🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبَبِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً فِي الْمَسْجِدِ
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2240
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ يَرُدُّهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ اثْنَيْ عَشَرَ قَالَ: ( (إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ) ) ، وَهِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعَشَرَ، فَصَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةً بَعْدَ الْعَتَمَةِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعَشَرَ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ خَمْسٍ وَعَشَرَ قَامَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ يَوْمَ أَرْبَعٍ وَعَشَرَ فَقَالَ: ( (إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، يَعْنِي لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعَشَرَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَقُمْ) ) ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ سِتٍّ وَعَشَرَ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ سِتٍّ وَعَشَرَ قَامَ فَقَالَ: ( (إِنَّا قَائِمُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعَشَرَ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ) ) ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَتَجَلَّدْنَا لِلْقِيَامِ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى قُبَّتِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَهُ: إِنْ كُنَّا لَقَدْ طَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْ تَقُومَ بِنَا حَتَّى تُصْبِحَ، فَقَالَ: ( (يَا أَبَا ذَرٍّ! إِنَّكَ إِذَا صَلَّيْتَ مَعَ إِمَامِكَ وَانْصَرَفْتَ إِذَا انْصَرَفَ كُتِبَ لَكَ قُنُوتُ لَيْلَتِكَ) ) ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَجَدْتُّ هَٰذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ
شریح بن عبید حضرمی سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے آخری دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائیسویں تاریخ کو عصر کی نماز ادا کی تو فرمایا: آج ہم رات کو ان شاء اللہ قیام کریں گے، اس لیے تم میں سے جو قیام کرنا چاہتا ہے، وہ قیام کرے۔ یہ تئیسویں رات بنتی تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندھیرا چھا جانے کے بعد عشاء کی نماز باجماعت پڑھائی، یہاں تک کہ رات کا تیسرا حصہ بیت گیا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے خیمے میں) چلے گئے۔ جب چوبیسویں رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ قیام کیا اور نہ ہی کچھ ارشاد فرمایا، لیکن جب پچیسویں رات آنی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کی چوبیس تاریخ کو عصر کے بعد کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: آج ہم رات کو ان شاء اللہ قیام کریں کے، تم میں جو چاہتا ہے، وہ قیام کرسکتا ہے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو قیام کیا یہاں تک کے رات کا تیسرا حصہ گزرگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے خیمے میں) تشریف لے گئے، چھبیسویں رات کو نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام کیا اورنہ کچھ ارشاد فرمایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھبیسویں روز عصر کی نماز ادا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ہم آج رات کوان شاء اللہ قیام کریں گے، پس جو کوئی قیام کرنا چاہتا ہے وہ قیام کرلے۔ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس ہم نے قیام کرنے کے لیے صبر و استقامت کا اظہار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی، یہاں تک کہ رات کا دو تہائی حصہ گزر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرے میں تشریف لے گئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس بات کے حریص ہیں کہ آپ ہمیں صبح تک نماز پڑھائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” اے ابوذر! جب تو امام کے ساتھ نماز پڑھے گا اور اس وقت واپس جائے گا، جب امام واپس جائے تو تیرے لیے ساری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جائے گا۔“ ابو عبد الرحمان کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو اپنے باپ (امام احمدؑ) کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھا ہوا پایا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2240]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد منقطع، شريح بن عبيد الحضرمي لم يدرك ابا ذر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21842»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2241
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا اللَّيْلَةَ الرَّابِعَةَ وَقَامَ بِنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَٰذِهِ، قَالَ: ( (إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ بَقِيَّةُ لَيْلَتِهِ) ) ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا السَّادِسَةَ وَقَامَ بِنَا السَّابِعَةَ، وَقَالَ وَبَعَثَ إِلَى أَهْلِهِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قَالَ قُلْتُ: مَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُورُ
جبیر بن نفیر حضرمی سے مروی ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، ہوا یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہ کیا، یہاں تک کہ سات راتیں باقی رہ گئیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تئیسویں رات کو) ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوبیسویں رات کو قیام نہ کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیسویں رات کو اتنا طویل قیام کرایا کہ تقریبا آدھی رات گزر گئی۔ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صحابہ نے یہ فرمائش کی کہ اے اللہ کے رسول! کاش آپ ہمیں باقی رات بھی نوافل پڑھا دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی امام کے ساتھ قیام کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے تو اس کے لیے باقی رات کے قیام کا بھی ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھبیسویں رات کو ہمیں قیام نہیں کرایا، البتہ ستائیسویں رات کو قیام کروایا۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو (قیام کے لیے جمع ہونے کے لیے) پیغام بھیجا، دوسرے لوگ بھی اکٹھے ہو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اتنی طویل نماز پڑھائی کہ ہم ڈرنے لگے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج فلاح رہ جائے۔ جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ فلاح کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا مطلب سحری ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2241]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 1375، وابن ماجه: 1327، والترمذي: 806، والنسائي: 3/ 83، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21778»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2242
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْمَارِيِّ إِنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشَرَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَامَ بِنَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشَرَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الْفَلَاحَ، قَالَ: وَكُنَّا نَدْعُو السُّحُورَ الْفَلَاحَ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُولُ لَيْلَةَ السَّابِعَةِ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشَرَ وَأَنْتُمْ تَقُولُونَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشَرَ السَّابِعَةَ فَمَنْ أَصْوَبُ؟ نَحْنُ أَوْ أَنْتُمْ
نعیم بن زیاد ابی طلحہ الا نماری سے روایت ہے کہ انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حمص کے منبر پر کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے، کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تئیسویں رات کو ایک تہائی رات تک اور پچیسویں رات کو نصف رات تک قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستائیسویں کو تو اتنا طویل قیام کروایا کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ہم سحری نہیں کر سکیں گے۔ وہ کہتے ہیں: ہم لوگ سحری کو فلاح کہتے تھے۔ ہم لوگ ساتویں رات سے مراد ستائیسویں رات لیتے ہیں، لیکن تم کہتے ہو کہ تئیسویں رات ساتویں ہے، اب پتہ نہیں کہ کون زیادہ درست ہے، ہم یا تم؟ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2242]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 3/203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18402)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18592»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ إِنَّ فِعْلَهَا فِي الْبَيْتِ أَفْضَلُ
اس کی دلیل کا بیان، جو یہ کہتا ہے کہ گھر میں تراویح ادا کرنا افضل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2243
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: ( (مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْئِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ) )
سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں چٹائی کا ایک حجرہ بنایااور اس میں رات کو نماز پڑھی، جب لوگوں کو علم ہوا تو وہ بھی جمع ہوگئے، لیکن پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز کو گم پایا، ان کا خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے ہیں، اس لیے بعض لوگوں نے کھانسنا شروع کر دیاتاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف آ جائیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ تم کرتے رہے، مجھے اس کا اندازہ ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ قیام تم پر فرض نہ کر دیا جائے اور اگر یہ فرض کر دیا گیا تو تم اس کو قائم نہ رکھ سکو گے۔ اس لیے (میں کہتا ہوں کہ) لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو، آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا افضل عمل ہے، سوائے فرض نماز کے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2243]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 731، 7290، ومسلم: 781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21582)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21915»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 731
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2244
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا أَفْضَلُ؟ الْصَّلَاةُ فِي بَيْتِي أَوِ الْصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَا تَرَى إِلَى بَيْتِي؟ مَا أَقْرَبَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ! فَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً) ) (سنن ابن ماجة: 1378)
سیّدنا عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ میرا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ میرے گھر کو نہیں دیکھتے؟ وہ مسجد کے بہت زیادہ قریب ہے، لیکن پھر بھی مجھے مسجد میں نماز پڑھنے کی بہ نسبت گھر میں نماز ادا کرنا زیادہ محبوب ہے، سوائے فرضی نماز کے (وہ مسجد میں ہی ادا کرنی چاہئے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 731، 7290، ومسلم: 781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21582)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 731
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ إِنَّهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ غَيْرُ الْوِتْرِ
اس کی دلیل کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ وتر کے علاوہ نماز تراویح آٹھ رکعت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2244M
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَمِلْتُ اللَّيْلَةَ عَمَلًا، قَالَ: ( (مَا هُوَ؟) ) قَالَ: نِسْوَةٌ مَعِيَ فِي الدَّارِ قُلْنَ لِي: إِنَّكَ تَقْرَأُ وَلَا نَقْرَأُ، فَصَلِّ بِنَا، فَصَلَّيْتُ ثَمَانِيًا وَالْوِتْرَ، قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَرَأَيْنَا أَنَّ سُكُوتَهُ رِضًا بِمَا كَانَ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، سیّدناابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے رات کو ایک عمل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سا عمل ہے۔ اس نے کہا: میرے ساتھ گھر میں کچھ خواتین تھیں، انہوں نے مجھے کہا: تم قرآن پڑھتے ہو اور ہم نہیں پڑھتیں،اس لیے ہمیں نماز پڑھاؤ، پس میں نے ان کو آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔ جواباً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راضی ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2244M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عيسي بن جارية الانصاري المدني، ولابھام الراوي له عن يعقوب بن عبد الله، لكن قد رواه غير واحد عن يعقوب، أخرجه ابن حبان: 2549، 2550، وابويعلي: 1801، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3743، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21098)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21415»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عيسي بن جارية الانصاري المدني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2245
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوْتِرَ؟ قَالَ: ( (يَا عَائِشَةُ! إِنَّهُ أَوْ إِنِّي تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي) )
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رمضان میں نماز کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے،پس تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں سوال نہ کر، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے، پر تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھ، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیاآپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ!بے شک میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2245]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1147، 2013، ومسلم: 738، ومالك في ’’المؤطا‘‘: 1/ 120، وابوداود: 1341، والترمذي: 439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24574»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1147
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2246
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَيُّ أُمَّاهْ! أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَتْ صَلَاتُهُ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ سَوَاءً، ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِيهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ، قُلْتُ: فَأَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِهِ، قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اماں جی! مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتلائیے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی، ان میں دو رکعتیں فجر کی سنتیں ہوتی تھیں۔ میں نے کہا: مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے۔ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسلسل) روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ روزے رکھیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تسلسل کے ساتھ) روزے ترک کرنے لگ جاتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے ترک کر دیں گے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی مہینے میں اتنی کثرت سے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان میں رکھتے تھے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے، سوائے تھوڑے دنوں کے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 738 بذكر صلاته في رمضان، و1156 بذكر صيامه، وانظر الحديث السابق برقم: 1115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24617»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 738 بذكر صلاته في رمضان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں