الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ صِفَةِ غُسْلِ الْمَيِّتِ
میت کو غسل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3109
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ فِي غُسْلِ ابْنَتِهِ: ( (ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا) )
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحب زادی کے غسل کے موقعہ پر انہیں فرمایا: اس کی دائیں جانب سے اور اعضائے وضو سے غسل شروع کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3109]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 167، 1255، 1256، ومسلم: 939، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27845»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ غسل دینے والا پہلے میت کی دائیں جانب کھڑا ہو اور اِس جانب کو دھونے سے پہلے اس طرف کے وضو والے اعضاء پہلے دھوئے، پھر یہی عمل بائیں جانب کھڑا ہو کر کرے، اس طرح ایک دفعہ غسل مکمل ہو جائے گا۔ میت کو وضو کروانا، اس کے بارے میں کوئی صحیح اور واضح روایت نہیں ہے، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث درج ذیل ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فاذا فرغت من غسل سُفْلتھا غسلا نقیا بماء وسدر فوضئیھا وضوء للصلاۃ ثم اغسلیھا۔)) یعنی: ”پس جب تو اس کے نچلے حصے کو پانی اور بیری کے پتوں سے اچھی طرح دھونے سے فارغ ہو جائے تو اسے نماز والا وضو کروانا، پھر غسل دینا۔“ (معجم کبیر طبرانی: ۲۵/ ۱۲۴)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 167
24. باب
کفن اور اس سے متعلقہ مسائل
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: Q3110]
25. بَابُ اسْتِحْبَابِ إِحْسَانِ الْكَفَنِ مِنْ غَيْرِ مُغَالَاةٍ وَاخْتِيَارِ الْأَبْيَضِ
اس امر کا بیان کہ غلو کئے بغیر میت کو عمدہ کفن دیا جائے اور سفید کفن زیادہ پسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 3110
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا قُبِضَ وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَيْلًا فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفَنَهُ) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا اورایسے آدمی کا ذکر کیا گیا، جو فوت ہوا اور اسے معمولی سا کفن دے کر رات کو ہی دفن کر دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھے بغیر رات کو دفن کرنے سے منع کر دیا، الّا یہ کہ بندہ مجبور ہو جائے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو وہ اچھا کفن دیا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3110]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14192»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا وَلِيَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فَلْیُحْسِنْ کَفَنَہٗ، فَإِنَّھُمْ یُبْعَثُوْنَ فِيْ أَکْفَانِھِمْ، وَیَتَزَاوَرُوْنَ فِيْ أَکْفَانِھِمْ۔)) (التاریخ للخطیب:: ۹/ ۸۰، صحیحۃ: ۱۴۲۵)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 943
حدیث نمبر: 3111
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ وَجَدَ سَعَةً، فَلْيُكَفِّنْ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی میں استطاعت ہو تو وہ (میت کو) یمن کے دھاری دار کپڑے میں کفن دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3111]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد فيه عبد الله بن لھيعة أخرجه ابوداود: 3150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14601 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14655»
وضاحت: فوائد: … ہمارے ہاں لوگ کفن کے لیے سفید کپڑے کو شرط کی حد تک سمجھنے لگ گئے ہیں، ان کو تمام نصوص پر عمل کرنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ اس حدیث کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: تینوں چادریں دھاری دار ہوں یا (۲) دو چادریں سفید ہوں اور ایک دھاری دار، شیخ البانی نے مؤخر الذکر رائے کو اختیار کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 3112
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبِيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمَدَ، يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید لباس پہنا کرو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین لباسوں میں سے ہے اور اپنے مردوں کو اسی میں کفن دیا کرو۔اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے، یہ بینائی کو تیز کرتا اور پلکوں کو اگاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3112]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3878، 4061، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2219، 3426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2219»
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3878
حدیث نمبر: 3113
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبِيضَ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ) )
سیّدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید لباس پہنا کرو اور مردوں کو اسی میں کفن دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3113]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم و انقطاع بين أبي قلابة وسمرة أخرجه النسائي: 4/ 34، والترمذي: 2810، وابن ماجه: 3567، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20105، 20218، 20235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20365»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
26. بَابُ صِفَةِ الْكَفَنِ لِلرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ وَفِي كَمْ ثَوْبٍ يَكُونُ
مرد اور عورت کے کفن کی کیفیت کا بیان، نیز وہ کتنے کپڑے ہونے چاہئیں
حدیث نمبر: 3114
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهَا: يَا بُنَيَّةُ! أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، قَالَ: فِي كَمْ كَفَّنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: يَا أَبَتِ! كَفَّنَّاهُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ جُدَدٍ يَمَانِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ أُدْرِجَ فِيهَا إِدْرَاجًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: بیٹی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال کس روز کو ہوا تھا؟ میں نے کہا: سوموار کو۔ پوچھا: آپ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے کہا: ابا جان! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین سفید نئے یمنی سحولی کپڑوں میں کفن دیا تھا، ان میں قمیص تھی نہ عمامہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان چادروں میں لپیٹ دیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3114]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الأوسط‘‘: 8369، وتوفيه يوم الأِثنين وكفنه في ثلاثة اثواب رواھما البخاري ومسلم عن عائشة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24869 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25381»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ تین چادریں بچھا دی جائیں اور ان کے اوپر میت کو رکھ کر ان کو اس پر لپیٹ دیا جائے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات میں بھی یہ وضاحت موجود ہے کہ اِن تین کپڑوں میں قمیص اور پگڑی نہیں تھی، جن روایات میں قمیص کا ذکر ہے، وہ یا تو ضعیف ہیں یا اس صحیح ترین حدیث کی مخالفت کی وجہ سے شاذ ہیں۔ کیا کفن کے لیے تین کپڑوںکا ہونا ضروری ہے؟ اس کا ذکر اگلے تین ابواب میں آ رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الأوسط‘‘: 8369
حدیث نمبر: 3115
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ: فِي قَمِيصِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَحُلَّةٍ نَجْرَانِيَّةٍ، الْحُلَّةُ ثَوْبَانِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا، ایک قمیص تھی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تھے اور نجرانی حُلّہ (جوڑا) تھا، حلہ دو کپڑوں کا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3115]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، يزيد بن أبي زياد ضعيف أخرجه أبوداود: 3153، وابن ماجه: 1471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1942»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3116
وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بُرْدَيْنِ أَبْيَضَيْنِ وَبُرْدٍ أَحْمَرَ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سفید رنگ کی دو اور سرخ رنگ کی ایک چادر میں کفن دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3116]
تخریج الحدیث: «حسن، محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلي قد توبع أخرجه البيھقي: 3/ 400، والطبراني: 12056، وعبد الرزاق: 6166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2284، 2861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2863»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل حدیث کی روشنی میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث کو سمجھا جا سکتا ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روئی کے بنے ہوئے سفید رنگ کے تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا، ان میں کوئی قمیص یا پگڑی نہیں تھی، رہا مسئلہ لوگوں کے اس قول کا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حلّہ میں کفن دیا گیا، تو یہ ایک شبہ کا نتیجہ ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن دینے کے لیے حلّہ خریدا تو گیا تھا، لیکن پھر اسے ترک کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید رنگ کے تین سحولی کپڑوں میں کفن دے دیا گیا۔
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 3117
عَنِ ابْنَةِ أُهْبَانَ أَنَّ أَبَاهَا أَمَرَ أَهْلَهُ حِينَ ثَقُلَ أَنْ يَكَفِّنُوهُ وَلَا يُلْبِسُوهُ قَمِيصًا، قَالَتْ: فَأَلْبَسْنَاهُ قَمِيصًا، فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِيصُ عَلَى الْمِشْجَبِ
بنت اہبان سے روایت ہے کہ جب ان کے والد مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے اپنے اہل و عیال کو وصیت کی کہ وہ ان کو کفن دیں اورقمیص نہ پہنائیں۔ وہ کہتی ہیں: مگر ہم نے ان کو قمیص پہنا دیا، لیکن جب صبح ہوئی تو (کیا دیکھتے ہیں کہ) قمیص کھونٹی پرموجود تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3117]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الطبراني: 864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20671 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20947»
وضاحت: فوائد: … اس میں سیّدنا اہبان رضی اللہ عنہ کی منقبت کا بیان ہے کہ گھر والوں نے ان کی وصیت کو نافذ کرنے سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت دی اور ان کی وصیت کی تکمیل کے باطنی اسباب پیدا کر دیئے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه الطبراني: 864