🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَأَفْضَلِ أَوْقَاتِهَا
رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2112
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ قَالَ: ( (الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ) ) ، قِيلَ: أَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ قَالَ: ( (شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کون سی نماز سب سے زیادہ فضیلت والی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے میں نماز پڑھنا۔ پھر کہا گیا: رمضان کے بعد کون سا روزہ سب سے فضیلت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا وہ مہینہ، جسے تم محرم کہتے ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2112]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8013»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1163
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2113
عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَهْبِطُ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَيُغْفَرُ لَهُ) )
سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تاخیر کرتا ہے، حتی کہ رات کا تہائی حصہ ختم ہوجاتا ہے، پھر وہ اترکر کہتا ہے کہ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعاقبول کی جائے، کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اسے بخش دیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2113]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8974، 11295 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8962»
وضاحت: فوائد: … جیسے اللہ تعالیٰ کی شان کو لائق ہے، وہ اس کے مطابق آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، ہم اُس کے اِس نزول کو بلا تاویل تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس کی کیفیت بیان نہیں کرتے کہ وہ کیسے اترتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اِس نزول کا وقت کیاہے؟ اس کے بارے میں مختلف روایات منقول ہیں: صحیح مسلم کی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایات کا خلاصہ یہ ہے: (۱) رات کے پہلے ایک تہائی کے بعد، (۲) نصف رات کے بعد یا (۳)رات کے آخری ایک تہائی حصے میں۔ قاضی عیاض نے کہا: مشائخ الحدیث کا خیال ہے کہ رات کے آخری ایک تہائی حصے والی بات زیادہ راجح ہے، زیادہ تر روایات کا یہی مفہوم بنتا ہے۔ لیکن اگر تمام صحیح روایات کو مختلف حالات پر محمول کر لیا جائے تو بہتر ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 758
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2114
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ بِالْمَاءِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے، جس نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور اپنی بیوی کو جگایا اور اس نے بھی نماز پڑھی اور اگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی چھڑکا، اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے، جس نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا اور اس نے بھی نماز پڑھی اوراگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی چھڑک کر اسے جگایا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2114]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1308، 1450، وابن ماجه: 1336، والنسائي: 3/ 205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9625»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1308
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2115
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْبِئْنِي عَنْ أَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: ( (أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ وَصِلِ الْأَرْحَامَ وَصَلِّ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تو اٹھ کر نماز پڑھ، پھر سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2115]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 4/ 129، وابن حبان: 2559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7919»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 4/ 129
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2116
عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيُّ قِيَامِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، يَشُكُّ عَوْفٌ فَقَالَ: ( (جَوْفُ اللَّيْلِ الْغَابِرُ أَوْ نِصْفُ اللَّيْلِ، وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ) )
ابو مسلم کہتے ہیں: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: رات کا کون سا قیام افضل ہے؟ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جیسے تو نے مجھ سے سوال کیا ہے، ایسے ہی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے کو یا نصف رات کو قیام کر، بہرحال ایسا عمل کرنے والے لوگ کم ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2116]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، المھاجر ابو خالد لين الحديث ليس بذاك، وليس بالمتقن، يكتب حديثه، وابومسلم الجذمي روي عنه جمع وذكره ابن حبان في الثقات أخرجه النسائي في الكبري: 1308، وابن حبان: 2564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21888»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2117
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَجْوَبُهُ دَعْوَةً) ) ، قُلْتُ: أَوْجَبُهُ؟ قَالَ: ( (لَا، بَلْ أَجْوَبُهُ) ) يَعْنِي بِذَلِكَ الإِجَابَةَ
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری (ایک تہائی) حصے میں دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ میں نے کہا: کیا اس حصے میں دعا کرنا واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، (میں کہہ رہا ہوں کہ) دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قبولیت تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله الغساني۔ أخرجه ابونعيم في الحلية: 5/ 154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19676»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن پہلے دو جملے رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کا آخری حصہ دعا کی زیادہ قبولیت والا ہے دوسرے طرق اور شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔

الحكم على الحديث:
ھذا اسناد ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله الغساني۔ أخرجه ابونعيم في الحلية : 5/ 154
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2118
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (ثَلَاثَةٌ يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ، الرَّجُلُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا لِلصَّلَاةِ، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا لِلْقِتَالِ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے: (۱) جو آدمی رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، (۲) جب لوگ نماز کے لیے صفیں بنا تے ہیں اور (۳)جب لوگ لڑائی کے لئے صفیں بناتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد الھمداني، وھشيم بن بشير مدلس وقد عنعن، وھو لم يسمع من مجالد۔ أخرجه ابن ماجه: 200 بلفظ: ((وللرجل يقاتل خلف الكتيبة)) بدل قوله: ((والقوم اذا صفوا للقتال))، وأخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 289، وابو يعلي: 1004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11783»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد الھمداني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2119
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، وَكَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ) ) ثُمَّ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور وہ آدھا زمانہ روزہ رکھتے تھے،اور اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ قیام بھی داؤد علیہ السلام کا تھا، وہ رات کا پہلا نصف سوتے، پھر قیام کرتے، پھر اس کے آخری حصے میں سو جاتے، پھر نصف کے بعد ایک تہائی رات کا قیام کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2119]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1131، 3420، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6921»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے الفاظ ثُمَّ یَقُوْمُ ثُلُثَ اللَّیْلِ بَعْدَ شَطْرِہِ۔ راویٔ حدیث عمرو بن اوس کے کلام سے مدرج ہیں، صحیح مسلم کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ وہ آدھا زمانہ روزہ رکھتے تھے اس سے مراد ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطارکرنا ہے۔ دوسری روایت کی روشنی میں حضرت داود علیہ السلام کے قیام کییہ روٹین بنتی ہے: نصف رات سونا، پھر ایک تہائی رات قیام کرنا، پھر رات کا چھٹا حصہ سو جانا۔ مثال کے طور پر اگر رات کی مقدار چھ گھنٹے ہو تو تین گھنٹے سونے کے بعد دو گھنٹے قیام کرنا اور پھر ایک گھنٹہ سو جانا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1131
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2120
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا قَالَتْ: عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ، فَإِنْ مَرِضَ قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٍ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَقُولُ بِحَسْبِي أَنْ أُقِيمَ مَا كُتِبَ لِي، وَأَنَّى لَهُ ذَلِكَ
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رات کے قیام کا اہتمام کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ترک نہیں کرتے تھے، اگر آپ بیمار ہوتے تو بیٹھ کر یہ نماز پڑھ لیتے۔ میں جانتی ہوں کہ تم تو یہ کہہ دیتے ہو کہ ہم اتنی نماز پڑھیں گے، جو ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے، تو پھر اسے مقام کیسے ملے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4/ 211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25458»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کہنا چاہتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے قیام کا اس قدر اہتمام کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے تھے، تو ہم جیسے گنہگاروں کو تو بالاولییہ اہتمام کرنا چاہیے، اگرچہ ہم عبادت کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4/ 211
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2121
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَتَفَطَّرَ رِجْلَاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَصْنَعُ هَٰذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ: ( (يَا عَائِشَةُ! أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو اتنا قیام کرتے حتیٰ کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے، اس لیے انھوں نے ایک دن کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اتنا لمبا قیام کیوں کرتے ہیں، جبکہ آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2121]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4837، ومسلم: 2820، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24844 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25356»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4837
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں