الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَسْمَلَةِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
حدیث نمبر: 1560
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، قَالَ قَتَادَةُ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابو بکر، سیّدناعمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں نماز پڑھی، میں نے ان میں سے کسی کو {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قراءت کس چیز سے شروع کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا:یقینا تو مجھ سے ایسی چیزکے متعلق پوچھ رہا ہے جس کے متعلق مجھ سے کسی نے نہیں سوال نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1560]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، انظر الحديث السابق: 512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13893)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13930»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 1561
وَعَنْ أَنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَكَانُوا لَا يُجْهَرُونَ بِـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کو جہراً نہیں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1561]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن خزيمة: 495، والدارقطني: 1/ 315 و أخرجه مسلم: 399 بلفظ متقارب، وانظر الاحاديث المذكورة في ھذا الباب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12810، 12845)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12876»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 1562
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} لَا يَذْكُرُونَ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} فِي أَوَّلِ الْقِرَاءَةِ وَلَا فِي آخِرِهَا
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ قراءت {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے شروع کرتے تھے، وہ نہ تو قراءت کے شروع میں {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کو ذکر کرتے اور نہ اس کے آخر میں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1562]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 399، وانظر الأحاديث المذكورة في ھذا الباب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13337)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13370»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 399
حدیث نمبر: 1563
عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ يَكُونُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِقَتَادَةَ: أَسْمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ نَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدناابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں نماز پڑھی، وہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} سے نہیں شروع کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا تو نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں! ہم نے اُن سے اِس کے متعلق سوال کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1563]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، ابو عبد الله السلمي مجھول فيما نحسب، لكنه قد توبع، أخرجه مسلم: 399، لكن لم يسق لفظه وانظر الاحاديث المذكورة في ھذا الباب۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14002»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کی اِن اور دیگر روایات کالب لباب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاتحہ شریف کے ساتھ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت جہر کے ساتھ نہیں کرتے تھے، نفی سے مراد اسی جہر کی نفی ہے، کیونکہ صحیح ابن خزیمہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: کانوا یسرون یعنی: وہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت سرّی آواز میں کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 1564
عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلِ قَالَ: سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا أَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: يَا بُنَيَّ! إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَخَلْفَ عُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكَانُوا لَا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} (وَفِي رِوَايَةٍ فَلَا تَقُلْهَا، إِذَا أَنْتَ قَرَأْتَ فَقُلْ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ: وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَبْعَضَ إِلَيْهِ الْحَدَثُ مِنْهُ)
سیّدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا بیٹا (یزید) کہتا ہے: مجھے میرے باپ نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھتے ہوئے سنا، جب وہ فارغ ہوئے تومجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اسلام میں نیا کام (ایجاد کرنے) سے بچو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدناابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ تو قراءت کا آغاز {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} سے نہیں کرتے تھے۔ تو بھی اس کو نہ پڑھا کر اور قراء ت کو {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے شروع کیا کر۔ ان کا بیٹا کہتا ہے: میں نے اپنے باپ کی بہ نسبت ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا، جسے بدعت انتہائی ناپسند ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1564]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن في الشواھد، أخرجه الترمذي: 244، وابن ماجه: 815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16787، 20559)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20833»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن في الشواھد
حدیث نمبر: 1565
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ بِـ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {الْحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے قراءت شروع کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1565]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 498، وابوداود: 783، وابن ماجه: 812، 869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24030، 24791)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25301»
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 498
حدیث نمبر: 1566
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كَانَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً، {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الگ الگ اور ایک ایک آیت کر کے تلاوت کرتے تھے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ}۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1566]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4001، والترمذي: 2927، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26583)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27118»
وضاحت: فوائد: … سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سے ہے یا خارج از نماز سے؟ اول الذکر صورت زیادہ مناسب اور راجح معلوم ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کیسے ہوتی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاوت میں حروف کو لمبا کر کے پڑھا جاتا تھا۔ پھر انھوں نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} میں {بِسْمِ اللّٰہِ}، { الرَّحْمَنِ} اور {الرَّحِیْمِ} کو لمبا لمبا کر کے پڑھا۔ (صحیح بخاری: ۵۰۴۶)
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
8. بَابُ تَفْسِيرِ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ وَحُجَّةِ مَنْ قَالَ أَنَّ الْبَسْمَلَةَ لَيْسَتْ آيَةً مِنْهَا
سورۃ الفاتحہ کی تفسیر اور اس کی دلیل جس کا یہ خیال ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} فاتحہ کی آیت نہیں ہے
حدیث نمبر: 1567
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ (وَفِي رِوَايَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ) فَهِيَ خِدَاجٌ، هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ) ) قَالَ أَبُو السَّائِبِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ، قَالَ أَبُو السَّائِبِ: فَغَمَزَ أَبُو هُرَيْرَةَ ذِرَاعِي، فَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ! اقْرَأْهَا فِي نَفْسِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ) ) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اقْرَأُوا يَقُولُ فَيَقُولُ الْعَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فَيَقُولُ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَيَقُولُ الْعَبْدُ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} فَيَقُولُ اللَّهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، فَيَقُولُ الْعَبْدُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} فَيَقُولُ اللَّهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَقَالَ: هَٰذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} قَالَ: أَجَدْتُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، قَالَ يَقُولُ عَبْدِي: {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَٰذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں اس نے ام القرآن یعنی سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، نامکمل ہے۔ ابو السائب نے سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: بسا اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں، (تو اس وقت میں فاتحہ کی تلاوت کیسے کروں)؟ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے میرے بازو کو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیاکر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میں نے نماز (یعنی سورۂ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ سوال کرے۔ سیّدناأبو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاتحہ پڑھو، جب بندہ {اَلَحْمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھتا ہے تو اللہ فرماتاہے: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے۔ جب بندہ {اَلرَّحْمٰنِ الرْحِیْمِ} کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی، جب بندہ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّیِن} پڑھتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری شان بیان کی۔ اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ (اگلی آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، جب بندہ کہتا ہے: {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ} کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میں اس (آیت کے دوسرے جملے کو) اپنے بندے کے لیے پاتا ہوں اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا،جب بندہ کہتا ہے: {اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1567]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7836)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7823»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 395
حدیث نمبر: 1568
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: ( (أَيُّمَا صَلَاةٍ لَمْ يُقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ) ) وَفِيهِ: ( (فَإِذَا قَالَ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} قَالَ: فَهَٰذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، وَقَالَ مَرَّةً: مَا سَأَلَنِي، فَيَسْأَلُهُ عَبْدُهُ {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} قَالَ: هَٰذَا لِعَبْدِي، لَكَ مَا سَأَلْتَ، وَقَالَ مَرَّةً وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَنِي) )
۔ (دوسری سند)اس میں ہے:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نماز میں بھی سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی جاتی تو وہ ناقص ہے، پھر وہ ناقص ہے، پھر وہ ناقص ہے۔ اور اس روایت میں (یہ بھی) ہے: جب بندہ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّیِن} پڑھتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے (معاملہ) میرے سپرد کر دیا ہے۔ جب بندہ پڑھتا ہے: {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ} تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یہ تو میرے اور میرے بندے کے درمیان (معاہدہ) ہے اور بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مجھ سے سوال کیا۔ پھر بندہ سوال کرتے ہوئے کہتا ہے: {اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے، (بندے!) تیرے لیے وہ ہے جو تو نے سوال کیا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مجھ سے سوال کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1568]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 395، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7291)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7289»
وضاحت: فوائد: … سورۂ فاتحہ، نما زکا اتنا اہم رکن ہے کہ اس حدیث میں اسی کو نماز کہا گیا ہے۔ اس کی تقسیم معنی کے اعتبار سے ہے کہ ایک حصے میں محض اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی گئی ہے اور دوسرے حصہ بندے کے لیے دعا پر مشتمل ہے۔ کیا اس حدیث کا یہ مفہوم ہے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} نہ سورۂ فاتحہ کی آیت ہے اور نہ اس سورت کے ساتھ اس کی تلاوت کی جا سکتی ہے؟ حقیقتیہ ہے کہ واضح طور پر یہ مفہوم کشید نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ کسی چیز کے عدم ذکر سے اس کا عدم لازم نہیں آتا، لہٰذا دوسری روایات کی مدد سے {بِسْمِ اللّٰہِ … } کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ مزید آپ خود بھی غور کریں۔ فاتحہ کے ساتھ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} تلاوت کرنی ہے یا نہیں، مندرجہ بالا ابواب میں مختلف احادیث گزر چکی ہیں، مزید ملاحظہ فرمائیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلَحْمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} کی تلاوت کرتے اور ایک ایک حرف کو واضح کر کے پڑھتے۔ (مستدرک حاکم: ۸۴۷) سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا قَرَأْتُمْ {اَلَحْمْدُ لِلّٰہِ} فَاقْرَؤٗا {بِسْمِاللّٰہِالرَّحْمٰنِالرَّحِیْمِ} اِنَّہَا اُمُّ الْقُرْآنِ، وَاُمُّ الْکِتَابِ، وَالسَّبْعُ الْمَثَانِیْ، وَ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} اِحْدَاھَا۔)) یعنی جب تم {اَلَحْمْدُ لِلّٰہِ} پڑھو تو {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} بھی پڑھو، یہ (سورۂ فاتحہ) ام القرآن، ام الکتاب ہے اور سبع مثانی (یعنی بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ہیں) اور {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} اس کی ایک آیت ہے۔ (سلسلہ احادیث صحیحہ: ۱۱۸۳، بحوالہ دارقطنی: ۱۱۸، بیہقی: ۲/۴۵، دیلمی: ۱/۱/۷۰)
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں نماز پڑھائی، بآواز بلند قراء ت کی، اور سورۂ فاتحہ سے قبل {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھی، لیکن (فاتحہ کے بعد والی) سورت کے ساتھ {بِسْمِ اللّٰہِ … } نہ پڑھی، جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو ہر طرف سے مہاجرین اور انصار (اعتراض کرنے کے لیے) بول اٹھے اور کہا: اے معاویہ! آپ نے نماز میں سے کچھ چوری کر لیا ہے (کہ دوسری سورت کے ساتھ بسم اللہ نہیں پڑھی) یا بھول گئے ہیں؟ (سیّدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور)اس واقعہ کے بعد جب نماز پڑھائی تو فاتحہ کے بعدوالی سورت کے ساتھ بھی {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھی اور سجدہ کے لیے گرتے وقت اللہ اکبر کہا۔ (مستدرک حاکم: ۸۵۱) نعیم مجمر کہتے ہیں: صَلَّیْتُ وَرَائَ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فَقَرَأَ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتّٰی اِذَا بَلَغَ {غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} فَقَالَ: آمِیْن، فَقَالَ النَّاسُ: آمِیْن، وَیَقُوْلُ کُلَّمَا سَجَدَ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، وَاِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوْسِ فِیْ الْاِثْنَتَیْنِ قَالَ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، وَاِذَا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! اِنِّیْ لَاَشْبَھُکُمْ صَلَاۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ (سنن نسائی: ۹۰۶، صحیح ابن خزیمہ: ۱/ ۲۵۱، شرح معانی الاثار: ۱/ ۱۳۷) یعنی: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھی، انھوں نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھی، پھر فاتحہ شریف کی تلاوت کی، جب وہ {غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} تک پہنچے تو انھوں نے آمِین کہی اور لوگوں نے بھی آمِین کہی، جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اسی طرح جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ امام ترمذی نے کہا: سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر، سیّدنا عثمان اور سیّدنا علی سمیت صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم اور امام سفیان ثوری، امام عبد اللہ بن مبارک، امام احمد اور امام اسحاق رحمہم اللہ جمیعا کییہ رائے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت جہراً نہ کی جائے، بلکہ اس کو دل میں پڑھا جائے۔ (ترمذی: ۲۴۴ کے بعد) نیز انھوں نے کہا: سیّدنا ابو ہریرہ، سیّدنا عبد اللہ بن عمر، سیّدنا عبد اللہ بن عباس اور سیّدنا عبد اللہ بن زبیر سمیت بعض صحابہ کرام اور بعض تابعین کا یہ مسلک ہے کہ (جہری نمازوں میں فاتحہ کے ساتھ) {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کو بھی جہراً پڑھا جائے، امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی بھییہی رائے ہے۔ (ترمذی: ۲۴۵ کے بعد) قارئین کرام! آپ اس موضوع سے متعلقہ درج بالا تمام روایات پر غور کریں، ان میں جمع و تطبیق کی صورت یہی نظر آتی ہے کہ جن روایات میں {بِسْمِ اللّٰہِ … } کی نفی کی گئی ہے، ان سے مراد جہر کی نفی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکثرو بیشتریہی معمول رہا، بسا اوقات آپ سے اس کو جہراً پڑھنا ثابت ہے، جن صحابہ کرام نے سختی سے اِس آیت کو پڑھنے سے منع کیا، ان کے علم میں اس کو ثابت کرنے والی احادیث نہیں تھیں۔ آپ اس دعوی کو ناممکن یا محال نہ سمجھیں کیونکہ جو لوگ {بِسْمِ اللّٰہِ … } کے جہر کو روایۃً اور عملاً ثابت کر رہے ہیں، وہ بھی صحابہ کرام ہی ہیں۔ کئی دوسرے مسائل میں جمع و تطبیق کییہ صورتیں موجود ہیں، ہماری ذمہ دارییہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک موضوع سے متعلقہ جو کچھ ثابت ہے، اس کو سمجھیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں، الا یہ کہ کوئی ناسخ و منسوخ کی صورت پیدا ہو جائے۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں نماز پڑھائی، بآواز بلند قراء ت کی، اور سورۂ فاتحہ سے قبل {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھی، لیکن (فاتحہ کے بعد والی) سورت کے ساتھ {بِسْمِ اللّٰہِ … } نہ پڑھی، جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو ہر طرف سے مہاجرین اور انصار (اعتراض کرنے کے لیے) بول اٹھے اور کہا: اے معاویہ! آپ نے نماز میں سے کچھ چوری کر لیا ہے (کہ دوسری سورت کے ساتھ بسم اللہ نہیں پڑھی) یا بھول گئے ہیں؟ (سیّدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور)اس واقعہ کے بعد جب نماز پڑھائی تو فاتحہ کے بعدوالی سورت کے ساتھ بھی {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھی اور سجدہ کے لیے گرتے وقت اللہ اکبر کہا۔ (مستدرک حاکم: ۸۵۱) نعیم مجمر کہتے ہیں: صَلَّیْتُ وَرَائَ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ فَقَرَأَ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتّٰی اِذَا بَلَغَ {غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} فَقَالَ: آمِیْن، فَقَالَ النَّاسُ: آمِیْن، وَیَقُوْلُ کُلَّمَا سَجَدَ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، وَاِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوْسِ فِیْ الْاِثْنَتَیْنِ قَالَ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، وَاِذَا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! اِنِّیْ لَاَشْبَھُکُمْ صَلَاۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ (سنن نسائی: ۹۰۶، صحیح ابن خزیمہ: ۱/ ۲۵۱، شرح معانی الاثار: ۱/ ۱۳۷) یعنی: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھی، انھوں نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھی، پھر فاتحہ شریف کی تلاوت کی، جب وہ {غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} تک پہنچے تو انھوں نے آمِین کہی اور لوگوں نے بھی آمِین کہی، جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اسی طرح جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ امام ترمذی نے کہا: سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر، سیّدنا عثمان اور سیّدنا علی سمیت صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم اور امام سفیان ثوری، امام عبد اللہ بن مبارک، امام احمد اور امام اسحاق رحمہم اللہ جمیعا کییہ رائے کہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت جہراً نہ کی جائے، بلکہ اس کو دل میں پڑھا جائے۔ (ترمذی: ۲۴۴ کے بعد) نیز انھوں نے کہا: سیّدنا ابو ہریرہ، سیّدنا عبد اللہ بن عمر، سیّدنا عبد اللہ بن عباس اور سیّدنا عبد اللہ بن زبیر سمیت بعض صحابہ کرام اور بعض تابعین کا یہ مسلک ہے کہ (جہری نمازوں میں فاتحہ کے ساتھ) {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کو بھی جہراً پڑھا جائے، امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی بھییہی رائے ہے۔ (ترمذی: ۲۴۵ کے بعد) قارئین کرام! آپ اس موضوع سے متعلقہ درج بالا تمام روایات پر غور کریں، ان میں جمع و تطبیق کی صورت یہی نظر آتی ہے کہ جن روایات میں {بِسْمِ اللّٰہِ … } کی نفی کی گئی ہے، ان سے مراد جہر کی نفی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکثرو بیشتریہی معمول رہا، بسا اوقات آپ سے اس کو جہراً پڑھنا ثابت ہے، جن صحابہ کرام نے سختی سے اِس آیت کو پڑھنے سے منع کیا، ان کے علم میں اس کو ثابت کرنے والی احادیث نہیں تھیں۔ آپ اس دعوی کو ناممکن یا محال نہ سمجھیں کیونکہ جو لوگ {بِسْمِ اللّٰہِ … } کے جہر کو روایۃً اور عملاً ثابت کر رہے ہیں، وہ بھی صحابہ کرام ہی ہیں۔ کئی دوسرے مسائل میں جمع و تطبیق کییہ صورتیں موجود ہیں، ہماری ذمہ دارییہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک موضوع سے متعلقہ جو کچھ ثابت ہے، اس کو سمجھیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں، الا یہ کہ کوئی ناسخ و منسوخ کی صورت پیدا ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 395
9. بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 1569
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِوَايَةً تَبْلُغُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ) )
سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۃ فاتحہ نہ پڑھی اس کی کوئی نماز نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1569]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 756، ومسلم: 394، وابوداود: 822، وابن ماجه: 837، والترمذي: 247، والنسائي: 2/ 137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22677) ولفظه عند الدارقطني: 1/ 322، والحاكم، والبيھقي في القراء ة: 21: ((ام القرآن عوض من غيرھا و ليس غيرھا منھا عوضا))۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23053»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 756