الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي الْوِتْرِ بِخَمْسٍ
پانچ رکعت نمازِ وترکا بیان
حدیث نمبر: 2221
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} وَكَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ: ( (سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ) ) يُطَوِّلُهَا ثَلَاثًا
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیرتے تو تین دفعہ لمبا کر کے سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ کہتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2221]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15430»
وضاحت: فوائد: … سنن دار قطنی میں رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ کے الفاظ بھی ثابت ہیں، اس طرح وتروں کے بعد والی پوری دعا یہ بنتی ہے: سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ، سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ، سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ،رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15430
حدیث نمبر: 2222
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوْتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَفِي الثَّانِيَةِ بِـ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَفِي الثَّالِثَةِ بِـ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ
عبد العزیز بن جریج کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس چیز کے ساتھ وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ پہلی رکعت میں سورۂ اعلی، دوسری رکعت میں سورۂ کافرون اور تیسری رکعت میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2222]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1423، وابن ماجه: 1171، والنسائي: 3/ 244، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26431»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1423
حدیث نمبر: 2223
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوْتِرُ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2223]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21459»
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21459
حدیث نمبر: 2224
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی قسم حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2224]
12. الْفَصْلُ الرَّابِعُ فِي الْوِتْرِ بِسَبْعٍ وَتِسْعٍ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثِ عَشْرَ
پانچ یا سات سے کم وتر نہ ہونے اور ایک رات میں دو وتر نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2225
عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: قُلْتُ لِمِقْسَمٍ: أُوْتِرُ بِثَلَاثٍ ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ مَخَافَةَ أَنْ تَفُوتَنِي، قَالَ: لَا وَتْرَ إِلَّا بِخَمْسٍ أَوْسَبْعٍ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِيَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ وَمُجَاهِدٍ، فَقَالَا لِي: سَلْهُ عَمَّنْ؟ فَقُلْتُ لَهُ؟ فَقَالَ: عَنِ الثِّقَةِ عَنْ عَائِشَةَ وَمَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
حکم کہتے ہیں: میں نے مقسم سے کہا: میں اس ڈر سے کہ نمازِ فجر فوت نہ ہو جائے، (جلدی جلدی) تین وتر پڑھ کر نماز کی طرف نکلتا ہوں، لیکن انھوں نے کہا: وتر تو کم از کم پانچ یا سات ہوتے ہیں۔ میں نے ان کی یہ بات یحییٰ بن جزار اور مجاہد کو بتلائی، انھوں نے کہا: ان سے پوچھو کہ یہ روایت کس سے بیان کرتے ہیں، جب میں نے ان سے یہ بات پوچھی تو انھوں نے کہا: مجھے ایک ثقہ راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2225]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الثقة الراوي عنه مقسم۔ أخرجه النسائي في الكبري: 431، 1406،والبخاري في التاريخ الصغير: 1/293، و الطبراني في الكبير: 23/ 954، وأخرجه النسائي: 3/ 239 موقوفا۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26134»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الثقة الراوي عنه مقسم۔ أخرجه النسائي في الكبري : 431
حدیث نمبر: 2226
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانَ ثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو السُّحَيْمِيُّ ثَنَا جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي سِرَاجُ بْنُ عُقْبَةَ أَنَّ قَيْسَ بْنَ طَلْقٍ حَدَّثَهُمَا أَنَّ أَبَاهُ طَلْقَ بْنَ عَلِيٍّ أَتَانَا فِي رَمَضَانَ وَكَانَ عِنْدَنَا حَتَّى أَمْسَى فَصَلَّى بِنَا الْقِيَامَ فِي رَمَضَانَ وَأَوْتَرَ بِنَا ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِ رِيمَانَ فَصَلَّى بِهِمْ حَتَّى بَقِيَ الْوِتْرُ فَقَدَّمَ رَجُلًا فَأَوْتَرَ بِهِمْ وَقَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا وَتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ) )
قیس بن طلق کہتے ہیں: میرے باپ طلق بن علی رمضان میں ہمارے پاس آئے اور یہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ شام ہوگئی، پھر انہوں نے ہمیں رمضان میں قیام کروایا اور وتر بھی پڑھا دیئے، اس کے بعد وہ رَیمان مسجد کی طرف چلے گئے اور جا کر ان کو رات کی نماز پڑھائی، جب نمازِ وتر کی باری آئی تو انھوں نے ایک اور آدمی کو آگے کر دیا، پس اس نے وتر پڑھائے اور انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2226]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1439، والترمذي: 470، والنسائي: 3/ 229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16405»
وضاحت: فوائد: … ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم لوگ ایک رات میں دو دفعہ نمازِ وتر نہ پڑھا کرو، بلکہ صرف ایک دفعہ پڑھا کرو۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1439
حدیث نمبر: 2227
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْوِتْرِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ أَوْتَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ثُمَّ أَرَدْتُّ أَنْ أُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ شَفَعْتُ بِوَاحِدَةٍ مَا مَضَى مِنْ وَتْرِي ثُمَّ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا قَضَيْتُ صَلَاتِي أَوْتَرْتُ بِوَاحِدَةٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوِتْرُ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان سے وتر کے بارے میں سوال کیاجاتا تو وہ کہتے: جہاں تک میری بات کا تعلق ہے تو اگر میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں، لیکن پھر رات کو نماز پڑھنے کا ارادہ کر لوں تو ایک رکعت ادا کر کے پہلے والے وتر کو جفت بنالیتا ہوں،پھر دو دو رکعت کرکے نماز پڑھتا رہتا ہوں، اور جب مطلوبہ نماز پوری کرلیتا ہوں تو آخر میں ایک وتر پڑھ لیتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ وتر کو رات کی آخری نماز بنایا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2227]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح وھذا اسناد حسن۔ أخرج البخاري: 998، ومسلم: 751 بلفظ: عن ابن عمر عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال: ((اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4710، 6190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6190»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ذاتی عمل اور استدلال ہے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات میں دو دفعہ وتر پڑھنے سے منع فرمایا، جمہور اہل علم کا خیال ہے کہ اس طرح نیند وغیرہ کے بعد ایک رکعت کو دوسری رکعت کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں دیئے گئے حکم کو استحباب پر محمول کیا جائے اور دوسرے دلائل کی روشنی میں نماز وتر کے بعد بھی نماز پڑھنے کی گنجائش نکالی جائے اور وتر کا اعادہ یا اسے جفت بنانے کا عمل نہ دوہرایا جائے۔
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح وھذا اسناد حسن۔ أخرج البخاري: 998
حدیث نمبر: 2228
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ لِي: ( (قُومِي فَأَوْتِرِي) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے رہتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوتے تومجھے فرماتے: اٹھو اور وتر پڑھو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2228]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 744، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25184 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25699»
وضاحت: (۲) سیدناثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ ھٰذَا السَّفَرَ جَھْدٌ وَثِقْلٌ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُکُمْ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ، فَإِنِ اسْتَیْقَظَ وَإِلَّا کَانَتَا لَہُ۔)) چونکہ یہ سفر باعث ِ مشقت و زحمت ہے، اس لیے ہر کوئی وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھ لے، اگر (قیام کرنے کے لیے) جاگ آ گئی تو ٹھیک، وگرنہ یہی دو رکعتیں اسے کفایت کر جائیں گی۔ (الدارمي: ۱/۳۷۴، ابن خزیمۃ: ۲/۱۵۹/۱۱۰۳، ابن حبان: ۶۸۳، الدار قطنی: صـ ۱۷۷، صحیحہ:۱۹۹۳)
(۲) پچھلی رات کے قیام اور وتر کے ابواب میں کئی احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ وتر کے بعد پھر دو نفل پڑھے تھے۔ ان احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ روٹین کے ساتھ نمازِ تہجد پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ آخر میں نمازِ وتر ادا کیا کرے، نیز وہ وتروں کے بعد مزید دو رکعات پڑھ سکتا ہے اور جو آدمی کسی عذر کی وجہ سے رات کے شروع میں ہی وتر سمیت نماز تہجد پڑھ لینا چاہتا ہو، تو وہ پڑھ لے، لیکن اگر وہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہو جائے تو وتر توڑے بغیر مزید نفلی نماز پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح وہ آدمی جو نماز وتر پڑھ کر سو جاتا ہو،لیکن رات کو اتفاقی طور پر کھڑا ہو کر نفلی نماز ادا کرنا چاہتا ہو تو وہ پڑھ سکتا ہے، اسے وتر توڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امام ابن خزیمہ نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا: جو چاہے، وتر کے بعد نفلی نماز پڑھ سکتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے بعد جو دو رکعات ادا کرتے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ نہیں تھا۔ امام عبید اللہ مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ائمۂ اربعہ، امام ثوری اور امام ابن مبارک وغیرہ کا خیال ہے کہ نمازِ وتر کے بعد اس کو توڑے بغیر مزید نفلی نماز ادا کی جا سکتی ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا کہ ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں، ان علمائے کرام نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں دیے گئے حکم کو استحباب پر محمول کیا اور مزید نماز کی ادائیگی کو جائز سمجھا۔ جمع و تطبیق کی ایک اور صورت یہ بھی ہے کہ سیدنا عبد اللہ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم رات کو قیام کرنا چاہو تو نمازِ وتر کو شروع میںیا درمیان میں ادا کرنے کی بجائے آخر میں ادا کرو۔ (مرعاۃ المصابیح: ۲/ ۴) اس دوسری تطبیق کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی روٹین کے ساتھ رات کو قیام کرتا ہے، اس کو آخر میں نمازِ وتر ادا کرنی چاہیے، مثلا ہر کوئی رمضان میں نماز تراویح باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتا ہے، جو نمازِ تہجد ہی کی ایک صورت ہے، ایسی صورت میں اس حدیث کی روشنی مین یہ درست نہیں ہو گا کہ آٹھ رکعت تراویح سے پہلے یا چار رکعتوں کی ادائیگی کے بعد وتر پڑھ لیے جائیں اور باقی نماز بعد میں پوری کر لی جائے۔ لیکن اگر کوئی آدمی رات کو وتر کی نماز پڑھ لیتا ہے اور پھر اسے سابقہ روٹین کے بغیر قیام کرنے کا خیال آ جاتا ہے، یا اگر کوئی آدمی سفر یا کسی اور عذر کی وجہ سے رات کے آخری پہر کو بیدار نہ ہونے کا خطرہ محسوس کرتا ہے، تو اسے چاہیے کہ اس باب کی پہلی روایتیعنی سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی حدیث پر عمل کر لے۔ بہرحال دونوں صورتوں میں نمازِ وتر کے بعد دو رکعت ادا کرنا تو درست ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام مکمل کرنے اور نماز وتر ادا کر چکنے کے بعد دو رکعتیں ادا کیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
(۲) پچھلی رات کے قیام اور وتر کے ابواب میں کئی احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ وتر کے بعد پھر دو نفل پڑھے تھے۔ ان احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ روٹین کے ساتھ نمازِ تہجد پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ آخر میں نمازِ وتر ادا کیا کرے، نیز وہ وتروں کے بعد مزید دو رکعات پڑھ سکتا ہے اور جو آدمی کسی عذر کی وجہ سے رات کے شروع میں ہی وتر سمیت نماز تہجد پڑھ لینا چاہتا ہو، تو وہ پڑھ لے، لیکن اگر وہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہو جائے تو وتر توڑے بغیر مزید نفلی نماز پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح وہ آدمی جو نماز وتر پڑھ کر سو جاتا ہو،لیکن رات کو اتفاقی طور پر کھڑا ہو کر نفلی نماز ادا کرنا چاہتا ہو تو وہ پڑھ سکتا ہے، اسے وتر توڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امام ابن خزیمہ نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا: جو چاہے، وتر کے بعد نفلی نماز پڑھ سکتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے بعد جو دو رکعات ادا کرتے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ نہیں تھا۔ امام عبید اللہ مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ائمۂ اربعہ، امام ثوری اور امام ابن مبارک وغیرہ کا خیال ہے کہ نمازِ وتر کے بعد اس کو توڑے بغیر مزید نفلی نماز ادا کی جا سکتی ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا کہ ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں، ان علمائے کرام نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں دیے گئے حکم کو استحباب پر محمول کیا اور مزید نماز کی ادائیگی کو جائز سمجھا۔ جمع و تطبیق کی ایک اور صورت یہ بھی ہے کہ سیدنا عبد اللہ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم رات کو قیام کرنا چاہو تو نمازِ وتر کو شروع میںیا درمیان میں ادا کرنے کی بجائے آخر میں ادا کرو۔ (مرعاۃ المصابیح: ۲/ ۴) اس دوسری تطبیق کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی روٹین کے ساتھ رات کو قیام کرتا ہے، اس کو آخر میں نمازِ وتر ادا کرنی چاہیے، مثلا ہر کوئی رمضان میں نماز تراویح باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتا ہے، جو نمازِ تہجد ہی کی ایک صورت ہے، ایسی صورت میں اس حدیث کی روشنی مین یہ درست نہیں ہو گا کہ آٹھ رکعت تراویح سے پہلے یا چار رکعتوں کی ادائیگی کے بعد وتر پڑھ لیے جائیں اور باقی نماز بعد میں پوری کر لی جائے۔ لیکن اگر کوئی آدمی رات کو وتر کی نماز پڑھ لیتا ہے اور پھر اسے سابقہ روٹین کے بغیر قیام کرنے کا خیال آ جاتا ہے، یا اگر کوئی آدمی سفر یا کسی اور عذر کی وجہ سے رات کے آخری پہر کو بیدار نہ ہونے کا خطرہ محسوس کرتا ہے، تو اسے چاہیے کہ اس باب کی پہلی روایتیعنی سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی حدیث پر عمل کر لے۔ بہرحال دونوں صورتوں میں نمازِ وتر کے بعد دو رکعت ادا کرنا تو درست ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام مکمل کرنے اور نماز وتر ادا کر چکنے کے بعد دو رکعتیں ادا کیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 744
حدیث نمبر: 2229
عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُوْتِرُ عَلَيْهَا وَيَذْكُرُ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے اور اس پر وتر بھی ادا کر لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2229]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/ 232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4620»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/ 232
حدیث نمبر: 2230
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ عَلَى الْبَعِيرِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پر نمازِ وتر ادا کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2230]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 999، 1000، ومسلم: 700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4519»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 999