🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الْجَمَاعَةِ بِالسَّكِينَةِ
سکون کے ساتھ جماعت کی طرف چلنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2519
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى فَانْتَهَى وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ أَوْ انْبَهَرَ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: ( (أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ؟) ) فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ( (أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمْ؟ فَإِنَّهُ قَالَ خَيْرًا أَوْ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا) ) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا أَسْرَعْتُ الْمَشْيَ فَانْتَهَيْتُ إِلَى الصَّفِّ فَقُلْتُ الَّذِي قُلْتُ، قَالَ: ( (لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيَمْشِ عَلَى هِنَتِهِ فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نماز کھڑی کردی گئی، ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، جب وہ مسجد میں پہنچا، تو اس کا سانس پھولا ہوا تھا، جب وہ صف میں کھڑا ہوا تو اس نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریف)۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کی تو پوچھا: کون تھا تم میں کلام کرنے والا؟ لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: کون تھا یہ کلام کرنے والا؟ اس نے اچھی بات ہی کہی ہے، کوئی حرج والی بات نہیں تھی۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تیزی سے چل کر آیا تھا، جب صف میں کھڑا ہوا تو میں نے یہ کلمات کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتے دیکھے، وہ اس کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کلمات کو (پہلے) اوپر لے کر جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کی طرف آئے تو اپنی عادت کے مطابق چل کر آئے، جو نماز پالے اسے پڑھ لے اور جو رہ جائے، اس کو (بعد میں) ادا کر لے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2519]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه مسلم: 600 دون قوله: ((اذا جاء احدكم۔)) وأخرجه ابوداود: 763، والنسائي: 2/132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12034، 12713، 13645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12057»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه مسلم: 600 دون قوله: ((اذا جاء احدكم ۔)) وأخرجه ابوداود: 763
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2520
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: امْشُوا إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُ مِنَ الْهُدَى وَسُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: مسجد کی طرف چل کر آیا کرو، یہی عمل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اور سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2520]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام شيخ الاعمش، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4242»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام شيخ الاعمش
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2521
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ فَخَطْوَةٌ تَمْحُو سَيِّئَةً وَخَطْوَةٌ تُكْتَبُ حَسَنَةً ذَاهِبًا وَرَاجِعًا) )
سیّدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جماعت والی مسجد کی طرف جاتا ہے تو اس کا ایک قدم ایک برائی کو مٹا دیتا ہے اور ایک قدم نیکی لکھ دیا جاتا ہے، (مسجد کی طرف) جاتے ہوئے بھی اور واپس لوٹتے ہوئے بھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2521]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا سند ضعيف لضعف ابن لھيعة، وحيي بن عبد الله مختلف فيه أخرجه ابن حبان: 2039، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6599»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2522
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَعْجَلْ أَحَدُكُمْ عَنْ طَعَامِهِ لِلصَّلَاةِ) ) ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ الْإِقَامَةَ وَهُوَ يَتَعَشَّى فَلَا يَعْجَلُ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نماز کے لیے اپنے کھانے سے جلدی نہ کرے۔ نافع کہتے ہیں: جب سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا اس حال میں اقامت سنتے کہ وہ رات کا کھانا کھا رہے ہوتے تو وہ (کھانے سے) جلدی نہیں کرتے تھے۔“ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2522]
تخریج الحدیث: «أخرج بنحوه البخاري: 6463، 5464، ومسلم: 559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4780، 5806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4780»

الحكم على الحديث:
أخرج بنحوه البخاري: 6463
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَنْ مَشَى إِلَى الْجَمَاعَةِ كَمَا أُمِرَ فَسُبِقَ بِهَا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ أَدْرَكَهَا
جو شخص شرعی حکم کے مطابق جماعت کے لیے نکلا، لیکن اس سے پہلے نماز پڑھ لی گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2523
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وَضُوءَهُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا أَعْطَاهُ اللَّهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا أَوْ حَضَرَهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر وہ (مسجد کی طرف) گیا، لیکن اس نے لوگوں کو پایا کہ وہ تو نماز پڑھ چکے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو اس نماز میں حاضر ہونے والے کے برابر اجر عطا کرے گا اور یہ ان کے اجروں میں سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2523]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8934»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 564
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2524
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ فِي صَلَاةٍ إِذَا مَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلَاةِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے، تو نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اس حال میں آؤ کہ تم پر سکون اور وقار ہو، پھر جو پا لو وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے بعد میں پورا کر لو، کیونکہ جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2524]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 602، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7230، 9930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9932»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 602
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. (أبواب الإمامة وصفة الائمة واحكام تتعلق بهمى)
امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: Q2525]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2525
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ (وَفِي لَفْظٍ أَمِينٌ) ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امین ہوتا ہے، اے اللہ! تو اماموں کو ہدایت دے (یعنی ان کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق دے) اور مؤذنوں (سے ہوجانے والی کمی بیشی) کو معاف فرمادے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2525]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة الرجل الذي روي عنه الاعمش أخرجه ابوداود: 517، والترمذي: 207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7169، 7818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7169»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2526
عَنْ أَبِي عَلِيِّ الْهَمَدَانِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ فِي سَفَرٍ وَمَعَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُمَّنَا، فَقَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ وَأَتَمَّ الصَّلَاةَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ) )
ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں: میں ایک سفر میں نکلا، ہمارے ساتھ سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے کہا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے، آپ اصحاب ِ رسول میں سے ہیں، اس لیے آپ ہمیں امامت کرائیں، لیکن انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے لوگوں کی امامت کروائی اور صحیح وقت کا اہتمام کیا اور نماز کو مکمل طور پرادا کیا، تو اس کو بھی ثواب ملے گا ا ور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے ان امور میں کسی چیز کی کمی کی، تو اس کا گناہ اس امام پر ہوگا، نہ کہ مقتدیوں پر۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2526]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17438»

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 580
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2527
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يُصَلُّونَ بِكُمْ، فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تم کو نماز پڑھائیں گے، اگر انھوں نے درست انداز میں نماز پڑھی تو تمہیں بھی ثواب ملے گا اور ان کو بھی، اور اگر انھوں نے غلطی کی تو تمہیں تو ثواب ملے گا اور ان پر گناہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2527]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 694، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8648»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 694
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں