الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَذْكَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِرَاءَتِهِ وَدَعَوَاتِهِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ
رات کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 2132
عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ كَبَّرَ وَيَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ) ) ، قَالَ يَحْيَى: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ) ) ، قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ) ) ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هَمْزُهُ وَنَفْخُهُ وَنَفْثُهُ؟ قَالَ: ( (أَمَّا هَمْزُهُ فَهَٰذِهِ الْمُوْتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ بَنِي آدَمَ، وَأَمَّا نَفْخُهُ فَالْكِبْرُ، وَأَمَّا نَفْثُهُ فَالشِّعْرُ) )
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کوقیام کرتے تونماز کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور یہ دعاء پڑھتے: اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَإِسْرَافِیْلَ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ، اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقَّ بِإِذْنِکَ، إِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَاءَ إِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ۔ (اے اللہ! اے جبریل،میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے! غیب وحاضر کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، اپنے حکم سے اس حق کی طرف میری راہنمائی کر جس میں اختلاف کیا گیا ہے، یقینا تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے) یحیی کہتے ہیں: سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کا قیام کرتے توکہتے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، شیطان مردود سے، یعنی اس کے جنون، تکبر اور شعروں سے) مزید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: شیطان مردود کے ھَمْز، نَفْخ اور نَفْث سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے ھَمْز، نَفْخ اور نَفْث سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے ھَمْز سے مراد لوگوں کو لگنے والی مرگی ہے، اس کے نَفْخ سے مراد تکبر ہے اور نَفْث سے مراد شعر ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2132]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 770 الي قوله: صراط مستقيم۔ وما بعده حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف، عكرمة بن عمار روايته عن يحييٰ ضعيفة، وھو مرسل، وتفسير ھمزه ونفخه ونفثه مدرجة في الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25741»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں ایک دعائے استفتاح اور ایک تعوذ کا بیان ہے۔ یہ تعوذ اس طرح بھی پڑھا جا سکتا ہے اور یہی الفاظ عام لوگوں کو یاد بھی ہیں: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖوَنَفْثِہٖ۔ (ابوداود: ۷۷۵، ترمذی: ۲۴۲) (میںاللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود (کی شر) سے، اس کے خطرے سے، اس کی پھونکوں سے اور اس کے وسوسے سے۔) یہ تعوذ بھی ثابت ہے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۵۸۹، الاوسط لابن المنذر: ۱۳۷۷) میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود (کے شر) سے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 770 الي قوله: صراط مستقيم۔ وما بعده حسن لغيره
حدیث نمبر: 2133
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو نماز کے لئے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ َومَنْ فِیْہِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَۃُ حَقٌ، اَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْکَأَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَاقَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ،أَنْتَ الَّذِیْ لَاإِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ (اے اللہ! تیرے لئے تعریف ہے، تو ہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، تیرے لئے ہی ہرقسم کی تعریف ہے، تو ہی آسمانوں و زمین اور جو ان میں ہے، ان سب کا رب ہے، توحق ہے، تیری بات حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے،جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے، اے اللہ تیرے لئے میں فرمانبردار ہوا، تیرے ساتھ میں ایمان لایا، تجھ پر میں نے توکل کیا، تیری طرف میں نے رجوع کیا ہے اور تیری توفیق سے میں نے جھگڑا کیا ہے اورتیری طرف ہی میں فیصلہ لے کر آیا ہوں، تو میرے لیے میرے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے پہلے کیے، جو بعدمیں کیے، جو پوشیدہ طور پر کیے اور جو ظاہری طور پر کیے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔) [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1120، 6317، ومسلم: 769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2710، 3368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2710»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1120
حدیث نمبر: 2134
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَمَقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ: ( (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي) )
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے تو نماز میں یہ دعا کر رہے تھے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا رَزَقْتَنِیْ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، اور میرےلئے میرا گھر وسیع کر دے اورمیرے لئے اس رزق میں برکت ڈال جو تو نے مجھے عنایت کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2134]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حال عبيد بن القعقاع، وقد اختلف فيه علي شعبة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16716»
الحكم على الحديث:
المرفوع منه حسن لغيره
حدیث نمبر: 2135
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ، أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ؟ فَقَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ أَيَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، وَرُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ
عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنابت کی حالت میں سونا کیسے ہوتا تھا؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے؟ انہوں نے کہا: آپ اس طرح کرتے تھے کہ بسا اوقات غسل کر کے سو جاتے اور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے۔ میں نے ان سے پھر کہا: رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کیسے ہوتی تھی؟ کیا آپ بلند آواز سے قراءت کرتے تھے یا آہستہ آواز سے؟ انہوں نے کہا: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بسا اوقات بآواز بلند قراءت کرتے تھے اور کبھی کبھار پست آواز میں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2135]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: بقصة الغسل من الجنابة: 307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25675»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! تیرے پاس سے میرا گزر ہوا، تم بالکل پست آواز میں نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس ہستی کو تو سنا رہا تھا، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تیرے پاس سے میرا گزر ہوا، تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا: میں اونگھنے والے کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر! تم اپنی آواز کو معمولی بلند کرو۔ اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی آواز کو معمولی پست کرو۔ (ابوداود: ۱۳۲۹، ترمذی: ۴۴۷) معلوم ہوا کہ جب نمازی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو دھیمی آواز کے ساتھ تلاوت کیا کرے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: بقصة الغسل من الجنابة: 307
حدیث نمبر: 2136
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَدَّنَ وَثَقُلَ يَقْرَأُ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْأَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ سَجَدَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عمر رسیدہ اور بھاری ہوگئے، تو جتنی اللہ تعالیٰ چاہتا آپ بیٹھ کر تلاوت کرتے اور جب سورت کی تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے اور ان کی تلاوت کر کے پھر سجدہ کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2136]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1148، ومسلم: 731، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24191، 24258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24695»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک ہی رکعت میں بیٹھنا اور پھر کھڑے ہو جانا درست ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1148
حدیث نمبر: 2137
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کاقیام کرے، لیکن (نیند کے غلبے کی وجہ سے) اس کی زبان پر قرآن مشکل ہوجائے اور اسے یہ سمجھ بھی نہ آ رہی ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، تو وہ لیٹ جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2137]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8214»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں جو مسئلہ بیان کیا گیا ہے، وہ تو واضح ہے، لیکن اس نقطہ پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ نماز کے اندر کتنی فکر مطلوب ہے، اگر ایک آدمی کو نیند تو نہ آ رہی ہو اور وہ نماز میں تلاوت بھی کر رہا ہو، لیکن سرے سے اس کی تلاوت اور کہے ہوئے اذکار پر کوئی توجہ نہ ہو تو یہ ایسا شخص ہو گا جس کا جسم جاگ رہا ہو گا اور روح سوئی ہوئی ہو گی۔ اس باب میں استفتاح کی بعض دعاؤں کا ذکر ہے، ان کے علاوہ احادیث سے اور دعائیں بھی ثابت ہیں، بعض کا ذکر نمازوں کے ابواب میں اس عنوان دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان میں گزر چکا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 787
3. بَابُ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
حدیث نمبر: 2138
عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ خَوَاتِيمَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وَضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ أُذُنِي الْيُمْنَى فَفَتَلَهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ کے پاس رات گزاری،یہ ان کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کی چوڑائی والی طرف میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کی لمبائی والی طرف میں لیٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوگئے، جب نصف رات یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ گئے اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی، بعد ازاں لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کی طرف گئے اور اس سے بڑے اچھے انداز میں وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا وضو کر کے آپ کی ایک جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑکر اسے بل دیا، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، اور پھر وتر پڑھ کر لیٹ گئے، حتیٰ کہ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مؤذن آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اورہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں اور پھر چلے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2138]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 183، 992، 1198، ومسلم: 763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2164»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے کانوں کو مروڑنا، اس کی وجہ یہ تھی ان پر نیند غالب آ رہی تھی، اس سے بچوں کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
روایات میں صراحت آ رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کان پکڑ کر اسے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ وہ پہلے آپ کی بائیں جانب آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ کان مروڑنے کی ظاہری وجہ تو یہ محسوس ہوتی ہے۔ و اللہ اعلم بالصواب۔ (عبداللہ رفیق)
روایات میں صراحت آ رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کان پکڑ کر اسے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ وہ پہلے آپ کی بائیں جانب آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ کان مروڑنے کی ظاہری وجہ تو یہ محسوس ہوتی ہے۔ و اللہ اعلم بالصواب۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 183
حدیث نمبر: 2139
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: ( (نَامَ الْغُلَامُ؟) ) أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ، جو کہ میری خالہ ہیں، کے پاس رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر گھر آکر چار رکعتیں ادا کیں اور پھر سوگئے، پھر اٹھے اور چار رکعت نماز پڑھی اور پوچھا: کیا چھوٹا بچو سویا ہوا ہے؟ یا اس قسم کی بات کی،پس میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ رکعتیں ادا کیں، اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کی اور پھر سوگئے اور اس قدر سوئے کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ نمازِ فجر کے لیے تشریف لے گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2139]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 117، 1342، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3170»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 117
حدیث نمبر: 2140
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءً بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ فَتَمَطَّأْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْتَقِبُهُ، فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَمَّمَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَأَذَّنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: ( (اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا) ) ، قَالَ كُرَيْبٌ وَسَبْعٌ فِي التَّابُوتِ، قَالَ فَلَقِيْتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ فَذَكَرَ عَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشَعْرِي وَبَشَرِي قَالَ وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضائے حاجت کی، پھر (صفائی اور نشاط کے لیے) چہرہ اور ہاتھ دھوئے، پھر اٹھ کر مشکیزے کے پاس آئے، اس کا تسمہ کھولا اور درمیانہ سا وضو کیا، بہرحال وضو مکمل ضرور تھا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز شروع کر دی، میں بھی اٹھا اور میں نے انگڑائی لی (اور ظاہر کرایا کہ میں سو رہا تھا)، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس چیز کا پتا نہ چلے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی حرکات و سکنات کو نوٹ کرنے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نگاہ رکھی ہوئی ہے، بہرحال میں نے وضوء کیا، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، میں بھی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا کان پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف گھمادیا، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعت رہی، پھر آپ لیٹ کر سوگئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خراٹے سنائی دینے لگے،عام طور پر آپ جب بھی سوتے تو خراٹوں کی آواز آتی تھی، اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس آکر آپ کو نماز کی اطلاع دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر نماز پڑھی اور وضوء نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعا میں یہ کہہ رہے تھے: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا، وَمِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا، وَمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا، وَمِنْ أَمَامِیْ نُوْرًا، وَمِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا، وَأَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا۔ (اے اللہ! میرے دل میں، میری آنکھ میں، میرے کان میں، میری دائیں جانب، میری بائیں جانب، میرے اوپر، میرے نیچے، میرے سامنے اور میرے پیچھے نور بنادے اور میرے لیے نور بڑا کر دے) کریب کہتے ہیں: سات چیزیں تابوت میں تھیں، (لیکن اب مجھے بھول گئی ہیں)، میں سیدنا عباس کے کسی بچے کو ملا، اس نے مجھے وہ چیزیں بیان کرتے ہوئے اس طرح ذکر کیں: عَصَبِیْ وَلَحْمِیْ وَدَمِیْ وَشَعْرِیْ وَبَشَرِیْ (میرے پٹھے، میرے گوشت، میرے خون، میرے بال اور میرے چمڑے میں نور بنا دے) اور انھوں نے دو اور خصلتوں کا ذکر بھی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2140]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6316، ومسلم: 763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3194»
وضاحت: فوائد: … کریب کہتے ہیں: وَسَبْعٌ فِی التَّابُوتِ (سات چیزیں تابوت میں ہیں) کا معنی و مفہوم مختلف فیہ ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: ابن بطال اور داودی نے کہا: اس سے مراد سینہ ہے، ابن بطال نے یہ مثال بھی بیان کی کہ جیسے علم یاد کرنے والے شخص کو کہا جاتا ہے کہ اس کا علم تابوت میں رکھا ہوا ہے۔ امام نووی وغیرہ نے کہا: تابوت سے مراد دل کا احاطہ کرنے والی پسلیاں اور دوسری اشیا ہیں، ان کو اس تابوت سے تشبیہ دی گئی ہے، جس میں حفاظت سے سامان رکھا جاتا ہے، مرادی معنییہ ہے کہ راوییہ کہنا چاہتا ہے کہ سات کلمات اس کے دل میں تھے، لیکن وہ بھول گیا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد سات انوار ہیں، جو اس تابوت میں لکھے ہوئے تھے، جس میں بنی اسرائیل کے لیے سکینت تھی۔ ابن جوزی نے کہا: تابوت سے راوی کی مراد صندوق ہے، یعنی سات چیزیں اس کے پاس صندوق میں لکھی ہوئی، جو اسے اس وقت یاد نہیں ہیں۔ میں (ابن حجر) کہتا ہوں: آخری معنی کی تائید ابو عوانہ (۲/ ۳۱۲) کی اس روایت سے ہوتی ہے، جس کے مطابق کریب کہتے ہیں: اور چھ میرے پاس تابوت میں لکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ قرطبی نے المفھم میں اور کوئی ایک نے بالیقین کہا ہے کہ تابوت سے مراد جسم ہے، یعنیسات مذکورہ چیزیں انسان کے جسم سے متعلقہ ہیں، بخلاف ان کے جو گزر گئی ہیں، کیونکہ ان کا تعلق معانی اور اعراض سے ہے، جیسے جہاتِ ستّہ ہیں۔ داودی نے کہا: تابوت سے مراد صحیفہ ہے جو عباس کی اولاد کے پاس تھا۔ حدیث کے آخر میں دو خصلتوں سے مراد زبان اور نفس ہیں، جیسا کہ مسلم (۷۶۳) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۱۱۷) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف جہات اور اعضاء میں جس نور کا سوال کیا ہے، اس سے مراد حق کی وضاحت، اس کی روشنی اور اس کی طرف ہدایت ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جہاتِ ستّہ اور بیشتر اعضاء کا تذکرہ کر کے نور کا سوال کیا ہے، تاکہ کہیں سے بھی ہدایت سے دور ہونے کی گنجائش نہ رہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6316
حدیث نمبر: 2141
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَبِتُّ عِنْدَهَا فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى وَسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى نَاحِيَةٍ مِنْهَا، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ فَإِذَا عَلَيْهِ لَيْلٌ فَسَبَّحَ وَكَبَّرَ حَتَّى نَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ قَالَ ثُلُثَاهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى قِرْبَةٍ عَلَى شَجَبٍ، فِيهَا مَاءٌ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ، قَالَ يَزِيدُ حَسِبْتُهُ قَالَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَتَى مُصَلَّاهُ فَقُمْتُ وَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ، فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا عَرَفَ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ لَفَتَ يَمِينَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ دَنَا قَامَ فَصَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ أَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ، حَتَّى إِذَا ضَاءَ الْفَجْرُ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ فَخِيخَتَهُ ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ فَأَذَّنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَمَا مَسَّ مَاءً، فَقُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: مَا أَحْسَنَ هَٰذَا، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: أَمَا وَاللَّهِ! لَقَدْ قُلْتُ ذَاكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَهْ، إِنَّهَا لَيْسَتْ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ، إِنَّهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَانَ يُحْفَظُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان کے پاس رات گزاری،اس رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باری انہی کے گھر تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر اپنے گھر میں داخل ہوئے اورچمڑے کے ایک تکیے پر سر رکھا اور سو گئے، اس تکیے میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، میں آیا اور اس کے کنارے پر سر رکھ کر سو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو دیکھا کہ ابھی تک تو رات کا بڑا حصہ باقی ہے، اس لیے آپ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کا ذکر کرتے کرتے سو گئے، پھر آپ بیدار ہوئے، یہ نصف یا دو تہائی رات گزر جانے کا وقت تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے، قضائے حاجت کی،پھر لکڑیوں پر لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کی طرف آئے، اس میں پانی تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ بازو دھوئے اور اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا، پھر پاؤں بھی تین تین بار دھوئے، پھر اپنی جائے نماز کی طرف آگئے،میں بھی اٹھا اور ایسے ہی کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں آکر آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا، میں چاہتا تھا کہ آپ کے ساتھ نماز پڑھوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر تو ٹھہرے رہے،لیکن جب آپ نے جان لیا کہ میں بھی آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتا ہوں تو آپ نے اپنا دایاں ہاتھ موڑ کر میرا کان پکڑا اور مجھے گھماکر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب تک سمجھا کہ ابھی تک رات باقی ہے، دو رکعتیں پڑھتے رہے، پھر جب سمجھا کہ فجر قریب آ چکی ہے، تو اٹھ کر چھ رکعتیں ادا کیں اور ساتواں وتر پڑھا، پھر جب فجر روشن ہوئی تو اٹھ کر دو رکعتیں پڑھیں، پھر اپنے پہلو پر سوگئے، حتیٰ کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر آپ کو نمازِ فجر کی اطلاع دی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نماز ادا کی، لیکن پانی کو تو چھوا تک نہیں۔ یہ سن کر عکرمہ نے سعید بن جبیرسے کہا: یہ تو بڑی اچھی بات ہے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کے بعد وضو نہیں کیا)۔ لیکن سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! میں نے یہی بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کی تھی، لیکن انھوں نے کہا تھا: رہنے دو اس بات کو، یہ رخصت نہ تیرے لیے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کے لیے،یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی جاتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2141]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف، عباد بن منصور ضعيف لسوء حفظه وتغيره و تدليسه۔ أخرجه ابن خزيمة: 1094، وأخرج ابوداود قصة الوضوء فقط: 133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3490»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک نئی چیز کا ذکر موجود ہے، اور وہ یہ کہ اگر بندے کو رات کو جاگ آ جائے اور وہ دوبارہ سونا چاہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر کرتے ہوئے دوبارہ سو جانا چاہیے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاخاصہ تھا کہ نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ناقضِ وضو نہیں تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بیدار رہتا تھا۔رہا مسئلہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کا تو ان کے لیے نیند ناقضِ وضو ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن