🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. فَصْلٌ مِنْفِيٌّ حُجَّةِ مَنْ لَمْ يَرَ الرَّفْعَ إِلَّا عِنْدَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق¤تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1540
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّلَاةِ وَضْعَ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ تَحْتَ السُّرَّةِ
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز میں ہتھیلیوں کو ہتھیلیوں پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1540]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن اسحاق، وزياد بن زيد السوائي مجھول، أخرجه ابوداود: 756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 875»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن اسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1541
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى فَانْتَزَعَهَا وَوَضَعَ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے،وہ نماز پڑھ رہا تھا اور اس نے بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ نکال کر دائیں کو بائیں پر رکھ دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1541]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحجاج بن ابي زينب الصيقل فيه ضعف، وقد اضطرب في اسناد ھذا الحديث، أخرجه ابوداود: 755، والنسائي: 2/ 126، وابن ماجه: 811، وفي باب وضع اليمني علي اليسري في الصلاة أحاديث أخري ثابتة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15156»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1542
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، وَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ جَانِبَيْهِ جَمِيعًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ
قبیصہ بن ھلب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں امامت کرواتے تھے، آپ اپنے بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں کے ساتھ پکڑتے اور آپ (سلام پھیرنے کے بعدکبھی) دائیں طرف سے پھرتے اور کبھی بائیں طرف سے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1542]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة قيبصة بن ھلب، أخرجه مقطعا الترمذي: 252، 301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21974)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22322»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1543
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ، وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھے ہوئے دیکھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) دائیں طرف سے بھی پھرتے تھے اور بائیں طرف سے بھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1543]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة قبيصه بن ھلب، أخرجه ابن ابي شيبة في المصنف: 1/ 390، والدارقطني: 1/ 285، والبيھقي: 2/ 29، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22314»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1544
(وَفِي لَفْظٍ) وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ مَرَّةً عَنْ يَمِينِهِ وَمَرَّةً عَنْ شِمَالِهِ
اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ بسا اوقات آپ دائیں طرف سے پھرتے اور کبھی کبھار بائیں طرف سے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1544]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة قبيصة بن ھلب، وانظر الحديث بالطريق الاول والثاني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21982)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22330»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی دوسری سند والا متن صحیح ہے، اس سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھ کر باندھنا چاہیے اور امام سلام پھیرنے کے بعد دونوں جہتوں سے پھر سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1545
عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعُوا الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا يَنْمِي ذَلِكَ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: يَنْمِي يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں کو نماز میں بائیں ہاتھ پر دایاں ہاتھ رکھنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ ابو حازم کہتے ہیں: میں نہیں جانتا مگر وہ اسے منسوب کرتے۔ ابو عبد الرحمن کہتے ہیں:یعنی وہ مرفوع بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1545]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 740، وفي الباب عن غير واحد من الصحابة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22849)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23237»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 740
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1546
عَنْ غَضِيفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: مَا نَسِيتُ مِنَ الْأَشْيَاءِ، مَا نَسِيتُ (وَفِي رِوَايَةٍ لَمْ أَنْسَ) أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ
سیّدنا غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:(جو کچھ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا یا دیکھا، اس میں سے) کوئی چیز بھی میں نہیں بھولا، میں یہ بات بھی نہیں بھولا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1546]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 740، وفي الباب عن غير واحد من الصحابة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22849)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17092»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 740
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ السَّكَتَاتِ بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الْأَحْرَامِ وَقَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَبَعْدَ قَوْلِهِ وَلَا الضَّالِّينَ وَبَعْدَ السُّورَةِ قَبْلَ الرُّكُوعِ
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد¤یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1547
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ سَكْتَتَانِ، سَكْتَةٌ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ، وَسَكْتَةٌ إِذَا فَرَغَ مِنَ السُّورَةِ الثَّانِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: كَذَبَ سَمُرَةُ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَقَالَ: أَنَا مَا أَحْفَظُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَقَالَ: صَدَقَ سَمُرَةُ
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو سکتے کرتے تھے: ایک سکتہ، جب نماز شروع کرتے اور دوسرا، جب رکوع کرنے سے پہلے دوسری سورت کی تلاوت مکمل کرتے۔ بعد میں جب یہ حدیث سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کی گئی تو انہوں نے کہا: سمرہ نے غلط بیانی کی ہے اورایک روایت کے مطابق انھوں نے کہا: مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی بات یاد نہیں ہے، پھر انھوں نے اس کے متعلق سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا، جو مدینہ میں تھے، انہوں نے جواب دیاکہ سیّدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1547]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح، لكن الحسن البصري لم يثبت سماعه من سمرة بن جندب الا في حديث العقيقة، وفيما عدا ذالك فھو علي الارسال، أخرجه ابوداود: 778، 779، وابن ماجه: 844، والترمذي: 251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20428»

الحكم على الحديث: رجاله ثقات رجال الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1548
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا مَنْصُورٌ وَيُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى بِهِمْ سَكَتَ سَكْتَتَيْنِ، إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا قَالَ {وَلَا الضَّالِّينَ} سَكَتَ أَيْضًا هُنَيَّةً، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَكَتَبَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ أُبَيٌّ: إِنَّ الْأَمْرَ كَمَا صَنَعَ سَمُرَةُ
۔ (دوسری سند) سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو دو سکتے کرتے، جب نماز شروع کرتے اور جب {وَلَا الضَّالِّین} کہتے تو بھی کچھ دیر خاموش رہتے۔ جب لوگوں نے ان پر اس کا انکار کیا توانہوں نے سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف (خط) لکھا، جس کا انھوں نے یہ جواب دیا کہ یقینا معاملہ اسی طرح ہے جیسے سیّدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1548]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20266)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20530»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1549
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ قَالَ: وَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ السُّورَةِ
(تیسری سند) جب سیّدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سورت کی قراءت سے فارغ ہوتے تو (سکتہ کرتے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1549]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول وطرقه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20267)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20531»
وضاحت: فوائد: … تین سکتات کی صحت۔ تکبیر تحریمہ کے بعد اور قراء ت سے پہلے والا سکتہ تو بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے۔باقی سکتوں کے حوالہ سے علماء کے ہاں معروف اختلاف چلا آ رہا ہے۔ مولفِ فوائدn نے باقی دو سکتات کی بھی صحت کے بارے بات کی ہے۔ جبکہ حدیث زیرِ مطالعہ کو تخریج میں حسن کے سمرہ سے سماع کے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے مرسل قرار دیا گیا ہے۔بعض علماء حسن بصرہ کے سمرہ سے سماع کو ثابت سمجھتے ہیں۔ لیکن علامہ ناصر الدین البانی نے فرمایا ہے کہ اس جگہ اصل ضعف یہ ہے کہ حسن بصری مدلس ہیں اور وہ عَنْ کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔ سماع کی صراحت نہیں کر رہے اور محدثین کے ہاں یہ اصول ہے کہ مدلس کے عنعنہ والی حدیث قابل حجت نہیں ہوتی۔ (مزید تفصیل دیکھیں: ہدایۃ الرواۃ تحقیق از البانی رحمتہ اللہ علیہ رقم الحدیث: ۲/۷۸۲) (عبداللہ رفیق)
جو اہل علم اس حدیث کی صحت کے قائل ہیں ان کی دلیلیہ ہے کہ حسن کی سمرہ سے معنعن روایات بھی صحیح ہوتی ہیں اس لیے کہ یہ روایت کتاب سے ہے جو کہ بطورِ منادلہ ہے یا اجازہ یا بطورِ وجادہ اور یہ تینوں صورتیں محدثین کے ہاں معتبر
ہیں بشرطیکہ اس کتاب کی نسبت صحیح ثابت ہو اور نسخہ بھی صحیح و مرثوق ہو (دیکھئے: مقدمہ ابن الصلاح مع شرح العراقی صفحہ ۲۰۰ تا ۲۰۲) حسن بصری کے پاس سمرہ رضی اللہ عنہ کی کتاب کا موجود ہونا دلائل صحیحہ سے ثابت ہے۔ اس کتاب میں سے حسن بصری نے ایک حدیث (حدیث العقیقہ) سیّدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنی تھی لہٰذا نماز میں دیگر سکتات کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ (از عارفی)
شارحین نے رکوع سے پہلے والے سکتے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ قراء ت اور تکبیر کے درمیان فاصلہ ہو جائے اور امام ذرا سانس لے لے۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول وطرقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں