الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
حدیث نمبر: 2538
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ وَلِصَاحِبٍ لَهُ: ( (إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَقَالَ مَرَّةً فَأَقِيمَا ثُمَّ لِيُؤُمَّكُمَا أَكْبَرُ كُمَا) ) ، قَالَ خَالِدٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: ( (صَلُّوا كَمَا تَرَوْنِي أُصَلِّي) ) )
(دوسری سند)سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اور اس کے ساتھی کو فرمایا: جب نماز کا وقت آجائے، تو تم اذان دینا، پھراقامت کہنا اور جو تم میں بڑا ہے، وہ جماعت کروائے گا۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے کہا: قراءت (کی بنا پر امام بنانے کا)مسئلہ کہاں گیاَ انہوں نے کہا: بیشک وہ دونوں (قراءت اور باقی علم میں) قریب قریب تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نماز اس طرح پڑھنا، جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2538]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15686»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15686
حدیث نمبر: 2539
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ فِي مَنْزِلِهِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! فَإِنَّكَ أَقْدَمُ سِنًّا وَأَعْلَمُ، قَالَ: لَا، بَلْ تَقَدَّمْ أَنْتَ فَإِنَّمَا أَتَيْنَاكَ فِي مَنْزِلِكَ وَمَسْجِدِكَ فَأَنْتَ أَحَقُّ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ أَبُو مُوسَى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: مَا أَرَدْتَّ إِلَى خَلْعِهِمَا؟ أَبِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ أَنْتَ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْخُفَّيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیّدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر گیا، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، انھوں نے مجھے کہا: ابوعبد الرحمن! آگے بڑھو(اور نماز پڑھاؤ)کیونکہ تم زیادہ عمر والے اور زیادہ علم والے ہو، لیکن میں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ خود آگے بڑھیں، کیونکہ ہم آپ کے پاس، آپ کے گھر اور آپ کی مسجد میں آئے ہیں، اس لیے آپ زیادہ حقدار ہیں، پس سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انھوں نے اپنے جوتے اتار دیئے، جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں نے کہا: آپ نے جوتے کیوں اتارے ہیں؟ کیا آپ وادیٔ مقدس میں ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ موزے اور جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2539]
تخریج الحدیث: «صحيح، لم يسمع ابو اسحاق السبيعي من علقمة، لكن تابعه ابو الاحوص، وسماع زھير من ابي اسحاق السبيعي بعد الاختلاط، لكنه متابع ايضا أخرجه مطولا ومختصرا ابن ماجه: 1039، وابن ابي شيبة: 2/ 417، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 9262، وأخرجه مختصرا الطيالسي: 395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4397»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 2540
عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عَطِيَّةَ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَأْتِينَا فِي مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا فَقُلْنَا: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: لَا، لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يُؤُمَّهُمْ، وَلْيُؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ) )
ابوعطیہ کہتے ہیں: سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس ہماری جائے نمازمیں آتے تھے اور باتیں کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت ہوگیا، ہم نے ان سے کہا: آگے بڑھو اور (نماز پڑھاؤ)، لیکن انھوں نے کہا: نہیں، تمہارا اپنا کوئی آدمی آگے بڑھے، میں تم کو بیان کرتا ہوں کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھ رہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا: جو آدمی دوسروں کی ملاقات اور زیارت کرنے کے لیے ان کے پاس آئے، وہ ان کو امامت نہ کرائے، بلکہ ان کا اپنا کوئی آدمی جماعت کرائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2540]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابي عطية أخرجه الترمذي: 356، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20806»
الحكم على الحديث:
المرفوع منه حسن لغيره
16. بَابُ أَمَامَةِ الْأَعْمَى وَالصَّبِيِّ وَالْمَرْأَةِ بِمِثْلِهَا
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
حدیث نمبر: 2541
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ مَرَّتَيْنِ يُصَلِّي بِهِمْ وَهُوَ أَعْمَى
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینے پر دو دفعہ اپنا نائب مقرر کیا،وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے، جبکہ وہ نابینا تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2541]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 595، 2931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12344، 13000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13031»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 595
حدیث نمبر: 2542
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ جِئْتَ صَلَّيْتَ فِي دَارِي أَوْ قَالَ: فِي بَيْتِي لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاكَ مَسْجِدًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي دَارِهِ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهِ (الحَدِيث)
سیّدنا انس سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیّدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی نظر ختم ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں، تو میں اس جگہ کو مسجد بنالوں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اس کے گھر میں نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2542]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12384، 12788 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12819»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2543
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ فَكَانَ الرُّكْبَانُ (وَفِي رِوَايَةٍ فَكَانَ النَّاسُ) يَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِينَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَدْنُو مِنْهُمْ فَأَسْمَعُ حَتَّى حَفِظْتُ قُرْآنًا، وَكَانَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ بِإِسْلَامِهِمْ فَتْحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ جَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِيهِ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا وَافِدُ بَنِي فُلَانٍ، وَجِئْتُكَ بِإِسْلَامِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَدِّمُوا أَكْثَرَكُمْ قُرْآنًا) ) ، قَالَ: فَنَظَرُوا، وَإِنَّا لَعَلَى حِوَاءٍ عَظِيمٍ، فَمَا وَجَدُوا فِيهِمْ أَحَدًا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ فَصَلَّيْتُ بِهِمْ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ وَكُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ قَلَصَتْ فَتَبْدُو عَوْرَتِي، فَلَمَّا صَلَّيْنَا، تَقُولُ عَجُوزٌ لَنَا ذُهْرِيَّةٌ: غَطُّوا عَنَّا اسْتَقْرِيئَكُمْ، قَالَ: فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا، فَذَكَرَ أَنَّهُ فَرِحَ بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا
سیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ایسی جگہ پر سکونت پذیر تھے،جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے لوٹنے والے لوگ گزرتے تھے، میں ان کے قریب ہوتا اوران سے سنتا تھا، حتیٰ کہ قرآن کا کافی حصہ مجھے یاد ہو گیا، اُدھر لوگ اسلام لانے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے شروع ہو گئے، ایک آدمی آتا اور کہتا: میں بنو فلاں کا نمائندہ ہوں اور ان کے اسلام کی اطلاع دینے کے لیے آیا ہوں۔ میرے باپ بھی اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر گئے، جب وہ اُن کی طرف لوٹے تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم میں قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو اس کو امامت کے لیے آگے کرنا۔ پس انھوں نے دیکھا (کہ کس کو امام بنانا چاہیے) جبکہ وہاں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن وہ ایسا آدمی نہ پا سکے، جو مجھ سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہوتا، اس لیے انہوں نے مجھے امامت کے لیے آگے کردیا اور میں ابھی لڑکا تھا۔ میں نے ان کو نماز پڑھائی اور مجھ پر ایک چادر تھی، جب میں رکوع یا سجدہ کرتا تو کپڑا اوپر اٹھ جاتا تو میری شرمگاہ ننگی ہونے لگتی، جب ہم نے نماز پڑھ لی تو بہت زیادہ عمر والی ایک بوڑھی عورت کہتی ہے: اپنے قاری کا سرین تو ہم سے ڈھانپ لو۔ پھر انہوں نے ایک کپڑاکاٹ کر میرے لیے قمیص بنائی، جس کی وجہ سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2543]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20599»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4302
حدیث نمبر: 2544
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْصَرِفُوا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْ يُؤُمُّنَا؟ قَالَ: ( (أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ) ) ، قَالَ: فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ جَمَعَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا جَمَعْتُ، قَالَ: فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَكُنْتُ أُؤُمُّهُمْ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي، قَالَ: فَمَا شَهِدْتُّ مَجْمَعًا مِنْ جِرْمٍ إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ وَأُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِهِمْ إِلَى يَوْمِي هَٰذَا
(دوسری سند)ان کے باپ کہتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، جب ہم نے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری امامت کون کرائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم میں زیادہ قرآن یاد کرنے والا ہے۔ سیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہماری قوم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کو اتنا قرآن یاد ہوتا، جتنا مجھے تھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے آگے کر دیا، جبکہ میں ابھی لڑکا تھا، میں ان کی امامت کرواتا اور مجھ پر ایک چھوٹی سی چادر ہوتی تھی۔ میں جرم (ایک علاقہ کا نام) میں جس مجمع میں حاضر ہوتا تھا، تو ان کا امام ہوتا اور آج تک میں ہی ان کے جنازے پڑھاتا رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2544]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 587، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20332 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20598»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 587
حدیث نمبر: 2545
عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَهَا أَنْ تُؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا وَكَانَ لَهَا مُؤَذِّنٌ وَكَانَتْ تُؤُمُّ أَهْلَ دَارِهَا
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس نے قرآن مجید یاد کیا ہو ا تھا، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کروایا کرے، پس اس کا ایک مؤذن تھا اور وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرواتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2545]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيفة لجھالة جدة الوليد، شرح ميں مذكوره ابوداود كي روايت كي سند ميں يه راويه نهيں هے۔ أخرجه الدارقطني: 1/403، والبيھقي في ’’معرفة السنن والآثار‘‘: 4/ 230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27826»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيفة لجھالة جدة الوليد
17. بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْإِمَامُ مِنَ التَّخْفِيفِ
اس تخفیف کا بیان جس کا امام کو حکم دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 2546
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ (وَفِي رِوَايَةٍ وَالصَّغِيرَ بَدَلَ السَّقِيمِ) وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، ہاں جب کوئی آدمی اپنی علیحدہ نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے۔ ایک روایت میں کمزور کی بجائے چھوٹے کا لفظ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2546]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 703، ومسلم: 467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10311»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 703
حدیث نمبر: 2547
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ
(دوسری سند) یہ بھی اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس بے شک ان میں کمزور، بڑی عمر والے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2547]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7654»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7654