🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث¤جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2152
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُهُ كَانَ يُفَضِّلُ لَيْلَةً عَلَى لَيْلَةٍ
۔ (دوسری سند) ابراہیم کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ کسی ایک رات کو کسی دوسری رات پر فضیلت دیتے ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2152]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابراهيم بن يزيد النخعي لم يسمع من عائشة، ورواية مغيرة عنه ضعيفة۔ أخرجه ابن راھويه في مسنده: 1637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25468»
وضاحت: فوائد: … دوسری سند والی روایت ضعیف ہے، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کییہ حدیث اس کا شاہد بن جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیررمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ قیام نہیں کرتے تھے۔ (بخاری: ۱۱۴۷، ۲۰۱۳، مسلم: ۷۳۸) یعنی زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام گیارہ رکعت رہا۔ رہا مسئلہ قیام کی کیفیت کا، تو اس میں تبدیلی آ تی رہتی تھی، بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طویل قیام کرتے اور کبھی کبھار زیادہ لمبا نہیں کرتے تھے، البتہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اس معاملے میں سب سے زیادہ محنت کرتے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2153
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَإِذَا فَرَغَ مِنَ صَلَاتِهِ اضْطَجَعَ، فَإِنْ كُنْتُ يَقْظَانَةً تَحَدَّثَ مَعِي وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً نَامَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کونماز پڑھتے تھے، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو لیٹ جاتے، لیکن اگر میں جاگ رہی ہوتی تو میرے ساتھ باتیں کرتے اور اگر میں سوئی ہوئی ہوتی تو آپ بھی سوجاتے، یہاں تک کہ مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آجاتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2153]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1161، 1168، ومسلم: 743، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24573»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1161
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2154
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! إِنَّ نَاسًا يَقْرَأُ أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ مَرَّتَيْنِ أَوْثَلَاثًا؟ فَقَالَتْ: أُولَئِكَ قَرَأُوا وَلَمْ يَقْرَأُوا، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ اللَّيْلَةَ التَّامَّةَ، فَيَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ وَسُورَةَ النِّسَاءِ، ثُمَّ لَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ
مسلم بن مخراق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المومنین! یقینا کچھ لوگ ایسے ہیں، جن میں سے بعض تو ایک رات میں دو تین مرتبہ قرآن پڑھ لیتے ہیں، انہوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے پڑھ کر بھی نہیں پڑھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری رات قیام کرتے تو پھر آپ سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء کی تلاوت کر سکتے ہوتے، اور اس میں بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں بشارت ہوتی، تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور رغبت کا اظہار کرتے، اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے کہ جس میں تخویف ہوتی، تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کی پناہ طلب کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2154]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حال مسلم بن مخراق۔ أخرجه ابن المبارك في مسنده: 58، والبيھقي: 2/ 310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24609، 24875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25387»
وضاحت: فوائد: … جنہوں نے پڑھ کے بھی نہیں پڑھا سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں نے بظاہر تو قرآن مجید پڑھا ہے، لیکن اس کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کے لحاظ سے گویا کہ نہیں پڑھا، دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم تین دنوں میں قرآن مجید پڑھا جا سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ چالیس دنوں میں قرآن مجید کی ایک دفعہ تلاوت ہو جانی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2155
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا رَوْحٌ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ الْعَمْيَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَبَئَّسُ وَتَمَسْكَنُ وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ وَتَقُولُ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ) ) ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ صَلَاتُهُ خِدَاجٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا الْإِقْنَاعُ؟ فَبَسَطَ يَدَيْهِ كَأَنَّهُ يَدْعُو
سیدنا مطلب سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعتیں ہے، ہر دو رکعتوں میں توتشہد پڑھے، تنگی اور مسکینی کا اظہار کرے اور تو اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہے:اے اللہ! اے اللہ! (پھر اپنی دعا کرے) اور جو اس طرح نہیں کرے گا اس کی نماز ناقص ہو گی۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: یعنی اس کی نماز ناقص ہو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، پھر میں نے ان سے کہا: اِقْنَاع سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے اس طرح اپنے ہاتھ پھیلائے کہ گویا وہ دعا کر رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2155]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن نافع بن العميائ۔ أخرجه ابوداود: 1296، وابن ماجه: 1325، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17664»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن نافع بن العميائ۔ أخرجه ابوداود: 1296
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2156
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَتَشَهَّدْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لْيُلْحِفْ فِي الْمَسْأَلَةِ، ثُمَّ إِذَا دَعَا فَلْيَتَسَاكَنْ وَلْيَتَبَئَّسْ وَلْيَتَضَعَّفْ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَذَاكَ الْخِدَاجُ أَوْ كَالْخِدَاجِ) )
۔ (دوسری سند)سیدنا مطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعتیں ہے اور جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھے، پھر وہ اصرار کے ساتھ مانگنے، پھر جب دعا کرے تو مسکینی ظاہر کرے، تنگی کی حالت بنا لے اور کمزوری کا اظہار کرے، جو اس طرح نہیں کرے گا، تو وہ ناقص ہے یا ناقص کی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2156]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لجھالة عبد الله بن نافع بن العميائ، ولضعف يزيد بن عياض، وقد كذبه مالك وغيره، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17526 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17667»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا لجھالة عبد الله بن نافع بن العميائ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2157
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى وَتَشَهَّدُ وَتُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، …) ) الحديث بنحو ما تقدم
۔ (تیسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعتیں ہے اور تو ہر دو رکعتوں کے تشہد کے لیے بیٹھے اور سلام پھیرے، …۔) پھر پہلے کی طرح کی حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2157]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17669»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، البتہ دو رکعتوں کے بعد تشہد اور دوسرے اذکار کے احکام واضح ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2158
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَلْيَبْدَأْ (وَفِي رِوَايَةٍ فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ) بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز پڑھنے لگے تو وہ ہلکی پھلکی دو رکعتوں کے ساتھ اپنے قیام کی ابتدا کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2158]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 768، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7176 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7176»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 768
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2159
عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ رُجُوعِهِمْ مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ: ثُمَّ أَخَدْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْخْتُهَا، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ وَجَابِرٌ فِيمَا ذَكَرَ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، جو کہ غزوہ حدیبیہ سے واپسی کا واقعہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں؛ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نمازِ عشاء ادا کی۔ اس وقت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2159]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي المدني۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 491، وابن خزيمة: 1165، وابن حبان: 2629، وعبد الرزاق: 4705 بألفاظ مختلف فيھا، و أخرج بنحوه مسلم ضمن حديث طويل: 3010، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15130»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2160
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَمَقْتُ صَلَاتَهُ لَيْلَةً، فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ نَامَ، فَلَمَّا كَانَ نِصْفُ اللَّيْلِ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ الْعَشْرَ، آخِرَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ تَسَوَّكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَلَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ أَطْوَلُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ كَمَا يَفْعَلُ أَوَّلَ مَرَّةٍ حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً
سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، میں نے رات کے وقت آپ کی نماز پر نگاہ رکھی، آپ نے نمازِ عشاء پڑھی اور سوگئے، جب نصف رات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت کیں، پھر مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھیں، میں نہیں جانتا کہ ان میں آپ کا قیام زیادہ طویل تھا یا رکوع یا سجدہ، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر سوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار بیدار ہوتے رہے اور پہلی مرتبہ کی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ کل گیارہ رکعتیں ہو گئیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2160]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف، عبد الله بن جعفر بن نجيح ضعيف، وابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث لم يسمع من صفوان۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 7343، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23040»
وضاحت: فوائد: … آج کل کے نمازیوں اور تہجد گزاروں مین یہ سنت مفقود ہے کہ ان کے رکوع و سجود تین تسبیحات سے زیادہ نہیں ہوتے اور وہ بھی روایتی سی معلوم ہوتی ہیں، در حقیقت رکوع وسجود اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑی عاجزی کا مقام ہیں، اس لیے ان کو لمبا کرنا چاہیے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رات کی ہر بیداری کے بعد سورۂ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2161
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَاكُ مِنَ اللَّيْلِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَإِذَا قَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَا يَتَكَلَّمُ وَلَا يَأْمُرُ بِشَيْءٍ، وَيُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو یا تین مرتبہ مسواک کرتے اورجب رات کو اٹھ کر نماز پڑھتے توچار رکعت ادا کرتے، ان میں نہ کلام کرتے اورنہ کسی چیز کا حکم دیتے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2161]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، واصل بن السائب و ابو سورة ابن اخي ابي ايوب مجمع علي تضعيفھما، وقيل: لايعرف لأبي سمرة سماع من ابي ايوب۔ أخرجه عبد بن حميد: 219، والطبراني: 4066، وابن ابي شيبة: 1/ 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23937»
وضاحت: فوائد: … یہ بات تو ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقفے وقفے سے دو دو کر کے چار چار رکعتیں ادا کرتے تھے، لیکن پہلی دو رکعتوں سے سلام پھیرنے کے بعد کلام کرنے یا نہ کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے، اتفاقاً ایسی بات ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں