الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ وَبِثَلَاثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ بِسَلَامٍ وَاحِدٍ وَمَا يَتَقَدَّمُهَا مِنَ الشَّفْعِ
ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعت وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھنے¤اور اس سے پہلے جفت رکعات ادا کرنے کا بیان¤ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2201
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَ: ( (يُصَلِّي أَحَدُكُمْ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ صَلَّى وَاحِدَةً فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں رات کو کیسے نماز پڑھنے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی دو دو رکعت کر کے نماز پڑھتا رہے، جب صبح طلوع ہونے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، یہ ایک رکعت اس کی رات کو پڑھی ہوئی نماز کو طاق کر دے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2201]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 990، ومسلم: 729، 749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4492»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 990
حدیث نمبر: 2202
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: صَلَاةُ اللَّيْلِ (وَفِي رِوَايَةٍ وَالنَّهَارِ) مَثْنَى مَثْنَى تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً تُوْتِرُ لَكَ مَا قَبْلَهَا
۔ (دوسری سند)اس میں یہ تفصیل ہے: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے،تو ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتا رہے، لیکن جب تو صبح کے طلوع ہونے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ تیرے لئے پہلے والی ساری نماز کو وتر یعنی طاق بنا دے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2202]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، ولفظة: ((والنھار))، زاده علي الازدي، وھو حسن الحديث، وله شاھد عند البيھقي في السنن الكبري موقوف علي ابن عمر رضي الله عنه۔ أخرجه عبد الرزاق: 4674، وابونعيم في الحلية: 8/ 196، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5103»
وضاحت: فوائد: … سنتوں اور نوافل کی بحثوں میں اِن دو ابواب ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان اور عصر کی سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان مین یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر اور عصر سے پہلے والی چار سنتوں کو ایک سلام کے ساتھ ادا کرتے تھے، تو پھر اِس حدیث دن کی نماز دو دو رکعت ہے کا کیا معنی ہو گا، جمع وتطبیق کی صورتیں اسی مقام میں گزر چکی ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 2203
عَنْ أَبِي مِجْلَزَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ) ) ، وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ) )
ابو مجلز کہتے ہیں: میں نے سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا توانہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔ پھر میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2203]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2836»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 753
حدیث نمبر: 2204
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَوْتِرْ بِخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِثَلَاثٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِوَاحِدَةٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِيمَاءً) )
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پانچ رکعت وتر پڑھ، اگر تجھے اتنی طاقت نہ ہو تو تین پڑھ لے، اگر تجھے یہ قدرت بھی نہ ہو تو ایک پڑھ لے اور اگر تجھے یہ استطاعت بھی حاصل نہ ہو تو اشارہ کرکے پڑھ لے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2204]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1422، وابن ماجه: 1190، والنسائي: 3/ 238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23941»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1422
حدیث نمبر: 2205
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِّي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ اللَّيْلَةَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: میں آج رات ضرور بالضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز دیکھوں گا، پس میں نے آپ کی دہلیز پر یا خیمے کو تکیہ بنا اور دیکھنے لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں، پھر طویل دو رکعتیں ادا کیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، لیکن یہ پہلے والیوں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، لیکن اپنے والی پہلے دو سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں،یہ بھی اپنے سے پہلے والی دو سے کم تھیں، پھر وتر ادا کیے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہو گئیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2205]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21680 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22020»
وضاحت: فوائد: … حیدث کے لفظ ثم اوتر مین یہ تو واضح نہیں کہ وتر کتنے پڑھے گئے البتہ کل رکعات شمار کر کے تعداد تیرہ بتائی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وتر تین ادا کیے گئے کیونکہ وتر کے علاوہ اس حدیث میں دس رکعات کا ذکر ہے۔
اس باب سے ثابت ہوا کہ ایک رکعت نماز وتر ادا کرنا بھی درست ہے، اس موضوع پر درج ذیل حدیث سب سے واضح ہیـ: ابو مجلز کہتے ہیں: صَلّٰی أَبُوْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیُّ رضی اللہ عنہ بِأَصَحِابِہِ وَھُوَ مُرْتَحِلٌ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَصَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ مِائَۃَ آیَۃٍ مِنْ سُوْرَۃِ النِّسَآئِ فِیْ رَکْعَۃٍ فَأَنْکَرُوْا ذَلِکَ عَلَیْہِ فَقَالَ مَا اَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمِیْ حَیْثُ وَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَدَ مَہُ، وَأَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَاصَنَعَ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ سیدناابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جبکہ وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کررہے تھے، انہوں نے دو رکعت نماز ِ عشاء پڑھائی، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں سورۂ نساء کی سو آیات پڑھ دیں۔ جب لوگوں نے اس چیز کا ان پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا قدم رکھا، میں نے اسی جگہ پر قدم رکھنے میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ کیا، میں نے اسی طرح کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ (نسائی: ۳/ ۲۴۳،مسند احمد: ۱۹۹۹۸) آخری جملے میں سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی شدت کو مبالغہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، ان کا مقصدیہ ہے کہ یہ عمل ان کے ذاتی اجتہاد کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس سلسلے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کی ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وتر سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھے بغیر صرف ایک رکعت وتر ادا کرنا بھی درست ہے۔
اس باب سے ثابت ہوا کہ ایک رکعت نماز وتر ادا کرنا بھی درست ہے، اس موضوع پر درج ذیل حدیث سب سے واضح ہیـ: ابو مجلز کہتے ہیں: صَلّٰی أَبُوْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیُّ رضی اللہ عنہ بِأَصَحِابِہِ وَھُوَ مُرْتَحِلٌ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَصَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ مِائَۃَ آیَۃٍ مِنْ سُوْرَۃِ النِّسَآئِ فِیْ رَکْعَۃٍ فَأَنْکَرُوْا ذَلِکَ عَلَیْہِ فَقَالَ مَا اَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمِیْ حَیْثُ وَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَدَ مَہُ، وَأَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَاصَنَعَ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ سیدناابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جبکہ وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کررہے تھے، انہوں نے دو رکعت نماز ِ عشاء پڑھائی، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں سورۂ نساء کی سو آیات پڑھ دیں۔ جب لوگوں نے اس چیز کا ان پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا قدم رکھا، میں نے اسی جگہ پر قدم رکھنے میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ کیا، میں نے اسی طرح کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ (نسائی: ۳/ ۲۴۳،مسند احمد: ۱۹۹۹۸) آخری جملے میں سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی شدت کو مبالغہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، ان کا مقصدیہ ہے کہ یہ عمل ان کے ذاتی اجتہاد کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس سلسلے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کی ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وتر سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھے بغیر صرف ایک رکعت وتر ادا کرنا بھی درست ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 765
10. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي الْوِتْرِ بِثَلَاثٍ
تین رکعت نمازِ وترکا بیان
حدیث نمبر: 2206
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَيُوْتِرُ بِثَلَاثٍ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ) فَلَمَّا كَبِرَ صَارَ إِلَى تِسْعٍ، سِتٍّ وَثَلَاثٍ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کوآٹھ رکعت نماز اور تین وتر پڑھتے، اس کے بعد فجر والی دو سنتیں پڑھتے، پھرجب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمر رسیدہ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز نو رکعت ہو گئی،یعنی چھ رکعت اورتین وتر۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2206]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي: 457، والنسائي: 3/ 237 عن ابن عباس عن ام سلمة، والنسائي عنه عن عائشة ايضا: 3/ 238، وأخرجه ابن ماجه عن ابن عباس وابن عمر: 1361، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2714»
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه الترمذي: 457
حدیث نمبر: 2207
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوْتِرُ بِثَلَاثٍ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین وتر پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف الحارث الاعور۔ أخرجه الترمذي: 460، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 685»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 2208
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین وتر ادا کیے اور ان میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2208]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 462، وابن ماجه: 1172، والنسائي: 3/ 236، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2720»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا ظاہری سا مفہوم تو یہی بنتا ہے کہ تین وتر اکٹھے ادا کیے گئے، بہرحال بعض صحابہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ ایک درمیانے تشہد کے بغیر ایک سلام کے ساتھ تین رکعت نمازِ وتر ادا کرتے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل حدیث بھی قابل غور ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین وترنہ پڑھو، پانچ یا سات وتر پڑھو (اور تین پڑھ کر) مغرب کی مشابہت نہ کرو۔ (دارقطنی: ۲/۲۴، بیہقی: ۳/۳۱، شرح معانی الآثار: ۱/۲۹۲) کون سا انداز اختیار کیا جائے کہ تین رکعت وتروں کی نمازِ مغرب کے ساتھ کوئی مشابہت نہ رہے؟ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں کہا ہے کہ جب تین وتروں کو درمیانے تشہد کے بغیر لگاتار ادا کیا جائے تو مغرب سے مشابہت ختم ہو جائے گی اور اگر آنے والے تیسرے باب میں بیان کردہ صورت اختیار کر لی جائے کہ تین وتر نماز کو دوسلاموں کے ساتھ ادا کیا جائے، تو مشابہت کا شبہ باقی نہیں رہتا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 462
11. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي الْوِتْرِ بِخَمْسٍ
پانچ رکعت نمازِ وترکا بیان
حدیث نمبر: 2209
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوْتِرُ بِخَمْسٍ وَلَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ فَيُسَلِّمُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کوتیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، ان میں پانچ رکعت نمازِ وتر ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ پانچ رکعتیں اکٹھی ادا کرتے) اور پانچویں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھتے اور پھر سلام پھیرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2209]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1170، ومسلم: 737، ورواية البخاري دون ذكر صلاة الوتر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24239، 25447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24743»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1170
حدیث نمبر: 2210
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ، إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ، سِتٌّ مِنْهَا مَثْنَى مَثْنَى وَيُوْتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو تیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، ان میں وہ دو سنتیں بھی شامل ہوتیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طلوعِ فجر کے بعد اور نمازِ فجر سے پہلے پڑھتے تھے، اس طرح رات کی کل گیارہ رکعتیں رہ گئیں، ان میں سے چھ رکعتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو کر کے ادا کرتے اور پانچ وتر اس طرح ادا کرتے کہ (درمیانے تشہد کے لیے) بیٹھتے نہیں تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2210]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح- أخرجه ابوداود: 1359، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26890»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح- أخرجه ابوداود: 1359