الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ وَالْخُشُوعِ فِيهَا
نماز کے افتتاح او ر اس میں خشوع کا بیان
حدیث نمبر: 1530
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ لَا يَسْهُو فِيهِمَا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
سیّدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دو رکعتیں پڑھتا ہے اور ان میں وہ غافل نہیں ہوتا تو اللہ اس کے پچھلے سارے گناہ بخش دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1530]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا سند منقطع، فان زيد بن اسلم لم يسمع من زيد بن خالد، أخرجه ابوداود: 905، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17054، 21691)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22033»
وضاحت: فوائد: … نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرنا نماز کی روح ہے، یہ دل کی خشیت اور بدن کے سکون سے عبارت ہے۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خشوع و خضوع کی خاطر کئی صورتوں میں نماز پڑھنے سے منع کر دیا ہے، مثلا جب بھوک لگی ہوئی ہو اور کھانا موجود ہو اور جب بندے نے قضائے حاجت کرنی ہو۔ علی ہذا القیاس۔ درج ذیل احادیث و اقوال سے خشوع کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع مین یہ دعا پڑھتے تھے: ((اَللّٰھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ اَسْلَمْتُ اَنْتَ رَبِّیْ خَشَعَ لَکَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعَظْمِیْ وَعَصَبِیْ۔)) (صحیح مسلم: ۱/ ۲۷۳) یعنی: اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا فرمانبردار ہوا، تو میرا رب ہے، تیرے لیے میرے کان، آنکھ، دماغ، ہڈی اور پٹھے نے خشوع کیا۔ ثابت ہوا کہ خشوع کا تعلق قلوب و اذہان اور اعضاء و جوارح سب کے ساتھ ہے۔ سیّدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَنْصَرِفُ وَمَا کُتِبَ لَہٗاِلَّاعُشْرُصَلَاتِہٖتُسْعُھَا،ثُمُنُھَا،سُبْعُھَا،سُدُسُھَا،خُمُسُھَا، رُبُعُھَا، ثُلُثُھَا، نِصْفُھَا۔)) (ابوداود: ۷۹۶) یعنی: بیشک آدمی نماز سے فارغ ہو رہا ہوتا ہے، لیکن اس کے لیے نہیں لکھا جاتا، مگر نماز کا دسواں حصہ، نواں حصہ، آٹھواں حصہ، ساتواں حصہ، پانچواں حصہ، چوتھا حصہ، تیسرا حصہ اور نصف۔ یہ حدیث انتہائی قابل غور ہے کہ سب نمازیوں کی نمازوں کی مقدار تو تقریبا ایک ہوتی ہے، مثلا رکعات و تسبیحات کی تعداد، لیکن اجر و ثواب میں اتنی کمی بیشی ہو جاتی ہے، تو اس فرق کی بنیاد معیار پر ہے، سارے نمازی نماز ظہر کی فرض رکعتیں تو چار ہی پڑھتے ہیں، لیکن بعض کا معیار اتنا کم ہوتا ہے کہ اسے پوری نماز کے بجائے دسواں حصہ ثواب ملتا ہے، یقینا اس چیز کی بنیاد خشوع و خضوع پر ہے۔ علامہ قرطبی کہتے ہیں: ھیئۃ فی النفس یظھر منھا فی الجوارح سکون وتواضع۔ (تفسیر قرطبی: ۱/ ۳۷۴)
یعنی: خشوع دل میں ایسی ہیئت کا نام ہے، جس سے اعضاء میں سکون و تواضع ظاہر ہوتا ہے۔ جناب ِ حسن بصری کہتے ہیں: کان خشوعھم فی قلوبھم فغضوا بذالک ابصارھم وخفضوا لذالک الجناح۔ (الدر المنثور: ۵/ ۳)
یعنی: ان کا خشوع دل میں ہوتا تھا، جس کی بنا پر وہ اپنی آنکھوں کو پست اور پہلو کو جھکا لیتے ہیں۔ جناب جنید کہتے ہیں: الخشوع تذلل القلوب لعلام الغیوب۔ (الضوء المنیر: ۴/ ۳۰۴)
یعنی: علام الغیوب کے سامنے دلوں کی عاجزی و انکساری کا نام خشوع ہے۔ گویا خشوع کا اصل مرکز دل ہے اور اس کا اثر اعضاء و جوارح پر ہوتا ہے۔ سعید بن مسیب نے دیکھا کہ ایک نمازی، نماز میں اپنی داڑھی پر ہاتھ پھر رہا تھا تو انہوں نے کہا: لو خشع قلب ھذا خشعت جوارحہ۔ یعنی: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی خشوع ہوتا۔ علامہ شوکانی کہتے ہیں: وادعی عبد الواحد بن زید اجماع العلماء علی انہ لیس للعبد الا ما عقل من صلاتہ۔ (فتح القدیر: ۳/ ۴۵۹)
یعنی: عبد الواحد بن زید نے اہل علم کے اجماع کا دعوی کیا ہے کہ نماز میں سے بندے کے لیے اتنا حصہ ہے، جتنا وہ سمجھتا ہے۔ اس زمانے میں اکثر لوگوں کی نمازیں خشوع و خضوع سے خالی ہیں، اتنی عظیم عبادت میں رٹے رٹائے کلمات ادا کیے جا رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو لمبی نماز میں سکون نہیں آتا، ان کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ نماز باجماعت میں تاخیر ہو رہی ہے یا جماعت سرے سے رہ گئی ہے۔ ہر شخص کو درج بالا احادیث و آثار کی روشنی میں اپنا اپنا جائزہ لینا چاہیے۔
یعنی: خشوع دل میں ایسی ہیئت کا نام ہے، جس سے اعضاء میں سکون و تواضع ظاہر ہوتا ہے۔ جناب ِ حسن بصری کہتے ہیں: کان خشوعھم فی قلوبھم فغضوا بذالک ابصارھم وخفضوا لذالک الجناح۔ (الدر المنثور: ۵/ ۳)
یعنی: ان کا خشوع دل میں ہوتا تھا، جس کی بنا پر وہ اپنی آنکھوں کو پست اور پہلو کو جھکا لیتے ہیں۔ جناب جنید کہتے ہیں: الخشوع تذلل القلوب لعلام الغیوب۔ (الضوء المنیر: ۴/ ۳۰۴)
یعنی: علام الغیوب کے سامنے دلوں کی عاجزی و انکساری کا نام خشوع ہے۔ گویا خشوع کا اصل مرکز دل ہے اور اس کا اثر اعضاء و جوارح پر ہوتا ہے۔ سعید بن مسیب نے دیکھا کہ ایک نمازی، نماز میں اپنی داڑھی پر ہاتھ پھر رہا تھا تو انہوں نے کہا: لو خشع قلب ھذا خشعت جوارحہ۔ یعنی: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی خشوع ہوتا۔ علامہ شوکانی کہتے ہیں: وادعی عبد الواحد بن زید اجماع العلماء علی انہ لیس للعبد الا ما عقل من صلاتہ۔ (فتح القدیر: ۳/ ۴۵۹)
یعنی: عبد الواحد بن زید نے اہل علم کے اجماع کا دعوی کیا ہے کہ نماز میں سے بندے کے لیے اتنا حصہ ہے، جتنا وہ سمجھتا ہے۔ اس زمانے میں اکثر لوگوں کی نمازیں خشوع و خضوع سے خالی ہیں، اتنی عظیم عبادت میں رٹے رٹائے کلمات ادا کیے جا رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو لمبی نماز میں سکون نہیں آتا، ان کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ نماز باجماعت میں تاخیر ہو رہی ہے یا جماعت سرے سے رہ گئی ہے۔ ہر شخص کو درج بالا احادیث و آثار کی روشنی میں اپنا اپنا جائزہ لینا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
3. بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَغَيْرِهَا
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان¤(رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
حدیث نمبر: 1531
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ
سیّدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، پھر جب اپنی قراءت پوری کرتے اور رکوع کا ارادہ کرتے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے توا یساہی کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھنے کی حالت میں اپنی نماز کی کسی چیز میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے اور جب دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) اٹھتے تو اپنے ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور اللہ اکبر کہتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1531]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 744، 761، وابن ماجه: 864، والترمذي: 3423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 717)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 717»
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 1532
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى جَاوَزَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ
سیّدنا عامر بن عبد اللہ بن زبیر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ نے نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھ اٹھائے بلند کیے حتی کہ انہیں اپنے کانوں سے اوپر لے گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1532]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة۔ وأما عبد القدوس بن بكر بن خنيس، فقال ابو حاتم: لا بأس به، ووثقه ابن حبان، لكن ذكر محمود بن غيلان عن احمد وابن معين وابي خيثمة، انھم ضربوا علي حديثه۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16099)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16197»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة۔ وأما عبد القدوس بن بكر بن خنيس
حدیث نمبر: 1533
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ قَدْ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَدًّا إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ وَرَفَعَ، وَالسُّكُوتُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ يَدْعُو وَيَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تین چیزیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ان پر عمل کرتے تھے، لیکن لوگوں نے ان کو ترک کر دیا ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں داخل ہوتے تو اپنے ہاتھ پھیلا کر اٹھاتے تھے اور رکوع کرتے وقت اور اس سے اٹھتے اللہ اکبر کہتے تھے او ر قراءت سے پہلے خاموشی اختیار کرتے، جس میں دعا کرتے اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1533]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، غير سعيد بن سمعان، وھو ثقة، أخرجه ابوداود: 753، والنسائي: 2/ 124، والترمذي: 240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9608)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9606»
وضاحت: فوائد: … قراء ت سے پہلے والی دعا اور فضل کے سوال سے مراد استفتاح کی دعائیں ہیں، جو مختلف صیغوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں، ان میں سے کوئی ایک دعا پڑھی جائے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 1534
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَهُمَا، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ رَفَعَهُمَا، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ وہ آپ کے کندھوں کے برابر یا اس کے قریب ہوجاتے اور جب رکوع کرتے تو ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے تھے۔سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1534]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 736، 738، ومسلم: 390، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4540)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6345»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 736
حدیث نمبر: 1535
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: إِنَّ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ بِدْعَةٌ مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَٰذَا يَعْنِي إِلَى الصَّدْرِ
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ یقینا تمہارا اپنے ہاتھوں کو اس طرح اٹھانا بدعت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے ہاتھوں کو) سینے سے بلند نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1535]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف۔ بشر بن حرب الازدي ضعيف۔ أخرجه ابن عدي في الكامل: 2/ 442، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5264)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5264»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت خود بھی ضعیف ہے اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی صحیح ترین مرفوع روایت کے مخالف بھی ہے۔ جس میں ہاتھوں کو کندھوں یا اس کے قریب تک اٹھانے کا ذکر ہے۔ اس طرح مالک بن حورث کی آنے والی روایت میں بھی ہاتھوں کو کانوں کے اوپر والے حصہ تک اٹھانے کا ذکر ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف۔ بشر بن حرب الازدي ضعيف۔ أخرجه ابن عدي في الكامل : 2/ 442
حدیث نمبر: 1536
عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ
سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب آپ رکوع کرنے کا ارادہ کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے اور جب سجدوں سے اپنا سر اٹھاتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں اپنے کانوں کے اوپر والے حصے کے برابر کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1536]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 737، ومسلم: 391 دون قوله: واذا سجد واذا رفع رأسه من سجوده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15600)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15689»
وضاحت: فوائد: … سجدہ میں جاتے اور اس سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ حدیث کی تخریج میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 737
حدیث نمبر: 1537
عَنْ مَيْمُونٍ الْمَكِّيِّ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ الزُّبَيْرِ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَصَلَّى بِهِمْ يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا، فَوَصَفَ لَهُ هَٰذِهِ الْإِشَارَةَ، فَقَالَ: إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
میمون مکی سے مروی ہے کہ انھوں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھا رہے تھے، جب وہ کھڑے ہوتے، رکوع کرتے،سجدہ کرتے اور قیام کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے تھے۔میمون مکی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر کہا کہ جو نماز ابن زبیر پڑھتا ہے، میں نے تو کسی کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر انھوں نے ہاتھوں کے اشارے کا ذکر کیا۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آگے سے کہا: اگر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز دیکھنا پسند کرتا ہے تو سیّدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کر۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1537]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ميمون المكي مجھول۔ أخرجه ابوداود: 739، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2308)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2308»
وضاحت: فوائد: … رفع الیدین کے موضوع پر درج ذیل بحث مفید رہے گی، اسے اچھی طرح ذہن نشین کر لیں، قارئین کے فائدے کے لیے مذکورہ بالا دلائل کا ذکر بھی کیا جائے گا۔
رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع
سیّدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ((صَلَّیْتُ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَکَانَ یَرْفَعُیَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ، وَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: صَلَّیْتَ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَکَانَ یَرْفَعُیَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗمِنَالرُّکُوْعِ۔)) یعنی: میں نے (اپنے نانا) ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، انھوں نے ابتدائے نماز میں اور رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، پھر سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا۔ (سنن کبری بیہقی: ۲/ ۷۳)
انتہائی اہم تنبیہ: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے پرانے اور گہرے رفیق سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت کی حالت میں مسجد نبوی میں اپنی آخری نماز ادا کر رہے تھے، اس وقت ابو بکر صدیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب آپ کی اقتدا میں کھڑے تھے۔ رفع الیدین کے بارے میں اگر ایسی عظیم ہستیاں شہادت دے دیں تو اسے قبول کر لیا جانا چاہیے۔ سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم (بنو لیث کے تیرہ) نوجوان لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور بیس دن قیام کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا کہ اب ہم گھر جانا چاہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں واپس جانے کی اجازت دی اور فرمایا: ((… … صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ۔)) (اس طرح نماز پڑھنا، جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا) …۔ (ملاحظہ ہو: صحیح بخاری۶۲۸، ۶۳۱ مع الفتح) یہی مالک بن حویرث رفع الیدین عند الرکوع کی حدیث بھی بیان کرتے ہیں۔ اس بحث میں رفع الیدین سے مراد رکوع سے پہلے، رکوع کے بعد اور تیسری رکعت کے شروع میں دونوں ہاتھوں کو بلند کرنا ہے۔ اس ضمن میں مجھے سب سے زیادہ حیرانی حنفی مقلدین پر ہے،جو ایک طرف یہ نظریہ بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ائمہ اربعہ برحق ہیں، ان میں سے کسی ایک کی تقلید کی جا سکتی ہے، لیکن دوسری طرف رفع الیدین کا بھرپورردّ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد تینوں رفع الیدین کرتے تھے۔ رفع الیدین کے اثبات پر دلالت کرنے والی صحیح ترین اور کثیر احادیث کا لحاظ کرتے ہوئے احناف کو زیادہ سے زیادہیہ کہنا چاہیے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رفع الیدین کرنا بھی ثابت ہے اور ہر مسلمان پر رفع الیدین کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جیسا کہ معروف دیو بندی عالم محمد مظہر بقا (تلمیذ مفتی محمد شفیع فاضل دیو بند ایم اے، پی ایچ ڈی استاد جامعہ ام القرآن مکہ مکرمہ)نے لکھا، وہ فرماتے ہیں: رکوع میں جاتے اور اس سے اُٹھتے وقت رفع یدین چونکہ صحیح اور قوی احادیث سے ثابت ہے اس لیے کبھی کبھی رفع یدین بھی کر لیتا ہوں۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحبlنے ایک مرتبہ اپنی نجی مجلس میں حاضرین سے فرمایا تھا کبھی کبھی رفع یدین بھی کر لیا کرو کیونکہ اگر قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرما لیا کہ تم تک میرییہ سنت بھی تو صحیح طور پر پہنچی تھی تم نے اس پر کیوں عمل نہ کیا تو کوئی جواب نہ بن پڑے گا۔ (حیات بقا اور کچھ یادیں صفحہ ۱۹۰ (تحت عنوان) فقہی مسائل میں میرا طرزِ عمل، مطبوعہ: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، ناظم آباد کراچی) لیکن معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیا اور انھوں نے ان تمام احادیث کو ردّ کرنا شروع کر دیا، جن کی روشنی میں امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ اس عظیم سنت کی نہ صرف تردید کی گئی بلکہ قبیح انداز میں اس کا مذاق اُڑانے سے بھی اجتناب نہ کیا گیا۔ اس قبیح اور توہین آمیز انداز کے الفاظ ناقابل بیان ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے: تجلیات صفدر، صفحہ ۳۵۹، جلد ۷، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان) اور اس سنت قائمہ سے جان چھڑانے کے لیے جو ظلم ڈھایا جاتا ہے وہ ملاحظہ ہو۔ دیو بندی شیخ الہند محمود الحسن صاحب غالی مقلدین کی حالت زار بیان کرتے ہوئے فرماتے: رفع یدین میں تو باوجود احادیث صریحہ کے امام کی آڑ پکڑیں اور کہیں امام کا مذہب نہیں اور خوب جمیں اور حنفیت کا دعویٰ کریں اور اگر کوئی غیر مقلد رفع یدین کرے تو اخراج من المسجد کا حکم دے دیں۔ (الورد الشذی علی جامع الترمذی، صفحہ: ۵۲)
اس مسئلہ میں ہمارا نظریہیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز فرض کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز کا طریقہ بیان کیا اور صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ فرما کر نماز کے تمام امور میں اپنی اقتدا کرنے کا حکم دیا۔ جیسےیہ نماز روزِ فرضیت سے تکبیر تحریمہ، اس کے لیے کیے جانے والے رفع الیدین، قراء ت، قیام، رکوع وسجود وغیرہ پر مشتمل تھی، اسی طرح اس میں رکوع سے پہلے والا اور رکوع سے بعد والا رفع الیدین بھی پایا جاتا تھا۔ ہم بعض دلائل کا ذکر کریں گے:
(۱) … سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِذَا قَامَ فِیْ الصَّلَاۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی تَکُوْنَ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، وَکَانَ یَفْعَلُ ذَالِکَ حِیْنَیُکَبِّرُ لِلرُّکُوْعِ وَ یَفْعَلُ ذَالِکَ اِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗمِنَالرُّکُوْعِ۔)) یعنی: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو (تکبیر تحریمہ کے وقت) ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کرتے، اسی طرح جب رکوع کے لیے اَللّٰہُ اَکْبَر کہتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو (رفع الیدین کرتے تھے) اور سجدوں میں اس طرح نہیںکرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۳۵، ۷۳۶، صحیح مسلم: ۳۹۰، مسند احمد: ۱/ ۱۴۷، ۴۵۲۶، ابوداود: ۷۲۱، ترمذی: ۲۵۵، نسائی: ۱۰۲۵، ابن ماجہ: ۸۵۸، مؤطا امام مالک: ۱/ ۷۵، مؤطا امام محمد: ۱۰۰) امام علی بن مدینی نے کہا: یہ حدیث مخلوق پر حجت ہے، ہر وہ انسان جو اس کو سنے، اس پر لازم ہے کہ وہ اس پر عمل کرے (اور رفع الیدین کرے)، کیونکہ اس کی سند پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خود بھی اسی حدیث پر عمل کرتے ہوئے رفع الیدین کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔
(۲) ابوقلابہ کہتے ہیں: جب سیّدنامالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کی تو رفع الیدین کیا، اسی طرح جب رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع الیدین کیا اور یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھی۔ (صحیح بخاری: ۷۳۷، صحیح مسلم: ۳۹۱، مسند احمد: ۱۵۱۷۲، نسائی: ۸۸۰، ابن ماجہ: ۸۵۹)
اہم تنبیہ: … سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بنو لیث کے وفد کے ساتھ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے، جب آپ غزوۂ تبوک کی تیاری میں مصروف تھے۔ (فتح الباری: ۲/ ۱۴۱) اور غزوۂ تبوک ۹ ھ کے ساتویں مہینے رجب میں ہوا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری سالوں میں رفع الیدین جاری رہا۔ (خزائن السنن صفحہ ۳۶۴، مطبوعہ: مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ)
(۳) … سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میںنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں داخل ہوئے تو اَللّٰہُ اَکْبَر کہا اور (کانوں کے برابر تک) رفع الیدین کیا، پھر اپنا کپڑا لپیٹ لیا اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کرنا چاہا تو ہاتھوں کو کپڑے سے نکالا اور اسی طرح رفع الیدین کیا، پھر جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا تو رفع الیدین کیا۔ (صحیح مسلم: ۴۰۱، مسند احمد: ۱۸۳۹۸، ابوداود: ۷۲۳، ترمذی: ۲۶۸، نسائی: ۸۷۹، ابن ماجہ: ۸۶۷) اہم بات: اس حدیث کی سند کے ایک راوی محمد بن جحادہ کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث امام حسن بصری کو بیان کی تو انھوںنے کہا: ھی صلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فعلہ من فعلہ و ترکہ من ترکہ۔ یعنی: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ہے، جس نے اسے اختیار کیا، سو اختیار کیا اور جس نے اسے چھوڑ دیا، سو چھوڑ دیا۔ (ابوداود: ۷۲۳)
اہم تنبیہ: … سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ۹ ھ میں مسلمان ہوئے، یہ اگلے سال سردی کے موسم میں دوبارہ تشریف لائے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا آخری موسم سردا تھا۔ (دیکھئے: عمدۃ القاری: ۵/ ۲۷۴، صحیح ابن حبان: ۳/ ۱۶۹) انھوں نے دونوں موقعوں پر رفع الیدین کی حدیث بیان کی۔ رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا بے بنیاد دعوی کرنے والے متنبہ رہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۱۰ ھ میں رفع الیدین کرنے کی دلیل موجود ہے اور گیارہوین سن ہجری کے تیسرے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے۔
(۴) … سیّدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ، ابو قتادہ سمیت دس صحابہ کرام میںموجود تھے، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں تم سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں۔ دوسرے صحابہ نے کہا: اللہ کی قسم! نہ تو ہم سے پہلے مسلمان ہوا اور نہ ہم سے زیادہ صحبت اختیار کی (تو کیسے زیادہ علم رکھتا ہے)، چلو پیش کرو۔ سیّدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اَللّٰہُ اَکْبَر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر ٹھہر جاتی، پھر قراء ت کرتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع کرتے، رکوع میں اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھتے اور دورانِ رکوع سر اونچا رکھتے نہ نیچا، پھر سر اٹھاتے تو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے اور کندھوں تک رفع الیدین کرتے۔ صحابہ نے کہا: تو نے سچ کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔ (ابوداود: ۷۳۰، ترمذی: ۲۶۰، نسائی: ۱۱۸۱، ابن ماجہ: ۸۶۲، احمد: ۲۳۰۸۸)
(۵) … سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرضی نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اَللّٰہُ اَکْبَر کہتے اور کندھوں کے برابر رفع الیدین کرتے، اور جب تلاوت پوری کرنے کے بعد رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پھر اسی طرح (رفع الیدین) کرتے تھے، اور نماز میں بیٹھنے کی حالت میںایسا نہ کرتے، اور جب دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے تو پھررفع الیدین کرتے تھے۔
(ابوداود: ۷۴۴، ترمذی: ۳۴۲۳، ابن ماجہ: ۸۶۴)
(۶) … سیّدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز پڑھ کر دکھاؤں، پھر انھوں نے اَللّٰہُ اَکْبَر کہا اور رفع الیدین کیا، پھر (رکوع کے لیے) اَللّٰہُ اَکْبَر کہا، پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا تو رفع الیدین کیا۔ (سنن دار قطنی: ۱/ ۲۹۲)
(۷) … امام ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل سلمیk کہتے ہیں: میں ابو نعمان محمد بن فضل کی اقتدا میں نماز پڑھی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، جب میں نے اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا: میں نے امام حماد بن زید کی اقتدا میں نماز پڑھی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، جب میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے امام ایوب سختیانی کی اقتدا میں نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ جب میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا: میں نے امام عطا بن ابی رباح کی اقتدا میں نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھاتو امام عطا نے کہا: میں نے صحابی ٔ رسول سیّدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میںنماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے اور رکوع سے سراٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، جب امام عطاء نے سیّدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے رفع الیدین کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: صَلَّیْتُ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَکَانَ یَرْفَعُیَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ، وَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: صَلَّیْتَ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَکَانَ یَرْفَعُیَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗمِنَالرُّکُوْعِ۔ یعنی: میں نے (اپنے نانا) ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، انھوں نے ابتدائے نماز میں اور رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، پھر سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا۔ (سنن کبری بیہقی: ۲/ ۷۳)
انتہائی اہم تنبیہ: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے پرانے اور گہرے رفیق سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت کی حالت میں مسجد نبوی میں اپنی آخری نماز ادا کر رہے تھے، اس وقت ابو بکر صدیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب آپ کی اقتدا میں کھڑے تھے۔ رفع الیدین کے بارے میں اگر ایسی عظیم ہستیاں شہادت دے دیں تو اسے قبول کر لیا جانا چاہیے۔
(۸) … عبد اللہ بن قاسم کہتے ہیں: لوگ مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہے تھے، اچانک سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے اور کہا: لوگو! چہرے میری طرف کرو، میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز پڑھ کر دکھاتا ہوں، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے تھے اور جس کا حکم دیتے تھے۔ پھر آپ قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے اور اپنے کندھوں تک رفع الیدین کیا اور اَللّٰہُ اَکْبَر کہا، پھر اپنی نظر جھکا لی، پھر کندھوں کے برابر رفع الیدین کیا اور اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ کر رکوع کیا اور جب رکوع سے کھڑے ہوئے تو اسی طرح (رفع الیدین) کیا۔ (نصب الرایۃ: ۱/ ۴۱۶، مسند الفاروق لابن کثیر: ۱/ ۱۶۵، شرح سنن الترمذی لابن سیّد الناس ۲؍۲۱۷ واللفظ لہ)
یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت۔
(۹) … ابو الزبیر کہتے ہیں: ((اِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ کَانَ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ، وَاِذَا رَکَعَ، وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗمِنَالرُّکُوْعِفَعَلَمِثْلَذَالِکَ،وَیَقُوْلُ: رَأیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَعَلَ مِثْلَ ذَالِکَ۔)) یعنی: سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے، جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے اور کہتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ (ابن ماجہ: ۸۶۸) جب سعید بن جبیر تابعی سے رفع الیدین کے بارے میں پوچھا گیا توانھوں نے کہا: یہ نماز کی زینت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام شروع نماز میں، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ (سنن کبری بیہقی: ۲/ ۷۵) امام بخاری نے کہا: ولم یثبت عن احد من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہ لا یرفعیدیہ۔ یعنی: کسی ایک صحابی سے بھی رفع الیدین نہ کرنا ثابت نہیں ہے۔ (جزء رفع الیدین: ۴۰، ۱۷۶) عبد اللہ بن وہب کہتے ہیں: رَاَیْتُ مَالِکَ بْنَ اَنَسٍ یَرْفَعُیَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّکُوْعِ۔ یعنی: میں نے امام مالک کو دیکھا کہ وہ ابتدائے نماز میں اور رکوع کرتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر: ۵۵/ ۱۳۴) محمد بن عبد اللہ نے کہا: یہی امام مالک کا قول ہے اور وہ اسی پر فوت ہوئے اور یہی سنت ہے اور میں بھی اسی کا عامل ہوں۔ (تاریخ دمشق: ۵۵/ ۱۳۴) امام ابوداود کہتے ہیں: میں نے امام احمد کو دیکھا ہے وہ رکوع سے پہلے اور بعد میں ابتدائے نماز والا رفع الیدین کرتے تھے اور کانوں تک ہاتھ اٹھاتے تھے اور بعض اوقات شروع نماز والے رفع الیدین سے ذرا کم بلند کرتے تھے۔ (مسائل احمد روایۃ ابی داود: ص ۳۳) محمد بن نصر مروزی نے کہا: (رفع الیدین قبل از رکوع اور بعد از رکوع پر) اہل کوفہ کے علاوہ علمائے امصار نے اجماع کیا ہے۔ (فتح الباری: ۲/ ۲۵۷) مولانا عبد الحئی حنفی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رفع الیدین کرنے کا بہت کافی اور نہایت عمدہ ثبوت ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ رفع الیدین منسوخ ہے، ان کا قول بے دلیل ہے۔ (التعلیق الممجد: ص ۹۱) شاہ ولی اللہ دہلوی نے کہا: جب آدمی رکوع کرنے کا ارادہ کرے تو رفع الیدین کرے اور جب رکوع سے سر اٹھائے تو رفع الیدین کرے۔ میں رفع الیدین کرنے والوں کو نہ کرنے والوں سے اچھا سمجھتا ہوں، کیونکہ رفع الیدین کی حدیثیں بہت زیادہ اور بہت صحیح ہیں۔ (حجۃ اللہ البالغۃ: ۲/ ۱۰)
خلاصہ کلام: … درج ذیل صحابہ کرام نے رفع الیدین عند الرکوع کی روایات بیان کی ہیں: سیّدنا ابو بکر صدیق، سیّدنا عمر بن خطاب، سیّدنا علی بن ابی طالب، سیّدنا عبد اللہ بن عمر، سیّدنا مالک بن حویرث، سیّدنا وائل بن حجر، سیّدنا ابو حمید ساعدی، سیّدنا ابو قتادہ، سیّدنا سہل بن سعد ساعدی، سیّدنا ابو اسید ساعدی، سیّدنا محمد بن مسلمہ، سیّدنا ابو موسی اشعری، سیّدنا عبد اللہ بن زبیر، سیّدنا جابر بن عبد اللہ، سیّدنا ابو ہریرہe۔ اس کثرت کی وجہ سے امام ابن جوزی، حافظ ابن حجر، امام ابن حزم، امام سیوطی، امام سخاوی اور امام ابن تیمیہ وغیرہ نے رفع الیدین کی احادیث کو متواتر قرار دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد درج ذیل صحابہ سے رفع الیدین کرنا ثابت ہے اور کسی کا انکار ثابت نہیں ہے۔ سیّدنا ابو بکر صدیق، سیّدنا عمر فاروق، سیّدنا عبد اللہ بن عمر، سیّدنا مالک بن حویرث، سیّدنا ابو موسی اشعری، سیّدنا عبد اللہ بن زبیر، سیّدنا عبد اللہ بن عباس، سیّدنا انس بن مالک، سیّدنا جابر، سیّدنا ابو ہریرہ، سیّدنا ابو حمید ساعدیe۔ جن بڑے بڑے ائمہ کرام سے رفع الیدین کرنا ثابت ہے، ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں: امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام علی بن مدینی، اما اسحاق بن راہویہ، امام اوزاعی، امام عبد اللہ بن مبارک، امام عبد الرحمن بن مہدی، امام یحییٰ بن معین، امام بخاری، وغیرہ۔ رحمہم اللہ تعالی
تنبیہ: … جن روایات میں کانوں تک رفع الیدین کرنے کا ذکر ہے، ان روایات کے سیاق و سباق اور دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کانوں کو چھونا نہیں، بلکہ اونچائی میں کانوں کے برابر بلند کرنا مراد ہے۔ جن روایات میں رکوع سے پہلے یا بعد میں عدم رفع الیدین کا ذکر ہے، بعض محل نزاع سے خارج اور بعض ضعیف اور ناقابل حجت ہیں۔ ان روایات کی تفصیل کے لیے حافظ ابو طاہر زبیر علی زئی صاحب کی کتاب نور العینین فی رفع الیدین کا مطالعہ مفید رہے گا۔ اگر کوئی عدل و انصاف کا لحاظ رکھے تو اسے رفع الیدین قبل از رکوع اور بعد از رکوع پر دلالت کرنے والی احادیث کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع
سیّدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ((صَلَّیْتُ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَکَانَ یَرْفَعُیَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ، وَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: صَلَّیْتَ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَکَانَ یَرْفَعُیَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗمِنَالرُّکُوْعِ۔)) یعنی: میں نے (اپنے نانا) ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، انھوں نے ابتدائے نماز میں اور رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، پھر سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا۔ (سنن کبری بیہقی: ۲/ ۷۳)
انتہائی اہم تنبیہ: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے پرانے اور گہرے رفیق سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت کی حالت میں مسجد نبوی میں اپنی آخری نماز ادا کر رہے تھے، اس وقت ابو بکر صدیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب آپ کی اقتدا میں کھڑے تھے۔ رفع الیدین کے بارے میں اگر ایسی عظیم ہستیاں شہادت دے دیں تو اسے قبول کر لیا جانا چاہیے۔ سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم (بنو لیث کے تیرہ) نوجوان لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور بیس دن قیام کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا کہ اب ہم گھر جانا چاہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں واپس جانے کی اجازت دی اور فرمایا: ((… … صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ۔)) (اس طرح نماز پڑھنا، جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا) …۔ (ملاحظہ ہو: صحیح بخاری۶۲۸، ۶۳۱ مع الفتح) یہی مالک بن حویرث رفع الیدین عند الرکوع کی حدیث بھی بیان کرتے ہیں۔ اس بحث میں رفع الیدین سے مراد رکوع سے پہلے، رکوع کے بعد اور تیسری رکعت کے شروع میں دونوں ہاتھوں کو بلند کرنا ہے۔ اس ضمن میں مجھے سب سے زیادہ حیرانی حنفی مقلدین پر ہے،جو ایک طرف یہ نظریہ بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ائمہ اربعہ برحق ہیں، ان میں سے کسی ایک کی تقلید کی جا سکتی ہے، لیکن دوسری طرف رفع الیدین کا بھرپورردّ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد تینوں رفع الیدین کرتے تھے۔ رفع الیدین کے اثبات پر دلالت کرنے والی صحیح ترین اور کثیر احادیث کا لحاظ کرتے ہوئے احناف کو زیادہ سے زیادہیہ کہنا چاہیے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رفع الیدین کرنا بھی ثابت ہے اور ہر مسلمان پر رفع الیدین کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جیسا کہ معروف دیو بندی عالم محمد مظہر بقا (تلمیذ مفتی محمد شفیع فاضل دیو بند ایم اے، پی ایچ ڈی استاد جامعہ ام القرآن مکہ مکرمہ)نے لکھا، وہ فرماتے ہیں: رکوع میں جاتے اور اس سے اُٹھتے وقت رفع یدین چونکہ صحیح اور قوی احادیث سے ثابت ہے اس لیے کبھی کبھی رفع یدین بھی کر لیتا ہوں۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحبlنے ایک مرتبہ اپنی نجی مجلس میں حاضرین سے فرمایا تھا کبھی کبھی رفع یدین بھی کر لیا کرو کیونکہ اگر قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرما لیا کہ تم تک میرییہ سنت بھی تو صحیح طور پر پہنچی تھی تم نے اس پر کیوں عمل نہ کیا تو کوئی جواب نہ بن پڑے گا۔ (حیات بقا اور کچھ یادیں صفحہ ۱۹۰ (تحت عنوان) فقہی مسائل میں میرا طرزِ عمل، مطبوعہ: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، ناظم آباد کراچی) لیکن معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیا اور انھوں نے ان تمام احادیث کو ردّ کرنا شروع کر دیا، جن کی روشنی میں امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ اس عظیم سنت کی نہ صرف تردید کی گئی بلکہ قبیح انداز میں اس کا مذاق اُڑانے سے بھی اجتناب نہ کیا گیا۔ اس قبیح اور توہین آمیز انداز کے الفاظ ناقابل بیان ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے: تجلیات صفدر، صفحہ ۳۵۹، جلد ۷، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان) اور اس سنت قائمہ سے جان چھڑانے کے لیے جو ظلم ڈھایا جاتا ہے وہ ملاحظہ ہو۔ دیو بندی شیخ الہند محمود الحسن صاحب غالی مقلدین کی حالت زار بیان کرتے ہوئے فرماتے: رفع یدین میں تو باوجود احادیث صریحہ کے امام کی آڑ پکڑیں اور کہیں امام کا مذہب نہیں اور خوب جمیں اور حنفیت کا دعویٰ کریں اور اگر کوئی غیر مقلد رفع یدین کرے تو اخراج من المسجد کا حکم دے دیں۔ (الورد الشذی علی جامع الترمذی، صفحہ: ۵۲)
اس مسئلہ میں ہمارا نظریہیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز فرض کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز کا طریقہ بیان کیا اور صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ فرما کر نماز کے تمام امور میں اپنی اقتدا کرنے کا حکم دیا۔ جیسےیہ نماز روزِ فرضیت سے تکبیر تحریمہ، اس کے لیے کیے جانے والے رفع الیدین، قراء ت، قیام، رکوع وسجود وغیرہ پر مشتمل تھی، اسی طرح اس میں رکوع سے پہلے والا اور رکوع سے بعد والا رفع الیدین بھی پایا جاتا تھا۔ ہم بعض دلائل کا ذکر کریں گے:
(۱) … سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِذَا قَامَ فِیْ الصَّلَاۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی تَکُوْنَ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، وَکَانَ یَفْعَلُ ذَالِکَ حِیْنَیُکَبِّرُ لِلرُّکُوْعِ وَ یَفْعَلُ ذَالِکَ اِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗمِنَالرُّکُوْعِ۔)) یعنی: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو (تکبیر تحریمہ کے وقت) ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کرتے، اسی طرح جب رکوع کے لیے اَللّٰہُ اَکْبَر کہتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو (رفع الیدین کرتے تھے) اور سجدوں میں اس طرح نہیںکرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۳۵، ۷۳۶، صحیح مسلم: ۳۹۰، مسند احمد: ۱/ ۱۴۷، ۴۵۲۶، ابوداود: ۷۲۱، ترمذی: ۲۵۵، نسائی: ۱۰۲۵، ابن ماجہ: ۸۵۸، مؤطا امام مالک: ۱/ ۷۵، مؤطا امام محمد: ۱۰۰) امام علی بن مدینی نے کہا: یہ حدیث مخلوق پر حجت ہے، ہر وہ انسان جو اس کو سنے، اس پر لازم ہے کہ وہ اس پر عمل کرے (اور رفع الیدین کرے)، کیونکہ اس کی سند پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خود بھی اسی حدیث پر عمل کرتے ہوئے رفع الیدین کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔
(۲) ابوقلابہ کہتے ہیں: جب سیّدنامالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کی تو رفع الیدین کیا، اسی طرح جب رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع الیدین کیا اور یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھی۔ (صحیح بخاری: ۷۳۷، صحیح مسلم: ۳۹۱، مسند احمد: ۱۵۱۷۲، نسائی: ۸۸۰، ابن ماجہ: ۸۵۹)
اہم تنبیہ: … سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بنو لیث کے وفد کے ساتھ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے، جب آپ غزوۂ تبوک کی تیاری میں مصروف تھے۔ (فتح الباری: ۲/ ۱۴۱) اور غزوۂ تبوک ۹ ھ کے ساتویں مہینے رجب میں ہوا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری سالوں میں رفع الیدین جاری رہا۔ (خزائن السنن صفحہ ۳۶۴، مطبوعہ: مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ)
(۳) … سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میںنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں داخل ہوئے تو اَللّٰہُ اَکْبَر کہا اور (کانوں کے برابر تک) رفع الیدین کیا، پھر اپنا کپڑا لپیٹ لیا اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کرنا چاہا تو ہاتھوں کو کپڑے سے نکالا اور اسی طرح رفع الیدین کیا، پھر جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا تو رفع الیدین کیا۔ (صحیح مسلم: ۴۰۱، مسند احمد: ۱۸۳۹۸، ابوداود: ۷۲۳، ترمذی: ۲۶۸، نسائی: ۸۷۹، ابن ماجہ: ۸۶۷) اہم بات: اس حدیث کی سند کے ایک راوی محمد بن جحادہ کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث امام حسن بصری کو بیان کی تو انھوںنے کہا: ھی صلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فعلہ من فعلہ و ترکہ من ترکہ۔ یعنی: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ہے، جس نے اسے اختیار کیا، سو اختیار کیا اور جس نے اسے چھوڑ دیا، سو چھوڑ دیا۔ (ابوداود: ۷۲۳)
اہم تنبیہ: … سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ۹ ھ میں مسلمان ہوئے، یہ اگلے سال سردی کے موسم میں دوبارہ تشریف لائے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا آخری موسم سردا تھا۔ (دیکھئے: عمدۃ القاری: ۵/ ۲۷۴، صحیح ابن حبان: ۳/ ۱۶۹) انھوں نے دونوں موقعوں پر رفع الیدین کی حدیث بیان کی۔ رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا بے بنیاد دعوی کرنے والے متنبہ رہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۱۰ ھ میں رفع الیدین کرنے کی دلیل موجود ہے اور گیارہوین سن ہجری کے تیسرے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے۔
(۴) … سیّدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ، ابو قتادہ سمیت دس صحابہ کرام میںموجود تھے، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں تم سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں۔ دوسرے صحابہ نے کہا: اللہ کی قسم! نہ تو ہم سے پہلے مسلمان ہوا اور نہ ہم سے زیادہ صحبت اختیار کی (تو کیسے زیادہ علم رکھتا ہے)، چلو پیش کرو۔ سیّدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اَللّٰہُ اَکْبَر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر ٹھہر جاتی، پھر قراء ت کرتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع کرتے، رکوع میں اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھتے اور دورانِ رکوع سر اونچا رکھتے نہ نیچا، پھر سر اٹھاتے تو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے اور کندھوں تک رفع الیدین کرتے۔ صحابہ نے کہا: تو نے سچ کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔ (ابوداود: ۷۳۰، ترمذی: ۲۶۰، نسائی: ۱۱۸۱، ابن ماجہ: ۸۶۲، احمد: ۲۳۰۸۸)
(۵) … سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرضی نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اَللّٰہُ اَکْبَر کہتے اور کندھوں کے برابر رفع الیدین کرتے، اور جب تلاوت پوری کرنے کے بعد رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پھر اسی طرح (رفع الیدین) کرتے تھے، اور نماز میں بیٹھنے کی حالت میںایسا نہ کرتے، اور جب دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے تو پھررفع الیدین کرتے تھے۔
(ابوداود: ۷۴۴، ترمذی: ۳۴۲۳، ابن ماجہ: ۸۶۴)
(۶) … سیّدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز پڑھ کر دکھاؤں، پھر انھوں نے اَللّٰہُ اَکْبَر کہا اور رفع الیدین کیا، پھر (رکوع کے لیے) اَللّٰہُ اَکْبَر کہا، پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا تو رفع الیدین کیا۔ (سنن دار قطنی: ۱/ ۲۹۲)
(۷) … امام ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل سلمیk کہتے ہیں: میں ابو نعمان محمد بن فضل کی اقتدا میں نماز پڑھی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، جب میں نے اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا: میں نے امام حماد بن زید کی اقتدا میں نماز پڑھی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، جب میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے امام ایوب سختیانی کی اقتدا میں نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ جب میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا: میں نے امام عطا بن ابی رباح کی اقتدا میں نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھاتو امام عطا نے کہا: میں نے صحابی ٔ رسول سیّدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میںنماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے اور رکوع سے سراٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے، جب امام عطاء نے سیّدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے رفع الیدین کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: صَلَّیْتُ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَکَانَ یَرْفَعُیَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ، وَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: صَلَّیْتَ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَکَانَ یَرْفَعُیَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗمِنَالرُّکُوْعِ۔ یعنی: میں نے (اپنے نانا) ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، انھوں نے ابتدائے نماز میں اور رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا، پھر سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا۔ (سنن کبری بیہقی: ۲/ ۷۳)
انتہائی اہم تنبیہ: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے پرانے اور گہرے رفیق سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت کی حالت میں مسجد نبوی میں اپنی آخری نماز ادا کر رہے تھے، اس وقت ابو بکر صدیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب آپ کی اقتدا میں کھڑے تھے۔ رفع الیدین کے بارے میں اگر ایسی عظیم ہستیاں شہادت دے دیں تو اسے قبول کر لیا جانا چاہیے۔
(۸) … عبد اللہ بن قاسم کہتے ہیں: لوگ مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہے تھے، اچانک سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے اور کہا: لوگو! چہرے میری طرف کرو، میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز پڑھ کر دکھاتا ہوں، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے تھے اور جس کا حکم دیتے تھے۔ پھر آپ قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے اور اپنے کندھوں تک رفع الیدین کیا اور اَللّٰہُ اَکْبَر کہا، پھر اپنی نظر جھکا لی، پھر کندھوں کے برابر رفع الیدین کیا اور اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ کر رکوع کیا اور جب رکوع سے کھڑے ہوئے تو اسی طرح (رفع الیدین) کیا۔ (نصب الرایۃ: ۱/ ۴۱۶، مسند الفاروق لابن کثیر: ۱/ ۱۶۵، شرح سنن الترمذی لابن سیّد الناس ۲؍۲۱۷ واللفظ لہ)
یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت۔
(۹) … ابو الزبیر کہتے ہیں: ((اِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ کَانَ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ، وَاِذَا رَکَعَ، وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗمِنَالرُّکُوْعِفَعَلَمِثْلَذَالِکَ،وَیَقُوْلُ: رَأیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَعَلَ مِثْلَ ذَالِکَ۔)) یعنی: سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے، جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے اور کہتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ (ابن ماجہ: ۸۶۸) جب سعید بن جبیر تابعی سے رفع الیدین کے بارے میں پوچھا گیا توانھوں نے کہا: یہ نماز کی زینت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام شروع نماز میں، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ (سنن کبری بیہقی: ۲/ ۷۵) امام بخاری نے کہا: ولم یثبت عن احد من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہ لا یرفعیدیہ۔ یعنی: کسی ایک صحابی سے بھی رفع الیدین نہ کرنا ثابت نہیں ہے۔ (جزء رفع الیدین: ۴۰، ۱۷۶) عبد اللہ بن وہب کہتے ہیں: رَاَیْتُ مَالِکَ بْنَ اَنَسٍ یَرْفَعُیَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ وَاِذَا رَکَعَ وَاِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّکُوْعِ۔ یعنی: میں نے امام مالک کو دیکھا کہ وہ ابتدائے نماز میں اور رکوع کرتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر: ۵۵/ ۱۳۴) محمد بن عبد اللہ نے کہا: یہی امام مالک کا قول ہے اور وہ اسی پر فوت ہوئے اور یہی سنت ہے اور میں بھی اسی کا عامل ہوں۔ (تاریخ دمشق: ۵۵/ ۱۳۴) امام ابوداود کہتے ہیں: میں نے امام احمد کو دیکھا ہے وہ رکوع سے پہلے اور بعد میں ابتدائے نماز والا رفع الیدین کرتے تھے اور کانوں تک ہاتھ اٹھاتے تھے اور بعض اوقات شروع نماز والے رفع الیدین سے ذرا کم بلند کرتے تھے۔ (مسائل احمد روایۃ ابی داود: ص ۳۳) محمد بن نصر مروزی نے کہا: (رفع الیدین قبل از رکوع اور بعد از رکوع پر) اہل کوفہ کے علاوہ علمائے امصار نے اجماع کیا ہے۔ (فتح الباری: ۲/ ۲۵۷) مولانا عبد الحئی حنفی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رفع الیدین کرنے کا بہت کافی اور نہایت عمدہ ثبوت ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ رفع الیدین منسوخ ہے، ان کا قول بے دلیل ہے۔ (التعلیق الممجد: ص ۹۱) شاہ ولی اللہ دہلوی نے کہا: جب آدمی رکوع کرنے کا ارادہ کرے تو رفع الیدین کرے اور جب رکوع سے سر اٹھائے تو رفع الیدین کرے۔ میں رفع الیدین کرنے والوں کو نہ کرنے والوں سے اچھا سمجھتا ہوں، کیونکہ رفع الیدین کی حدیثیں بہت زیادہ اور بہت صحیح ہیں۔ (حجۃ اللہ البالغۃ: ۲/ ۱۰)
خلاصہ کلام: … درج ذیل صحابہ کرام نے رفع الیدین عند الرکوع کی روایات بیان کی ہیں: سیّدنا ابو بکر صدیق، سیّدنا عمر بن خطاب، سیّدنا علی بن ابی طالب، سیّدنا عبد اللہ بن عمر، سیّدنا مالک بن حویرث، سیّدنا وائل بن حجر، سیّدنا ابو حمید ساعدی، سیّدنا ابو قتادہ، سیّدنا سہل بن سعد ساعدی، سیّدنا ابو اسید ساعدی، سیّدنا محمد بن مسلمہ، سیّدنا ابو موسی اشعری، سیّدنا عبد اللہ بن زبیر، سیّدنا جابر بن عبد اللہ، سیّدنا ابو ہریرہe۔ اس کثرت کی وجہ سے امام ابن جوزی، حافظ ابن حجر، امام ابن حزم، امام سیوطی، امام سخاوی اور امام ابن تیمیہ وغیرہ نے رفع الیدین کی احادیث کو متواتر قرار دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد درج ذیل صحابہ سے رفع الیدین کرنا ثابت ہے اور کسی کا انکار ثابت نہیں ہے۔ سیّدنا ابو بکر صدیق، سیّدنا عمر فاروق، سیّدنا عبد اللہ بن عمر، سیّدنا مالک بن حویرث، سیّدنا ابو موسی اشعری، سیّدنا عبد اللہ بن زبیر، سیّدنا عبد اللہ بن عباس، سیّدنا انس بن مالک، سیّدنا جابر، سیّدنا ابو ہریرہ، سیّدنا ابو حمید ساعدیe۔ جن بڑے بڑے ائمہ کرام سے رفع الیدین کرنا ثابت ہے، ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں: امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام علی بن مدینی، اما اسحاق بن راہویہ، امام اوزاعی، امام عبد اللہ بن مبارک، امام عبد الرحمن بن مہدی، امام یحییٰ بن معین، امام بخاری، وغیرہ۔ رحمہم اللہ تعالی
تنبیہ: … جن روایات میں کانوں تک رفع الیدین کرنے کا ذکر ہے، ان روایات کے سیاق و سباق اور دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کانوں کو چھونا نہیں، بلکہ اونچائی میں کانوں کے برابر بلند کرنا مراد ہے۔ جن روایات میں رکوع سے پہلے یا بعد میں عدم رفع الیدین کا ذکر ہے، بعض محل نزاع سے خارج اور بعض ضعیف اور ناقابل حجت ہیں۔ ان روایات کی تفصیل کے لیے حافظ ابو طاہر زبیر علی زئی صاحب کی کتاب نور العینین فی رفع الیدین کا مطالعہ مفید رہے گا۔ اگر کوئی عدل و انصاف کا لحاظ رکھے تو اسے رفع الیدین قبل از رکوع اور بعد از رکوع پر دلالت کرنے والی احادیث کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
4. فَصْلٌ مِنْفِيٌّ حُجَّةِ مَنْ لَمْ يَرَ الرَّفْعَ إِلَّا عِنْدَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق¤تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
حدیث نمبر: 1538
عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً
علقمہ سے مروی ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:کیا میں تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ پڑھوں؟ پھر انھوں نے نماز پڑھی اور صرف ایک دفعہ رفع الیدین کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1538]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، غير عاصم بن كليب، فمن رجال مسلم، أخرجه ابوداود: 748، والترمذي: 257، والنسائي: 2/ 195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3681)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3681»
وضاحت: فوائد: … چونکہ رفع الیدین ترک کرنے کا زیادہ دارومدار اسی روایت پر ہے، اس لیے تفصیل کے ساتھ اس کی حقیقت واضح کی جائے گی۔
(ا)سب سے پہلے اس حدیث کے ترجمہ پر غور کریں اور دیکھیںیہ روایت رفع یدین کے اثبات کی دلیل ہے، پوری حدیث میں کوئی ایسا لفظ نہیں ملے گا جو رکوع جاتے یا اُٹھتے وقت رفع یدین سے منع کرے۔
(ب)تمام احناف اس حدیث کے مخالف ہیں اگر حنفی استدلال کے مطابق صرف ایک رفع یدین ہے تو وہ وتروں میں رفع یدین کیوں کرتے ہیں؟ اگر کہیں کہ دوسری دلیل سے تو پھر صحیح بخاری و مسلم کی مسلمہ روایات سے رکوع جاتے اور اُٹھتے وقت بھی رفع یدین کرنا چاہیے آخر اس سے انکار کیوں؟ اور یہ دو رنگی کیوں؟
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا یا سراسر موم ہو جا یا سنگ ہو جا
یہ حدیث ضعیف ہے۔
(الف): … امام سفیان ثوری مدلس ہیں، جو ہر سند میں عَنْ سے روایت کر رہے ہیں۔
(۱) … امام یحییٰ بن معینؒ فرماتے ہیں: وکان یدلس یعنی: سفیان ثوری تدلیس کرتے تھے۔ (الجرح والتعدیل:۴/۲۲۵، وسندہٗصحیح، الکفایۃ للخطیب: ص:۳۶۱)
(۲) … امام دارقطنیؒ فرماتے ہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ مدلس ہیں۔ (العلل للدارقطنی: ۲/۱۶۹)
(۳) … امام شعبہؒفرماتےہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ تدلیس کرتے ہیں۔ (الکامل لابن عدی:۱/۶۹)
(۴) … امام عبداللہ بن مبارکؒفرماتےہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ تدلیس کرتے ہیں۔ (الکامل: ۱/۱۰۴)
(۵) … امام ہشیم بن بشیر نے امام عبد اللہ بن مبارک سے کہا: قد کان کبیراکیدلسان، فذکر سفیان الثوری والأعمش یعنی: آپ کے دو بزرگ سفیان ثوری اور اعمش تدلیس کرتے تھے۔ (الکامل: ۱/۹۵، ۲۲۴، ۷/۱۳۵، وسندہٗصحیح)
(۶) … امام سفیان ثوریؒ کے شاگرد امام ابو عاصم ضحاک بن مخلد نبیل کہتے ہیں: نری أن سفیان الثوری انما دلسہ عن أبی حنیفۃ۔ یعنی: ہمارا خیال ہے کہ سفیان ثوری نے ابو حنیفہؒ سے تدلیس کی ہے۔ (سنن الدارقطنی: ۳/۲۰۱، حدیث: ۳۴۲۳)
(۷) … امام بخاریؒ فرماتے ہیں: اعلم الناس بالثورییحییٰ بن سعید لأنہ عرف حدیث صحیحہ من تدلیسہ۔ یعنی: سفیان ثوری کو سب سے زیادہ جاننے والے یحییٰ بن سعیدالقطان ہیں، کیونکہ وہ ان کی مدلَّس روایات میں سے صحیح احادیث کو پہچانتے تھے۔ (الکامل لابن عدی: ۱/۱۱۱، وسندہٗصحیح) معلوم ہوا کہ امام سفیان ثوری کے مدلس ہونے پر اتفاق ہے۔ امام عینی حنفی لکھتے ہیں: سفیان من المدلسین، والمدلس لایحتج بعنعنتہ أِلا أن یثبت سماعہ من طریق آخر۔ یعنی: سفیان (ثوریؒ) مدلس رواۃ میں سے ہیں، (یاد رہے کہ) مدلس کی عن والی اس وقت تک حجت نہیں ہوتی جب تک کسی دوسرے طریق سے اس کا سماع نہ ہو۔ (عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری: ۳/۱۱۲) قسطلانی نے ارشاد الساری: ۱/۲۸۶ میں اور کرمانی حنفی نے شرح الکرمانی للبخاری: ۳/۶۲ مین یہی دعویٰ کیا ہے۔ امام ترکمانی حنفی لکھتے ہیں: الثوری مدلس یعنی: سفیان ثوری مدلس ہے۔ (الجوہر النقی: ۸/۲۶۲) امام عینی حنفی (عمدۃ القاری: ۱/۲۱۴)، خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی (بذل المجہود: ۵/۲۳۰)، جناب حسین احمد مدنی دیوبندی (تقریر ترمذی: ص ۳۹۱)، جناب سرفراز صفدر دیوبندی (خزائن السنن: ۲/۷۷)، عبد القیوم حقانی دیوبندی (توضیح السنن: ص۶۱۵)، شیر محمد مماتی دیوبندی (آئینۂ تسکین الصدور: ص ۹۲)، محمد امین اوکاڑوی دیوبندی (مجموعۂ رسائل: ۳/۳۳۱)، ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی بریلوی (فقہ الفقیہ: صـ ۱۳۴)، محمد عباس رضوی بریلوی (واللہ آپ زندہ ہیں: صـ۳۲۱) وغیرھم نے امام سفیان ثوریؒ کو مدلس کہا ہے۔ ثقہ مدلس راوی کی عن والی روایت ضعیف و غیر معتبر ہوتی ہے، جب تک سماع کی تصریحیا متابعت ثابت نہ ہو جائے۔ دیکھیں: (الجوہر النقی: ۷/۳۷۷، عمدۃ القاری از عینی حنفی: ۱/۲۶۱، البنایہ از عینی حنفی: ۲/۲۹۷، ۶/۵۳۹، فتح القدیر از ابن ہمام حنفی: ۱/۵۲، السعایۃ از عبد الحئی لکھنوی حنفی: ۱/۲۴۷، التعلیق الحسن از نیموی حنفی: صـ ۹۸، ۹۹، ۱۹۸، ایضاح الادلہ از محمود الحسن دیوبندی: صـ ۴۴، تقاریر شیخ الہند: صـ ۳۵، حقائق السنن از عبد الحق دیوبندی بانی دارالعلوم حقانیہ: ۱/۱۵۶، ۱۶۱، توضیح السنن: صـ۵۸۶، فقہ الفقیہ از محمد شریف بریلوی: صـ ۱۳۰)
جناب امین اوکاڑوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: عَنْعَنَہ بالاتفاق ضعف کی دلیل ہے۔ (تجلیاتِ صفدر: ۳/۹۳) امامِ بریلویت احمد رضا خان لکھتے ہیں: عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار و معتمد میں مردود و نامستند ہے۔ (فتاوی رضویہ: ۲/۲۹۰) نیز لکھتے ہیں: عنعنہ مدلس اصولِ محدثین پر نامقبول۔ (فتاوی رضویہ: ۲/۳۰۷) اس حدیث میں امام سفیان ثوریؒ نے سماع کی تصریح نہیں کی، لہٰذا یہ حدیث اصولِ محدثین کے مطابق ضعیف اور ناقابلِ حجت ہے۔
(ب) … درج ذیل جلیل القدر ائمہ نے اس حدیث کو ضعیف ہے: امام بخاریؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ،امامعبداللہبنمبارکؒ،امام ابو حاتم الرازیؒ، امام یحییٰ بن آدمؒ،امامدارقطنیؒ، امام ابن حبانؒ،امامابوداودؒ،امامدارمیؒ، امام محمد بن وضاحؒ،امامبزارؒ،اماممحمدبننصرالمروزیؒ، امام بیہقیؒ،امامحاکمؒ،امامابنعبدالبرؒ،امامنوویؒ، امام ابن القطان الفاسیؒ، امام ابن قدامہ المقدسیؒ وغیرھم۔
چند ایک ائمہ کے تفصیلی اقوال یہ ہیں: امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: لم یثبت عندی حدیث ابن مسعود۔ … یعنی: سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میرے نزدیک ثابت نہیں ہے۔ (سنن الترمذی: تحت حدیث۲۵۶) امام ابوداود نے کہا: ھذا حدیث مختصر من حدیث طویل، ولیس ھو بصحیح علی ھذا اللفظ۔ یعنی: یہ حدیث، ایک طویل حدیث کا اختصار ہے اور یہ ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔ (ابوداود: تحت حدیث: ۷۴۸) امام ابو حاتم رازی نے کہا: ھذا خطأ۔ یعنی: یہ حدیث غلطی ہے۔ (العلل: ۱/ ۹۶) امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ھو فی الحقیقۃ أضعف شیءیعول علیہ، لان لہ عللا تبطلہ۔ یعنی: لیکن حقیقتیہ ہے کہ اس روایت میں ایسی علّتیں ہیں، جو اس کو باطل قرار دیتی ہیں۔ (التلخیص الحبیر: ۱/ ۲۲۲)
(ج) … امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے جزء رفع الیدین میں کہا: امام احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن ادریس کی کتاب دیکھی، جو انھوں نے (اس حدیث کے راوی) عاصم بن کلیب سے لکھی تھی، اس میں لَمْ یَعُدْ کے الفاظ نہیں تھے۔ یہی بات زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اہل علم کے نزدیک کتاب کی بات کو زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
(د) … رفع الیدین کے اثبات والی احادیث انتہائی واضح، محکم اور کثیر تعداد میں موجود ہیں، لہٰذا احادیث ِ صحیحہ کی مخالفت کی وجہ سے اس ضعیف کے ضعف میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ درج بالا حقائق سے معلوم ہوا کہ اس ضعیف حدیث سے رفع الیدین کے نسخ پر دعوی کرنامحض عوامیدھوکا ہے۔
(ا)سب سے پہلے اس حدیث کے ترجمہ پر غور کریں اور دیکھیںیہ روایت رفع یدین کے اثبات کی دلیل ہے، پوری حدیث میں کوئی ایسا لفظ نہیں ملے گا جو رکوع جاتے یا اُٹھتے وقت رفع یدین سے منع کرے۔
(ب)تمام احناف اس حدیث کے مخالف ہیں اگر حنفی استدلال کے مطابق صرف ایک رفع یدین ہے تو وہ وتروں میں رفع یدین کیوں کرتے ہیں؟ اگر کہیں کہ دوسری دلیل سے تو پھر صحیح بخاری و مسلم کی مسلمہ روایات سے رکوع جاتے اور اُٹھتے وقت بھی رفع یدین کرنا چاہیے آخر اس سے انکار کیوں؟ اور یہ دو رنگی کیوں؟
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا یا سراسر موم ہو جا یا سنگ ہو جا
یہ حدیث ضعیف ہے۔
(الف): … امام سفیان ثوری مدلس ہیں، جو ہر سند میں عَنْ سے روایت کر رہے ہیں۔
(۱) … امام یحییٰ بن معینؒ فرماتے ہیں: وکان یدلس یعنی: سفیان ثوری تدلیس کرتے تھے۔ (الجرح والتعدیل:۴/۲۲۵، وسندہٗصحیح، الکفایۃ للخطیب: ص:۳۶۱)
(۲) … امام دارقطنیؒ فرماتے ہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ مدلس ہیں۔ (العلل للدارقطنی: ۲/۱۶۹)
(۳) … امام شعبہؒفرماتےہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ تدلیس کرتے ہیں۔ (الکامل لابن عدی:۱/۶۹)
(۴) … امام عبداللہ بن مبارکؒفرماتےہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ تدلیس کرتے ہیں۔ (الکامل: ۱/۱۰۴)
(۵) … امام ہشیم بن بشیر نے امام عبد اللہ بن مبارک سے کہا: قد کان کبیراکیدلسان، فذکر سفیان الثوری والأعمش یعنی: آپ کے دو بزرگ سفیان ثوری اور اعمش تدلیس کرتے تھے۔ (الکامل: ۱/۹۵، ۲۲۴، ۷/۱۳۵، وسندہٗصحیح)
(۶) … امام سفیان ثوریؒ کے شاگرد امام ابو عاصم ضحاک بن مخلد نبیل کہتے ہیں: نری أن سفیان الثوری انما دلسہ عن أبی حنیفۃ۔ یعنی: ہمارا خیال ہے کہ سفیان ثوری نے ابو حنیفہؒ سے تدلیس کی ہے۔ (سنن الدارقطنی: ۳/۲۰۱، حدیث: ۳۴۲۳)
(۷) … امام بخاریؒ فرماتے ہیں: اعلم الناس بالثورییحییٰ بن سعید لأنہ عرف حدیث صحیحہ من تدلیسہ۔ یعنی: سفیان ثوری کو سب سے زیادہ جاننے والے یحییٰ بن سعیدالقطان ہیں، کیونکہ وہ ان کی مدلَّس روایات میں سے صحیح احادیث کو پہچانتے تھے۔ (الکامل لابن عدی: ۱/۱۱۱، وسندہٗصحیح) معلوم ہوا کہ امام سفیان ثوری کے مدلس ہونے پر اتفاق ہے۔ امام عینی حنفی لکھتے ہیں: سفیان من المدلسین، والمدلس لایحتج بعنعنتہ أِلا أن یثبت سماعہ من طریق آخر۔ یعنی: سفیان (ثوریؒ) مدلس رواۃ میں سے ہیں، (یاد رہے کہ) مدلس کی عن والی اس وقت تک حجت نہیں ہوتی جب تک کسی دوسرے طریق سے اس کا سماع نہ ہو۔ (عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری: ۳/۱۱۲) قسطلانی نے ارشاد الساری: ۱/۲۸۶ میں اور کرمانی حنفی نے شرح الکرمانی للبخاری: ۳/۶۲ مین یہی دعویٰ کیا ہے۔ امام ترکمانی حنفی لکھتے ہیں: الثوری مدلس یعنی: سفیان ثوری مدلس ہے۔ (الجوہر النقی: ۸/۲۶۲) امام عینی حنفی (عمدۃ القاری: ۱/۲۱۴)، خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی (بذل المجہود: ۵/۲۳۰)، جناب حسین احمد مدنی دیوبندی (تقریر ترمذی: ص ۳۹۱)، جناب سرفراز صفدر دیوبندی (خزائن السنن: ۲/۷۷)، عبد القیوم حقانی دیوبندی (توضیح السنن: ص۶۱۵)، شیر محمد مماتی دیوبندی (آئینۂ تسکین الصدور: ص ۹۲)، محمد امین اوکاڑوی دیوبندی (مجموعۂ رسائل: ۳/۳۳۱)، ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی بریلوی (فقہ الفقیہ: صـ ۱۳۴)، محمد عباس رضوی بریلوی (واللہ آپ زندہ ہیں: صـ۳۲۱) وغیرھم نے امام سفیان ثوریؒ کو مدلس کہا ہے۔ ثقہ مدلس راوی کی عن والی روایت ضعیف و غیر معتبر ہوتی ہے، جب تک سماع کی تصریحیا متابعت ثابت نہ ہو جائے۔ دیکھیں: (الجوہر النقی: ۷/۳۷۷، عمدۃ القاری از عینی حنفی: ۱/۲۶۱، البنایہ از عینی حنفی: ۲/۲۹۷، ۶/۵۳۹، فتح القدیر از ابن ہمام حنفی: ۱/۵۲، السعایۃ از عبد الحئی لکھنوی حنفی: ۱/۲۴۷، التعلیق الحسن از نیموی حنفی: صـ ۹۸، ۹۹، ۱۹۸، ایضاح الادلہ از محمود الحسن دیوبندی: صـ ۴۴، تقاریر شیخ الہند: صـ ۳۵، حقائق السنن از عبد الحق دیوبندی بانی دارالعلوم حقانیہ: ۱/۱۵۶، ۱۶۱، توضیح السنن: صـ۵۸۶، فقہ الفقیہ از محمد شریف بریلوی: صـ ۱۳۰)
جناب امین اوکاڑوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: عَنْعَنَہ بالاتفاق ضعف کی دلیل ہے۔ (تجلیاتِ صفدر: ۳/۹۳) امامِ بریلویت احمد رضا خان لکھتے ہیں: عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار و معتمد میں مردود و نامستند ہے۔ (فتاوی رضویہ: ۲/۲۹۰) نیز لکھتے ہیں: عنعنہ مدلس اصولِ محدثین پر نامقبول۔ (فتاوی رضویہ: ۲/۳۰۷) اس حدیث میں امام سفیان ثوریؒ نے سماع کی تصریح نہیں کی، لہٰذا یہ حدیث اصولِ محدثین کے مطابق ضعیف اور ناقابلِ حجت ہے۔
(ب) … درج ذیل جلیل القدر ائمہ نے اس حدیث کو ضعیف ہے: امام بخاریؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ،امامعبداللہبنمبارکؒ،امام ابو حاتم الرازیؒ، امام یحییٰ بن آدمؒ،امامدارقطنیؒ، امام ابن حبانؒ،امامابوداودؒ،امامدارمیؒ، امام محمد بن وضاحؒ،امامبزارؒ،اماممحمدبننصرالمروزیؒ، امام بیہقیؒ،امامحاکمؒ،امامابنعبدالبرؒ،امامنوویؒ، امام ابن القطان الفاسیؒ، امام ابن قدامہ المقدسیؒ وغیرھم۔
چند ایک ائمہ کے تفصیلی اقوال یہ ہیں: امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: لم یثبت عندی حدیث ابن مسعود۔ … یعنی: سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میرے نزدیک ثابت نہیں ہے۔ (سنن الترمذی: تحت حدیث۲۵۶) امام ابوداود نے کہا: ھذا حدیث مختصر من حدیث طویل، ولیس ھو بصحیح علی ھذا اللفظ۔ یعنی: یہ حدیث، ایک طویل حدیث کا اختصار ہے اور یہ ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔ (ابوداود: تحت حدیث: ۷۴۸) امام ابو حاتم رازی نے کہا: ھذا خطأ۔ یعنی: یہ حدیث غلطی ہے۔ (العلل: ۱/ ۹۶) امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ھو فی الحقیقۃ أضعف شیءیعول علیہ، لان لہ عللا تبطلہ۔ یعنی: لیکن حقیقتیہ ہے کہ اس روایت میں ایسی علّتیں ہیں، جو اس کو باطل قرار دیتی ہیں۔ (التلخیص الحبیر: ۱/ ۲۲۲)
(ج) … امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے جزء رفع الیدین میں کہا: امام احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن ادریس کی کتاب دیکھی، جو انھوں نے (اس حدیث کے راوی) عاصم بن کلیب سے لکھی تھی، اس میں لَمْ یَعُدْ کے الفاظ نہیں تھے۔ یہی بات زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اہل علم کے نزدیک کتاب کی بات کو زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
(د) … رفع الیدین کے اثبات والی احادیث انتہائی واضح، محکم اور کثیر تعداد میں موجود ہیں، لہٰذا احادیث ِ صحیحہ کی مخالفت کی وجہ سے اس ضعیف کے ضعف میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ درج بالا حقائق سے معلوم ہوا کہ اس ضعیف حدیث سے رفع الیدین کے نسخ پر دعوی کرنامحض عوامیدھوکا ہے۔
الحكم على الحديث: رجاله ثقات رجال الشيخين
حدیث نمبر: 1539
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَ إِبْهَامَاهُ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے حتی کہ آپ کے انگوٹھے آپ کے کانوں کے برابر ہوجاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1539]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف يزيد بن ابي زياد، أخرجه ابوداود: 750، والبخاري في رفع اليدين: 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18487، 18674)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18877»
وضاحت: فوائد: … یہ پوری حدیثیوں ہے: ((کَانَ النَّبِیُُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أِذَا کَبَّرَ لِاِفْتِتَاحِ الصَّلَاۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ أِلٰی قَرِیْبٍ مِنْ أُذُنَیْہِ ثُمَّ لَا یَعُوْدُ۔)) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آغاز نماز کی (تکبیر تحریمہ) کہتے تو اپنے کانوں کے قریب تک رفع الیدین فرماتے، پھر نہیں لوٹتے تھے (رفع الیدین نہیں کرتے تھے)۔
تبصرہ: … یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی سند میںیزید بن ابی زیاد راوی ہے، جمہور نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(۱) … امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں: ضعیف الحدیث، کان حدیثہ موضوع یعنی: یہ ضعیف الحدیث ہے، گویا اس کی حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔ (الجرح والتعدیل: ۹/۲۶۳)
(۲) … اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ (نشر الطیب از تھانوی: ۲۴۴)
(۳) … انور شاہ کاشمیری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد سیء الحفظ ہے۔ (العرف الشذی: ۱/۱۶۲)
(۴) … محمد الیاس فیصل دیوبندی ایک دوسری حدیث میں لکھتے ہیں: زیلعی(حنفی) فرماتے ہیں کہ اس کی سند میںیزید بن ابی زیاد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ (نمازِ پیغمبر: ۸۵)
(۵) … امام ابن ترکمانی حنفی اور امام ابن ہمام حنفی نے بھییزید بن ابی زیاد کا ضعیف ہونا تسلیم کیا ہے۔ (الجوہر النقی: ۱/۳۸۷، ۲/۲۰۸، ۴/۲۶۸، فتح القدیر لابن الھمام: ۲/۱۱۴، ۶/۵۱۵)
(۶) … امام عینی حنفی کہتے ہیں کہ یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ (عمدۃ القاری: ۲/۲۲۰)
(۷) … عبد القادر القرشی الحنفی (۶۹۶۔۷۷۵ھ) لکھتے ہیں: وقد ضعف الحفاظ ھذا الحدیث من أجل یزید بن أبی زیاد وأنکروا علیہ بسببہ، منھم سفیان بن عیینہ۔ یعنی: اس حدیث کو حفاظ (محدثین) نے یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، اسی کے سبب انھوںنے اس کا انکار کیا ہے، ان محدثین
میں سفیان بن عیینہ بھی شامل ہیں۔ (الحاوی فی بیان آثار الطحاوی: ۱/۴۴۸، ۴۴۹) مزیدیزید بن ابی زیاد کے بارے میں لکھتے ہیں: وقال احمد: لم یکن بالحافظ، وفی روایۃ: لیس حدیثہ بذاک، وقال ابن معین: ضعیف الحدیث، وقال العجلی: کان بآخرہ یلقن، وقال ابو زرعۃ: یکتبحدیثہ ولا یحتج بہ، وقال ابو حاتم: لیس بالقوی، وقال الجوزجانی: سمعتھم یضعفون حدیثہ۔ (ایضاً) نیزیہ بھی ثابت کیا ہے کہ لا یعود کے الفاظ ثابت ہی نہیں ہیں۔
(۸) … محمد ایوب مظاہری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد ضعیف، کبر فتغیر فصار یتلقن، وکان شیعیا یعنی: یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، بڑی عمر میں حافظہ بگڑ گیا تھا، یہ تلقین قبول کرتا ہے اور شیعہ تھا۔ (تراجم الاحبار من رجال شرح معانی الآثار: ۴/۲۴۲)
(۹) … امامِ بریلویت احمد رضا خان بریلوی صاحب نقل کرتے ہیں: یزید بن أبی زیاد وکان یلقن یعنی: یزید بن ابی زیاد تلقین قبول کرتا تھا۔ (فتاوٰی رضویہ: ۲/۴۴۰)
(۱۰) … بوصیری زوائد: ۲/۵۴۹ میں لکھتے ہیں: یزید بن أبی زیاد أخرج لہ مسلم فی المتابعات و ضعفہ الجمھور۔ یعنی: یزید بن ابی زیاد کی امام مسلم ؒنےمتابعاتمیں روایت لی ہے، جمہور نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(۱۱) … یزید بن ابی زیاد مدلس ہے۔ (طبقات المدلسین لابن حجر: ۴۸، اسماء المدلسین للسیوطی: ۱۰۷)
اہم تنبیہ: … محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لم یعد کا قول یزید بن ابی زیاد کا مدرج قول ہے۔ (المدرج الی المدرج للسیوطی: ۱۶، التلخیص الحبیرلابن حجر: ۱/۱۲۱) امام شعبہ، امام سفیان ثوری، خالد طحان اور دوسرے حفاظ نے ان الفاظ کے بغیریہ حدیث بیان کی ہے۔ امام دارقطنی نے کہا: ان الفاظ کی زیادتی کے بغیر ہی روایت درست ہے، یزید بن ابی زیاد کو چونکہ آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا، اس لیے جب اسے ان الفاظ کی تلقین کی گئی تو اس نے تلقین قبول کر لی۔ اس پر مستزاد یہ کہ یزید بن ابی زیاد خود بھی اس زیادتی کا انکار کرتا تھا، علی بن عاصم نے اس زیادتی والی روایت نقل کی، پھر وہ کہتے ہیں: میںکوفہ گیا تو مجھے کہا گیا کہ یزید بن ابی زیاد زندہ ہے، پس میں اس کو ملا اور اس سے یہ حدیث سنی، لیکن اس میں زیادتی والے یہ الفاظ نہیں تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے تو ابن ابی لیلی نے آپ سے جو حدیث بیان کی، اس میں لَمْ یَعُدْ کے الفاظ بھی تھے، لیکنیزید نے کہا: مجھے تو وہ الفاظ یاد نہیں ہیں، میں نے پھر اپنا اشکال دوہرایا، لیکن انھوں نے یہی کہا: مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں۔ (دارقطنی)
الحاصل: … یزید بن ابی زیاد راوی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے اور مدلس بھی ہے، حفاظ محدثین کا اس حدیث کے ضعیف اور ثم لَا یَعُوْدُ کے الفاظ کے مدرج ہونے پر اتفاق ہے، لہٰذا اس قسم کی روایت سے حجت پکڑنا سراسر دھوکہ اور فریب ہے۔ جب حنفی علما نے خود اس حدیث کے راوییزید بن ابی زیاد کو اس طرح ضعیف قرار دیا ہے، تو احناف اس حدیث کو اپنی کتابوں میں درج کرتے وقت اس ضعف کو واضح کیوںنہیں کرتے، کیایہ علمی خیانت نہیں ہے؟ عدم رفع الیدین کے باقی دلائل کا بھییہی حال ہے، جبکہ رفع الیدین کرنے کے دلائل انتہائی واضح اور صحیح ہیں۔
تبصرہ: … یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی سند میںیزید بن ابی زیاد راوی ہے، جمہور نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(۱) … امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں: ضعیف الحدیث، کان حدیثہ موضوع یعنی: یہ ضعیف الحدیث ہے، گویا اس کی حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔ (الجرح والتعدیل: ۹/۲۶۳)
(۲) … اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ (نشر الطیب از تھانوی: ۲۴۴)
(۳) … انور شاہ کاشمیری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد سیء الحفظ ہے۔ (العرف الشذی: ۱/۱۶۲)
(۴) … محمد الیاس فیصل دیوبندی ایک دوسری حدیث میں لکھتے ہیں: زیلعی(حنفی) فرماتے ہیں کہ اس کی سند میںیزید بن ابی زیاد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ (نمازِ پیغمبر: ۸۵)
(۵) … امام ابن ترکمانی حنفی اور امام ابن ہمام حنفی نے بھییزید بن ابی زیاد کا ضعیف ہونا تسلیم کیا ہے۔ (الجوہر النقی: ۱/۳۸۷، ۲/۲۰۸، ۴/۲۶۸، فتح القدیر لابن الھمام: ۲/۱۱۴، ۶/۵۱۵)
(۶) … امام عینی حنفی کہتے ہیں کہ یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ (عمدۃ القاری: ۲/۲۲۰)
(۷) … عبد القادر القرشی الحنفی (۶۹۶۔۷۷۵ھ) لکھتے ہیں: وقد ضعف الحفاظ ھذا الحدیث من أجل یزید بن أبی زیاد وأنکروا علیہ بسببہ، منھم سفیان بن عیینہ۔ یعنی: اس حدیث کو حفاظ (محدثین) نے یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، اسی کے سبب انھوںنے اس کا انکار کیا ہے، ان محدثین
میں سفیان بن عیینہ بھی شامل ہیں۔ (الحاوی فی بیان آثار الطحاوی: ۱/۴۴۸، ۴۴۹) مزیدیزید بن ابی زیاد کے بارے میں لکھتے ہیں: وقال احمد: لم یکن بالحافظ، وفی روایۃ: لیس حدیثہ بذاک، وقال ابن معین: ضعیف الحدیث، وقال العجلی: کان بآخرہ یلقن، وقال ابو زرعۃ: یکتبحدیثہ ولا یحتج بہ، وقال ابو حاتم: لیس بالقوی، وقال الجوزجانی: سمعتھم یضعفون حدیثہ۔ (ایضاً) نیزیہ بھی ثابت کیا ہے کہ لا یعود کے الفاظ ثابت ہی نہیں ہیں۔
(۸) … محمد ایوب مظاہری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد ضعیف، کبر فتغیر فصار یتلقن، وکان شیعیا یعنی: یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، بڑی عمر میں حافظہ بگڑ گیا تھا، یہ تلقین قبول کرتا ہے اور شیعہ تھا۔ (تراجم الاحبار من رجال شرح معانی الآثار: ۴/۲۴۲)
(۹) … امامِ بریلویت احمد رضا خان بریلوی صاحب نقل کرتے ہیں: یزید بن أبی زیاد وکان یلقن یعنی: یزید بن ابی زیاد تلقین قبول کرتا تھا۔ (فتاوٰی رضویہ: ۲/۴۴۰)
(۱۰) … بوصیری زوائد: ۲/۵۴۹ میں لکھتے ہیں: یزید بن أبی زیاد أخرج لہ مسلم فی المتابعات و ضعفہ الجمھور۔ یعنی: یزید بن ابی زیاد کی امام مسلم ؒنےمتابعاتمیں روایت لی ہے، جمہور نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(۱۱) … یزید بن ابی زیاد مدلس ہے۔ (طبقات المدلسین لابن حجر: ۴۸، اسماء المدلسین للسیوطی: ۱۰۷)
اہم تنبیہ: … محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لم یعد کا قول یزید بن ابی زیاد کا مدرج قول ہے۔ (المدرج الی المدرج للسیوطی: ۱۶، التلخیص الحبیرلابن حجر: ۱/۱۲۱) امام شعبہ، امام سفیان ثوری، خالد طحان اور دوسرے حفاظ نے ان الفاظ کے بغیریہ حدیث بیان کی ہے۔ امام دارقطنی نے کہا: ان الفاظ کی زیادتی کے بغیر ہی روایت درست ہے، یزید بن ابی زیاد کو چونکہ آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا، اس لیے جب اسے ان الفاظ کی تلقین کی گئی تو اس نے تلقین قبول کر لی۔ اس پر مستزاد یہ کہ یزید بن ابی زیاد خود بھی اس زیادتی کا انکار کرتا تھا، علی بن عاصم نے اس زیادتی والی روایت نقل کی، پھر وہ کہتے ہیں: میںکوفہ گیا تو مجھے کہا گیا کہ یزید بن ابی زیاد زندہ ہے، پس میں اس کو ملا اور اس سے یہ حدیث سنی، لیکن اس میں زیادتی والے یہ الفاظ نہیں تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے تو ابن ابی لیلی نے آپ سے جو حدیث بیان کی، اس میں لَمْ یَعُدْ کے الفاظ بھی تھے، لیکنیزید نے کہا: مجھے تو وہ الفاظ یاد نہیں ہیں، میں نے پھر اپنا اشکال دوہرایا، لیکن انھوں نے یہی کہا: مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں۔ (دارقطنی)
الحاصل: … یزید بن ابی زیاد راوی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے اور مدلس بھی ہے، حفاظ محدثین کا اس حدیث کے ضعیف اور ثم لَا یَعُوْدُ کے الفاظ کے مدرج ہونے پر اتفاق ہے، لہٰذا اس قسم کی روایت سے حجت پکڑنا سراسر دھوکہ اور فریب ہے۔ جب حنفی علما نے خود اس حدیث کے راوییزید بن ابی زیاد کو اس طرح ضعیف قرار دیا ہے، تو احناف اس حدیث کو اپنی کتابوں میں درج کرتے وقت اس ضعف کو واضح کیوںنہیں کرتے، کیایہ علمی خیانت نہیں ہے؟ عدم رفع الیدین کے باقی دلائل کا بھییہی حال ہے، جبکہ رفع الیدین کرنے کے دلائل انتہائی واضح اور صحیح ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف