🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. بَابُ جَوَازِ الِاقْتِدَاءِ بِإِمَامٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَأْمُومِ حَائِلٌ
مقتدی کا امام کی اقتدا اس حال میں کرنا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2607
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِي وَالنَّاسُ يُؤَتَّمُّونَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حجرے میں نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2607]
تخریج الحدیث: «أخرج بنحوه البخاري: 729، 5861، ومسلم: 782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24016، 24124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24517»

الحكم على الحديث:
أخرج بنحوه البخاري: 729
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2608
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي حُجْرَتِهِ فَجَاءَ أُنَاسٌ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَخَفَّفَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ خَرَجَ فَعَادَ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يُصَلِّي، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَلَّيْتَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ، قَالَ: ( (قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات حجرے میں نماز پڑھی، کچھ لوگ آئے اور انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں تخفیف کردی اور پھر گھر میں داخل ہو گئے، (وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل نمازپڑھی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے (اور ان کو ہلکی سی نماز پڑھائی)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی مرتبہ لوٹے، ہر دفعہ نماز پڑھی۔ جب صبح ہوئی تو صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز پڑھی تھی اور ہم یہ پسند کر رہے تھے کہ آپ نماز کو لمبا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق میں تمہارے مکان ((اور تمہاری اس حالت)) کو جان گیا تھا اور میں نے جان بوجھ کر یہ کام کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2608]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه البزار: 731، وابويعلي: 3755، وابن خزيمة: 1627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12028»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه البزار: 731
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ اقْتِدَاءِ الْقَادِرِ عَلَى الْقِيَامِ بِالْجَالِسِ وَالْجَالِسِ لِعُذْرٍ بِالْقَائِمِ
کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کا بیٹھے ہوئے امام کی اورکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کا کھڑے ہونے والے امام کی اقتدا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2609
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (يَا هَؤُلَاءِ! أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ؟) ) قَالُوا: بَلَى نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: ( (أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ؟) ) قَالُوا: بَلَى نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتَكَ، قَالَ: ( (فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي، وَإِنَّ مِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ، أَطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ، فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صحابہ کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر متوجہ ہوئے، اور فرمایا: لوگو!کیا تم جانتے نہیں کہ بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب میں یہ حکم نازل کیا ہے کہ جس نے میری اطاعت کی، پس اس نے اللہ کی اطاعت کی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!ہم گواہی دیتے ہیں کہ جس نے آپ کی اطاعت کی، پس اس نے اللہ کی اطاعت کی اور آپ کی اطاعت کرنا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کی اطاعت سے ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت سے ہے کہ تم اپنے اماموں کی اطاعت کرو، اپنے اماموں کی اقتدا کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2609]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 5450، وابن حبان: 2109، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 13238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5679»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 5450
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2610
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَكْأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَأَانَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ( (إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلَا تَفْعَلُوا وَائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ، إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنَّ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوگئے، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو سنانے کے لیے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہہ رہے تھے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف توجہ کی تو ہمیں کھڑے پا کر ہماری طرف اشارہ کیا (کہ ہم بیٹھ جائیں)، پس ہم نے بیٹھ کر نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے توفرمایا: قریب تھا کہ تم وہ کام کرو جوفارسی اور رومی کرتے ہیں، وہ اس طرح کہ ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں اور وہ ان کے پاس کھڑے ہوتے ہیں، سو تم ایسا نہ کرو اور اپنے اماموں کی اقتدا کیا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2610]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14644»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 413
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2611
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: ( (مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ) ) ، قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ تُدْرِكُهُ الرِّقَّةُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ) ) ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ قَاعِدًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس بیماری میں وفات پا گئے تھے، اس میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ سیّدنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابوبکر بڑے نرم دل (اور جلد رونے والے) آدمی ہیں،جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسف علیہ السلام کی صاحبات ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2611]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3384، ومسلم: 418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24061، 25258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25772»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ مشورہ دینے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ”صَوَاحِبَاتُ یُوْسُف“ کہنے کا کیا مقصد تھا؟ یہ تفصیل حدیث نمبر(۱۲۷۲) میں دیکھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3384
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ جَوَازِ اقْتِدَاءِ الْفَاضِلِ بِالْمَفْضُولِ
فاضل کا مفضول کی اقتداء کرنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2612
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُمَا، صَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةٍ الصُّبْحِ وَمَسْحُ الرَّجْلِ عَلَى خُفَّيْهِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو خصلتیں ہیں، میں ان دونوں کے بارے میں لوگوں میں کسی سے سوال نہیں کروں گا، کیونکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دونوں کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔(۱) امام کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا، تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز فجر کی ایک رکعت پڑھی اور (۲) آدمی کا اپنے موزوں پر مسح کرنا، تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2612]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح وله طرق كثيرة، وھذا اسناد فيه ضعف وانقطاع أخرجه مسلم: 274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18134، 18157، 18172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18340»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح وله طرق كثيرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2613
(وَعَنْهُ أَيْضًا) وَقَدْ سُئِلَ هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ هَٰذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا فِي سَفَرٍ وَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ صِفَةُ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِ: قَالَ: ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً فَذَهَبْتُ لِأُؤْذِنَهُ فَنَهَانِي فَصَلَّيْنَا الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، جبکہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اپنی امت میں سے کسی اور کے پیچھے نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم سفر میں تھے، … پھر لمبی حدیث بیان کی …، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا طریقہ بھی بیان کیا، پھر انھوں نے کہا: جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی کی جا چکی تھی اور سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہا ُ ان کو امامت کروا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے، میں اُن کو یہ بتلانے کے لیے آگے ہوا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچ چکے ہیں)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع کر دیا، پھر ہم نے ایک رکعت ان کے ساتھ پڑھی اور جو رہ گئی تھی، اس کو بعد میں ادا کر لیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2613]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1431، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18347»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 1431
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2614
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَأَدْرَكَهُمْ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ( (أَصَبْتُمْ وَأَحْسَنْتُمْ) )
سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، اُدھر نماز کا وقت ہوگیا، صحابہ نے نماز کھڑی کر دی اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کی اقتداء میں لوگوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: تحقیق تم درستگی کو پہنچے ہواور تم نے اچھا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2614]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، رشدين بن سعد ضعفه احمد وابن معين وابوداود والنسائي، وابن سعد، وابوسلمة لم يسمع من ابيه أخرجه الطيالسي: 223، والبزار: 1014، وابويعلي: 853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1665»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہونے والا مسئلہ تو واضح ہے کہ امام اپنی رعایا میں سے کسی فرد کی اور فاضل مفضول کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتا ہے۔ ہم ”بَابُ مَا یُفْعَلُ اِذَا لَمْ یَحْضُرْ اِمَامُ الْحَیِّ“ (قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے، اس کا بیان) میں درج بالا حدیث کی روشنی میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ اگر مقرر امام وقت پر نہ پہنچے اور بظاہر اس کے پہنچنے کے آثار نظر نہ آ رہے ہوں تو کوئی اور آدمی نماز پڑھا سکتا ہے۔ عام طورپرصحابہ کرام نما ز کا وقت ہو جانے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے تھے، لیکن اس موقع پر انتظار نہ کرنے کی یہ وجہ نظر آ رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے الگ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس آنے میں دیر ہو گئی، صحابہ نے سفر کی نزاکت کی وجہ سے زیادہ انتظار کرنا مناسبت نہ سمجھا اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر اس کام کی تائید فرمائی اور ایسی صورت میں رعایا میں سے کوئی نماز پڑھا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. أبواب موقف الامام والمأموم وأحكام الصفوف
امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: Q2615]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ مَوْقِفِ الْوَاحِدِ مِنَ الْإِمَامِ
امام کے ساتھ ایک آدمی کے کھڑے ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2615
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَذَبَنِي فَجَرَّنِي، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً قِيَامُهُ فِيهِنَّ سَوَاءٌ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگ گئے، میں بھی اٹھا، وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کھینچا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام برابر برابر رہا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2615]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 1365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2276، 3459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2276»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 1365
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں