الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَابِ وُصُولِ ثَوَابِ الْقَرِيبِ الْمُهْدَاةِ إِلَى الْمَوْتَى
وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
حدیث نمبر: 3292
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ، أَفَيُجْزِي عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ) )
سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میری والدہ فوت ہو گئی ہے، جبکہ ان پر ایک نذر بھی تھی، اب اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو ان کو کفایت کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی ماں کی طرف سے آزاد کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3292]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2761، 6698، ومسلم: 1638 لكن جعلاه من مسند ابن عباس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1893، 23846 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24347»
وضاحت: فوائد: … ان کی ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2761
حدیث نمبر: 3293
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ، وَإِنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً، وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: ( (أَمَّا أَبُوكَ فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَلِكَ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عاص بن وائل نے جاہلیت میں سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی، (پھر وہ مر گیا اوراس کے ایک بیٹے) ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ ذبح کر دیئے، لیکن سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کیا ہوتا اور پھر تم اس کی طرف سے روزے رکھتے اور صدقہ کرتے تو اسے اس کا فائدہ ہوتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3293]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6704»
وضاحت: فوائد: … عاص کے دو بیٹے ہشام اور عمرو تھے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفر پر مرنے والے کو نیک عمل کوئی فائدہ نہیں دیتا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2883
حدیث نمبر: 3294
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ، فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میرے والد فوت ہو گئے ہیں اور انھوں نے مال تو چھوڑا ہے، لیکن کوئی وصیت نہیں کی، تو کیاان کی طرف سے میرا صدقہ کرناان کے گناہوں کا کفارہ بن سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3294]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8828»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1630
حدیث نمبر: 3295
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غُلَامًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (أُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ؟) ) ، قَالَ: لَا، قَالَ: ( (فَأَمْسِكْ عَلَيْكَ حُلِيَّ أُمِّكَ) )
سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ سوال کیا: میری والدہ کچھ زیورات چھوڑ کر فوت ہو گئی ہیں، تو کیا میں یہ زیورات ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہاری والدہ نے تمہیں اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنی ماں کے زیورات کو اپنے پاس ہی رکھو (اور صدقہ نہ کر)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3295]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ومتنه منكر، ابن لھيعة سييء الحفظ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 17/ 772، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17356، 17437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17573»
وضاحت: فوائد: … چونکہ یہ آدمی خود زیادہ محتاج تھا، اس لیے یہ جس مال کا وارث بنا، اسے اپنے پاس رکھنے کا حکم دیا گیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3296
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَاسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ وَاقْرَؤُهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ) )
سیّدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ یس، قرآن کریم کا دل ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے گھر کا ارادہ کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرتا ہے، اسے بخش دیا جاتا ہے، اور اپنے قریب الموت لوگوں پر بھی اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3296]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل وأبيه أخرجه ابوداود: 3121، وابن ماجه: 1448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20300، 20301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20566»
وضاحت: فوائد: … شریعت ِ مطہرہ کا اصل قانون یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی نیکی اور برائی کا خود ذمہ دار ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَائَ فَعَلَیْھَا} (سورۂ فصلت: ۴۶)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرجل وأبيه أخرجه ابوداود: 3121
30. باب
عذاب قبر کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: Q3297]
31. بَابُ مَا جَاءَ فِي هَوْلِ الْقَبْرِ وَفِتْنَتِهِ وَالسُّؤَالِ فِيهِ وَشِدَّتِهِ
قبر کی ہولناکی، آزمائش، اس میں کیے جانے والا سوال اور اس کی سختی کا بیان
حدیث نمبر: 3297
عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْقَبْرُ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ فَإِنْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ) ) ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَاللَّهِ! مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ) )
سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ہانی کہتے ہیں کہ جب سیّدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ ان کی داڑھی تر ہو جاتی، کسی نے ان سے کہا: آپ جنت اور دوزخ کا ذکر بھی کرتے ہیں، لیکن اس وقت تو اتنا نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر اس قدر روتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: قبر آخرت کی منازل میں سب سے پہلی منزل ہے، اگر کوئی آدمی اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بعد والے مراحل اس سے زیادہ آسان ہو جائیں گے، لیکن اگر کوئی شخص اس سے ہی نجات نہ پا سکا تو بعد والے مراحل اس سے مشکل ہوں گے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے جب بھی (اللہ کے عذاب کے) مناظر دیکھے تو قبر کا منظر سب سے ہولناک پایا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3297]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 4267، والترمذي: 2308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 454»
وضاحت: فوائد: … قبر، آخرت کی پہلی منزل ہے اور ہر قبر والے کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ حشر کے میدان میں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاء گا، آنے والی دوسری حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ جنتی پر قبر میں جنت اور دوزخی پر دوزخ پیش کی جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 4267
حدیث نمبر: 3298
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فَتَّانَ الْقُبُورِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَتُرَدُّ عَلَيْنَا عُقُولُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (نَعَمْ كَهَيْئَتِكُمُ الْيَوْمَ) ) ، فَقَالَ عُمَرُ: بِفِيهِ الْحَجَرُ
سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے فَتَّان (فرشتوں) کا ذکر کیا، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیا وہاں ہماری عقلیں لوٹا دی جائیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل آج کی طرح۔ تو سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے منہ میں پتھر۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3298]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 3115، الطبراني في ’’الكبير‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6603»
وضاحت: فوائد: … ”فَتَّان“ سے مراد قبر میں فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے فرشتے ہیں۔ ”اس کے منہ میں پتھر“ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ ان الفاظ کے ذریعے اپنے دل میں ایمان کے رسوخ کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ جب فرشتے قبر میں ان سے سوال کریں گے تو وہ ان کو ایسا درست جواب دیں گے کہ وہ خاموش ہو جائیں گے۔ عرب لوگوں کے ہاں یہ الفاظ سائل کو خاموش کر دینے سے کنایہ ہیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 3115
حدیث نمبر: 3299
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا يُعْرَضُ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ إِلَيْهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی پر (قبر میں) میں صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہو تو اہلِ جنت کا اور اگر وہ جہنمی ہے تو اہل جہنم کا، اور اس سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قیامت کے روز جب تجھے اٹھایا جائے گا تو یہ تیرا ٹھکانہ ہوگا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3299]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6515، ومسلم: 2866، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4658، 5119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4658»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6515
حدیث نمبر: 3300
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَإِذَا الْإِنْسَانُ دُفِنَ فَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ مَلَكٌ، فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ فَأَقْعَدَهُ قَالَ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلُكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ لَهُ: اسْكُنْ وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ (وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا) يَقُولُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَيَقُولُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ، ثُمَّ يُفْتَحُ بَابٌ إِلَى جَنَّةٍ فَيَقُولُ: هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ بِهِ هَذَا وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ، ثُمَّ يَقْمَعُهُ قَمْعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ) ) ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَحَدٌ يَقُومُ عَلَيْهِ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ إِلَّا هَبَلَ عِنْدَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ}
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازہ میں شریک تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اس امت کو قبروں میں آزمایا جاتا ہے، جب انسان کو دفن کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے جدا ہوتے ہیں تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے، وہ اس میت کو بٹھا کر پوچھتا ہے: تم اس آدمی (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ اگر وہ مومن ہو تووہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ یہ سن کر فرشتہ اس سے کہتا ہے: تم نے سچ کہا۔ پھر اس میت کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور فرشتہ اسے کہتا ہے: اگر تم نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہوتا تو تمہارا یہ ٹھکانہ ہوتا، مگر اب تم مومن ہو، اس لیے تمہارا ٹھکانہ یہ ہے، اتنے میں اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دیاجاتا ہے اور جب وہ میت ادھر کو اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتہ اس سے کہتا ہے: (اِدھر ہی) سکون اختیار کرو، پھر اس کے لیے اس کی قبر کو وسیع کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر میت کافر یا منافق ہو تو فرشتہ اس سے پوچھتا ہے: تو اس ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے:میں تو کچھ نہیں جانتا، البتہ لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنتا تھا، فرشتہ کہتا ہے: تو نے نہ سمجھا، نہ پڑھا اور نہ ہی ہدایت پائی۔اس کے بعد اس کے لیے جنت کی طرف سے دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور وہ فرشتہ اس سے کہتا ہے: اگر تو اپنے رب پر ایمان لاتاتو تیرا ٹھکانا یہ ہوتا، مگر تو نے چونکہ اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے اس کے متبادل ایک اور ٹھکانا تیار کیا ہے، اتنے میں اس کے لیے جہنم کی طرف سے دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ فرشتہ اس کو گرز کی ایک زبردست ضرب لگاتا ہے، جس کی آواز کو جن و انس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سنتی ہے۔ یہ حدیث سن کر کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب فرشتہ ہاتھ میں گرز لے کر کسی آدمی کے ساتھ کھڑا ہو گا تو وہ تو حواس باختہ ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا یہ آیت پڑھی:: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو کلمۂ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3300]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 872، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11013»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے شروع میں مذکور امت سے مراد ہر وہ مسلمان اور کافر ہے، جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچی ہو۔ پوری آیت یہ ہے: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمُنْوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظَّالِمِیْنَ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: ” اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں صحیح بات پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے۔“ مومن کو پہلے جہنم والا اور کافرو منافق کو پہلے جنت والا ٹھکانہ دکھانے کی وجہ یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرے اور زیادہ خوش ہو اور کافر کی حسرت میں اضافہ ہو۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 872