الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. الْفَصْلُ الرَّابِعُ فِي الْوِتْرِ بِسَبْعٍ وَتِسْعٍ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثِ عَشْرَ
پانچ یا سات سے کم وتر نہ ہونے اور ایک رات میں دو وتر نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2231
عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَا لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ؟ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ
سعید بن یسار کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیاتیرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نمونہ نہیں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے اونٹ پر وتر پڑھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2231]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5208»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 1102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5208
حدیث نمبر: 2232
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوْتِرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَى الْأَرْضِ
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے، لیکن جب نمازِ وتر ادا کرنے کا ارادہ کرتے تو زمین پر اتر کر وتر ادا کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2232]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4476»
وضاحت: فوائد: … اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ سواری پر نمازِ وتر ادا کرنا درست ہے، سابق حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سعید بن یسار کو اس سنت پر عمل کرنے کی ترغیب دلائی،یہ علیحدہ بات ہے کہ اگر کوئی آدمی سواری سے اتر کر نمازِ وتر ادا کرنا چاہے تو یہ بھی بلاشبہ درست ہے۔
نماز وتر سے متعلقہ مزید کچھ احکام
(۱)قنوتِ وتر: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ، وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، اِنَّکَ تَقْضِیْ وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ، وَاِنَّہٗ لَایَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ (ابوداود: ۱۴۲۵) ترجمہ: اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا اور وہ شخص عزت نہیں پا سکتا جس سے تو دشمنی کرے۔ اے ہمار ے ربّ! تو بے حد برکت والا اور بلند و بالا ہے۔
(۲) مروجہ دعا اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ … کو قنوتِ وتر قرار دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کووہ قنوتِ نازلہ مین یہ دعا کرتے تھے۔
(۳) وتر کی آخری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوتِ وتر پڑھی جائے۔
(نسائی:۱۷۰۰، ابن ماجہ: ۱۱۸۲)
قنوتِ وتر رکوع کے بعد بھی جائز اور درست ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن بن علی کو رکوع کے بعد قنوتِ وتر پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ مستدرک حاکم، نیل الاوطار کے مولف رحمتہ اللہ علیہ نے بھی مستدرک حاکم کی حدیث کو قابلِ حجت قرار دیا ہے۔
اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں: احکام و مسائل، ج ۲، ص: ۲۸۸ از حافظ عبدالمنان نور پوری رحمتہ اللہ علیہ۔
نماز وتر سے متعلقہ مزید کچھ احکام
(۱)قنوتِ وتر: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ، وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، اِنَّکَ تَقْضِیْ وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ، وَاِنَّہٗ لَایَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ (ابوداود: ۱۴۲۵) ترجمہ: اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا اور وہ شخص عزت نہیں پا سکتا جس سے تو دشمنی کرے۔ اے ہمار ے ربّ! تو بے حد برکت والا اور بلند و بالا ہے۔
(۲) مروجہ دعا اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ … کو قنوتِ وتر قرار دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کووہ قنوتِ نازلہ مین یہ دعا کرتے تھے۔
(۳) وتر کی آخری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوتِ وتر پڑھی جائے۔
(نسائی:۱۷۰۰، ابن ماجہ: ۱۱۸۲)
قنوتِ وتر رکوع کے بعد بھی جائز اور درست ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن بن علی کو رکوع کے بعد قنوتِ وتر پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ مستدرک حاکم، نیل الاوطار کے مولف رحمتہ اللہ علیہ نے بھی مستدرک حاکم کی حدیث کو قابلِ حجت قرار دیا ہے۔
اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں: احکام و مسائل، ج ۲، ص: ۲۸۸ از حافظ عبدالمنان نور پوری رحمتہ اللہ علیہ۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/429
13. ابواب صلاة التراويح
نمازِ تراویح کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: Q2233]
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَأَنَّهَا سُنَّةٌ وَلَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ
یہ باب نماز تروایح کی فضیلت کے بارے میں ہے¤اور اس بارے میں کہ نماز تراویح سنت ہے واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: 2233
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ثَنَا مَالِكُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِقِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ وَكَانَ يَقُولُ: ( (مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں قیام کرنے کا حکم دیتے تھے، لیکن وہ یہ حکم وجوب کے ساتھ نہیں دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمایاکرتے تھے: جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2233]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 1371، والنسائي: 3/ 201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10855»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 2234
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ وَسَنَنْتُ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ احْتِسَابًا خَرَجَ مِنَ الذُّنُوبِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) )
سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کیے اور میں نے اس کے قیام کو سنت (بنادیا ہے)، پس جس نے ثواب کے حصول کے لیے اس کے روزے رکھے اور اس کا قیام کیا، وہ گناہوں سے ایسے نکل آئے گا، جیسے آج اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2234]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 1371، والنسائي: 3/ 201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1660»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبَبِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً فِي الْمَسْجِدِ
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 2235
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ، قَالَ وَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبِي، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ حَتَّى كُنَّا رَهْطًا، فَلَمَّا أَحَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ تَجَوَّزَ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَصَلَّى صَلَاةً لَمْ يُصَلِّهَا عِنْدَنَا، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفَطِنْتَ بِنَا اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، فَذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ) ) ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ يُوَاصِلُ وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، قَالَ فَأَخَذَ رِجَالٌ يُوَاصِلُونَ مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ مُدَّ لِيَ الشَّهْرُ وَأَصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے، پس میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا، پھر ایک اور آدمی آگیا، یہاں تک کہ ہم ایک جماعت بن گئے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تخفیف کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور گھر تشریف لے گئے اور وہاں (لمبی) نماز پڑھی، وہ ہمارے پاس نہیں پڑھی تھی۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا آپ کو رات کے وقت ہمارے متعلق علم ہوگیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور یہی وہ چیز تھی جس نے مجھے ایسے کرنے پر آمادہ کیا۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال شروع کر دیا اور یہ مہینے کے آخری ایام کی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی اقتداء میں) بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی وصال شروع کردیا۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہوا تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ بھی وصال کر رہے ہیں۔ (یاد رکھو کہ) تم میری مثل نہیں ہو، خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ اگر یہ مہینہ میرے لیے لمبا کردیا جاتا تو میں وصال جاری رکھتا، اس طرح سے دین میں تشدّد کرنے والے اپنے تشدد سے باز آ جاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2235]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13043»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1104
حدیث نمبر: 2236
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فِي رَمَضَانَ فَخَفَّفَ بِهِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ ثُمَّ خَرَجَ فَخَفَّفَ بِهِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! جَلَسْنَا اللَّيْلَةَ فَخَرَجْتَ إِلَيْنَا فَخَفَّفْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ فَأَطَلْتَ؟ قَالَ: ( (مِنْ أَجْلِكُمْ) )
۔ (دوسری سند) سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں صحابہ کے پاس تشریف لائے اور ہلکی سی نماز پڑھائی، پھر چلے گئے اور کافی دیر لگائی (یعنی لمبی نماز پڑھی)، پھر باہر تشریف لائے اور تخفیف کے ساتھ نماز پڑھائی اور پھر اندر چلے گئے اور کافی دیر لگائی (یعنی لمبی نماز پڑھی)۔ جب صبح ہوئی توہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم رات کو بیٹھے تھے، پس آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہلکی سی نماز پڑھائی اور پھرگھر میں داخل ہوگئے اور کافی دیر لگا دی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سارا کچھ تمہاری وجہ سے کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2236]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، وانظر الحديث بالطريق الثالث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12598»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 2237
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَلَّيْتَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ، قَالَ: ( (قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ) )
۔ (تیسری سند) اس میں ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم چاہ رہے تھے کہ آپ لمبی نماز پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارا پتہ چل گیا تھا اور میں نے جان بوجھ کر ایسے کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2237]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 731، وابويعلي: 3755، وابن خزيمة: 1627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12005)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12028»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 2238
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَثَابَ رِجَالٌ فَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَاجْتَمَعَ اللَّيْلَةَ الْمُقْبِلَةَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ نَاسٌ كَثِيرٌ حَتَّى كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فَصَلَّوْا مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةَ الرَّابِعَةَ اجْتَمَعَ النَّاسُ حَتَّى كَادَ الْمَسْجِدُ يَعْجِزُ عَنْ أَهْلِهِ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَخْرُجْ، قَالَتْ: حَتَّى سَمِعْتُ نَاسًا مِنْهُمْ يَقُولُونَ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: ( (أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا) ) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پس کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر نماز پڑھی، پس جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے گفتگو کی کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسجد میں) نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں رات کے درمیانی حصے میں نماز پڑھی، آنے والی رات میں لوگ پہلے سے زیادہ جمع ہوگئے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور رات کے درمیانی حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر لوگوں نے صبح کی پس انہوں نے رات کے معاملے میں گفتگو کی، پس تیسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہوگئے حتیٰ کہ مسجد والے زیادہ ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پس جب چوتھی رات ہوئی تو لوگ پھر جمع ہوگئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ مسجد لوگوں سے عاجز آجائے گی، (لوگوں کی کثرت کی وجہ سے) پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں بیٹھ گئے اور مسجد میں نہ نکلے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہاں تک کہ میں نے لوگوں کی آوازیں سنیں وہ کہہ رہے تھے، نماز، نماز پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف نہ نکلے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھ لی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا پھر لوگوں میں کھڑے ہوئے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمد و ثناء کے بعد، پس بے شک تمہاری رات کی حالت مجھ سے چھپی ہوئی نہیں رہی اور لیکن میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں اس کو تم پر فرض نہ کردیا جائے (اگر تم پر فرض کردی گئی تو)تم اس سے عاجزآجاؤ گے، ایک روایت میں یہ اضافہ ہے، اور یہ رمضان کی بات ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2238]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 924، 2012، ومسلم: 761، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25362، 25446)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25876»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 924
حدیث نمبر: 2239
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ بِاللَّيْلِ أَوْزَاعًا يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ فَيَكُونُ مَعَهُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ أَوِ السِّتَّةُ أَوْ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ فَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، قَالَتْ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ ذَلِكَ أَنْ أَنْصِبَ لَهُ حَصِيرًا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَفَعَلْتُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ قَالَتْ فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا طَوِيلًا ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ وَتَرَكَ الْحَصِيرَ عَلَى حَالِهِ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَتْ وَأَمْسَى الْمَسْجِدُ رَاجًّا بِالنَّاسِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ وَثَبَتَ النَّاسُ قَالَتْ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا شَأْنُ النَّاسِ يَا عَائِشَةُ؟) ) قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! سَمِعَ النَّاسُ بِصَلَاتِكَ الْبَارِحَةَ بِمَنْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَحَشَدُوا لِذَلِكَ لِتُصَلِّيَ بِهِمْ، قَالَتْ: فَقَالَ: اطْوِي عَنَّا حَصِيرَكِ يَا عَائِشَةُ!) ) قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ غَافِلٍ وَثَبَتَ النَّاسُ مَكَانَهُمْ حَتَّى خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ فَقَالَتْ: فَقَالَ: ( (أَيُّهَا النَّاسُ! أَمَا وَاللَّهِ! مَا بِتُّ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَيْلَتِي هَٰذِهِ غَافِلًا وَمَا خَفِيَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ وَلَكِنِّي تَخَوَّفْتُ أَنْ يُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَاکْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا) ) ، قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمَهَا وَإِنْ قَلَّ
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ لوگ رمضان کی راتوں کو مسجد نبوی میں مختلف ٹولیوں کی صورت میں نماز پڑھا کرتے تھے، ایک آدمی کو کچھ قرآن یاد ہوتا تو اس کے ساتھ پانچ یا چھ یا اس سے کم یا زیادہ لوگ نمازادا کرتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک رات حکم دیا کہ میں اپنے حجرے کے دروازے پر ایک چٹائی بچھا دوں۔پس میں نے ایسے ہی کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء ادا کرنے کے بعد اس کی طرف نکلے (اور رات کی نماز پڑھنے لگے، جو لوگ مسجد میں تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو طویل رات نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے اور چٹائی کو اسی طرح رہنے دیا۔جب صبح ہوئی تو لوگوں نے رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور آپ کے ساتھ صحابہ کی نماز کی باتیں کیں۔ (اس کا اثر یہ ہوا کہ) شام کے وقت مسجد لوگوں سے بھر گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عشاء کی نماز پڑھائی اور فارغ ہو کر گھر چلے گئے، لیکن لوگ وہیں پر ٹھہرے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: عائشہ!لوگوں کی کیا صورتحال ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ رات کو بعض صحابہ کے ساتھ آپ کی نماز کے بارے میں سن کر اب جمع ہو گئے ہیں، تاکہ آپ ان کو نماز پڑھائیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اپنی چٹائی لپیٹ لو۔ پس میں نے ایسے ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھرمیں ہی رات گذاری، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز وغیرہ پڑھنے سے) غافل نہ رہے، لیکن لوگ اسی مقام پر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر کے لیے نکلے اور فرمایا: لوگو! اللہ کا شکر ہے کہ نہ میں نے یہ رات غفلت میں گزاری ہے اور نہ تمہاری حالت مجھ سے پوشیدہ رہی ہے، دراصل بات یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ رات کی نماز تم پر فرض کردی جائے گی، اس لیے اپنی طاقت کے مطابق اعمال کے مکلف بنو،کیونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک نہیں اکتاتا، جب تک تم نہیں اکتا جاتے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: بے شک اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2239]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، تقدم برقم: 1108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26838»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره