الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهِ
وتر کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2191
عَنْ أَبِي نَهِيكٍ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ أَنْ لَا وَتْرَ لِمَنْ أَدْرَكَ الصَّبْحَ، فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرُوهَا، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فَيُوْتِرُ
ابو نہیک سے مروی ہے کہ سیدناابو الدردا رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے، ایک دن انھوں نے کہا کہ جو آدمی صبح کو پا لے، اس کے لیے کوئی وتر نہیں ہے، یہ سن کر کچھ لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے اور ان کو یہ بات بتلائی، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2191]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الاوسط، والبيھقي: 2/ 479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26586»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی عذر کی بنا پر طلوع فجر تک وتر نہ پڑھ سکتے تو بعد میں ادا کر لیا کرتے تھے، امام مالک نے مؤطا: ۱/ ۱۲۶ میں کئی صحابہ سے طلوع فجر کے بعد وتر پڑھنے کے آثار نقل کیے ہیں اور پھر کہا: وہ شخص طلوع فجر کے بعد وتر پڑھے گے جو سو جائے گا، وگرنہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ جان بوجھ نماز وتر کی ادائیگی میں تاخیر کرے، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے۔
درج حدیث میں اسی مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِیَہٗ، فَلْیُوْتِرْ إِذَا ذَکَرَہٗأَوِاسْتَیْقَظَ۔)) یعنی: جو آدمی سو جانے یا بھول جانے کی وجہ سے وتر وقت پر نہ پڑھ سکے تو وہ اس وقت یہ نماز ادا کرے جب اسے یاد آئے یا جب بیدار ہو۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۴، ابوداود: ۱۴۳۱، ترمذی: ۴۶۵، ابن ماجہ: ۱۱۸۸) معلوم ہوا کہ جو آدمی جان بوجھ طلوعِ فجر سے پہلے وتر ادا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس نماز کو پا لینے کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گا اور اس طرح وہ اس رات کو نمازِ وتر سے محروم ہو جائے گا۔
درج حدیث میں اسی مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِیَہٗ، فَلْیُوْتِرْ إِذَا ذَکَرَہٗأَوِاسْتَیْقَظَ۔)) یعنی: جو آدمی سو جانے یا بھول جانے کی وجہ سے وتر وقت پر نہ پڑھ سکے تو وہ اس وقت یہ نماز ادا کرے جب اسے یاد آئے یا جب بیدار ہو۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۴، ابوداود: ۱۴۳۱، ترمذی: ۴۶۵، ابن ماجہ: ۱۱۸۸) معلوم ہوا کہ جو آدمی جان بوجھ طلوعِ فجر سے پہلے وتر ادا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس نماز کو پا لینے کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گا اور اس طرح وہ اس رات کو نمازِ وتر سے محروم ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الاوسط
حدیث نمبر: 2192
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَّا فِي رَكْعَةٍ شَفَعَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى اجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ أَوْتَرَ فِي وَسَطِهِ، ثُمَّ أَثْبَتَ الْوِتْرَ فِي هَٰذِهِ السَّاعَةِ، قَالَ: وَذَلِكَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ
عبد خیر کہتے ہیں: ہم مسجد میں تھے، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے، ہم سے جو ایک رکعت پڑھ چکا تھا، (لیکن اس کی ایک رکعت باقی تھی تو) اس نے وہ رکعت ادا کی،یہاں تک کہ ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، انہوں نے کہا: پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے شروع میں وتر پڑھتے تھے، پھر اس کے درمیان میں پڑھنے لگے، لیکن بعد میں اس وقت میں نمازِ وترکی ادائیگی کو برقرار رکھا۔ یہ طلوعِ فجر کے قریب کا وقت تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2192]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي اسرائيل اسماعيل بن خليفة الملائي۔ أخرجه مختصرا البزار: 790، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 974 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 974»
وضاحت: فوائد: … رات کے آخری وقت کے افضل ہونے کی بعض وجوہات پہلے بھی گزر چکی ہیں کہ اس وقت میں آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ کا نزول ہوتا ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس وقت میں پڑھی جانے والی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 2193
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلُوهُ عَنِ الْوِتْرِ، قَالَ: فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُّوْتِرَ هَٰذِهِ السَّاعَةَ، ثَوِّبْ يَا ابْنَ التَّيَّاحِ! أَوْ أَذِّنْ أَوْ أَقِمْ (وَفِي لَفْظٍ:) قَالَ: خَرَجَ عَلِيٌّ حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
بنو اسد کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہمارے پاس سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے،لوگوں نے ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس وقت وتر پڑھیں۔ پھر کہا: ابن تَیّاح! الصلاۃ خیر من نوم کہو یا اذان کہو یا اقامت کہو۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت نکلے، جب مؤذن نے نمازِ فجر کے لیے الصلاۃ خیر من نوم کے الفاظ پر مشتمل اذان کہی۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2193]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل من بني اسد الراوي عن علي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 689»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرجل من بني اسد الراوي عن علي
حدیث نمبر: 2194
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي اللَّيْلَ مَثْنَى مَثْنَى، ثُمَّ يُوْتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّ الْأَذَانَ أَوِ الْإِقَامَةَ فِي أُذُنَيْهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر ادا کرتے، پھر (فجر کی دو سنتیں ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہوتے اور (اتنا جلدی ادا کر لیتے) کہ گویا کہ اذان یا اقامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کان میں ہوتی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2194]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4860»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں آخری الفاظ یہ ہیں: وَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ کَاَنَّ الْاَذَانَ بِاُذُنَیْہِ (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے پہلے (اتنی جلدی سے) دو رکعتیں ادا کر لیتے کہ یوں لگتا کہ اذان ابھی تک آپ کے کانوں میں ہے)۔ ان ہی الفاظ کی روشنی میں حدیث ِ مبارکہ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ متن میں زیرِ مطالعہ حدیث میں لفظ اذان یا اقامت شک کے ساتھ ہے، اور فوائد کے تحت درج صحیح مسلم کی حدیث میں شک کے بغیر اذان کا لفظ ہے لیکن شارح صحیح مسلم نے بھی لکھا ہے کہ اس سے مراد اقامت ہے مگر ایک دوسری حدیث میں بھی اقامت کو اذان کہا گیا ہے ((بَیْنَ کُلِّ اَذَانَیْنِ صَلٰوۃٌ)) (بخاری: ۶۳۲) حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صبح کی سنتیں آپ جلدی ادا کر لیتے گویا آپ اقامت کی آواز سن رہے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 995
حدیث نمبر: 2195
عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وتر کی نماز کو صبح سے پہلے پہلے ادا کر لیاکرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2195]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 750، وابوداود: 1436، والترمذي: 467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4952، 4954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4952»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 750
حدیث نمبر: 2196
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وَتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ، فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مغرب کی نماز، دن کی نماز کا وتر ہے، اور تم (نماز وتر ادا کر کے) رات کو نماز کو طاق کر لیا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخر میں وتر ایک رکعت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2196]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: ((صلاة المغرب وتر صلاة النھار، فأوتروا صلاة الليل)) وھذه الجملة موقوفة علي ابن عمر۔ أخرجه عبد الرزاق: 4676، والنسائي في الكبري: 1382، والطبراني في الاوسط: 965، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4847، 5549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5549»
الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: ((صلاة المغرب وتر صلاة النھار
حدیث نمبر: 2197
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وَتْرًا) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وتر کو اپنی رات کی آخری نماز بناؤ۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2197]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 998، ومسلم: 751، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4710»
وضاحت: فوائد: … کیا نماز وتر کے بعد نفل پڑھے جا سکتے ہیں؟ اس کا ذکر اگلے ساتویں باب میں آئے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 998
حدیث نمبر: 2198
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ آخِرَهُ فَلْيُوْتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ يَسْتَيْقِظُ آخِرَهُ فَلْيُوْتِرْ آخِرَهُ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَهِيَ أَفْضَلُ) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس شخص کو یہ گمان ہو کہ وہ رات کے آخرحصے میں بیدار نہیں ہو سکے گا تو وہ رات کے شروع میں ہی وتر پڑھ لے، لیکن جس شخص کا یہ خیال ہو کہ وہ رات کے آخر میں بیدار ہوجائے گا، تو وہ اس کے آخر میں ہی وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ سب سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2198]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14256»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 755
حدیث نمبر: 2199
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ: أَيُّ سَاعَةٍ تُوْتِرِينَ؟ قَالَتْ: مَا أُوْتِرُ حَتَّى يُؤَذَّنُ وَمَا يُؤَذَّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، قَالَتْ: وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ، بِلَالٌ وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَذَّنَ عَمْرٌو فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، فَإِنَّهُ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّ بِلَالًا لَا يُؤَذِّنُ (كَذَا قَالَ) حَتَّى يُصْبِحَ) )
اسود بن یزید کہتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کس وقت وتر پڑھتی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں تو اس وقت تک وتر نہیں پڑھتی، جب تک مؤذن اذانیں نہ دے دیں اور وہ اذانیں بھی طلوعِ فجر کے بعد دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو مؤذن تھے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: جب عمرو اذان کہے تو تم کھا پی لیا کرو، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے، لیکن جب بلال اذان کہے تو کھانے پینے سے ہاتھ اٹھالیا کرو، کیونکہ جب تک صبح نہ ہو جائے، اس وقت تک بلال اذان نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2199]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 407، وابن خزيمة: 408، والبيھقي: 1/ 429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26037»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلی اذان دینے والے سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اور دوسری اذان دینے والے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہوتے تھے، جبکہ درج ذیل حدیث کی ترتیب اس کے الٹ نظر آتی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بلال رات کو اذان دیتا ہے، اس لیے (سحری کا کھانا پینا) کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے دیں۔ (بخاری: ۶۲۲، ۶۳، مسلم: ۱۰۹۲) جمع و تطبیقیہ صورت ہے کہ ان دو مؤذنوں کی باریاں بدلتی رہتی تھی، کبھی بلال رضی اللہ عنہ پہلی اذان دیتے تھے اور کبھی سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس عمل سے پتہ چلتا ہے کہ بلاضرورت طلوع فجر کے بعد نماز وتر ادا کرنا درست ہے، ممکن ہے کہ ان کی مراد پہلا مؤذن اور فجر کاذب کا طلوع ہونا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات وہ کسی شرعی عذر کی وجہ سے لیٹ ہو جاتی ہوں اور اسی عمل کو یہاں بیان کر دیا ہو۔ (واللہ اعلم) مرفوع احادیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت پچھلے باب میں ہو چکی ہے، نیز اس سے پہلے کئی ایسی احادیث گزر چکی ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ نماز وتر کی ادائیگی طلوع فجر سے پہلے ہونی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 407
9. بَابُ الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ وَبِثَلَاثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ بِسَلَامٍ وَاحِدٍ وَمَا يَتَقَدَّمُهَا مِنَ الشَّفْعِ
ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعت وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھنے¤اور اس سے پہلے جفت رکعات ادا کرنے کا بیان¤ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2200
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يُوْتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهُ: أَتُوْتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (الَّذِي لَا يَنَامُ حَتَّى يُوْتِرَ حَازِمٌ) )
محمد بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں نماز عشاء ادا کرتے اور اس کے بعد صرف ایک رکعت وتر ادا کرتے، مزید کوئی نفل نہ پڑھتے، کسی نے ان سے کہا: اے ابو سحاق! کیاآپ ایک ہی رکعت پڑھتے ہیں اوراس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھتے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص وتر پڑھ کر ہی سوتا ہے، وہ محتاط ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2200]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1461»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره