الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ
نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 3080
عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَمَاتَتْ ابْنَةٌ لَهُ وَكَانَ يَتْبَعُ جَنَازَتَهَا عَلَى بَغْلَةٍ خَلْفَهَا، فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ، فَقَالَ: لَا تَرْثِينَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمَرَاثِي، فَتُفِيضُ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبَرَاتِهَا مَا شَاءَتْ، كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ثُمَّ قَامَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ قَدْرَ مَا بَيْنَ التَّكْبِيرَتَيْنِ يَدْعُو، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَازَةِ هَكَذَا
سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ،جو بیعت ِ رضوان کرنے والے صحابہ میں سے تھے، کی بیٹی کاانتقال ہو گیا۔ وہ ایک خچر پر سوار جنازہ کے پیچھے جا رہے تھے، اتنے میں عورتیں رونے لگیں، انہوں نے کہا: مرثیے مت کہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا ہے۔ البتہ جس قدر چاہو آنسو بہا سکتی ہو۔ پھر انہوں نے نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد بھی دو تکبیروں کے درمیان وقفہ کے برابر کھڑے ہو کر دعائیں کرتے رہے۔ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جنازہ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3080]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابراهيم بن مسلم الھجري شيخ الباني نے ابن ماجه كي روايت كو صحيح كها، اس ميں چار تكبيرات اور چوتھي تكبير كے بعد دعا كرنے كا ذكر هے، اس كا صحيح سند كے ساتھ ايك موقوف شاهد سنن بيهقي ميں هے۔ (ملاحظه هو: احكام الجنائز للألباني: ص126)۔ أخرجه ابن ماجه: 1503، 1592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19353»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنازے میں چوتھی تکبیر اور سلام کے درمیان دعا کرنا بھی ثابت ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابراهيم بن مسلم الھجري شيخ الباني نے ابن ماجه كي روايت كو صحيح كها
حدیث نمبر: 3081
عَنْ ابْنِ عَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعْضِ بَنَاتِهِ، وَهِيَ فِي السُّوقِ، فَأَخَذَهَا وَوَضَعَهَا فِي حِجْرِهِ حَتَّى قُبِضَتْ فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَقِيلَ لَهَا: أَتَبْكِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: أَلَا أَبْكِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، قَالَ: ( (إِنِّي لَمْ أَبْكِ، وَهَذِهِ رَحْمَةٌ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ تَخْرُجُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ (وَفِي لَفْظٍ) إِنَّ الْمُؤْمِنَ بِكُلِّ خَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ، إِنَّ نَفْسَهُ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک صاحب زادی کے ہاں تشریف لائے، جبکہ وہ عالَمِ نزع میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پکڑا اور اپنی گود میں رکھا، اس وقت اس کی روح پرواز کر گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں، ان سے کسی نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہوتے ہوئے رو رہی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تو رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تونہیں رو رہا، یہ تو رحمت ہے۔ مومن کی روح اس کے پہلوؤں سے نکل رہی ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: مومن ہر حال میں ہر قسم کی بھلائی پرہوتاہے، جب اس کی روح اس کے پہلوؤں سے نکل رہی ہوتی ہے تو وہ اس حال میں بھی اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر رہا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3081]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الترمذي في ’’الشمائل‘‘: 318، وابن ابي شيبة: 4/ 394، وعبد بن حميد: 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2412»
وضاحت: فوائد: … اس صاحب زادی سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں، اگلی حدیث میں اس کی وضاحت آ رہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا دونوں ہی رو رہے تھے، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ام ایمن کا رونا آواز کے ساتھ تھا، اگرچہ وہ نوحہ نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رونا بلا آواز تھا، جو دل کے نرم ہونے پر دلالت کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رونے کی نفی کرنا، اس سے مراد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرح تو نہیں رو رہے تھے۔ اس حدیث سے ایک اہم سبق یہ بھی ملتا ہے کہ مسلمان کو بڑی سے بڑی آزمائش پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر کے اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہونے کا اظہار کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه الترمذي في ’’الشمائل‘‘: 318
حدیث نمبر: 3082
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ بَنَاتِهِ أَنَّ صَبِيًّا لَهَا ابْنًا أَوْ ابْنَةً قَدِ احْتُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا يَقْرَأُ السَّلَامَ، وَيَقُولُ: ( (إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ) ) ، فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ وَقُمْنَا فَرُفِعَ الصَّبِيُّ إِلَى حِجْرِ أَوْ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ، وَفِي الْقَوْمِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَأُبَيٌّ أَحْسِبُ، فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (إِنَّ هَذِهِ رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرَّحْمَاءَ) )
سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا) نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع بھجوائی کہ اس کا بیٹا یا بیٹی نزع کے عالَم میں ہے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً اپنی بیٹی کو سلام بھجوایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ جو لے لے اور جو دے دے، سب کچھ اسی کا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اجر کی امید رکھے۔ لیکن اس دفعہ بیٹی نے قسم دے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوبارہ بلوایا۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اورہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل پڑے۔ بچے کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں رکھ دیا گیا،اس وقت اس کی روح پرواز کر رہی تھی۔ لوگوں میں سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ موجود تھے اور میرا خیال ہے کہ سیّدنا ابی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں بہہ پڑیں، سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے، جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے، رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے مہربان بندوں پر رحم کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3082]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5655، 6655، وأخرج بنحوه مسلم: 923، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22119»
وضاحت: فوائد: … بیٹا یا بیٹی کہنا، یہ کسی راوی کو شک ہے، یہ بیٹی ہی تھیں، ان کا نام سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا تھا، جن کو اگلی حدیث میں اُمَیمہ کہا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5655
حدیث نمبر: 3083
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأُمَيْمَةَ ابْنَةِ زَيْنَبَ وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ، كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ، فَقَالَ: ( (لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى) ) ، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَبْكِي؟ أَوَلَمْ تَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدہ امیمہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو لایا گیا، وہ عالَم نزع میں تھیں اورپرانے مشکیزے کی طرح لگ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ جو لے لے اور جو دے دے، سب اسی کا ہے اور ہر چیز کا ایک وقت ِ مقرر ہے۔ یہ کہتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ رو رہے ہیں؟ کیا آپ نے رونے سے منع نہیں فرمایا تھا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3083]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22142»
وضاحت: فوائد: … یعنی اس کے سانس اکھڑنے کی آواز پرانے مشکیزے میں پانی کے چھلکنے کی آواز کی طرح تھی۔(عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22142
حدیث نمبر: 3084
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ابْنِي يُقْبَضُ، فَأْتِنَا، … فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ
(تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ اس کابیٹا فوت ہو رہا ہے، لہٰذا آپ تشریف لائیں، …۔ الحدیث۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3084]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22132»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے یہ سبق بھی ملا کہ تعزیت کے لیے اور کسی کو تسلی دلانے کے لیے یہ دعا پڑھنی چاہیے: ((إِنَّ لِلّٰہَ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطٰی وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہُ إِلٰی أَجَلٍ مُسَمًّی، فَلْتَصْبِرْوَ لْتَحْتَسِبْ۔)) یعنی: ”اللہ تعالیٰ جو لے لے اور جو دے دے، سب کچھ اسی کا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس چاہیے کہ وہ
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22132
حدیث نمبر: 3085
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا مَاتَ حَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {رُحْمَاءُ بَيْنَهُمْ}
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سیّدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما وہاں تشریف لائے، سیدہ کہتی ہیں:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے رونے کی آواز علیحدہ علیحدہ پہچان رہی تھی، حالانکہ میں اپنے حجرے میں تھی،وہ صحابہ آپس میں ایسے ہی تھے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: {رُحْمَآئُ بَیْنَہُمْ} (سورۂ فتح: ۲۹) یعنی: وہ آپس میں رحم دل تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3085]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث طويل وله شواھد يصح بھا دون قولھا: ’’كانت عينه لا تدمع علي احد‘‘۔ أخرجه ابن حبان: 7028، وابن ابي شيبة: 14/ 408، وأخرج بعضَ جمله البخاري ومسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25610»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا تین ابواب کی احادیث کا تعلق رونے،نوحہ کرنے اور اس قسم کے دوسرے امور سے ہے۔ ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جس رونے کا تعلق آنکھ کے آنسوؤں اور دل کے غم کے ساتھ ہو، وہ جائز ہے، بلکہ اس کی تعریف کی گئی ہے کیونکہ یہ رونا دل کی نرمی کا نتیجہ ہے، اس ضمن میں ایسی آواز بھی نکل سکتی ہے، جس کے سامنے شدتِ غم کی وجہ سے آدمی مغلوب ہو جاتا ہے، اس باب کی آخری حدیث کا تعلق اسی صورت سے ہے کہ جب سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمرd، سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ پر رو رہے تھے تو ان کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ اس کے علاوہ رونے کی ہر صورت کو نوحہ اور خلافِ شرع قرار دیا جائے گا، مثلا بلند آواز سے رونا، واویلا کرنا، اول فول بکنا، چیخنا، جاہلیت والی پکاریں پکارنا، روتے ہوئے یا اونچی آواز سے میت کے فضائل و محاسن اور عادات و اطوار کا تذکرہ کرنا، مثلا: ہائے میرے بازو، ہائے میرے مددگار، او بہادرا، گریبان چاک کرنا، رخسار پیٹنا، سرمنڈانا، ممنوعہ الفاظ کہنا، اپنے لیے بددعا کرتے ہوئے رونا۔
الحكم على الحديث:
ھذا حديث طويل وله شواھد يصح بھا دون قولھا: ’’كانت عينه لا تدمع علي احد‘‘۔ أخرجه ابن حبان: 7028
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَعْيِ الْمَيِّتِ
دوسروں کو کسی کے مرنے کی خبر دینا
حدیث نمبر: 3086
عَنْ بِلَالٍ الْعَبَسِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَاتَ لَهُ مَيِّتٌ قَالَ: لَا تُؤْذِنُوا بِهِ أَحَدًا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ
جب سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا کوئی آدمی فوت ہوتا تو وہ کہتے: کسی کو اس کے فوت ہونے کی اطلاع نہ دو، مجھے خطرہ ہے کہ کہیں یہ خبر دینا اطلاع کرنے کی ممنوعہ صورت نہ بن جائے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کے مرنے کی اطلاع دینے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3086]
تخریج الحدیث: «اسناه ضعيف لانقطاعه، بلال العبسي لم يسمع من حذيفة أخرجه ابن ماجه: 1476، والترمذي: 986، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23848»
الحكم على الحديث:
اسناه ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 3087
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّعْيِ
(دوسری سند)سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کے مرنے کی اطلاع نشر کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3087]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23659»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23659
حدیث نمبر: 3088
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سُئِلَ جَابِرٌ عَمَّا يُدْعَى لِلْمَيِّتِ؟ فَقَالَ: مَا أَبَاحَ لَنَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ابوزبیرکہتے ہیں: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے میت کے لیے دی جانے والی پکار کے بارے میں پوچھا گیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3088]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن أخرجه ابن ماجه: 1501، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14846 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14907»
وضاحت: فائدہ: … ”نَعْیٌ“ یا ”نَعِیٌّ“ کے لغوی معانی ہیں: کسی کی موت کی خبر دینا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، جبکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کی موت کا اعلان کیا تو اس وقت یہی الفاظ استعمال کیے گئے، مثلا: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((اِنَّّ رَسُوْلَ اللّٰہِVنَعَی النَّجَاشِیَّ فِیْ الْیَوْمِ الَّذِیْ مَاتَ فِیْہِ، خَرَجَ اِلَی الْمُصَلّٰی فَصَفَّ بِھِمْ وَکَبَّرَ اَرْبَعًا۔)) یعنی: ”جس دن نجاشی فوت ہوا، اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی موت کی خبر دی، پھر نماز گاہ کی طرف نکلے، لوگوں کی صفیں بنوائیں اور چار تکبیرات کہیں۔“ (بخاری: ۱۲۴۵) اسی طرح سیّدنا جعفر، سیّدنا زید اور سیّدنا ابن رواحہeوغیرہ کا اعلان بھی کیا گیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأِحْدَادِ عَلَى الْمَيِّتِ
میت پر سوگ منانے کا بیان
حدیث نمبر: 3089
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: ( (لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا) )
زوجۂ رسول سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے سناکہ جس عورت کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دنوں سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے، ماسوائے خاوند کے، کہ اس کے لیے چار ماہ دس دن (سوگ ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3089]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1282، ومسلم: 1487، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27290»
وضاحت: فوائد: … سوگ میں خاتون کو زینت ترک کرنا پڑتی ہے، آنے والی چوتھی حدیث اور اس کے فوائد میں تفصیل بیان کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1282