الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ صِفَةِ الْكَفَنِ لِلرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ وَفِي كَمْ ثَوْبٍ يَكُونُ
مرد اور عورت کے کفن کی کیفیت کا بیان، نیز وہ کتنے کپڑے ہونے چاہئیں
حدیث نمبر: 3118
عَنْ لَيْلَى ابْنَةِ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ فِيمَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عِنْدَ وَفَاتِهَا وَكَانَ أَوَّلَ مَا أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ الْحِقَاوَيْنِ، ثُمَّ الدِّرْعُ، ثُمَّ الْخِمَارُ، ثُمَّ الْمِلْحَفَةُ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الْآخِرِ، قَالَتْ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَابِ مَعَهُ كَفَنُهَا يُنَاوِلُنَا ثَوْبًا ثَوْبًا
سیدہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں ان عورتوں میں شامل تھی، جنہوں نے سیدہ ام کلثوم بنت رسول رضی اللہ عنہا کو ان کی وفات کے موقع پر غسل دیا تھا۔ ان کے کفن کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے ہمیں اپنے تہبند کی چادر دی،اس کے بعد بالترتیب قمیص، دوپٹہ اور ایک بڑی چادر دی، پھر ان کو ایک اور کپڑے میں لپیٹ دیا گیا۔سیدہ لیلیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ان کا کفن تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک کر کے یہ کپڑے ہمیں پکڑا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3118]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة نوح بن حكيم الثقفي، وأما الرجل الذي يقال له داود، فالله اعلم من ھو أخرجه ابوداود: 3157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27676»
وضاحت: فوائد: … چونکہ یہ پانچ کپڑوں والی حدیث ضعیف ہے، اس لیے عورت کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تین کپڑوں میں ہی کفن دیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة نوح بن حكيم الثقفي
حدیث نمبر: 3119
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ (عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سات کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3119]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتفرد عبد الله بن محمد بن عقيل به، ولمخالفته الحديث الصحيح الذي رواه البخاري ومسلم عن عائشة C ان رسول اللهV كفِّن في ثلاثة أثواب يمانية بيض سحولية من كرسف۔ والقول الفصل في عبد الله بن محمد بن عقيل ما قال ابن حجر في ’’التلخيص الحبير‘‘ أنه سيء الحفظ يصلح حديثه للمتابعات، فأما اذا انفرد فيحسن، وأما اذا خالف فلايقبل۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 262، والبزار: 646، وابن سعد: 2/ 287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 728، 801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 728»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لتفرد عبد الله بن محمد بن عقيل به
27. بَابُ التَّكْفِينِ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ وَجَوَازِ تَكْفِينِ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَالِاقْتِصَارِ عَلَى مَا يَسْتُرُ الْعَوْرَةَ إِذَا دَعَتِ الضَّرُورَةُ وَاسْتِحْبَابِ الْمُوَاسَاةِ بِالْكَفَنِ
میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3120
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى حَمْزَةَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَرَآهُ قَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: ( (لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: تَأْكُلُهُ الْعَاهَةُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا) ) ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِنَمِرَةٍ، فَكَفَّنَهُ فِيهَا، قَالَ: وَكَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ بَدَتْ قَدَمَاهُ، وَإِذَا مُدَّتْ عَلَى قَدَمَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، قَالَ: وَكَثُرَ الْقَتْلَى وَقَلَّتِ الثِّيَابُ، قَالَ: وَكَانَ يُكَفَّنُ أَوْ يُكَفَّنَ الرَّجُلَانِ شَكَّ صَفْوَانُ، وَالثَّلَاثَةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْ أَكْثَرِهِمْ قُرْآنًا فَيُقَدَّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، قَالَ: فَدَفَنَهُمْ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اوردیکھا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر صفیہ محسوس نہ کرتی تو میں ان کو ایسے ہی رہنے دیتا، یہاں تک کے درندے اور (گوشت خور) پرندے ان کو کھا جاتے اور ان کے پیٹوں سے ان کا حشر ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھاری دار چادر منگوا کر ان کو اس میں کفن دیا، وہ چادر اس قدر چھوٹی تھی کہ اگر سر کو ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر اسے پاؤں پرڈالا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو تین تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفن دیتے پھر پوچھتے کہ ان میں سے زیادہ قرآن مجید کس کو یاد ہے، پس اسے (لحد میں) قبلہ کی طرف مقدم کرتے۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداء کو دفن کر دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔زید بن حباب راوی نے کہا: ایک ایک، دو دو اور تین تین آدمیوں کو ایک ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3120]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه أبوداود: 3136، والترمذي: 1016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12325»
وضاحت: فوائد: … سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی سگی بہن تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے یہ تھے کہ سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پورا بدن، اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا ہو جائے اور اس طرح ان کا اجر مکمل ہو جائے۔ ایک کپڑے میں ایک سے زائد شہداء کو دفن کرنا، اس کی دو صورتیںہو سکتی ہیں: (۱)ایک کپڑے کو پھاڑ کر دو یا تین حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصے کو علیحدہ علیحدہ میت
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه أبوداود: 3136
حدیث نمبر: 3121
عَنِ الزُّبَيْرِ (بْنِ الْعَوَّامِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ امْرَأَةٌ تَسْعَى حَتَّى إِذَا كَادَتْ أَنْ تُشْرِفَ عَلَى الْقَتْلَى، قَالَ: فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرَاهُمْ، فَقَالَ: ( (الْمَرْأَةَ الْمَرْأَةَ) ) ، قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَتَوَسَّمْتُ أَنَّهَا أُمِّي صَفِيَّةُ، قَالَ: فَخَرَجْتُ أَسْعَى إِلَيْهَا فَأَدْرَكْتُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَى الْقَتْلَى، قَالَ: فَلَدَمَتْ فِي صَدْرِي وَكَانَتْ امْرَأَةً جَلْدَةً، قَالَتْ: إِلَيْكَ، لَا أَرْضَى لَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَزَمَ عَلَيْكِ، قَالَ: فَوَقَفَتْ وَأَخْرَجَتْ ثَوْبَيْنِ مَعَهَا فَقَالَتْ: هَذَانِ ثَوْبَانِ جِئْتُ بِهِمَا لِأَخِي حَمْزَةَ فَقَدْ بَلَغَنِي مَقْتَلُهُ فَكَفِّنُوهُ فِيهِمَا، قَالَ: فَجِئْنَا بِالثَّوْبَيْنِ لِنُكَفِّنَ فِيهِمَا حَمْزَةَ فَإِذَا إِلَى جَنْبِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَتِيلٌ قَدْ فُعِلَ بِهِ كَمَا فُعِلَ بِحَمْزَةَ، قَالَ: فَوَجَدْنَا غَضَاضَةً وَحَيَاءً أَنْ نُكَفِّنَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبَيْنِ وَالْأَنْصَارِيُّ لَا كَفَنَ لَهُ، فَقُلْنَا: لِحَمْزَةَ ثَوْبٌ وَلِلْأَنْصَارِيِّ ثَوْبٌ، فَقَدَرْنَاهُمَا، فَكَانَ أَحَدُهُمَا أَكْبَرَ مِنَ الْآخَرِ فَأَقْرَعْنَا بَيْنَهُمَا، فَكَفَّنَّا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي الثَّوْبِ الَّذِي طَارَ
سیّدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: احد کے روز ایک خاتون دوڑتی ہوئی آ رہی تھی اور قریب تھا کہ وہ آکر شہداء کو دیکھ لے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کو ناپسند کر رہے تھے کہ وہ شہداء کو (ان کی اس حالت میں) دیکھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت، عورت، (اس کو شہدا ء کے پاس آنے سے بچاؤ) سیّدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے پہچان لیا کہ وہ میری والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں، پس میں جلدی سے ادھر گیا اور قبل اس کے کہ وہ شہداء تک جا پہنچتیں، میں ان تک جا پہنچا، لیکن چونکہ وہ مضبوط خاتون تھیں، اس لیے انہوں نے میرے سینے پر ضرب لگائی اور کہا: پرے ہٹ جا،تیرا کوئی ٹھکانہ نہ ہو۔ لیکن جب میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں روکنے کا حکم دیا ہے، یہ سن کر وہ رک گئیں، ان کے پاس دو کپڑے تھے، انہوں نے وہ نکالے اور کہا: یہ دو کپڑے ہیں، میں اپنے بھائی حمزہ رضی اللہ عنہ کے لیے لائی ہوں، کیونکہ مجھے اس کی شہادت کی اطلاع ملی ہے، ان کو ان کپڑوں میں کفن دینا، سو ہم سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفن دینے کے لیے وہ دو کپڑے لے آئے، لیکن اچانک دیکھا کہ ان کے پہلو میں ایک شہید انصاری بھی پڑا ہے، اس کے ساتھ بھی مثلہ کیا گیا ہے، تو ہمیں اس میں بے مروتی اور ناانصافی محسوسی ہوئی کہ سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیں اور انصاری کے لیے ایک کپڑا بھی نہ ہو۔ پھر ہم نے دونوں کپڑے ماپے، چونکہ ان میں سے ایک بڑا نکلا تھا، اس لیے ہم نے ان دونوں شہداء کے درمیان قرعہ ڈالا، جس کے حصے میں جو کپڑا آیا، ہم نے اسے اس میں کفن دے دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3121]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 980، وابويعلي: 686، والبيھقي: 13/ 401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1418»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! یہ تھا ان ہستیوں کا جذبۂ اطاعت ِ رسول اور باہمی محبت و الفت اور عدل وانصاف۔e۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 980
حدیث نمبر: 3122
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَفَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، قَالَ جَابِرٌ ذَلِكَ الثَّوْبُ نَمِرَةٌ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا تھا اور وہ کپڑا دھاری دار تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3122]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن أخرجه الترمذي: 997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14575»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن أخرجه الترمذي: 997
حدیث نمبر: 3123
عَنْ خَبَّابِ (بْنِ الْأَرَتِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ بِهَا رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِي بِهَا يَعْنِي يَجْتَنِيهَا
سیّدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ پر ہمارا ثواب ثابت ہو گیا(جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے)۔ پھر ہم میں بعض لوگ ایسے تھے، جو اپنے عمل کا اجر کھائے بغیر اللہ کے پاس چلے گئے، ان میں سے ایک سیّدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو احد کے دن شہید ہو گئے، ہمیں ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر مل سکی اور وہ بھی اس قدر مختصر تھی کہ جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پاؤں کو ڈھانپا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر (گھاس) ڈال دیں، جبکہ ہم میں بعض ایسے بھی ہیں جن کا پھل تیار ہو چکا اور اب وہ اسے چن رہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3123]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:1276، 3913، 3914، 4047، ومسلم: 940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21372»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مطلب فتوحات کے نتیجے میںملنے والی غنیمتیں اور دوسرے اسبابِ دنیا ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري:1276
حدیث نمبر: 3124
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ إِلَّا بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ، إِذَا جُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَإِذَا جُعِلَتْ عَلَى قَدَمَيْهِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِهِ حَتَّى مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ وَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ الإِذْخِرُ
سیّدنا خباب رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے کفن کے لیے صرف ایک دھاری دار چادر میسر آ سکی اور وہ (بھی اس قدر مختصر تھی) کہ اگر ان کے سر پر ڈالی جاتی تو پاؤں سے ہٹ جاتی تھی اور اگر پاؤں پر ڈالی جاتی تو سر سے ہٹ جاتی۔ آخر کار چادر ان کے سر پر رکھی گئی اور پاؤں پر اذخر (گھاس) ڈال دی گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3124]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني: 3674، 3682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21072، 27219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27761»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث کا مفہوم واضح ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه الطبراني: 3674
28. بَابُ تَكْفِينِ الشَّهِيدِ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي قُتِلَ فِيهَا
شہید کو انہی کپڑوں میں کفن دینے کا بیان، جن میں وہ شہادت پاتا ہے
حدیث نمبر: 3125
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فِي صَدْرِهِ أَوْ قَالَ فِي جَوْفِهِ، فَأُدْرِجَ فِي ثِيَابِهِ كَمَا هُوَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کواس کے سینے یا پیٹ میں تیر لگا تو اس کو اس کے انہی کپڑوں میں لپیٹ دیا گیا، جبکہ ہم (ایسا کرتے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3125]
تخریج الحدیث: «امام الباني نے اس حديث كو حسن كها۔ اسناده علي شرط مسلم، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر أخرجه ابوداود: 3133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15015»
الحكم على الحديث:
امام الباني نے اس حديث كو حسن كها۔ اسناده علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 3126
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ بِالشُّهَدَاءِ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ، وَقَالَ: ( (ادْفِنُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر شہداء کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے لوہے اور ہتھیاروں کو اتار دیا جائے اور فرمایا: ان کو ان کے خونوں اور کپڑوں سمیت دفن کر دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3126]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3134، وابن ماجه: 1515، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2217»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3134
حدیث نمبر: 3127
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: ( (زَمِّلُوهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ) ) ، وَجَعَلَ يَدْفِنُ فِي الْقَبْرِ الرَّهْطَ، وَقَالَ: ( (قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا) )
سیّدنا عبد اللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احد والے دن فرمایا: ان شہداء کو ان کے کپڑوں میں ہی ڈھانپ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک قبر میں متعدد شہداء کو دفن کرنے لگے اور فرمایا: جسے قرآن زیادہ یاد ہے، اسے قبر میں مقدم کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3127]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1343، 1345، 1346، 1347، 1353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23657 الي23660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24056»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ شہید سے اس کے اصل لباس کے علاوہ جنگی لباس اور دوسرے اوزار اتار لیے جائیں اور اس کو اس کے پہنے ہوئے کپڑوں میں کفن دے دیا جائے۔ ہاں اگر وہ کپڑے پھٹ چکے ہوں یا ناقص ہوں یا کسی صورت میں ضائع ہو گئے ہوں تو دوسرے کپڑوں سے کفن دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ پچھلے باب میں وضاحت کی جا چکی ہے۔ آج بھی اگر کسی علاقے میں ایک وقت میں زیادہ اموات ہو جائیں اور لوگ ہر ایک کے لیے الگ الگ قبر نہ بنا سکتے ہوں تو ان کو چاہیے کہ دو تین تین افراد کو ایک ایک قبر میں دفن کر دیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1343