الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ مَوْقِفِ الْوَاحِدِ مِنَ الْإِمَامِ
امام کے ساتھ ایک آدمی کے کھڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2616
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَرَّنِي فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلَاتِهِ خَنَسْتُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِي: ( (مَا شَأْنِي أَجْعَلُكَ حِذَاءِي فَتَخْنِسُ؟) ) فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ، قَالَ: فَأَعْجَبْتُهُ، فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الصَّلَاةَ، فَقَامَ فَصَلَّى، مَا أَعَادَ وُضُوءًا
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات کے آخری حصے میں آیا آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھینچ کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز میں متوجہ ہوگئے تو میں تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور جب فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا: کیا بات ہے،میں تجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر رہا تھا اور تو پیچھے ہٹ رہا تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کسی کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ آپ کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھے، حالانکہ آپ تو اللہ کے وہ رسول ہیں،جن کو اللہ تعالیٰ نے (بہت کچھ) عطا کیا۔ میں نے یہ بات کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعجب میں ڈال دیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے دعا کی اللہ تعالیٰ مجھے علم وفہم میں زیادہ کر دے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سو گئے ہیں، حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھرسیّدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اورکہا: اے اللہ کے رسول! نماز، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور دوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2616]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 233، وأخرجه باختصار ابن ماجه: 423، وأخرجه مسلم مطولا ولم يذكر بعضه: 763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1912، 2567، 3060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3060»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کہ سونے سے آپ کا وضو ٹوٹتا نہیں تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل جاگ رہا ہوتا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 233
حدیث نمبر: 2617
عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: يَقُومُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقُلْتُ حَدَّثَنِي سُمِيعُ النَّجَّارُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ، فَأَخَذَ بِهِ
اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو امام کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، انھوں نے کہا: وہ امام کی بائیں جانب کھڑا ہوگا۔ میں نے کہا: مجھے تو سُمیع زیات نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ پھر ابراہیم نے اس حدیث کو تسلیم کر لیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2617]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الدارمي: 641، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3359»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الدارمي: 641
حدیث نمبر: 2618
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور وہ اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کیے ہوئے تھے۔ میں (نماز پڑھنے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2618]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 766، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14849»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 766
حدیث نمبر: 2619
عَنْ جَبَّارِ بْنِ صَخْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ: فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَحَوَّلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْنَا فَلَمْ يَلْبَثْ يَسِيرًا أَنْ جَاءَ النَّاسُ
سیّدنا جبار بن صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے پھیر کر اپنی دائیں جانب کردیا، اور ہم نماز پڑھنے لگے، ابھی تھوڑی دیر بھی نہیں گزری تھی کہ لوگ بھی آگئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2619]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي، وابواويس صدوق سييء الحفظ أخرجه ابن الاثير في ’’اسد الغابة‘‘: 1/ 316، وأخرج بنحوه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 2137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15550»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي
حدیث نمبر: 2620
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا بِإِزَائِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2620]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25737»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم (۵۱۲، ۵۱۴) میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس موضوع کی درج ذیل دو احادیث مروی ہیں:
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2621
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يُفْرَشُ لِي حِيَالَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يُصَلِّي وَأَنَا حِيَالَهُ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے نماز کے سامنے میرے لیے کوئی چیز بچھائی جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوتی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2621]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4148، وابن ماجه: 957، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27269»
وضاحت: فوائد: … آخری دو احادیث کا اِس باب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اِس موضوع کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرد یا بچہ امام کی دائیں جانب اس کے برابر کھڑا ہو گا اور عورت کا اکیلے پیچھے کھڑے ہو جانے کا معاملہ توواضح ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4148
36. بَابُ فِي مَوْقِفِ الِاثْنَيْنِ مِنَ الْإِمَامِ
امام کے ساتھ دو آدمیوں کے کھڑا ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2622
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ فَنَهَانِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَجَاءَ صَاحِبٌ لِي فَصَفَّفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے، میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے روکا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا، پھر میرا ایک اور ساتھی آگیا، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کپڑے میں تھے، جس کے دونوں کنارے ایک دوسرے کی مخالف سمت میں تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2622]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد أخرجه ابن ماجه: 974، وأخرجه ضمن حديث طويل مسلم: 3010، وابوداود: 634، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14550»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2623
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِالْهَاجِرَةِ فَلَمَّا مَالَتِ الشَّمْسُ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ صَاحِبِي فَجَعَلَنَا عَنْ نَاحِيَتَيْهِ وَقَامَ بَيْنَنَا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، ثُمَّ صَلَّى بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا فَلَا تَنْتَظِرُوهُمْ بِهَا وَاجْعَلُوا الصَّلَاةَ مَعَهُمْ سُبْحَةً
اسود کہتے ہیں: میں اور علقمہ دوپہر کے وقت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب سورج ڈھلا تو انھوں نے نماز کھڑی کی اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے،لیکن انھوں نے میرا اور میرے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں اپنی دونوں طرف کھڑا کرلیا اور خود ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے، پھر کہا: جب تین لوگ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کیا کرتے تھے، پھر انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور فارغ ہونے کے بعد کہا: عنقریب ایسے ائمہ ہوں گے جو نمازوں کوان کے اوقات سے مؤخر کردیں گے، پس تم ان کا انتظار نہ کرنا، (اور وقت پر نماز پڑھ لینا) ا ور اس کے بعد ان کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفلی بنا لینا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2623]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه مسلم: 534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4347»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه مسلم: 534
حدیث نمبر: 2624
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْأَسْوَدَ وَعَلْقَمَةَ كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فِي الدَّارِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَصَلَّى هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَقَامَ وَسَطَهُمْ وَقَالَ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا، فَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ فَلْيُؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَضَعْ أَحَدُكُمْ يَدَيْهِ بَيْنَ فَخِذَيْهِ إِذَا رَكَعَ فَلْيَحْنُأْ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
(دوسری سند) اسود اور علقمہ دونوں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے، انھوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھائی اور وہ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: جب تم تین لوگ ہو تو اس طرح کیا کرو اور جب زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امامت کروائے (اور آگے کھڑا ہو)، جب کوئی رکوع کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں کے درمیان رکھے اور رکوع کے لیے جھکے، میں اب بھی گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے مختلف ہونے کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2624]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4272»
وضاحت: فوائد: … رکوع کے دوران دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر ڈال کر ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھ لینا تطبیق کہلاتا ہے، یہ عمل شروع میں مسنون تھا، لیکن بعد میں منسوخ ہو گیا اور نئے حکم کے مطابق دورانِ رکوع ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا مسنون قرار پایا۔ اس دعوی کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، پس انھوں نے اللہ اکبر کہا اور رفع الیدین کیا، پھر رکوع کیااور ہاتھوں میں تطبیق دی اور ان کو گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ جب سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چلا تو انھوں نے کہا: میرے بھائی عبد اللہ بن مسعود نے سچ کہا، ہم یہ عمل کرتے تھے، لیکن بعد میں ہمیں گھٹنے پکڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ (مسند احمد: ۳۹۷۴، ابوداود: ۷۴۷، نسائی: ۲/ ۱۸۴)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 2625
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں کھڑا تھا اور آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2625]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 2/ 86، 104، وابن خزيمة: 1537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2751»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 2/ 86