الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ السَّكَتَاتِ بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الْأَحْرَامِ وَقَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَبَعْدَ قَوْلِهِ وَلَا الضَّالِّينَ وَبَعْدَ السُّورَةِ قَبْلَ الرُّكُوعِ
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد¤یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
حدیث نمبر: 1550
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ إِسْكَاتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ أَخْبِرْنِي مَا هُوَ؟ قَالَ: ( (أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَّ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، قَالَ جَرِيرٌ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے اللہ اکبرکہتے تو آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان خاموش رہتے، میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان اپنی خاموشی کے بارے میں تو مجھے بتلا دیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ دعا پڑھتا ہوں: دعا کا ترجمہ:اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے، جیسے تونے مشرق و مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 744، ومسلم: 598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7164)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7164»
وضاحت: فوائد: … حقیقت میں گناہوںکو پانی، برف اور اولوں سے نہیں دھویا جاتا ہے، اس سے مراد تاکید اور مبالغہ ہے، یعنی ہر گناہ کو بخش دیا جائے اور کسی کو باقی نہ رہنے دیا جائے، جیسے اس کپڑے کی حالت ہوتی ہے، جس کو ان تین چیزوں سے صاف کیا جائے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 744
6. بَابٌ فِي دُعَاءِ الِافْتِتَاحِ وَالتَّعَوُّذِ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
حدیث نمبر: 1551
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ وَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَهُ وَكَبَّرَ قَالَ: ( (سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ) ) ثُمَّ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو قیام کرتے اور اپنی نماز شروع کرتے تواللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھتے: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا إِلٰہَ غَیْرُکَ۔ پھر تین مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللَّہُ کہتے، پھر أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖ پڑھتے،پھرتین مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور پھر یہ پڑھتے: أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖ وَنَفَثِہٖ۔ دعاؤں کا ترجمہ: اےاللہ! تو پاک ہے اورتیری حمد کے ساتھ،تیرا نام برکت والا ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے۔ نہیں ہے معبودِ برحق مگر اللہ۔ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں، جو بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے، شیطان مردود سے اور اس کے جنون او ر تکبر سے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں بہت سننے والے اور بہت جاننے والے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں شیطان مردود سے اور اس کے جنون، اور اس کے تکبر اور اس کے شعر سے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1551]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، جعفر بن سليمان الضبعي وعلي بن علي مختلف فيھما، أخرجه ابوداود: 775، والترمذي: 242 بالفاظ متقاربة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11473)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11493»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1552
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ (وَفِي رِوَايَةٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ مِنَ اللَّيْلِ) كَبَّرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
سیّدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور نماز میں داخل ہوتے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ لاا لہ الا اللّٰہ اورتین مرتبہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ پھر یہ پڑھتے: أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم من ہمزہ ونفخہ ونفثہ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لابھام الراوي له عن ابي امامة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22177، 22179)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22532»
وضاحت: فوائد: … اس حدیثیہ دعائے استفتاح اور تعوذ ثابت ہوا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔ أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 1553
عَنْ نَافِعٍ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي التَّطَوُّعِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا هَمْزُهُ وَنَفْثُهُ وَنَفْخُهُ؟ قَالَ: أَمَّا هَمْزُهُ فَالْمَوْتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ فَذَكَرَ كَهَيْئَةِ الْمَوْتَةِ يَعْنِي يُصْرَعُ) وَأَمَّا نَفْخُهُ الْكِبْرُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ
سیّدنا جبیر بن مطعم کہتے ہیں: میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نفل نماز میں تین مرتبہ اَللَّہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا،تین مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا اور تین مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلاً پڑھا اور پھر یہ کہا: أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَنَفْثِہٖ ونَفْخِہٖ۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کے ھَمْز، نَفْث اور نَفْخ سے کیا مراد ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ھَمْز سے مراد جنون اور دیوانگی ہے، جو آدم کے بیٹے پر طاری ہو جاتی ہے، پھراس جنون کی کیفیت ذکر کی، جس میں وہ بے ہوش ہو کر گر جاتا ہے، اور اس کے نفخ سے مراد تکبر اور نفث سے مراد شعر ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1553]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف الراوي عن نافع بن جبير، أخرجه ابوداود: 765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16739)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16860»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے یہ دعائے استفتاح ثابت ہوئی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً۔ ان تین جملوں کا ترجمہ یہ ہے: اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ ساری تعریف اس کی ہے، جو بہت زیادہ ہے۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ پہلے جملے میں لفظ کَبِیرا کی تین تراکیب ہو سکتی ہیں:
(۱) یہ اُکَبِّرُ کا مفعول ہے، یا (۲) تَکْبِیْرًا محذوف کی صفت ہے، یا (۳) یہ حال ہے جو پورے جملے کے معنی میں تاکید پیدا کر رہا ہے۔
اس حدیث میں صرف صبح و شام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے مراد تسلسل ہے، یعنی ہر وقت اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی جا رہی ہے، جیسے قرآنِ مجید میں ہے {وَ لَہُمْ رِزْقُہُمْ فِیْہَا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّاo} (مریم: ۶۲) اور ان کے لیے اس میں ان کا رزق صبح اور شام ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کو جنت میں ہر وقت رزق ملے گا۔ (عبداللہ رفیق) یا چونکہ صبح و شام کو رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں، اس لیے صرف ان اوقات کا ذکر کیا گیا۔
(۱) یہ اُکَبِّرُ کا مفعول ہے، یا (۲) تَکْبِیْرًا محذوف کی صفت ہے، یا (۳) یہ حال ہے جو پورے جملے کے معنی میں تاکید پیدا کر رہا ہے۔
اس حدیث میں صرف صبح و شام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے مراد تسلسل ہے، یعنی ہر وقت اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی جا رہی ہے، جیسے قرآنِ مجید میں ہے {وَ لَہُمْ رِزْقُہُمْ فِیْہَا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّاo} (مریم: ۶۲) اور ان کے لیے اس میں ان کا رزق صبح اور شام ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کو جنت میں ہر وقت رزق ملے گا۔ (عبداللہ رفیق) یا چونکہ صبح و شام کو رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں، اس لیے صرف ان اوقات کا ذکر کیا گیا۔
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 1554
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ رَجُلٌ فِي الْقَوْمِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا؟) ) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (عَجِبْتُ لَهَا، فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ) ) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے یہ کلمات کہے: اَللّٰہُ اَکْبَرُکَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلاً۔ (اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ ساری تعریف اس کی ہے، جو بہت زیادہ ہے۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ الفاظ کہنے والا کون تھا؟ ایک آدمی نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان کلمات پر بڑا تعجب ہواکہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے ان کلمات کو ترک نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1554]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 601، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4627)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4627»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 601
حدیث نمبر: 1555
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الصَّلَاةَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَسَبَّحَ وَدَعَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَائِلُهُنَّ؟) ) فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ: ( (لَقَدْ رَأَيْتُ الْمَلَائِكَةَ تَلَقَّى بِهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ایک دن نماز میں داخل ہوا اور اس نے یہ کلمات کہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْء السَّمٰوَاتِ اور مزید تسبیح بیان کی اور دعا کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات پڑھنے والا کون شخص تھا؟ اس نے کہا: میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کو یہ کلمات لیتے دیتے ہوئے (جا رہے تھے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1555]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البزار: 524، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6632)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6632»
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 1556
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَنَحْنُ فِي الصَّفِّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، قَالَ: فَرَفَعَ الْمُسْلِمُونَ رُءُوسَهُمْ وَاسْتَنْكَرُوا الرَّجُلَ وَقَالُوا: مَنِ الَّذِي يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ هَٰذَا الْعَالِي الصَّوْتِ؟) ) فَقِيلَ: هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ( (وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ كَلَامَكَ يَصْعَدُ فِي السَّمَاءِ حَتَّى فُتِحَ بَابٌ فَدَخَلَ فِيهِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں صف میں کھڑے تھے کہ ایک آدمی آکر کہنے لگا: اَللَّہُ اَکْبَرُکَبِیْرًاوَسُبْحَانَ اللَّہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلًا۔ (اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔)، مسلمانوں نے (اس کی طرف) اپنے سر اٹھائے اور اس کو برا سمجھا اور کہنے لگے: کون ہے جو اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند کر رہا ہے؟ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: یہ آواز بلند کرنے والا کون تھا؟ جواب دیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ یہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم میں نے تیرا کلام آسمان میں چڑھتے ہوئے دیکھا ہے حتیٰ کہ اس کے لیے ایک دروازہ کھول دیا گیا اور وہ اس میں داخل ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن سعيد الھمداني، أخرجه ابن عبد البر في الاستذكار: 8/ 133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)۔ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19347»
وضاحت: فوائد: … صحابہ نے نماز کے اندر ہی کہا کہ کون ہے جو اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند کر رہا ہے؟ یا تو اس جملے کا تعلق زبان حال سے ہے، جس کا پتہ ان کے سر اٹھانے سے چل رہا ہے، یا پھر یہ واقعہ نماز میں حرمت ِ کلام سے پہلے پیش آیا ہو گا، پہلی بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ۔ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہے۔)۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوںاور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا ان (کلمات) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور کسی چیز نے عرش سے پہلے ان کو نہیں روکا۔
سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ۔ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہے۔)۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوںاور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا ان (کلمات) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور کسی چیز نے عرش سے پہلے ان کو نہیں روکا۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن سعيد الھمداني
حدیث نمبر: 1557
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنِ الْقَائِلُ؟) ) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا أَرَدْتُ إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ: ( (لَقَدْ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَلَمْ يُنَهَّهَا دُونَ الْعَرْشِ) )
سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ۔ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہے۔)۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا ان (کلمات) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور کسی چیز نے عرش سے پہلے ان کو نہیں روکا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1557]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، عبد الجبار بن وائل لم يسمع من ابيه، أخرجه ابن ماجه: 3802، وأخرج بنحوه النسائي: 2/ 145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19066»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَسْمَلَةِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
حدیث نمبر: 1558
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ اسْتَفْتَحَ ثُمَّ قَالَ (وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقُولُ) : ( (وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ (وَفِي رِوَايَةٍ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ) رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ تَبَارَكْتَ (وَفِي رِوَايَةٍ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ) وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ) ) وَكَانَ إِذَا رَفَعَ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي) ) وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: ( (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ) ) وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُّ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَتَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، فَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ) )
سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تکبیر کہتے تو (نماز) شروع کرتے پھر کہتے (اور ایک روایت میں ہے: جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر کہتے:وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَالِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، ابو نضر کہتے ہیں: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ، أَللّٰہُمَ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ، اور ایک روایت میں ہے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ جَمِیْعًا لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاہْدِنِیْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا یَہْدِیْ لِأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ تَبَارَکْتَ۔ اور ایک روایت میں ہے: لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗ فِیْ یَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ أَنَا بِکَ وَاِلَیْکَ تَبَارَکْتَ) وَتَعَالَیْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔ اس دعا کا ترجمہ: میں نے اس ذات کے لیے اپنا چہرہ متوجہ کیا،جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میں یکسو مسلمان ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقینا میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اس اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا پروردگار ہے، اور جس کا کوئی شریک نہیں،مجھے اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ابونضر کے الفاظ یہ ہیں: اور میں پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: اے اللہ تو ہی بادشاہ ہے، تیرے علاوہ کوئی الہ نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اور میں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے اس لیے تو میرے سارے گناہ بخش دے، تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا اور اچھے اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما، تیرے علاوہ اچھے اخلاق کی طرف کوئی رہنمائی نہیں کرتا اور مجھ سے برے اخلاق دور کر دے،تیرے علاوہ کوئی بھی برے اخلاق کو مجھے سے دور نہیں کر سکتا، تو بابرکت ہے، اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:میں تیرے لیے حاضر ہوں اور تیرا تابع فرمان ہوں، خیر ساری کی ساری تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے، میں تیرے ساتھ اور تیری طرف ہوں (یعنی مجھے توفیق دینے والا بھی تو ہے اور میری پناہ بھی تیری طرف ہے) تو بابرکت اور بلند ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں۔ اور جب رکوع کرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَکَ سَمْعِيْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّيْ وَعِظَامِیْ وَعَصَبِیْ۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے رکوع کیا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تیرے لیے ہی مسلمان ہوا، تیرے لیے عاجزی کر رہے ہیں میرا کان، میری نظر، میرا مغز، میری ہڈیاں اور میرا پٹھا۔ اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کہتے: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ،رَبَّنَاوَلَکَ الْحَمْدُ مِلْء السَّمٰوَا تِ وَالْأَرْضِ وَمَابَیْنَہُمْا وَمِلْءَ مَاشِئْتَ مِنْ شَئْ ٍبَعْدُ۔ اللہ نے اس کو سن لیا جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب!تیرے لیے ہی تعریف ہے، آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے (درمیان والا خلا) بھرنے کے برابر اور ان کے بعد جس کو تو چاہے اس کے بھرنے کے برابر۔ اور جب سجدہ کرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ فَصَوَّرَہٗفَأَحْسَنَ صُوَرَہٗفَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ فَتَبَارَکَاللّٰہُ أَحْسَنُ الْخٰالِقِیْنَ۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی سجدہ کیا،تیرے ساتھ ایمان لایا، تیرے لیے مسلمان ہوا، میرے چہرے نے اس کے لیے سجدہ کیا ہے، جس نے اسے پیدا کر کے اس کی شکل بنائی اور اس کی شکل کو خوبصورت بنایا اور اس کے کان اور نظر کو کھولا، بابرکت ہے وہ اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔ پھر جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔ اے اللہ! میرے لیے بخش دے میرے اگلے پچھلے، ظاہر و پوشیدہ گناہوں کو اور جو میں نے زیادتی کی اور جو میرے گناہ تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے(وہ بھی بخش دے)، تو ہی (لوگوں کو اپنی بارگاہِ عالیہ میں) آگے کرنے والا اور (اپنی بارگاہِ عالیہ سے) پیچھے کرنے والا ہے، تو ہی معبود برحق ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1558]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 729)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 729»
وضاحت: فوائد: … اس طویل حدیث میں جو دعائے استفتاح بیان کی گئی ہے، وہ عام لوگوں کو ان الفاظ کے ساتھ یاد ہے، اسی کو یاد رکھیں: وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰواتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ، لَا شَرِیْکَ لَہٗ،وَبِذٰلِکَأُمِرْتُوَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ،اَللّٰہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ، ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ جَمِیْعًا،اِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ، وَاہْدِنِیْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا یَہْدِیْ لِأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗفِیْیَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ، أَنَا بِکَ وَاِلَیْکَ، تَبَارَکْتَ وََتَعَالَیْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔ اس باب میں اور دیگر کتب ِ احادیث میں مختلف قسم کی استفتاح کی دعائیں مذکورہیں، ہمیں بھی چاہیے کہ ساری دعائیںیاد کریں اور اپنی نمازوں میں اہتمام کے ساتھ ہر ایک دعا پڑھیں، ایک نماز میں ایک دعا پراکتفا کرنا چاہیے، کوشش کرنی چاہیے کہ صرف سبحانک اللھم … پراکتفا نہ کیا جائے، اگرچہ ایسا کرنا جائز ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو ورائٹی پیش کی ہے، اس کا خیال رکھا جائے۔
تعوذ: … اس باب سے یہ تعوذ پڑھنا ثابت ہوا: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖوَنَفْثِہٖ۔ (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے، اس کے جنون سے، اس کی پھونکوں (یا تکبر) سے اور اس کے وسوسے (یا شعر) سے۔)
درج ذیل تعوذ بھی ثابت ہے
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۵۸۹، الاوسط لابن المنذر: ۱۳۷۷) میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود (کی شر) سے۔
تعوذ: … اس باب سے یہ تعوذ پڑھنا ثابت ہوا: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖوَنَفْثِہٖ۔ (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے، اس کے جنون سے، اس کی پھونکوں (یا تکبر) سے اور اس کے وسوسے (یا شعر) سے۔)
درج ذیل تعوذ بھی ثابت ہے
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۵۸۹، الاوسط لابن المنذر: ۱۳۷۷) میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود (کی شر) سے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم771
حدیث نمبر: 1559
عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} أَوِ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا أَحْفَظُهُ أَوْ مَا سَأَلَنِي أَحَدٌ قَبْلَكَ
ابو مسلمہ سعید بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیاکہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھتے تھے یا {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}؟ انہوں نے جواب دیا: تو مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کررہا ہے جو مجھے یاد نہیں یا تجھ سے پہلے اس کے بارے میں کسی نے سوال نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1559]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، رواه احمد في عدة اماكن بالفاظ مختلفة ومتقاربة، وبعضه رواه الشيخان مثل الرواية الآتية في شرح ھذا الحديث، أخرجه الدارقطني: 1/ 316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12700)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12730»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کا شک کرنا، یہ دراصل ان سے نیچے کسی راوی کو شک ہوا ہے، کیونکہ ان کو یہ مسئلہ یاد تھا، جیسا کہ اسی حدیث کے بعض طرق کے مطابق وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابو بکر صدیق، سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان قراء ت کا آغاز {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے کرتے تھے۔ (مسند احمد: ۱۱۹۹۱، بخاری: ۱۲۸، مسلم: ۳۹۹) اور یہ بھی ممکن ہے کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کو ہی آخری عمر مین یہ مسئلہ بھول گیا ہو، کیونکہ انھوں نے لمبی عمر پائی تھی، بہرحال ایسی صورت میں مثبت کو منفی پر مقدم کیا جائے گا، کیونکہ مثبت زیادتی ٔ علم پر مشتمل ہے اور ایک روایت میں ہے: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابوبکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان کی اقتدا میں نماز پڑھی اور کسی کو بھی {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت کرتے ہوئے نہیں سنا۔ (مسند احمد: ۱۲۸۱۰،مسلم: ۳۹۹) اس باب میں ان ہی روایات کا ذکر چل رہا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح