🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2162
عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ، فَقَالَتْ: مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ، كَانَ يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ، وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي، وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا
یعلی بن مملک کہتے ہیں: میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز اور قراءت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: تمہارا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور قراءت سے کیا تعلق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جتنا سوتے تھے، اتنی نماز پڑھتے اور جتنی نماز پڑھتے تھے، اتنا سوتے تھے، پھر وہ آپ کی قراءت کی کیفیت بیان کر رہی تھیں کہ وہ ایک ایک حرف کے لحاظ سے بالکل واضح ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2162]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالةيعلي بن مملك۔ أخرجه بتمامه ومختصرا ابوداود: 1466، والترمذي: 2923، والنسائي: 2/ 181، 3/ 214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26526 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27099»
وضاحت: فوائد: … تمہارا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور قراء ت سے کیا تعلق ہے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز اور قراء ت تمہارے بس سے بڑھ کر ہے، تم اس کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ ان ابواب کی اور دیگر کئی احادیث سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل کی کیفیت و کمیت اور معیار و مقدار کا اندازہ ہو جاتا ہے اور قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنے کا مسئلہ واضح ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالةيعلي بن مملك۔ أخرجه بتمامه ومختصرا ابوداود: 1466
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2163
عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیاگیا تو انہوں نے کہا: آپ رات کو سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2163]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، لكن قوله في ھذا الحديث من الليل خطأ من أحد الرواة ولعله من ابي اسحاق نفسه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1234»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2164
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو فرض نماز کے علاوہ سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2164]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1241»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں رات کا ذکر کرنا کسی راوی کی غلطی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کو جو نفلی نماز پڑھتے تھے، ان کی رکعات کی تعداد سولہ تھی، اس کی تفصیل کا ذکر اس عنوان کے تحت دوسری حدیث میں گزر چکا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2165
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ التَّطَوُّعِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَبِالنَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رات) کو آٹھ رکعت نفل نماز اور دن کو بارہ رکعت ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2165]
تخریج الحدیث: «سعيد بن خثيم وفضيل بن مرزوق صدوقان يھمان۔ أخرجه ابويعلي: 495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1261»
وضاحت: فوائد: … ابو اسحاق سے صحیح اسانید سے مروی روایات میں دن میں سولہ رکعت نفلی نماز کا ذکر ہے، جیسا کہ پچھلی حدیث کی شرح میں حوالہ دیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
سعيد بن خثيم وفضيل بن مرزوق صدوقان يھمان۔ أخرجه ابويعلي: 495
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2166
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ قَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَكَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ مِنْهُ شَيْئًا
حمید کہتے ہیں: سیدناانس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا: ہم نہیں چاہتے تھے کہ رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں، مگر ہم آپ کو ایسے ہی دیکھ لیتے اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہم آپ کو سویا ہوا دیکھیں مگر ہم آپ کو ایسےبھی دیکھ لیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مہینہ میں اتنے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ماہ کا کوئی روزہ ترک نہیں کریں گے، لیکن پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے ترک کرنا شروع کرتے تو ہم کہتے کہ اب اس ماہ کا کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2166]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12035»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری رات سوئے رہتے اور نہ ساری رات قیام کرتے، بلکہ وقفے وقفے سے دونوں کام کرتے رہتے، اس طرح کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیام کرتے دیکھ لیتا اور کوئی سوتے ہوئے دیکھ لیتا۔
مطلبیہ ہے کہ آپ ایک عادت پر استمرار نہیں کرتے تھے۔ کبھی رات کے ایک حصہ میں قیام کر رہے ہیں، تو اس حصہ میں قیام کرنے کی عادت بدل دیتے۔ دیکھنے والا سمجھتا کہ اس وقت میں آپ کی عادت قیام کرنے کی ہے تو قیام کر رہے ہوں گے لیکن آپ نے اس وقت قیام کی بجائے آرام کرنا شروع کر دیا ہوتا۔ اسی طرح آرام کے حوالے سے ایک
وقت کی عادت بدل دیتے۔ گویا کبھی پہلی رات آرام کرنے کی عادت بدل کر قیام کرنا شروع کر دیا کبھی درمیانی رات قیام کرنے کی عادت بدل کر آرام کرنا شروع کر دیا۔ وَ عَلٰی ہٰذَا الْقِیَاسِ۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1141
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2167
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيهِ وَضُوءَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ كُنْتُ أَنَامُ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْمَعُهُ بَعْدَ هَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَأَسْمَعُهُ بَعْدَ هَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (وَفِي رِوَايَةٍ:) ثُمَّ يَقُولُ: ( (سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ) ) الْهَوِيَّ) )
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتا تھا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کا پانی دے سکوں، ایک روایت میں ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے میں سویا کرتا تھا، میں آپ کو رات کا ایک حصہ گزرنے کے بعد سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے ہوئے سنتا اور پھر رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتے ہوئے سنتا اور ایک روایت میں ہے: میں آپ کو رات کا کچھ حصہ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ کہتے ہوئے سنتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2167]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 3416، والنسائي: 3/ 209، وابن ماجه: 3879، والطيالسي: 1172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16574، 16575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16692»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت یہ ہوا کہ نمازِ تہجد کی ساری کیفیات اور اذکار میں طوالت ہوتی تھی۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 3416
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. (أبواب الوتر)
وتر کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: Q2168]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوِتْرِ وَتَأْكِيدِهِ وَحُكْمِهِ
وتر کی فضیلت، تاکید اور حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2168
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ! أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو، یقینا اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2168]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، ابن ابي زائدة قد توبع۔ أخرجه ابوداود: 1416، وابن ماجه: 1169، والترمذي: 453، والنسائي: 3/ 228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 877، 1262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 877»
وضاحت: فوائد: … احادیث ِ مبارکہ سے نمازِ وتر کییہ تعداد ثابت ہے: ۱، ۳، ۵، ۷، ۹۔ یہ پانچوں کمیتیں طاق ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات بھی طاق ہے، اگرچہ وہ صرف ایک ہے، تینیا پانچ نہیں، لیکن اس سے یہ اندازہ ہوجانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو توحید کس قدر پسند ہے کہ جو چیز طاق ہے، اللہ تعالیٰ اس سے اس وجہ سے محبت کرتا ہے کہ وہ بھی طاق ہے۔ سبحان اللہ۔ اس سے ان لوگوں کو متنبہ ہو جانا چاہیے کہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص چیزوں کو مخلوق کے لیے ثابت کرتے ہیں، مثلا: بشر کو عالم الغیب کہنا، بندے کے لیے نذر و نیاز کرنا، مردوں سے مدد مانگنا، مخلوق کے ماوراء الاسباب سننے کا قائل ہونا اور اس وجہ سے اس کو پکارنا۔ ہمارا نظریہیہ ہے کہ وتر نفلی نماز ہے، آپ سے گزارش ہے کہ درج ذیل تمام احادیث اور ان کے تحت ذکر کردہ فوائد کا بغور مطالعہ کریں۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2169
عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ) ) ، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا إِلَّا وَتْرًا
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے) نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر کام میں وتر (یعنی طاق) کا خیال رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2169]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف عبد الله بن عمر العمري۔ أخرجه البزار: 743، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 877»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2170
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2170]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6410، ومسلم: 2677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7493»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((ان للہ تسعۃ و تسعین اسما، مئۃ غیر واحد، من احصاھا دخل الجنۃ، انہ وتر یحب الوتر۔)) یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں،یعنی ایک کم سو، جس نے ان کو یاد کر لیا وہ جنت میں داخل ہو گا، بیشک اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6410
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں