الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوِتْرِ وَتَأْكِيدِهِ وَحُكْمِهِ
وتر کی فضیلت، تاکید اور حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2171
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ لَمْ يُوْتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو وتر نہیں پڑھتا، وہ ہم سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2171]
تخریج الحدیث: «ضعيف، الخليل بن مرة ضعفه يحييٰ والنسائي وقال البخاري: منكر الحديث، وفي الاسناد انقطاع، معاوية بن قرة لم يسمع من أبي ھريرة۔ أخرجه اسحاق بن راھويه: 97، وابن ابي شيبة: 2/ 297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9715»
وضاحت: فوائد: … ہم نے ان دونوں احادیث کا حکم (ارواء الغلیل: ۲/ ۱۴۷) سے نقل کیا ہے، جناب شعیب الارنؤوط نے اس کو حسن لغیرہ قرار دیا ہے، لیکن پہلی حدیث کا ضعف سخت ہے۔
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 2172
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوْتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا) ) ، قَالَهَا ثَلَاثًا
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: وتر حق ہے، جو وتر نہیں پڑھتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2172]
تخریج الحدیث: «ضعيف، ابو المنيب العتكي، قال البخاري: عنده مناكير۔ أخرجه ابوداود: 1419، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23407»
وضاحت: فوائد: … ہم نے ان دونوں احادیث کا حکم (ارواء الغلیل: ۲/ ۱۴۷) سے نقل کیا ہے، جناب شعیب الارنؤوط نے اس کو حسن لغیرہ قرار دیا ہے، لیکن پہلی حدیث کا ضعف سخت ہے۔
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 2173
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْجُمَحِيِّ أَخْبَرَهُ وَكَانَ بِالشَّامِ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ مُعَاوِيَةَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُخْدِجِيَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بِالشَّامِ يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَذَكَرَ الْمُخْدِجِيُّ أَنَّهُ رَاحَ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: الْوِتْرُ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى الْعِبَادِ مَنْ أَتَى بِهِنَّ، لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ) )
ابن محیریز جمحی شام میں تھے، انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی پایا تھا، انھوں نے بتایا کہ بنوکنانہ کے مخدجی آدمی نے بتلایا کہ شام میں سکونت پذیر ایک انصاری آدمی ابو محمد نے کہا کہ وتر واجب ہے، یہ سن کر مخدجی، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان کو بتایا کہ ابو محمدانصاری کہہ رہا ہے کہ وتر واجب ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ بولا ہے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جس نے ان کو ادا کیا اور کسی کے حق کو کمزور سمجھتے ہوئے ان میں سے کسی نماز کو ضائع نہیں کیا، تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے یہ عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، لیکن جس نے ان کو ادا نہ کیا تو اس کے لئے اللہ کے ہاں کوئی عہد نہیں ہے، اگر اس نے چاہا تو اسے عذاب دے گا اور چاہا تو بخش دے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2173]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1420، والنسائي: 1/ 230، وابن ماجه: 1401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23069»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1420
حدیث نمبر: 2174
عَنْ نَافِعٍ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ أَوَاجِبٌ هُوَ؟ فَقَالَ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ
جنابِ نافع کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا کہ کیایہ نماز واجب ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور مسلمانوں نے نمازِ وتر پڑھی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2174]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 295، 14/ 236، ومالك في المؤطا: 1/ 124 بلاغا، وابن عدي في الكامل: 5/ 1680، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4834، 5216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5216»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 295
حدیث نمبر: 2175
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَرَأَيْتَ الْوِتْرَ أَسُنَّةٌ هُوَ؟ قَالَ: مَا سُنَّةٌ؟ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ، قَالَ: لَا، أَسُنَّةٌ هِيَ؟ قَالَ: مَهْ، أَتَعْقِلُ؟ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ
۔ (دوسری سند)ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: وتر کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ سنت ہے؟ انہوں نے کہا: سنت کیا ہوتی ہے؟ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز وتر پڑھی ہے اور مسلمانوں نے بھی یہ نماز پڑھی ہے۔ اس نے کہا: نہیں، نہیں، میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیاوہ سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا: ٹھہر جا ذرا، کیا تیری عقل کام کرتی ہے؟ میں کہہ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ وتر پڑھی ہے اور مسلمانوں نے بھی ہے، (لہٰذا ہمیں پڑھنی چاہیے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2175]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4834»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4834
حدیث نمبر: 2176
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ قَاضِي إِفْرِيقِيَّةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ الشَّامَ وَأَهْلُ الشَّامِ لَا يُوْتِرُونَ، فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: مَا لِي أَرَى أَهْلَ الشَّامِ لَا يُوْتِرُونَ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: وَوَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (زَادَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ، وَوَقْتُهَا مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ) )
قاضی افریقہ عبد الرحمن بن رافع تنوخی سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام میں آئے، جبکہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے تھے، انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے؟ انھوں نے کہا: کیایہ نماز ان پر ضروری ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے ایک اور نماز دی ہے اوروہ وتر ہے اور اس کا وقت عشاء سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2176]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحييح، وھذا اسناد ضعيف، عبيد الله بن زحر وعبد الرحمن بن رافع التنوخي ضيعفان، ثم انه منقطع، عبد الرحمن بن رافع لم يدرك معاذا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22446»
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحييح
حدیث نمبر: 2177
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وتر کی نماز فرض نمازوں کی طرح حتمی نہیں ہے، بلکہ یہ سنت ہے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسنون قرار دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2177]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه الترمذي: 453، 454، وابن ماجه: 1169، والنسائي: 3/ 228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 761، 1262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 761»
وضاحت: فوائد: … نماز وتر کے واجب یا سنت ہونے کے بارے میں مذکورہ بالا اور دیگر کئی احادیث پائی جاتی ہیں، چونکہ بعض احادیث میں نماز وتر کا حکم بھی دیا گیا ہے، اسی قسم کی حدیث پر بحث کرتے شیخ البانی کہتے ہیں: اس حدیث میں نماز وتر پڑھنے کا حکم دیا گیا اور امر کا ظاہری معنی وجوب کا تقاضا کرتا ہے، احناف اسی کے قائل ہے، لیکن جمہور علما کے نزدیک نمازِ وتر واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے۔ اگر انتہائی قطعی دلائل کی روشنی میں ایک دن اور رات میں حصر کے ساتھ صرف پانچ فرض نمازوں کا تذکرہ نہ ہوتا تو احناف کا قول برحق ہوتا۔ لیکن ایک دن میں صرف پانچ نمازوں کی فرضیت پر دلالت کرنے والی احادیث کی روشنی مین یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس حدیث ِ مبارکہ میں دیا گیا حکم وجوب کے لیے نہیں، بلکہ استحباب کی تاکید کے لیے ہے۔ اس تاویل پر حیرانگی کی ضرورت نہیں کیونکہ احادیث مبارکہ میں مذکورہ کئی اوامر کو قطعی دلائل سے کم اہمیت والے قرائن کی روشنی میں وجوب سے پھیر دیا گیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس معاملے احناف نے خود امر کے حقیقی معانی سے انحراف کیا ہے اور نماز وتر کو پانچ نمازوں کی طرح واجب نہیں قرار دیا۔ ان کا خیال ہے کہ فرض نمازوں اور سنت نمازوں کے درمیان کا مرتبہ نماز وتر کا ہے، ثبوت کے لحاظ سے یہ نماز، فرض نمازوں سے کمزور اور تاکید کے اعتبار سے سنت نمازوں سے قوی ہے۔ واضح رہے کہ حنفیوں کے اس قول کی بنیاد ان کی مخصوص اور جدید اصطلاح پر ہے، صحابہ کرام اور سلف صالحین اس اصطلاح سے غیر متعارف تھے۔ اِن کا خیال ہے کہ ثبوت اور ثواب کے لحاظ سے واجب اور فرض میں فرق ہے، ان کی کتب میں مزید تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔ احناف کی اصطلاح کا مطلب یہ ہوا کہ وتر کی نماز ترک کرنے والے کو فرض نماز ترک کرنے والے کی بہ نسبت کم عذاب دیا جائے گا، یہی ان لوگوں کے تقلیدی مسلک کا تقاضا ہے۔ اِن سے پوچھا جائے گا کہ جب ایک بدو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے عزم کا یوں اظہار کیا تھا کہ وہ ان پانچ فرض نمازوں کی ادائیگی میں کوئی کمی نہیں کرے گا، لیکن ان سے زیادہ بھی نہیں پڑھے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ آدمی اپنے دعوے میں سچا ہے تو کامیاب ہو جائے گا۔ (بخاری، مسلم) سوال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف پانچ نمازوں کی ادائیگی پر کامیابی کی جو بشارت سنائی ہے، کیا اس کے ساتھ وتر کی نماز ترک کرنے کی وجہ سے عذاب بھی ہوگا؟ کوئی شک نہیں کہ بدو کے عزم پر کامیابی وکا مرانی کی بشارت سنانا وتر کو غیر واجب ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، اسی لیے جمہور علما کا اِس نماز کے سنت ہونے اور واجب نہ ہونے پر اتفاق ہے اور یہی مسلک برحق ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم خیر خواہی کرتے ہوئے اور وعظ و نصیحت کرتے ہوئے کہیں گے کہ نمازِ وتر کا اہتمام کیا جائے اور اس معاملے میں کاہلی و سستی برتنے سے گریز کیا جائے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۱۰۸)
مزید دو دلائل پر غور کریں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تھا، تو ان کو جو ہدایات دی تھیں، ان میں سے ایکیہ تھی: ((فَاَعْلِمْھُمْ اَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوٰاتٍ فِیْ الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ۔)) یعنی: ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)) ہمارے نزدیک وتر کے واجب نہ ہونے کی سب سے واضح دلیلیہی حدیث ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے تھوڑا عرصہ پہلے سیدنا معاذ کو یمن کی طرف بھیجا تھا، لیکن صرف پانچ نمازوں کی تعلیم دینے کی ہدایت کی تھی۔ قارئین کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ وتر نمازِ عشاء کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ رات کی علیحدہ نماز ہے، اگر اس کو فرض سمجھا جائے تو ایک دن رات میں چھ نمازیں بنتی ہیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی کے آخری ایام میں پانچ نمازوں کی تلقین کر رہے ہیں۔
سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُسَبِّحُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ قِبَلَ اَیِّ وَجْہٍ تُوَجِّہُ وَیُوْتِرُ عَلَیْھَا غَیْرَ اَنَّہٗلَایُصَلِّیْ عَلَیْھَا الْمَکْتُوْبَۃَ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھتے تھے، جس جہت کی طرف وہ متوجہ ہوتی (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کی کوئی پروا نہ کرتے تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ وتر بھی سواری پر ادا کر لیتے تھے، لیکن فرضی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ (مسلم: ۷۰۰) اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ وتر نفل ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر اس کی ادائیگی کر لیتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف نفلی نماز سواری پر پڑھا کرتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ مجبوری میں فرض نماز بھی سواری پر ادا کی جا سکتی ہے۔
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اہل نجد میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، …، اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِیْ الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ۔)) قَالَ: ھَلَ عَلَیَّ غَیْرُھَا؟ قَالَ: ((لَا، اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ۔)) … ایک دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر کوئی اور نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل پڑھو۔ یہ ساری باتیں سن کر اس آدمی نے کہا تھا کہ میں نہ ان (فرائض) میں کمی کروں گا اور نہ ان سے زیادہ کچھ کروں گا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر یہ آدمی اپنے دعوے میں سچا ہے تو کامیاب ہو جائے گا۔ (بخاری، مسلم) شیخ البانی نے اسی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے۔ امام احمد، امام شافعی، امام مالک اور جمہور علما کا بھییہی مسلک ہے کہ وتر کا حکم سنت مؤکدہ کا ہے۔ مذکورہ بالا دلائل کی روشنی مین یہ کہنا درست ہے کہ وتر نفلی نماز ہے، چونکہ یہ دلائل قوی ہیں، اس لیے جن احادیث ِ مبارکہ میں نمازِ وتر کا حکم دیا گیا ہے، اس حکم سے مراد استحباب لیں گے، نہ کہ وجوب، مذکورہ بالا احادیث اس حکم کو وجوب سے استحباب کی طرف پھیرنے کے لیے قرینہ صارفہ ہیں۔
مزید دو دلائل پر غور کریں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تھا، تو ان کو جو ہدایات دی تھیں، ان میں سے ایکیہ تھی: ((فَاَعْلِمْھُمْ اَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوٰاتٍ فِیْ الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ۔)) یعنی: ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)) ہمارے نزدیک وتر کے واجب نہ ہونے کی سب سے واضح دلیلیہی حدیث ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے تھوڑا عرصہ پہلے سیدنا معاذ کو یمن کی طرف بھیجا تھا، لیکن صرف پانچ نمازوں کی تعلیم دینے کی ہدایت کی تھی۔ قارئین کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ وتر نمازِ عشاء کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ رات کی علیحدہ نماز ہے، اگر اس کو فرض سمجھا جائے تو ایک دن رات میں چھ نمازیں بنتی ہیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی کے آخری ایام میں پانچ نمازوں کی تلقین کر رہے ہیں۔
سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُسَبِّحُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ قِبَلَ اَیِّ وَجْہٍ تُوَجِّہُ وَیُوْتِرُ عَلَیْھَا غَیْرَ اَنَّہٗلَایُصَلِّیْ عَلَیْھَا الْمَکْتُوْبَۃَ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھتے تھے، جس جہت کی طرف وہ متوجہ ہوتی (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کی کوئی پروا نہ کرتے تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ وتر بھی سواری پر ادا کر لیتے تھے، لیکن فرضی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ (مسلم: ۷۰۰) اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ وتر نفل ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر اس کی ادائیگی کر لیتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف نفلی نماز سواری پر پڑھا کرتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ مجبوری میں فرض نماز بھی سواری پر ادا کی جا سکتی ہے۔
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اہل نجد میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، …، اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِیْ الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ۔)) قَالَ: ھَلَ عَلَیَّ غَیْرُھَا؟ قَالَ: ((لَا، اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ۔)) … ایک دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر کوئی اور نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل پڑھو۔ یہ ساری باتیں سن کر اس آدمی نے کہا تھا کہ میں نہ ان (فرائض) میں کمی کروں گا اور نہ ان سے زیادہ کچھ کروں گا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر یہ آدمی اپنے دعوے میں سچا ہے تو کامیاب ہو جائے گا۔ (بخاری، مسلم) شیخ البانی نے اسی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے۔ امام احمد، امام شافعی، امام مالک اور جمہور علما کا بھییہی مسلک ہے کہ وتر کا حکم سنت مؤکدہ کا ہے۔ مذکورہ بالا دلائل کی روشنی مین یہ کہنا درست ہے کہ وتر نفلی نماز ہے، چونکہ یہ دلائل قوی ہیں، اس لیے جن احادیث ِ مبارکہ میں نمازِ وتر کا حکم دیا گیا ہے، اس حکم سے مراد استحباب لیں گے، نہ کہ وجوب، مذکورہ بالا احادیث اس حکم کو وجوب سے استحباب کی طرف پھیرنے کے لیے قرینہ صارفہ ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه الترمذي: 453
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهِ
وتر کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2178
عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا بَصْرَةَ حَدَّثَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ زَادَكُمْ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ، فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ) ) ، قَالَ أَبُو تَمِيمٍ: فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ فَسَارَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَى أَبِي بَصْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قَالَ عَمْرٌو؟ قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابو تمیم جیشانی سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نماز اور دی ہے اور وہ وتر ہے،تم اس کو نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانےوقت میں ادا کیا کرو۔ ابو تمیم کہتے ہیں: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مسجد میں سیدنا ابو بصرۃ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان سے کہا: جو بات سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کیا آپ نے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، انھوں نے کہا: ہاں، میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2178]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 4492، والطبراني: 2168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24352»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 4492
حدیث نمبر: 2179
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَزَادَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى أَبِي بَصْرَةَ فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي دَارَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا أَبَا بَصْرَةَ! أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَادَكُمْ صَلَاةً، صَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، الْوِتْرُ الْوِتْرُ) ) ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ
۔ (دوسری سند)اسی طرح ہی ہے، البتہ کچھ تفصیل اس طرح ہے: تو ہم سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان کو اس دروازے کے پاس پایا جو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب تھا، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو بصرہ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک اور نماز دی ہے، تم اس کو نماز عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانی وقت میں ادا کیا کرو، وہ وتر ہے، وہ وتر ہے۔؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2179]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الحاريث في مسنده: 227، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27771»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الحاريث في مسنده : 227
حدیث نمبر: 2180
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ ضِفْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَهُ فَضَرَبَهَا وَقَالَ: يَا أَشْعَثُ! اِحْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا، حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْأَلِ الرَّجُلَ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ
اشعث بن قیس کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا، پہلے تو انہوں نے اپنی بیوی کو پکڑ کر مارا اور پھر کہا: اے اشعث! تین چیزیں مجھ سے یاد کرلو، میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یاد کی تھیں، آدمی سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے، وتر ادا کیے بغیر نہ سوؤ اور تیسری بات میں بھول گیا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2180]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن المسلمي۔ أخرجه ابوداود: 2147، وابن ماجه: 1986، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 122»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال جس آدمی کو نہ جاگنے کا خطرہ ہو اس کے لیےیہی بہتر ہے کہ وہ سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کر لیا کرے، لیکن اس نماز کو رات کے آخری ایک تہائی میں ادا کرنا افضل ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن المسلمي۔ أخرجه ابوداود: 2147