الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْإِمَامُ مِنَ التَّخْفِيفِ
اس تخفیف کا بیان جس کا امام کو حکم دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 2548
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا عُثْمَانُ! أُمَّ قَوْمَكَ، وَمَنْ أَمَّ الْقَوْمَ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ، فَإِذَا صَلَّيْتَ لِنَفْسِكَ فَصَلِّ كَيْفَ شِئْتَ) )
سیّدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عثمان! اپنی قوم کی امامت کرواؤ، (لیکن یاد رکھو کہ) جو کسی قوم کی امامت کروائے اسے چاہیے کہ وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند ہوتے ہیں، ہاں جب تو علیحدہ اپنی نماز پڑھے تو جیسے چاہے نماز پڑھ۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2548]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 468، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16385»
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 468
حدیث نمبر: 2549
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَانَ آخِرَ شَيْءٍ عَهِدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَنْ قَالَ: ( (تَجَاوَزْ فِي صَلَاتِكَ وَاقْدُرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ مِنْهُمُ الصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ) )
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: آخری چیز، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پابند کیا، یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: (امامت کے دوران) نماز میں تخفیف کر اور لوگوں میں اس بندے کا خیال رکھ جو سب سے زیادہ کمزور ہے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بڑی عمر والے، کمزور اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2549]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18071»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 2550
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ آخِرَ كَلَامٍ كَلَّمَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَعْمَلَنِي عَلَى الطَّائِفِ فَقَالَ: ( (خَفِّفِ الصَّلَاةَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى وَقَّتَ لِي {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} وَأَشْبَاهَهَا مِنَ الْقُرْآنِ) )
(تیسری سند)وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو طائف کا عامل بنایا تو سب سے آخر میں مجھے یہ بات ارشاد فرمائی: نماز کے معاملے میں لوگوں پر تخفیف کرنا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے سورۂ علق اور اس جیسی سورتوں کا تقرر کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2550]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، وقد روي ھذا الحديث بالفاظ مختلفة متقاربة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17916 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18079»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 2551
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَا أَتَأَخَّرُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَخَافَةَ فُلَانٍ يَعْنِي إِمَامَهُمْ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: ( (أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ) )
سیّدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں اپنے فلاں امام (کی لمبی قراءت کے) ڈر سے نماز فجر سے لیٹ ہوتا ہوں۔ میں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے سخت غصے کی حالت میں دیکھا، آپ نے فرمایا: لوگو! تم میں سے بعض لوگ دوسروں کو متنفر کرنے والے ہیں، تم میں سے جو بھی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2551]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 90، 702، 704، 7159، ومسلم: 466، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17192»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 90
حدیث نمبر: 2552
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ (الطَّائِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ أَمَّنَا فَلْيُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَإِنَّ مِنَّا الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَالْمَرِيضَ وَالْعَابِرَ سَبِيلٍ وَذَا الْحَاجَةِ، هَكَذَا كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیّدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو شخص ہمیں امامت کرائے تو وہ رکوع و سجود کو مکمل کیا کرے، کیونکہ ہم میں کمزور، بوڑھے، مریض، مسافر اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں، ہم اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔“ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2552]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 55، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 17/ (222)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18450»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 55
18. بَابُ قِصَّةِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه مَا فِي تَطْوِيلٍ الصَّلَاةِ بِالْمَأْمُومِينَ وَفِيهَا جَوَازُ انْفِرَادِ الْمَأْمُوْمِ لِعُدْرٍ
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
حدیث نمبر: 2553
عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُؤُمُّ قَوْمَهُ فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَهُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ تَجَاوَزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذُ الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ: إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَأَيْتَ طَوَّلْتَ تَجَاوَزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَمُنَافِقٌ أَيَعْجَلُ عَنِ الصَّلَاةِ مِنْ أَجْلِ سَقْيِ نَخْلِهِ؟ قَالَ: فَجَاءَ حَرَامٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنِّي أَرَدْتُّ أَنْ أَسْقِيَ نَخْلًا لِي فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِأُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا طَوَّلَ تَجَاوَزْتُ فِي صَلَاتِي وَلَحِقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ: ( (أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، لَا تُطَوِّلْ بِهِمْ، اقْرَأْ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا} وَنَحْوِهِمَا) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت کرواتے تھے، ایک دن حرام (بن ملحان) رضی اللہ عنہ (مسجد میں) داخل ہوئے، جبکہ وہ اپنی کھجوروں کو سیراب کرنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے، وہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں داخل ہوئے، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نماز کو لمبا کر رہے ہیں تو انھوں نے مختصر سی نماز پڑھی اور اپنی کھجوروں میں جا کر ان کو پانی دینے لگ گئے۔ جب سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کی تو ان کو بتلایا گیاکہ حرام رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تھے، لیکن جب انہوں نے آپ کی طویل نماز دیکھی تو انہوں نے اختصار کے ساتھ اپنی نماز پڑھ لی اور کھجوروں کو پانی دینے کے لیے وہاں چلے گئے ہیں۔ سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک وہ منافق ہے، کیا وہ کھجوروں کو پانی دینے کی خاطر نماز سے جلدی کرتا ہے! سیّدنا حرام رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے جبکہ سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میرا ارادہ کھجوروں کو پانی دینے کا تھا، لیکن میں پہلے مسجد میں آگیا تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لوں۔لیکن جب میں نے اِن کو دیکھا کہ یہ تو طویل نماز پڑھا رہے ہیں تو میں نے اختصار کے ساتھ نماز پڑھی اور اپنی کھجوروں کو پانی دینے کے لیے وہاں چلا گیا، تو سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ میں منافق ہوں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تو فتنہ باز ہے! کیا تو فتنہ باز ہے، ان کو لمبی نماز نہ پڑھایا کر اور سورۂ اعلی، سورۂ شمس اور ان جیسی سورتیں پڑھ لیا کر۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2553]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه البزار: 481، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 11674، والضياء في ’’المختارة‘‘: 2292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12272»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه البزار: 481
حدیث نمبر: 2554
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا وَقَالَ مَرَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِهِ فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ وَقَالَ مَرَّةً الْعِشَاءَ، فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ قَوْمَهُ، فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى، فَقِيلَ: نَافَقْتَ يَا فُلَانُ، قَالَ: مَا نَافَقْتُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، وَإِنَّهُ جَاءَ يُؤُمُّنَا فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَسَأَلَ: ( (يَا مُعَاذُ! أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ بِكَذَا وَكَذَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو فَقَالَ أُرَاهُ قَدْ ذَكَرَهُ) )
سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر وہاں سے لوٹتے اور ہمیں نماز پڑھاتے تھے،ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے اور اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشاء کو مؤخر کر دیا۔ سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (عام عادت کے مطابق) نماز پڑھی، پھر وہ اپنی قوم کی طرف گئے اور نماز میں سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی، (اِس طویل قیام کی وجہ سے) ایک آدمی نے علیحدہ ہو کر نماز پڑھ لی۔ اس سے کہا گیا: او فلاں! تو تو منافق ہو گیا ہے، لیکن اس نے کہا: میں منافق نہیں ہوا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ ا ٓپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر وہ یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرواتے ہیں، ہم اونٹوں والے لوگ ہیں اوراپنے ہاتھ سے کام کرتے ہیں، لیکن جب سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھانے لگے تو انھوں نے سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ کیا تو لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہتا ہے؟ فلاں فلاں سورت پڑھ لیا کر۔ ابوزبیر ((حدیث بیان کرتے ہوئے)) کہتے ہیں: تو سورۂ اعلی اور سورۂ لیل پڑھا کر۔ پھر ہم نے یہ بات عمرو بن دینار کے لیے ذکر کی، تو انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس کو ذکر کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 705، 711، 6106، ومسلم: 465، وابوداود: 600، 790، والنسائي: 2/102، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14190، 14307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14358»
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 705
حدیث نمبر: 2555
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجُ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ نَاضِحَانِ لَهُ وَقَدْ جَنَحَتِ الشَّمْسُ وَمُعَاذٌ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَدَخَلَ مَعَهُ الصَّلَاةَ فَاسْتَفْتَحَ مُعَاذُ الْبَقَرَةَ أَوِ النِّسَاءَ، مُحَارِبٌ الَّذِي يَشُكُّ، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلُ ذَلِكَ صَلَّى ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ: فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْهُ، قَالَ حَجَّاجٌ يَنَالُ مِنْهُ، قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ أَوْ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ؟) ) ، وَقَالَ حَجَّاجٌ: ( (أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ) ) ، فَلَوْلَا قَرَأْتَ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا} فَصَلَّى وَرَاءَ كَ الْكَبِيرُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالضَّعِيفُ، أَحْسِبُ مُحَارِبًا الَّذِي يَشُكُّ فِي الضَّعِيفِ
(دوسری سند)سیّدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک انصاری آدمی آیا، اس کے ساتھ دو اونٹنیاں بھی تھیں، اُدھر سورج غروب ہوچکا تھا اور سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، اس لیے وہ بھی نماز میں شامل ہو گیا، سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے سورۂ بقرہ یا سورۂ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب اس آدمی نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے علیحدہ نماز پڑھ لی اور چلا گیا۔جب اسے پتہ چلا کہ سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے تو اس کی عیب جوئی کی (کہ وہ منافق ہے) تو اس نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ معاذ! کیاتو فتنہ باز ہے؟ تو نے {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} اور {وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا} جیسی سورتیں کیوں نہیں پڑھیں، وجہ یہ ہے کہ تیرے پیچھے بوڑھے، حاجت مند اور کمزور لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2555]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14239»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14239
حدیث نمبر: 2556
عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يُقَالُ لَهُ سُلَيْمٌ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَأْتِينَا بَعْدَ مَا نَنَامُ وَنَكُونُ فِي أَعْمَالِنَا بِالنَّهَارِ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَنَخْرُجُ إِلَيْهِ فَيُطَوِّلُ عَلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ! لَا تَكُنْ فَتَّانًا، إِمَّا أَنْ تُصَلِّي مَعِيَ وَإِمَّا أَنْ تُخَفِّفَ عَلَى قَوْمِكَ) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (يَا سُلَيْمُ! مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟) ) قَالَ: إِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَهَلْ تَصِيرُ دَنْدَنَتِي وَدَنْدَنَةُ مُعَاذٍ إِلَّا أَنْ نَسْأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَنَعُوذَ بِهِ مِنَ النَّارِ) ) ، ثُمَّ قَالَ سُلَيْمٌ: سَتَرَوْنَ غَدًا إِذَا الْتَقَى الْقَوْمُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: وَالنَّاسُ يَتَجَهَّزُونَ إِلَى أُحُدٍ فَخَرَجَ وَكَانَ فِي الشُّهَدَاءِ رَحْمَةُ اللَّهِ وَرِضْوَانُهُ عَلَيْهِ
معاذ بن رفاعہ انصاری، بنو سلمہ کے ایک سُلَیم نامی آدمی سے بیان کرتا ہے، وہ کہتا ہے: اے اللہ کے رسول! سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے پاس (نمازِ عشاء پڑھانے کے لیے) اس وقت آتے ہیں، جب ہم سو چکے ہوتے ہیں، جبکہ دن میں ہم کاموں میں مصروف رہتے ہیں، پھر وہ اذان دیتے ہیں اور جب ہم نماز پڑھنے کے لیے جاتے ہیں تو وہ لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تو فتنہ پیدا کرنے والا نہ بن، یا تو میرے ساتھ نماز پڑھ ((اور واپس جا کر لوگوں کو نماز نہ پڑھا)) اوریا پھر اپنی قوم پر تخفیف کر۔ پھر فرمایا: اے سلیم! تجھے کتنا قرآن یاد ہے؟ اس نے کہا: میں اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے اس کی پناہ مانگتا ہوں، اللہ کی قسم! میں آپ اور معاذ کے گنگنانے کی طرح نہیں گنگنا سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا اور معاذ کی گنگناہٹ بھی یہی ہوتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتے ہیں اور آگ سے اس کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ پھر سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کل دیکھ لوگے جب ان شاء اللہ قوم دشمن سے ملے گی۔ اس وقت لوگ جنگ ِ احد کی تیاری کر رہے تھے۔ پھر وہ نکلا اور (اس دن کے)شہداء میں ہو گیا، اس پر اللہ کی رحمت اور اس کی رضا مندی ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2556]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد منقطع، معاذ بن رفاعة لم يمسع ھذا الحديث من سليم أخرجه البخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 3/ 110، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1/ 409، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 6391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20699 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20975»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2557
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَقَرَأَ فِيهَا {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ} فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَفْرُغَ فَصَلَّى وَذَهَبَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ قَوْلًا شَدِيدًا، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَعْمَلُ عَلَى الْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صَلِّ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ) )
سیّدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بیشک سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی، اوراس میں {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ} سورت کی تلاوت کی، ایک آدمی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی کھڑا ہو گیا اور علیحدہ نماز پڑھ کر چلا گیا، سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق بڑی سخت بات کی۔ وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے معذرت کرتے ہوئے کہا: میں نے پانی ڈھونے کا کام کیا، (اس لیے تھکا ہوا تھا اور اس طرح نماز پڑھ لی)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو) فرمایا: تم سورۂ شمس جیسی سورتوں کے ساتھ امامت کروایا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2557]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، لكن لفظة: ’’فقرأ فيھا: اقتربت الساعة‘‘ شاذ في حديث بريدة الاسلمي، والمحفوظ انه قرأ فيھا سورة البقرة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23008 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23396»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره