🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ مَنْ بُلِيَ وَرِفْقِهِ بِهِ وَسَتْرِهِ عَلَيْهِ وَثَوَابِ ذَلِكَ
میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے¤اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3099
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں دوسرے آدمی پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3099]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2590، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9237»
وضاحت: فوائد: … پردہ ڈالنے سے مراد عیب کو چھپانا ہے، یہ حدیث اپنے عموم کی بنا پر زندہ اور میت دونوں کو شامل ہے، زندہ کے عیب کے بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کی اصلاح کے لیے ہر ممکنہ شرعی کوشش کی جائے گی، وگرنہ خاموشی، لیکن اگر اس عیب کی وجہ سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو گا، تو اسے آگاہ کیا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2590
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ مَا جَاءَ فِي غُسْلِ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ لِلْآخَرِ
میاں بیوی کا ایک دوسرے کو غسل دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3100
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي بُدِيَتْ فِيهِ، فَقُلْتُ: وَا رَأْسَاهُ، فَقَالَ: ( (وَدِدْتُّ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَهَيَّأْتُكِ وَدَفَنْتُكِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی مرض الموت) کا آغاز ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اورمیں نے کہا: ہائے میرا سر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو چاہتا ہوں کہ ایسا ہوتا کہ(تم بیمار ہو جانے کے بعد فوت ہو جاتیں) پھر تم کو تیار کر کے دفن کر دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3100]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2387، وأخرجه البخاري: 5666، 7217 بلفظ: ((فأستغفر لك وأدعو لك)) بدل: ((فھيأتك ودفنتك))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25626»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2387
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3101
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ: ( (مَا ضَرَّكِ لَوْ مُتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ، ثُمَّ صَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ) )
(دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ اگر تم مجھ سے قبل فوت جاؤ تو میں تم کو غسل دے کر کفن پہناؤں گا اور پھر تمہاری نمازِ جنازہ پڑھ کر تجھے دفن کروں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3101]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26433»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26433
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3102
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاءُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی تھیں: جس چیز کا مجھے بعد میں پتہ چلا، اگر اس کا پہلے پتہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3102]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه أبوداود: 3141، وابن ماجه: 1464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26837»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مکمل روایت آ گے آ رہی ہے، اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔ اس ضمن میں امام ابوحنیفہkکا یہ مسلک ہے کہ خاوند بیوی کو غسل نہیں دے سکتا، کیونکہ موت کی وجہ سے ان میں جدائی پیدا ہو جاتی ہے، یہی وجہ یہ ہے کہ بیوی کے مرنے کے بعد اس کی بہن اُس مرد کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه أبوداود: 3141
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ تَرْكِ غُسْلِ الشَّهِيدِ وَمَا جَاءَ فِيهِ
شہید کو غسل نہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3103
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: ( (زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ فَإِنِّي قَدْ شَهِدْتُّ عَلَيْهِمْ) ) ، فَكَانَ يُدْفَنُ الرَّجُلَانِ وَثَلَاثَةٌ فِي الْقَبْرِ الْوَاحِدِ، وَيُسْأَلُ أَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَأَ لِلْقُرْآنِ فَيُقَدَّمُونَهُ، قَالَ: فَدُفِنَ أَبِي وَعَمِّي يَوْمَئِذٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہداء پرمتوجہ ہوئے اور فرمایا: ان کو خون سمیت ڈھانپ دو، میں ان کے حق میں گواہی دوں گا۔)) پھر دو دو، تین تین آدمیوں کو ایک ایک قبر میں دفن کیا گیا اور دفن کے وقت یہ پوچھا جاتا ہے کہ ان میں سے کون زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہے، پھر اسے قبر میں مقدم کرتے تھے۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس روز میرے والد اور چچا کو ایک قبر میں دفن کیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3103]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1343، 1345، 1346، 1347، 1353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24059»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1343
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3104
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ قَالَ: ( (أَشْهَدُ عَلَى هَؤُلَاءِ، مَا مِنْ مَجْرُوحٍ جُرِحَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَدْمَى، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ، انْظُرُوا أَكْثَرَهُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، فَقَدِّمُوهُ أَمَامَهُمْ فِي الْقَبْرِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہدائے احد پر متوجہ ہوئے تو فرمایا: میں ان پر گواہ ہوں، جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہو گا، اس کا رنگ تو خون جیسا ہی ہو گا، لیکن خوشبو کستوری کی سی ہو گی۔ اب دیکھو! ان میں سے جس کو قرآن مجید زیادہ یاد ہو، اسے قبر میں آگے کی طرف رکھو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3104]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24058»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 258
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3105
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي قَتْلَى أُحُدٍ: ( (لَا تُغَسِّلُوهُمْ فَإِنَّ كُلَّ جُرْحٍ أَوْ كُلَّ دَمٍ يَفُوحُ مِسْكًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کے متعلق فرمایا: انہیں غسل نہ دو، کیونکہ قیامت کے دن ہر زخم یا ہر خون سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3105]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرج بنحوه البخاري: 1343، 1345، 1346، دون ذكر الجرح او الدم۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14238»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرج بنحوه البخاري: 1343
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3106
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُفِنَ فِي ثِيَابِهِ بِدِمَائِهِ وَلَمْ يُغَسَّلْ
عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں:میں موجود تھا، سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خون سمیت ان کے کپڑوں میں دفن کیا گیا اور ان کو غسل نہیں دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3106]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محبوب بن محرز ضعفه الدارقطني، وقال ابو حاتم: يكتب حديثه، وذكره ابن حبان في الثقات، وابراهيم بن عبد الله بن فروخ مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 531»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں کہ شہید سے اسلحہ وغیرہ اتار کر اس کو غسل دیئے بغیر اس کو اس کے کپڑوں میں کفن دے کر نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کر دیا جائے گا اور مجبوری کے وقت دو تین تین افراد کو ایک ایک قبر میں دفن کیا جا سکتا ہے، البتہ ان میںجو زیادہ قرآن مجید پڑھنے والا ہو، اسے قبلہ کی طرف مقدم کر کے رکھا جائے۔ لیکن شہید کی نماز جنازہ پڑھنا بھی درست ہے، دلائل درج ذیل ہیں: سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے اور آٹھ سالوں کے بعد احد والوں پر اسی طرح نماز پڑھی، جیسے میت پر پڑھتے، ایسے معلوم ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہیں، پھر منبر کی طرف پھرے۔ …۔ (بخاری، مسلم)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ صِفَةِ غُسْلِ الْمَيِّتِ
میت کو غسل دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ عَلَيْهَا السَّلَامُ، فَقَالَ: ( (اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْءًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي) ) ، قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: ( (أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ) ) ، قَالَ: وَقَالَتْ حَفْصَةُ قَالَ: ( (اغْسِلْنَهَا وَتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا) ) ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَ قُرُونٍ (زَادَتْ فِي رِوَايَةٍ) وَأَلْقَيْنَا خَلْفَهَا قَرْنَيْهَا وَنَاصِيَتَهَا
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ تین یا پانچ دفعہ غسل دو یا اگر ضرورت محسوس کرو تو اس سے زیادہ مرتبہ نہلا دو، البتہ آخری دفعہ میں کچھ کافور ملا لینا، پھر جب غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔ پس جب ہم غسل سے فارغ ہوئیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ازار کا کپڑا ہمیں دیا اور فرمایا: سب سے پہلے اس کو اس چادر میں لپیٹو۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے طاق یعنی تین یا پانچ یا سات دفعہ غسل دو۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے کنگھی کرکے ان کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک روایت میں ہیں: ہم نے ان کے سامنے والے اور جانبین کے بالوں کو پیچھے کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3107]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1253، 1254، 1258، ومسلم: 939، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21071»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تھیں، آٹھ سن ہجری کے اوائل میں ان کی وفات ہوئی تھی، اگرچہ بعض روایات سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ بدر میں مصروف تھے، اس وقت ان کی وفات ہوئی تھی۔ تین حصوں سے مراد تین مینڈھیاں ہیں، جیسا کہ دوسری روایات میں وضاحت کی گئی ہے۔ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کی بھی یہی رائے ہے، البتہ احناف کا خیال یہ ہے کہ عورت کے بالوں کو کھلا رکھ کراس کے چہرے پر اور پیچھے ڈال دیئے جائیں، لیکن اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کنگھی کر کے اس کی مینڈھیاں بنا دینی چاہئیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1253
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3108
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَخَذَ ابْنُ سِيرِينَ غُسْلَهُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: غَسَّلْنَا ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَغْسِلَهَا بِالسِّدْرِ ثَلَاثًا فَإِنْ أَنْجَزْتْ، وَإِلَّا فَخَمْسًا، فَإِنْ أَنْجَزْتْ وَإِلَّا فَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَرَأَيْنَا أَنَّ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ سَبْعٌ
قتادہ کہتے ہیں: ابن سیرین نے غسل کا طریقہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے سیکھا تھا وہ کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دینے کا ارادہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے بیری کے پتے ملے ہوئے پانی سے تین بار غسل دیں، اگر اچھی طرح صفائی ہو جائے تو ٹھیک، ورنہ پانچ مرتبہ غسل دیں۔ اگر اس سے صفائی ہو جائے تو ٹھیک، وگرنہ اس سے زیادہ مرتبہ غسل دیں۔سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمارا خیال ہے کہ پانچ سے زیادہ مرتبہ سے مراد سات مرتبہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3108]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21081»
وضاحت: فوائد: … سنن ابی داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَوْ سَبْعًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَالِکَ اِنْ رَأَیْتُنَّہٗ۔)) یعنی: ”یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو، اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو۔“ان احادیث سے معلوم ہوا کہ کم از کم تین دفعہ غسل دینا ضروری ہے، اگر ضرورت ہو تو اس سے زیادہ دفعہ بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن طاق عدد کا خیال رکھنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21081
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں