🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ جَامِعِ صِفَةِ الصَّلَاةِ
نماز کے جامع طریقے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1510
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ، وَالْقِرَاءَةَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَإِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز، تکبیر سے اور قراءت {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ} سے شروع کرتے تھے، جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ زیادہ اٹھاتے اور نہ زیادہ جھکاتے، بلکہ اس کے درمیان رکھتے، جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کھڑے ہوکر سیدھا ہو جانے تک سجدہ نہ کرتے، جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھ کر برابر ہونے تک (دوسرا) سجدہ نہ کرتے، ہر دو رکعتوں کے بعد اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہ … پڑھتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ کوئی (دوران سجدہ) درندے کی طرح بازو بچھائے،جب آپ بیٹھتے تو بایاں پاؤں بچھا دیتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطان کی بیٹھک سے منع فرماتے تھے اور نماز کو سلام کے ساتھ ختم کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1510]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 498، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24030، 25617)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26135»
وضاحت: فوائد: … شیطان کی بیٹھک سے مراد اِقْعَائ ہے۔ ذہن نشین رہے کہ نماز میں اِقْعَائ کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت ناجائز ہے اور ایک جائز۔ اِقْعائ کی ناجائز صورت: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس حدیث میں اسی صورت کا بیان ہے۔ اِقْعائ کی جائز صورت: نماز میں دو سجدوں کے درمیان نمازی کا اپنے پاؤں کھڑے کر کے سرینوں کو اپنی ایڑیوں پر رکھنا۔یہ صورت مسنون ہے۔ اس صورت سے معلوم ہوا کہ دوسجدوںکے درمیان بیٹھنے کے دو طریقے ہیں:
(۱) دائیاں پاؤں کھڑا رکھنا اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور (۲) دونوں پاؤں کو کھڑا رکھنا اور ان کی ایڑھیوں پر بیٹھ جانا، اسی صورت کو اقعاء کہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو اپناتے ہوئے مختلف اوقات میں دونوں طریقوں پر عمل کیا کریں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی سنت رہ نہ جائے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 498
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1511
عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَلَا أَرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَقَامَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
قاسم کہتے ہیں: ہم عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ دکھاؤں؟ ہم نے جواب دیا:کیوں نہیں، قاسم کہتے ہیں: پس انہوں نے کھڑے ہوکر اللہ اکبر کہا، پھر قرا ءت کرکے جب رکوع کیا تواپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے (اور اتنی دیر ٹھہرے کہ) ہر عضو اپنی جگہ پر مطمئن ہو گیا، پھر (رکوع سے) اٹھے (اور اتنی دیر قومہ کیا کہ) ہر عضو نے اپنی جگہ پر قرار پکڑ لیا، پھر سجدہ کیا حتی کہ ہرعضو اپنی جگہ پر پرسکون ہو گیا، پھر (سجدہ سے) اٹھے، پھردوسری رکعت میں ویسے ہی کیا جیسے پہلی رکعت میں کیا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ایسے ہی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1511]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 5/ 174، وفي الباب احاديث اخري ثابتة۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15371)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15445»
وضاحت: فوائد: … مطمئن ہونے، قرار پکڑنے اور پرسکون ہونے سے مراد یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ رکوع و سجود اور قومہ و جلسہ کو ادا کیا جائے اور جلدی نہ کی جائے۔ آجکل اکثر نمازیوں کی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1512
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ثَنَا زَائِدَةُ ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ قَامَ (وَفِي رِوَايَةٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ) فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكَبَيْهِ) ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ، ثُمَّ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَحَلَّقَ حَلْقَةً (وَفِي رِوَايَةٍ: حَلَّقَ بِالْوُسْطَى وَالْإِبْهَامِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ) ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمُ الثِّيَابُ تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ مِنَ الْبَرْدِ
سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ میں ضرور ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ پس میں نے دیکھاکہ آپ کھڑے ہو کر قبلہ رخ ہوئے، اللہ اکبر کہا اور اپنے ہاتھ کانوں تک یا کندھوں تک اٹھائے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت، گٹ اور بازو پر رکھا، جب آ پ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اسی طرح رفع الیدین کیا، رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے، (رکوع سے) سر اٹھاتے وقت اسی طرح رفع الیدین کیا، پھر سجدہ کیااور اپنی ہتھیلیوں کو اپنے کانوں کے برابر رکھا، جب آپ بیٹھے تو بایاں پاؤں بچھا لیا اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور دائیں کہنی کے کنارے کو دائیں ران پر کیا، پھر (دائیں ہاتھ کی) انگلیاں اس طرح بند کیں کہ انگوٹھے اوردرمیانی انگلی کا حلقہ بنا لیا اور شہادت کی انگلی کو اٹھا کر اس سے اشارہ کیا، میں نے دیکھا کہ آپ اس انگلی کو حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کر رہے تھے۔ اس کے بعد میں ایسے زمانے میں آیا جس میں سردی تھی، میں نے دیکھا کہ لوگوں پر کپڑے تھے اور سردی کی وجہ سے ان کے ہاتھ کپڑوں کے نیچے سے حرکت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1512]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: فرأيتهيحركھايدعو بھا فھو شاذ انفرد به زائدة بن قدامة من بين اصحاب عاصم بن كليب، أخرجه مسلم مختصرا: 401، وأخرجه ابوداود: 727، والنسائي: 2/126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18866، 18870)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19076»
وضاحت: فوائد: … سنن نسائی (۸۸۹) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((وَحَلَقَ حَلْقَۃً ثُمَّ رَفَعَ اِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُیُحَرِّکُھَایَدْعُوْ بِھَا۔)) یعنی: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلقہ بناکر انگلی کو اٹھایا، پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے حرکت دے رہے تھے اور دعا کر رہے تھے۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس جملے سمیت مکمل حدیث کو صحیح کہا اور یہی بات راجح ہے۔ بہرحال تشہد کے دروان انگشت ِ شہادت کو حرکت نہ دینا اور صرف اٹھا کر رکھنا بھی درست ہے۔
اس کی دلیل بیان نہیں کی گئی۔ اصل یہ ہے کہ نماز کا جو کام و عمل قابلِ حجت حدیث سے ثابت ہو جائے اس پر عمل ہونا چاہیے اور اس پر ترغیب کا اہتمام بھی۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قوله: فرأيتهيحركھايدعو بھا فھو شاذ انفرد به زائدة بن قدامة من بين اصحاب عاصم بن كليب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1513
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ: أَتَيْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَعَلَى النَّاسِ ثِيَابٌ فِيهَا الْبَرَانِسُ وَالْأَكْسِيَةُ فَرَأَيْتُهُمْ يَقُولُونَ هَٰكَذَا تَحْتَ الثِّيَابِ
(دوسری سند)اس میں ہے: سیّدنا وائل بن حجر کہتے ہیں: میں آپ کے پاس دوسری مرتبہ آیا اور دیکھا کہ لوگوں پر کپڑے تھے، ان میں ٹوپیوں والے ملبوسات اور چادریں بھی تھیں، میں نے دیکھا کہ وہ کپڑوں کے نیچے ایسے کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1513]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 84، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19082»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1514
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ: ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ أَشَارَ بِسَبَّابَتِهِ وَوَضَعَ الْإِبْهَامَ عَلَى الْوُسْطَى وَقَبَضَ سَائِرَ أَصَابِعِهِ
(تیسری سند) اس میں ہے: سیّدنا وائل بن حجر کہتے ہیں: پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھا،اور اپنے دائیں بازو کواپنی دائیں ران پر رکھا، پھر انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا، انگوٹھا درمیانی انگلی پر رکھا اور باقی ساری انگلیاں بند کرلیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1514]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه عبد الرزاق: 2522، والطبراني في الكبير: 22/81، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18858)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19064»
وضاحت: فوائد: … قارئین ذہن نشین کر لیں کہ سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ۹ ھ میں مسلمان ہوئے، یہ اگلے سال سردی کے موسم میں دوبارہ تشریف لائے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا آخری موسم سردا تھا۔ (دیکھئے: عمدۃ القاری: ۵/ ۲۷۴، صحیح ابن حبان: ۳/ ۱۶۹) انھوں نے دونوں موقعوں پر رفع الیدین کی حدیث بیان کی۔ رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا بے بنیاد دعوی کرنے والے متنبہ رہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۱۰ ھ میں رفع الیدین کرنے کی دلیل موجود ہے اور گیارہویں سن ہجری کے تیسرے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1515
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَمَوْلَى لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَصَفَّ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا فَكَبَّرَ فَرَكَعَ، فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ
سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں داخل ہوئے تو کانوں کے برابر تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑا لپیٹ لیااوراپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا، جب رکوع کرنے لگے تو اپنے ہاتھ کپڑے سے نکالے، رفع الیدین کیا اوراللہ اکبر کہہ کر رکوع کیا، پھر جب سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو رفع الیدین کیا، جب سجدہ کیا تو اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1515]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18866)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19072»
وضاحت: فوائد: … پچھلی حدیث کے مطابق اگرچہ صحابہ کرام کپڑوں کے نیچے ہی رفع الیدین کر لیا کرتے تھے، لیکن اس حدیث ِ مبارکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہتمام کا علم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رفع الیدین کرتے وقت اپنے ہاتھ کپڑے سے باہر نکالے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 401
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1516
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْبَرَّادُ قَالَ: وَكَانَ عِنْدِي أَوْثَقُ مِنْ نَفْسِي قَالَ: قَالَ لَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَكَبَّرَ فَرَكَعَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَفُصِّلَتْ أَصَابِعُهُ عَلَى سَاقَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ) وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَاسْتَوَى جَالِسًا حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ الثَّانِيَةَ فَصَلَّى بِنَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ هَٰكَذَا، ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سالم برّاد کہتے ہیں کہ سیّدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والی نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انہوں نے اللہ اکبرکہہ کر رکوع کیا، اپنی ہتھلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھیں اور ان کی انگلیاں ان کی پنڈلیوں پر بکھری ہوئی تھیں (ایک روایت کے مطابق)گھٹنوں سے آگے انگلیوں کے درمیان کشادگی کی ہوئی تھی اور اپنے بازؤں کوبغلوں سے علیحدہ رکھا ہوا تھا، (رکوع میں اتنی دیر لگائی کہ ہر عضو اپنی جگہ پر ٹھہر گیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر سیدھے کھڑے ہوگئے حتی کہ ہر عضو اپنی جگہ پر قرار پکڑ گیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، سجدہ میں بازوؤں کو بغلوں سے علیحدہ رکھا اور اتنی دیر لگائی کہ ہر عضو اپنی جگہ پر ٹھہر گیا، پھر سجدے سے سر اٹھایااور بیٹھ کر برابر ہوگئے حتی کہ ہر عضو اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا، پھر دوسرا سجدہ کیا، اس طریقے سے انھوں نے ہمیں چار رکعتیں پڑھا کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ایسے ہی تھی،نیز کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مطولا ومختصرا ابوداود: 863، والنسائي: 2/ 186، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17204»

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1517
عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ يَوْمًا: أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: وَذَلِكَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ، فَقَامَ فَأَمْكَنَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَمْكَنَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَانْتَصَبَ قَائِمًا هُنَيَّةً ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَيُكَبِّرُ فِي الْجُلُوسِ، ثُمَّ انْتَظَرَ هُنَيَّةً ثُمَّ سَجَدَ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: فَصَلَّى صَلَاةً كَصَلَاةِ شَيْخِنَا هَٰذَا يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ الْجَرْمِيَّ وَكَانَ يَوْمُعَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَيُّوبُ: فَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَالثَّالِثَةِ
سیّدنا مالک بن حویرث لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے ایک دن اپنے ساتھیوں سے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ دکھاؤں کہ وہ کیسی تھی؟جبکہ یہ نماز کا وقت نہیں تھا۔ پھر (انھوں نے نماز شروع کر دی) قیام کیا اور اچھا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور اچھا رکوع کیا، پھر (رکوع سے) اپنا سر اٹھایا اور کچھ دیر سیدھے کھڑے رہے پھر سجدہ کیا، پھر (سجدے سے) اپنا سر اٹھایا، وہ بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے، پھر کچھ انتظار کرکے (دوسرا) سجدہ کیا۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: انہوں نے ہمارے شیخ سیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی نماز جیسی نماز پڑھائی اور یہ (عمرو بن سلمہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں امامت کرواتے تھے۔ ایوب کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو ایک کام کرتے ہوئے دیکھا تھا، تم وہ کام نہیں کرتے اور وہ یہ ہے کہ وہ پہلی اور تیسری رکعت میں جب دو سجدوں سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جاتے پھر اگلی رکعت کے لیے اٹھتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1517]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 802، 818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20539)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20813»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے میں جلسۂ استراحت کا ذکر ہے، یعنی پہلی اور تیسری رکعت کے دو سجدوں کے بعد کچھ دیر کے لیے بیٹھا جائے اور پھر دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہوا جائے، اس وقت اکثر نمازی اس چیز کو چھوڑ چکے ہیں۔ نیز ان احادیث میں اعتدال اور اطمینان کی تعلیم دی جا رہی ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 802
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1518
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَمَعَ قَوْمَهُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ! اجْتَمِعُوا وَاجْمَعُوا نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ أُعَلِّمُكُمْ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ يُصَلِّي لَنَا بِالْمَدِينَةِ، فَاجْتَمَعُوا وَجَمَعُوا نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَتَوَضَّأَ وَأَرَاهُمْ كَيْفَ يَتَوَضَّأُ فَأَحْصَى الْوَضُوءَ إِلَى أَمَاكِنِهِ حَتَّى لَمَّا أَنْ فَاءَ الْفَيْءُ وَانْكَسَرَ الظِّلُّ قَامَ فَأَذَّنَ فَصَفَّ الرِّجَالَ فِي أَدْنَى الصَّفِّ، وَصَفَّ الْوِلْدَانَ خَلْفَهُمْ، وَصَفَّ النِّسَاءَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ، فَتَقَدَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَكَبَّرَ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ يُسِرُّهَا، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَاسْتَوَى قَائِمًا، ثُمَّ كَبَّرَ وَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَانْتَهَضَ قَائِمًا، فَكَانَ تَكْبِيرُهُ فِي أَوَّلَ رَكْعَةٍ سِتِّ تَكْبِيرَاتٍ وَكَبَّرَ حِينَ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ إِلَى قَوْمِهِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: احْفَظُوا تَكْبِيرِي، وَتَعَلَّمُوا رُكُوعِي وَسُجُودِي، فَإِنَّهَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ يُصَلِّي لَنَا كَذَا السَّاعَةَ مِنَ النَّهَارِ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ إِلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ) ) فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مِنْ قَاصِيَةِ النَّاسِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! نَاسٌ مِنَ النَّاسِ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ، انْعَتْهُمْ لَنَا يَعْنِي صِفْهُمْ لَنَا، فَسُرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسُؤَالِ الْأَعْرَابِيِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (هُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ لَمْ تَصِلْ بَيْنَهُمْ أَرْحَامٌ مُتَقَارِبَةٌ، تَحَابُّوا فِي اللَّهِ وَتَصَافُوا، يَضَعُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ فَيُجْلِسُهُمْ عَلَيْهَا، فَيَجْعَلُ وُجُوهَهُمْ نُورًا وَثِيَابَهُمْ نُورًا، يَفْزَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَفْزَعُونَ، وَهُمْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا يَحْزَنُونَ) )
عبد الرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ سیّدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کو جمع کیا اور کہا: اشعریوں کی جماعت! خود بھی جمع ہو جاؤ اور اپنی عورتوں اور بیٹوں کو بھی جمع کرلو، میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ نماز سکھاتا ہوں جو آپ ہمیں مدینہ میں پڑھایا کرتے تھے۔ پس وہ جمع ہوگئے اور اپنی عورتوں اور بیٹوں کو بھی جمع کرلیا۔ سیّدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے وضوکیا اور انہیں دکھایا آپ کیسے وضو کرتے تھے، انھوں نے اعضائے وضو تک وضو کا پانی اچھی طرح پہنچایا۔ پھر جب سایہ(مغرب سے مشرق کی طرف) لوٹ آیا اور سایہ مائل ہوگیا تو انھوں نے کھڑے ہوکر (ظہر کی) اذان دی، پھر سب سے آگے مردوں کی صف بنائی،ان کے پیچھے بچوں کی اور بچوں کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی، پھر اقامت کہہ کر آگے کھڑے ہوگئے، رفع الیدین کیا اور تکبیر کہی پھر سورۂ فاتحہ اور مزید ایک سورت کی سرّاً تلاوت کی، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا، تین مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور کھڑے ہو کر سیدھے ہوگئے، پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور (سجدے سے) سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور اٹھ کھڑے ہوئے، پہلی رکعت میں ان کی کل چھ تکبیریں ہو گئیں، جب وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تھے تو تکبیر کہی تھی، جب انھوں نے اپنی نماز پوری کرلی تو اپنی قوم کے طرف منہ کرکے کہا: میری تکبیریں یاد کرلو، اور یہ رکوع و سجود بھی سمجھ لو،کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ نماز ہے جو آپ ہمیں دن کے اسی وقت پڑھایا کرتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نماز پوری کی تھی تو اپنا چہرہ لوگوں کی طرف کرکے فرمایا تھا: لوگو! سنو،سمجھو اور جان لو کہ اللہ کے بندے، جو نہ نبی ہیں نہ شہید، لیکن ان کے مقام او راللہ کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ دور والے لوگوں سے ایک بدو آیا اور اپنے ہاتھ سے اللہ کے نبی کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! لوگوں سے کچھ لوگ، جو نبی ہیں نہ شہید،لیکن ان کے مقام او ر اللہ کے قرب کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے، ہمیں ان کے اوصاف تو بتائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اعرابی کے سوال کی وجہ سے خوش ہوگیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غیر معروف اور قبیلوں سے نکلے ہوئے ایسے لوگ ہیں جن کی آپس میں کوئی قریبی رشتہ داریاں نہیں ہیں، لیکن وہ صرف اللہ کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے حق میں صاف ہیں، قیامت کے دن اللہ ان کے لیے نور کے منبر رکھے گا اور انہیں ان پر بٹھائے گا اور ان چہروں اور کپڑوں کو نور بنادے گا، قیامت کے دن لوگ گھبرائیں گے، لیکن یہ نہیں گھبرائیں گے، بلکہ یہ اللہ کے وہ ولی ہیں جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ پریشان ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه مختصرا ابن ماجه: 417، وابوداود: 677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22893، 22906، 22918)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23294»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کا آخری حصہ درج ذیل شاہد کی بنا پر صحیح ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إنَّ لِلّہِ عِبَادًا لَیْسُوْا بِأنْبِیَائَ وَلَا شُھَدَائَ، یَغْبِطُھُمُ الشُّھَدَائُ وَالأنْبَیَائُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، لِقُرْبِھِمْ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَمَجْلِسِھِمْ مِنْہُ فَجَثَا أعْرَابِیٌّ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! صِفْھُمْ لَنَا وَجَلِّھِمْ لَنَا۔ قَالَ: قَوْمٌ مِنْ أفْنَائِ النَّاسِ، مِنْ نُزّاعِ الْقَبَائِلِ، تَصَادَقُوْا فِی اللّٰہِ، فَتَحَابُّوْا فِیْہِ،یَضَعُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ، یَخَافُ الناسُ وَلَا یَخَافُوْنَ، ھُمْ أوْلِیَائُ اللّٰہِ۔ عَزَّوَجَلَّ۔ اَلَّذِیْنَ {لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ}۔)) (مستدرک حاکم: ۴/ ۱۷۰، صحیحہ:۳۴۶۴) اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں، جو انبیا ہیں نہ شہدئ، لیکن شہدا و انبیا اُن پر رشک کریں گے،اس کی وجہ ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب اور اس کے ساتھ مجلس ہو گی۔ ایک اعرابی اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!ہمارے لیے ان کی صفات بیان کرو اور ان کو واضح کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ غیر معروف قبائل کے نامعلوم النسب لوگ ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کے لیے باہم دوستی رکھیں گے اور اور اسی کے لیے ایک دوسرے سے محبت کریں گے، قیامت کے روز اللہ عزوجل اُن کے لیے نور کے منبر رکھے گا۔ دوسرے لوگ خوفزدہ ہوں گے، لیکن ان کو کوئی خوف نہیں ہو گا۔یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے اولیا ہیں کہ (فرمانِ الٰہی کے مطابق) جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ تخریـج: … أخرج الحاکم في المستدرک: ۴/۱۷۰۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1519
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلَهُنَّ لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ وَيَجْعَلُ الرِّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ وَالْغِلْمَانَ خَلْفَهُمْ وَالنِّسَاءَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًا
سیّدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قراءت اور قیام میں چاروں رکعتوں کے درمیان برابری کرتے تھے، البتہ پہلی رکعت کو ذرا لمبا کر لیتے تھے تاکہ (اسی رکعت میں) زیادہ لوگ پہنچ جائیں،مردوں کو بچوں کے آگے اور بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے کھڑا کرتے تھے، اور جب سجدہ کرتے او رجب (سجدے سے) اٹھتے تو اللہ اکبرکہتے اورجب دو رکعتو ں کے بعد بیٹھ کر اٹھتے تو پھر اللہ اکبرکہتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1519]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، انظر الحديث: 278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22911)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23299»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں