الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأِحْدَادِ عَلَى الْمَيِّتِ
میت پر سوگ منانے کا بیان
حدیث نمبر: 3090
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لِأُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ، فَمَسَحَتْ بِذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ: إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لِشَيْءٍ سَمِعْتُ (وَفِي رِوَايَةٍ: لِأَنَّ) رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةً وَعَشْرًا) )
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ایک رشتہ دار فوت ہو گیا، انہوں نے خوشبو منگوا کر بازوؤں پر لگائی اور کہا:میں نے خاص وجہ کی بنا پر ایسے کیا اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دنوں سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے، ماسوائے خاوند کے، کہ اس کے لیے چار ماہ دس دن (سوگ ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3090]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5339، ومسلم: 1486، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27302»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5339
حدیث نمبر: 3091
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دنوں سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے، ماسوائے خاوند کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3091]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط مسلم أخرجه عن عائشة مسلم:1491، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24092، 26454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26986»
الحكم على الحديث:
اسناده علي شرط مسلم أخرجه عن عائشة مسلم:1491
حدیث نمبر: 3092
وَعَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِثْلُهُ (وَزَادَتْ بَعْدَ"إِلَّا عَلَى زَوْجٍ": ( (فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا) )
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ إِلَّا زَوْجٍ کے الفاظ کے بعد یہ الفاظ ہیں: پس وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3092]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1490، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26985»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1490
حدیث نمبر: 3093
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تُحِدَّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا عَصْبًا، وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ طُهْرِهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا نُبَذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ) )
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت کسی میت پر تین دنوں سے زیادہ سوگ نہ منائے، سوائے خاوند پر، اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی، اس دوران وہ رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے،لیکن رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے، سرمہ نہ لگائے، خوشبو استعمال نہ کرے، مگر جب ایام حیض سے پاک ہو تو تب تھوڑی سی قسط یا اظفار کی خوشبو استعمال کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3093]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5342، ومسلم: ص 1128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21075»
وضاحت: فوائد: … سنن ابوداود اور سنن نسائی کی روایت میں ((وَلَاتَخْتَضِبْ)) (اور مہندی نہ لگائے) اور سنن نسائی کی روایت میں ((وَلَا تَمْتَشِطْ)) (اور کنگھی بھی نہ کرے۔) کے الفاظ کی زیادتی ہے۔ اس حدیث میں سوگ منانے والی خاتون کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔ ”لیکن رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے۔“ اس سے مراد وہ کپڑا ہے جس کی بنائی ہی رنگین دھاگوں سے کی گئی ہو۔ آج کل عام طور پر خواتین ان شرائط کی قطعی طور پر کوئی لحاظ نہیں کرتی، جبکہ اس معاملے میں درج ذیل حدیث سے سختی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5342
حدیث نمبر: 3094
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ مِنْ قَتْلِ جَعْفَرٍ، فَقَالَ: ( (لَا تُحِدِّي بَعْدَ يَوْمِكِ هَذَا) )
سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیّدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تیسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد سوگ نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3094]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث اختلف في وصله وارساله، وارسالُه اصح، لكن صححه الامام احمد وقال ابن حجر: قوي الاسناد۔ أخرجه ابن حبان: 3148، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 369، والبيھقي: 7/ 438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27083، 27468 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27623»
الحكم على الحديث:
ھذا حديث اختلف في وصله وارساله
حدیث نمبر: 3095
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (قُومِي الْبَسِي ثَوْبَ الْحِدَادِ ثَلَاثًا، ثُمَّ اصْنَعِي مَا شِئْتِ) ) ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَكَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ مِثْلَهُ
(دوسری سند)وہ کہتی ہیں: جب سیّدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا سانحہ پیش آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا، اٹھو! تین دن کے لیے سوگ کا لباس پہن لو، اس کے بعد جو چاہو کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3095]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28015»
وضاحت: فوائد: … سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بالاتفاق سیّدنا جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ لیکن سابقہ احادیث میں بیوی کو چار ماہ دس دن سوگ میں رہنے کا حکم دیا گیا اور اس حدیث میں صرف تین دن کا، اس تضاد کو کیسے دور کیا جائے؟ یا اس کی کیا وجہ ہے؟ مختلف شارحین نے مختلف جوابات دیئے ہیں:
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28015
19. باب
میت کو غسل دینے کے مسائل
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: Q3069]
20. بَابُ مَنْ بُلِيَ وَرِفْقِهِ بِهِ وَسَتْرِهِ عَلَيْهِ وَثَوَابِ ذَلِكَ
میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے¤اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 3096
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ، وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا يَكُونُ مِنْهُ عِنْدَ ذَلِكَ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) ) ، وَقَالَ: ( (لِيَلِيهِ أَقْرَبُكُمْ مِنْهُ، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ، فَإِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ فَمَنْ تَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ وَأَمَانَةٍ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کو غسل دے، (اس سلسلہ کے تمام امور کی) ادائیگی میں امانت کا خیال رکھے اور میت کی (پردہ والی اور ناپسندیدہ چیزوں کا) افشا نہ کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میت کا قریبی رشتہ دار اس کے امور کا ذمہ دار بنے، بشرطیکہ اسے (ان امور کا) علم ہو، وگرنہ جس کو تم تقوے اور امانت والا سمجھو (اس کو یہ ذمہ داری سونپ دو)۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3096]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، ويحيي الجزارُ لم يذكروا له سماعا من عائشة أخرجه الطبراني في ’’الأوسط‘‘: 3599، والبيھقي: 3/ 396، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24881 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25393»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي
حدیث نمبر: 3097
عَنْ صَالِحٍ أَبِي حُجَيْرٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ خُدَيْجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَتَبِعَهُ وَوَلِيَ جُثَّتَهُ، رَجَعَ مَغْفُورًا لَهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: لَيْسَ بِمَرْفُوعٍ
صحابی ٔ رسول سیّدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو شخص میت کو غسل اور کفن دے، پھر اس کے ساتھ جائے اور اس کے دفن کا اہتمام کرے تو بخشا بخشایا واپس آئے گا۔ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: یہ مرفوع نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3097]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال صالح أبي حجير بن حجير، ثم ان في سماع ثابت من صالح شكا، أشار اليه ابوزرعة العراقي في ’’ذيل الكاشف‘‘ أخرجه البخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 4/ 275، وابن سعد: 7/ 503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27800»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث حکماً مرفوع ہے، کیونکہ ایسی بات اپنی رائے سے نہیں کہی جا سکتی۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال صالح أبي حجير بن حجير
حدیث نمبر: 3098
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَبَضَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَحَفَرُوا لَهُ وَأَلْحَدُوا لَهُ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ عَلَيْهِ اللَّبِنَ ثُمَّ خَرَجُوا مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ، ثُمَّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ! هَذِهِ سُنَّتُكُمْ
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فرشتوں نے آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کیا، پھر ان کو غسل دے کر کفن پہنایا اور خوشبو لگائی، بعد ازاں ان کی قبر کھودی اور لحد تیار کی۔ پھران کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کی قبر میں داخل ہوئے اور ان کو قبر میں اتار دیا، پھر اس پر اینٹیں رکھ کرقبر سے باہر آئے اور اس پر مٹی ڈال کر کہا: اے بنی آدم! تمہارے لیے مردوں کو دفن کرنے کا یہ طریقہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3098]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث طويل، اسناده ضعيف، عتي بن ضمرة السعدي يضعف فيما يتفرد به لجھالته، وان وثقه بعضھم أخرجه الحاكم: 2/ 545، والطبراني في ’’الأوسط‘‘: 8257، والطيالسي: 549، وابن ابي شيبة: 3/ 243، والبيھقي: 3/ 404، وبعضھم يختصره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21560»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو موقوف اور ضعیف ہے، لیکن ہماری شریعت میں کفن و دفن کا یہی انداز مشروع ہے۔
الحكم على الحديث:
ھذا حديث طويل