🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ إِطَالَةِ الْإِمَامِ الرَّكْعَةَ الْأُولَى وَانْتِظَارِ مَنْ أَحْسَنَ بِهِ دَاخِلًا لِيُدْرِكَ الرَّكْعَةَ
امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان¤جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2588
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ظہر کی نماز کھڑی ہو جاتی اور ہم میں سے ایک آدمی بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، پھر (گھر آ کر) وضو کرتا، پھر جب وہ مسجد کی طرف آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک پہلی رکعت میں ہی ہوتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2588]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11327»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2589
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤُمُّنَا يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَيُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَيُقَصِّرَ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، يُطَوِّلُ الْأُولَى وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں امامت کرواتے، ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرتے اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت بھی سنا دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی رکعت کو لمبا اور دوسری رکعت کو مختصر کرتے، نماز فجر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہی عادت تھی کہ پہلی رکعت کو طویل اور دوسری کو مختصر کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قراءت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2589]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 762، 779، ومسلم: 451، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19418، 22520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22887»

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 762
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ جَوَازِ جَهْرِ الْإِمَامِ بِتَكْبِيرِ الصَّلَاةِ لِيَسْمَعَهُ الْمَأْمُومُونَ وَحُكْمِ التَّسْمِيعِ مِنْ غَيْرِ الْإِمَامِ
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان¤اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2590
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اسْتَكْأَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ غَابَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا صَلَّى قِيلَ لَهُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَى صَلَاتِكَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ! وَاللَّهِ! مَا أُبَالِي اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ، هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سعید بن الحارث کہتے ہیں: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے یا ویسے غائب تھے، اس لیے سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد، سجدوں سے سر اٹھاتے وقت، سجدے کرتے وقت اور دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہا۔ جب انھوں نے اس طریقے پر نماز مکمل کی تو کسی نے کہا: لوگ تمہاری نماز سے اختلاف کر رہے ہیں، (یہ سن کر) وہ تشریف لائے اور منبر کے پاس کھڑے ہو کر کہا: لوگو! اللہ کی قسم! مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تمہاری نماز اس سے مختلف ہے یا نہیں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2590]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11157»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 825
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2591
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَكْأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ … الحَدِيث
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوگئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہتے اور لوگوں کو اپنی تکبیر کی آواز سناتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2591]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14644»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 413
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ انْعِقَادِ الْجَمَاعَةِ بِإِمَامٍ وَمَأْمُومٍ سَوَاءً كَانَ الْمَأْمُومُ رَجُلًا أَمْ صَبِيًّا أَمِ امْرَأَةً
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2592
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي فَقَالَ: ( (أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَٰذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ) ) ، فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (هَٰذَانِ جَمَاعَةٌ) )
سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو اکیلا نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: کیاکوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے۔پس ایک آدمی اٹھا اور اس کے ساتھ نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”یہ دو آدمی جماعت ہیں۔“ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2592]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف جدّا، عبيد الله بن زحر الافريقي ضعيف، وعلي بن يزيد الالھاني واھي الحديث أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7974، وفي ’’الاوسط‘‘: 6620، وأخرجه مرسلا ابوادود في ’’المراسيل‘‘: 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22542»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2593
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِذُؤَابَةٍ كَانَتْ لِي أَوْ بِرَأْسِي حَتَّى جَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس رات ان ہی کے پاس تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تاکہ آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر کے بالوں کو یا میرے سرکو پکڑا اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2593]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 728، 5919، ومسلم: 192، 193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1843»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 728
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2594
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، وَرَحِمَ اللَّهَ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو رات کو کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتاہے اور وہ بھی نماز پڑھتی ہے۔ اگر وہ اٹھنے سے انکار کرتی ہے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے جو رات کو اٹھتی ہے اور نماز پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بھی جگاتی ہے اور وہ بھی نماز پڑھتا ہے، اگر وہ اٹھنے سے انکار کرتا ہے تو وہ اس کے منہ پر چھینٹے مارتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2594]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي أخرجه ابوداود: 1308، 1450، وابن ماجه: 1336، والنسائي: 3/205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7404»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي أخرجه ابوداود: 1308
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. (أبواب ما يتعلق بالمأمومين وأحكام الاقتداء)
مقتدیوں سے متعلقہ اور اقتداء کے احکام کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: Q2595]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ وُجُوبِ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ وَالنَّهْيِ عَنْ مُسَابَقَةِ
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2595
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا هِشَامٌ قَالَ ثَنَا قَتَادَةُ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ حِينَ جَلَسَ أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ، فَلَمَّا قَضَى الْأَشْعَرِيُّ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، (قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي: أَرَمَّ السُّكُوتُ) قَالَ: لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا، لِحِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَاللَّهِ! إِنْ قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْعَكَنِي بِهَا، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُّ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: أَلَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ؟ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ: ( (أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيُؤُمَّكُمْ أَقْرَأُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ {وَلَا الضَّالِّينَ} فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ) ) ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (فَتِلْكَ بِتِلْكَ، فَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ) ) ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (فَتِلْكَ بِتِلْكَ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، الْسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، الْسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) )
حطان بن عبد اللہ رقاشی کہتے ہیں: سیّدنا ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو ایک نماز پڑھائی، جماعت میں سے ایک آدمی نے بیٹھتے وقت کہا: نماز کو نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ ملا دیا گیا ہے، جب سیّدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو لوگوں پرمتوجہ ہوئے اور کہا: فلاں فلاں بات کس نے کہی ہے؟ لوگ خاموش رہے۔ (ابوعبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے کہا اَرَمَّ کے معانی خاموشی کے ہیں۔) تو انھوں نے حطان بن عبد اللہ سے کہا: اے حطان! شاید تو نے ہی یہ بات کہی ہو؟ انھوں نے جواباً کہا:اللہ کی قسم! میں نے یہ بات نہیں کہی، ہاں مجھے یہ ڈر ضرور تھاکہ آپ مجھے ڈانٹیں گے۔ اتنے میں ایک آدمی نے کہا: میں نے یہ کلمہ کہا تھا اور میرا ارادہ تو خیر وبھلائی کا ہی تھا۔سیّدنا ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہیں علم نہیں کہ تم اپنی نماز میں کیا کہتے رہتے ہو، بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جس میں ہمارے دین کے معاملات کی تعلیم دی اور نماز کا طریقہ واضح کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کیا کرو، جسے زیادہ قرآن مجید یاد ہو، وہ امامت کروائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اورجب وہ {وَلَاالضَّالِّیْنَ} کہے تو تم آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرمائیں گے، پھر جب امام تکبیر کہے اور رکوع کرے، تو تم تکبیر کہو اور رکوع کرو،پس بیشک امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے رکوع سے سر اٹھاتا ہے، یہ (امام کا پہلے جانا) تمہارا (تاخیر سے اٹھنے کے) بدلے ہے، جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہو، اللہ تمہاری بات سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی زبان پر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فرمایا ہے اور جب امام تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو تم تکبیر کہہ کر سجدہ کرو، پس بے شک امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے اٹھتا ہے، یہ (اُس کا پہلے جانا) تمہارے اس (تاخیر سے اٹھنے) کے بدلے میں ہے۔ جب نمازی قعدہ میں ہو تو وہ سب سے پہلے یہ کہے: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ، … اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ (تمام قولی، مالی اور بدنی عبادتیں صرف اللہ کے لیے ہیں، اے نبی: آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر (بھی) سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2595]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19899»

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 404
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2596
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ (وَفِي رِوَايَةٍ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَفِي أُخْرَى: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ) وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امام صرف اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے تم اس پر اختلاف نہ کیا کرو، جب وہ تکبیر کہہ لے تو تم تکبیر کہو اور تم اس وقت تک تکبیر نہ کہو جب تک وہ تکبیر نہ کہہ لے، اسی طرح جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک وہ رکوع نہ کرے، جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہو، ایک روایت میں اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ اور ایک میں رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ہے، جب امام سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور اس کے سجدہ کرنے سے پہلے سجدہ نہ کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2596]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 734، مسلم: 415، 417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7144، 8502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8483»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 734
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں