🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابٌ فِي آدَابٍ تَتَعَلَّقُ بِخُرُوجِهِنَّ وَصَلَاتِهِنَّ فِي الْمَسْجِدِ
عورتوں کے مسجد کے لیے نکلنے اور اس میں نماز پڑھنے کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2509
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ عَلَى رِقَابِهِمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ، فَيُقَالُ لِلنِّسَاءِ: لَا تَرْفَعْنَ رُؤُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا
سیّدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مرد حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، انھوں نے بچوں کی طرح اپنے ازار گردنوں پر باندھے ہوئے ہوتے تھے، اس لیے عورتوں کو کہا جاتا کہ وہ (سجدوں سے) سروں کو نہ اٹھایا کریں، جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2509]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 362، 814، 1215، ومسلم: 441، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15562، 22810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23198»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 362
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2510
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَثَبَتَ مَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جب عورتیں فرض نمازوں سے سلام پھیرتیں تو (واپسی کے لیے) اٹھ کھڑی ہوتیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد حضرات، جب تک اللہ چاہتا، بیٹھے رہتے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تو وہ سارے کھڑے ہوجاتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2510]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 866، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27223»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 866
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ فَضْلِ الْمَسْجِدِ الْأَبْعَدِ وَكَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ
دور والی مسجد کی اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2511
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَفْضَلُ أَجْرًا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد سے سب سے زیادہ دُور والے، پس سب سے زیادہ دور والے اجر و ثواب میں سب سے زیادہ فضیلت والے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2511]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف، عبد الرحمن بن مھران في عداد المجھولين أخرجه ابوداود: 556، وابن ماجه: 782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8618، 9531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8603»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2512
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي كَثْرَةِ خُطَا الرَّجُلِ إِلَى الْمَسْجِدِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: هَمَمْنَا أَنْ نَنْتَقِلَ مِنْ دُورِنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِقُرْبِ الْمَسْجِدِ فَزَجَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: ( (لَا تُعْرُوا الْمَدِينَةَ، فَإِنَّ لَكُمْ فَضِيلَةً عَلَى مَنْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ بِكُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةٌ) )
ابوزبیرکہتے ہیں: میں نے سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد کی طرف زیادہ قدم چل کر جانے والے آدمی کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نے خود مسجد کے قرب کی خاطراپنے گھروں سے مدینہ میں منتقل ہونا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ڈانٹا اور فرمایا: مدینہ (کی اطراف) کو خالی نہ چھوڑو، بے شک مسجد کے پاس رہنے والوں کی بہ نسبت ہر ایک قدم کے بدلے تمہارے لیے ایک ایک درجہ کی فضیلت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2512]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 665، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14566، 14611 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14666»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 665
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2513
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ: ( (إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟) ) قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَدْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ: ( (يَا بَنِي سَلِمَةَ! دِيَارُكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ، دِيَارُكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ) )
(دوسری سند)سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مسجد کے ارد گرد کچھ جگہ خالی ہو گئی، اس لیے بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، جب یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موصول ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول!ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو سلمہ! اپنے گھروں کو لازم پکڑو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں کو لازم پکڑو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2513]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14620»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14620
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2514
(وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهَ أَنْ تُعْرَى الْمَدِينَةُ، فَقَالَ: ( (يَا بَنِي سَلِمَةَ! أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ؟) ) قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَقَامُوا
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اس میں اس طرح کے الفاظ ہیں: جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی، جبکہ آپ نے مدینہ (کی اطراف) کے خالی ہو جانے کو ناپسند کیا، تو ان کو فرمایا: بنو سلمہ! کیا تم مسجد کی طرف اپنے (قدموں کے) نشانات میں (اللہ تعالیٰ سے) ثواب کی امید نہیں رکھتے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ پھر وہ اسی جگہ پر ٹھہرے رہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2514]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 655، 656، 1887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12056»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 655
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2515
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ لَا أَعْلَمُ رَجُلًا كَانَ أَبْعَدَ مِنْهُ مَنْزِلًا أَوْ قَالَ: دَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَالَ: فَكَانَ يَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ كُلَّهُنَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) ، فَقِيلَ لَهُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا فَرَكِبْتَهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلُمَاتِ؟ فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ دَارِي أَوْ قَالَ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ( (مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ مَا يَسُرُّنِي أَنْ مَنْزِلِي أَوْ قَالَ دَارِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ؟) ) قَالَ: أَرَدْتُّ أَنْ يُكْتَبَ إِقْبَالِي إِذَا أَقْبَلْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي، قَالَ: ( (أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ، أَوْ أَنْطَاكَ اللَّهُ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ) )
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مدینہ میں ایک آدمی تھا، میرے علم کے مطابق اس کا گھر مسجد سے سب سے زیادہ دور تھا، لیکن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام نمازوں میں حاضر ہوتا تھا، اس سے کسی نے کہا: اگر تم گدھا خرید لو اور سخت گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو کر آ جایا کرو؟ لیکن اس نے کہا: میں تو اس چیز پر خوش نہیں ہوں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو۔ جب یہ ساری بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: یہ تو نے کہا کہ میں تو اس چیز پر بھی خوش نہیں ہوں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو، اس سے تیری مراد کیا ہے؟ اس نے کہا: جی میرا مقصد یہ ہے کہ جب میں مسجد کی طرف آؤں تو میرا آنا اور جب میں اپنے گھر کی طرف واپس جاؤں تو میرا واپس جانا لکھا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ سارا کچھ تجھے عطا کر دیا۔ یہ فرمایا: تجھے جس ثواب کی امید تھی، اللہ تعالیٰ نے وہ سارا تجھے عطا کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2515]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 663، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21533»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 663
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الْجَمَاعَةِ بِالسَّكِينَةِ
سکون کے ساتھ جماعت کی طرف چلنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2516
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَلَكِنْ ائْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا) ) ، (وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى) ( (فَاقْضُوا) ) بَدَلَ قَوْلِهِ ( (فَأَتِمُّوا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کھڑی کر دی جائے تو دوڑ کر نہ آیا کرو، بلکہ اس حال میں آؤ کہ تم پر سکون اور باوقار ہو اور(امام کے ساتھ) جتنی نماز مل جائے، وہ پڑھ لو اور جتنی رہ جائے، وہ بعد میں پوری کر لو۔ ایک روایت میں ((فَأَتِمُّوا)) کی بجائے ((فَاقْضُوا)) کے الفاظ ہیں، (دونوں کا معنی ایک ہی ہے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2516]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 602، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7250، 8964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7249»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 602
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2517
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا سَبَقَكُمْ
(دوسری سند) اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ آخری الفاظ اس طرح ہیں: جو پالو اسے پڑھ لواور جو تم سے سبقت لے جائے اس کو بعد میں پورا کر لو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2517]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8951»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8951
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2518
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَاهُمْ فَقَالَ: ( (مَا شَأْنُكُمْ؟) ) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: ( (فَلَا تَفْعَلُوا، إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا) )
سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کے حرکت کرنے کی آواز سنی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو ان کو بلایا اور پوچھا: تم کو کیا ہو گیا تھا؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے نماز کی طرف جلدی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کیا کرو، جب تم نماز کی طرف آؤ تو سکون اور وقار کو لازم پکڑو، جو حصہ (باجماعت) پالو اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے، اسے (بعد میں) پورا کر لو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2518]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 635، ومسلم: 603، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22982»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 635
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں