفر جاری رکھنا بھی اس کی مجبوری ہو اور گاڑی کی انتظامیہ لوگوں کے اصرار کے باوجودگاڑی روکنے کے لیے تیار بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں سواری پر نماز ادا کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ اگر ذاتی گاڑی ہو یا تاخیر ہو جانے کی صورت میں مسافر کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں سواری پر نماز ادا کرنے سے گریز کیا جائے۔
(۲): … اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ۔ فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُکْبَانًا فَاِذَا اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکَُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo} (البقرہ: ۲۳۸، ۲۳۹) یعنی: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے باادب کھڑے رہا کرو۔ اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہییا سوار ہی سہی، ہاں جب امن ہو جائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ دشمن کے خوف کی بنا پر پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر فرض نماز پڑھ لینے کا حکم دیا ہے، اس عذر کا اتفافی طور پر ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ کسی اور مجبوری کی صورت میں بھی اس آیت پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
(۳) … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کشتی میں نماز ادا کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ((صَلِّ فِیْھَا قَائِمًا اِلَّا اَنْ تَخَافَ الْغَرْقَ۔)) یعنی: کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھو، ہاں اگر پانی میں غرق ہونے کا ڈر ہو (تو بیٹھ کر پڑھ لو)۔ (البزار: ۶۸، دارقطنی:)
تیسری دلیل کے بارے قارئین خود بھی سوچ لیں کہ کیا کشتی کو سواری کہا جا سکتا ہے۔
(الف): … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استحاضہ والی اس خاتون کو نماز پڑھنے کا حکم دیا، جس کی شرمگاہ سے دوران نماز خون جاری رہتا تھا، البتہ اس کے لیےیہ ضروری ہے کہ ہر نماز سے پہلے وضو کر لے۔
(ب): … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کی نماز کو درست قرار دیا تھا، جس نے پانی نہ ہونے کی وجہ سے وضو کے بغیر نماز پڑھ لی تھی، ابھی تک تیمم کرنے کی رخصت نہیں دی گئی تھی۔ امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث سے یہ استدلال کشید کیا ہے اور حق کہا کہ جس آدمی کے پاس پانی اور مٹی دونوں نہیں ہوں گے، وہ وضو اور تیمم کے بغیر نماز پڑھے گا، کیونکہ وجہ اور سبب ایک ہے۔ اگر خون بہنے کے باوجود اور وضو کے بغیر نماز پڑھنے کی رخصت دی جا سکتی ہے، تو یقینا کسی عذر کی صورت میں سواری پر نماز پڑھنا بھی درست ہو گا۔ قارئین ذہن نشین کر لیں کہ آج کل ایسی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ پانی اور مٹی دونوں نمازی کی دسترس میں نہیں ہوتے۔ ان دنوںمیں سواری کو عذر قراردینے کی صورت یہ ہے کہ آدمی کسی گاڑی پر سفر کر رہا ہے، سفر جاری رکھنا بھی اس کی مجبوری ہو اور گاڑی کی انتظامیہ لوگوں کے اصرار کے باوجودگاڑی روکنے کے لیے تیار بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں سواری پر نماز ادا کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ اگر ذاتی گاڑی ہو یا تاخیر ہو جانے کی صورت میں مسافر کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں سواری پر نماز ادا کرنے سے گریز کیا جائے۔
(۲): … اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ۔ فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُکْبَانًا فَاِذَا اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکَُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo} (البقرہ: ۲۳۸، ۲۳۹) یعنی: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے باادب کھڑے رہا کرو۔ اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہییا سوار ہی سہی، ہاں جب امن ہو جائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ دشمن کے خوف کی بنا پر پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر فرض نماز پڑھ لینے کا حکم دیا ہے، اس عذر کا اتفافی طور پر ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ کسی اور مجبوری کی صورت میں بھی اس آیت پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
(۳) … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کشتی میں نماز ادا کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ((صَلِّ فِیْھَا قَائِمًا اِلَّا اَنْ تَخَافَ الْغَرْقَ۔)) یعنی: کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھو، ہاں اگر پانی میں غرق ہونے کا ڈر ہو (تو بیٹھ کر پڑھ لو)۔ (البزار: ۶۸، دارقطنی:)
تیسری دلیل کے بارے قارئین خود بھی سوچ لیں کہ کیا کشتی کو سواری کہا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف