🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. بَابُ وُجُوبِ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ وَالنَّهْيِ عَنْ مُسَابَقَةِ
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2597
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَحْنِ رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَسْجُدَ ثُمَّ نَسْجُدُ
سیّدنا برا بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے، تو اس وقت تک ہم میں سے کوئی بھی سجدے کے لیے اپنی کمر کو ٹیڑھا نہ کرتا، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں نہ چلے جاتے، پھر ہم سجدہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2597]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 711، 747، ومسلم: 474، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18511، 18710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18917»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 711
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2598
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَرْكَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَرْفَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: ( (مَنْ فَعَلَ هَٰذَا؟) ) قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ تَعْلَمُ ذَلِكَ أَمْ لَا، فَقَالَ: ( (اتَّقُوا خِدَاجَ الصَّلَاةِ إِذَا رَكَعَ الْإِمَامُ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا) )
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی،وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے رکوع کر دیتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے اٹھ جاتا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا: اس طرح کرنے والا کون تھا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تھا، میں یہ جاننا پسند کر رہا تھا کہ آپ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کے نقصان سے بچا کرو،جب امام رکوع کرے تو تب رکوع کیا کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تب تم سر اٹھایا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2598]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ايوب بن جابر الحنفي اليمامي، وعبد الله بن عصمه (او عُصْم) الحنفي ممن لايحتمل تفرده، ومتابعة الامام في الصلاة لھا شواھد أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11407»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ايوب بن جابر الحنفي اليمامي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2599
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي إِمَامُكُمْ، فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالْقُعُودِ وَلَا بِالْانْصِرَافِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي، وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا) ) ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا رَأَيْتَ؟ قَالَ: ( (رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ) ) ، زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَحَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! بے شک میں تمہارا امام ہوں، اس لیے رکوع و سجود، قیام و قعود اور سلام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، میں تم کو اپنے آگے سے اور اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم وہ کچھ دیکھ لو جو میں نے دیکھا ہے تو تم ہنسنا تھوڑا کر دو اور رونا زیادہ کر دو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نماز پڑھنے پر ابھارا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2599]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12020»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 426
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2600
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمَا يَخَافُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا جو شخص اپنا سر اٹھا لیتا ہے، جبکہ امام سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر میں تبدیل کر دے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2600]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 691، مسلم: 426، 427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7534، 9884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7525»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 691
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2601
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا يَأْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے، لیکن اس سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے، کیا وہ اس بات سے بے خوف ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی صورت کو گدھے کی صورت میں تبدیل کردے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2601]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7526»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7526
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2602
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُبَادِرُونِي بِرُكُوعٍ وَلَا بِسُجُودٍ فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقُكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ، وَمَهْمَا أَسْبِقُكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُّ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ، إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ) )
سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رکوع و سجود میں مجھ سے آگے نہ بڑھو، اگر میں رکوع کرتے وقت تم سے آگے بڑھتا ہوں تو تم مجھے پا لو گے جب میں اٹھوں گا، اسی طرح اگر میں سجدہ میں تم سے آگے بڑھ جاتا ہوں تو تم مجھے پا لو گے جب میں اٹھوں گا،بیشک اب میں بڑی عمر والا ہو گیا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2602]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 619، وابن ماجه: 963، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16963»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 619
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2603
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ يَخْطُبُ فَقَالَ: أَخْبَرَنَا الْبَرَاءُ (بْنُ عَازِبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَسْجُدَ ثُمَّ يَسْجُدُونَ
عبداللہ بن یزید انصاری نے اپنے خطبے میں کہا: سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خبر دی اور وہ جھوٹے نہیں ہیں (یعنی سچے ہیں) کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو وہ (سب صحابہ) کھڑے رہتے، یہاں تک کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے، پھر وہ سجدہ میں جاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2603]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 711، 747، ومسلم: 474، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18705»
وضاحت: فوائد: ان تمام احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ امام کی متابعت کرنا فرض ہے اور کسی رکن کی ادائیگی میں سے اس سے آگے بڑھنا ناجائز ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 711
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ اقْتِدَاءِ الْمُفْتَرِضِ بِالْمُتَنَفِّلِ وَالْمُقِيمِ بِالْمُسَافِرِ
مفترض کی متنفل کی اور مقیم کی مسافر کی اقتداء میں نماز ادا کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2604
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھتے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس جاتے اور ان کو عشاء پڑھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2604]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا البخاري: 705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14190، 14241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14290»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نمازِ عشاء ادا کرتے، پھر وہ جا کر اپنی قوم کو یہی نماز پڑھاتے تھے۔ اس حدیث سے لازمی طور پر یہ ثابت ہوا کہ نفلی نماز ادا کرنے والے امام کی اقتداء میں فرضی نماز ادا کی جا سکتی ہے، یعنی ایسی صورتوں میں امام اور مقتدی کی نیتوں میں فرق آ سکتا ہے، دوسری احادیث ِ صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مفترض کی اقتداء میں متنفل کا نماز پڑھنا بھی درست ہے۔ اسی طرح مسافر اور مقیم بھی ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتے ہیں، مقیم کی اقتداء میں مسافر پوری نماز پڑھے گا، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۲۱۳) اور(۱۲۱۷) میں وضاحت ہو

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا البخاري: 705
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2605
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُّ مَعَهُ (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ وَيَقُولُ لِأَهْلِ الْبَلَدِ: ( (صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا سَفَرٌ) )
سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں اٹھارہ دن قیام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس موقع پر دو رکعت (یعنی قصر نماز) ہی ادا کرتے رہے، اور آپ شہر والوں (مقیم لوگوں) کو فرماتے تھے: تم چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2605]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: ((صلوا اربعا فانا سفْر))، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان أخرجه ابوداود: 1229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20119»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: ((صلوا اربعا فانا سفْر))
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ جَوَازِ اقْتِدَاءِ الْمُتَوَضِّئِ بِالْمُتَيَمِّمِ
وضو کرنے والے کا تیمم کرنے والے کی اقتدا کرنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2606
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي صَلَاةَ الصُّبْحِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: يَا عَمْرُو! صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ وَذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا
سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ذات السلاسل والے سال بھیجا تو سخت سردی والی رات کو مجھے احتلام ہو گیا،مجھے یہ خطرہ تھا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، اس لیے میں نے تیمم کیا اور اپنے ساتھیوں کو نمازِ فجر پڑھائی۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! تو نے اپنے ساتھیوں کو جنابت کی حالت میں ہی نماز پڑھا دی؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے احتلام ہو گیا تھا اور سخت سردی والی رات تھی، مجھے یہ ڈر ہونے لگا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، جبکہ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی یاد آ رہا تھا: اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہمیشہ سے بہت رحم کرنے والا ہے۔ اس لیے میں نے تیمم کر کے نماز پڑھا دی، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور کچھ نہ کہا: [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2606]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد فيه عبد الله بن لھيعة أخرجه ابوداود: 334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17965»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں