🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ زَكَاةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
سونے اور چاندی کی زکوۃ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3406
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ) )
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پانچ وسق سے کم کھجوروں پر کوئی زکوۃ نہیں، چاندی کے پانچ اوقیوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3406]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1405، 1447، ومسلم: 979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11030، 11819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11841»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1405
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3407
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي جَمَعَ فِيهِ فَرَائِضَ الصَّدَقَةِ، قَالَ: ( (وَفِي الرِّقَاقِ رُبُعُ الْعُشُورِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنِ الْمَالُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریر، جو نصاب ِ زکوۃ پر مشتمل تھی، میں یہ بھی تھا: چاندی میں چالیسواں حصہ زکوۃ فرض ہے، اگر چاندی ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں زکوۃ فرض نہیں، ہاں اگر اس کا مالک چاہے تو ٹھیک ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3407]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث طويل أخرجه البخاري مفرقا: 1448، 1450، 1451، 1453، 2487، 3106، 5878، 6955(اانظر: 72 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 72»
وضاحت: فوائد: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ چاندی کا نصاب پانچ اوقیے ہے، ایک اوقیہ (۴۰) درہم کا ہوتا ہے، اس طرح پانچ اوقیوں کا وزن (۲۰۰) درہم اور (۲۰۰) درہم کا وزن ساڑھے باون تولے بنتا ہے۔

الحكم على الحديث:
ھذا حديث طويل أخرجه البخاري مفرقا: 1448
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب
کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: Q3408]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ زَكَاةِ الزَّرْعِ وَالثِّمَارِ
کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3408
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سَقَتِ السَّانِيَةُ نِصْفُ الْعُشْرِ) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس (کھیتی کو) آسمان اور چشمے سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو اونٹ سیراب کریں، اس میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3408]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 981، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14666 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14721»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 981
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3409
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (فِيمَا سَقَتِ الْأَنْهَارُ وَالْغَيْمُ الْعُشُورُ وَفِيمَا سَقَتِ السَّانِيَةُ نِصْفُ الْعُشْرِ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس زمین کو نہریں اور بادل سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو اونٹ سیراب کریں، اس میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3409]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14722»
وضاحت: فوائد: … ہمارے ہاں عام طور پر فصلوں کی زکوۃ کو زکوۃ نہیں کہا جاتا، بلکہ ”عشر“ کہا جاتا ہے، حالانکہ ”عشر“ اور ”نصف العشر“ یعنی دسویں اور بیسویں حصے میں زکوۃ کی مقدار بیان کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14722
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3410
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ فَفِيهِ الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ وَالدَّالِيَةِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ) ) ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَحَدَّثْتُ أَبِي بِحَدِيثِ عُثْمَانَ عَنْ جَرِيرٍ فَأَنْكَرَهُ جِدًّا وَكَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ لِضَعْفِهِ عِنْدَهُ وَإِنْكَارِهِ لِحَدِيثِهِ
سیدناعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس (کھیتی) کو آسمان سیراب کریں، اس میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس کو ڈول اور اونٹ سے سیراب کیا جائے، اس میں بیسواں حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3410]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح أخرجه البزار: 690، 691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1240»
وضاحت: فوائد: … یہ تینوں احادیث اس اعتبار سے انتہائی قابل غور ہیں کہ آج کل عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ نہری علاقے کی فصل کا بیسواں حصہ اور بارانی علاقے کی فصل کا دسواں حصہ زکوۃ میں دیا جائے۔ لیکن ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چشموں اور نہروں اور دریاؤں سے سیراب ہونے والی فصلوں کی شرح زکوۃ بھی دسواں حصہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دسویں اور بیسویں حصے کا دارومدار فصلوں کو پانی پلانے کیلئے کی گئی محنت پر ہے اگر آبپاشی کے لیے چرخی اور رہٹ استعمال کیا جائے یابالٹی سے پانی نکالا جائے یا سواریوں پر پانی لاد کر فصلوں کو سیراب کیا جائے، تو ایسی فصل کا بیسواں حصہ زکوۃ میں ادا کیا جائے گا۔ اگر ٹیوب ویلیا ٹربائن وغیرہ کو استعمال کیا جائے یا مزدوروں کے ذریعے زمین کو سیراب کیا جائے تو اس کا بھی بیسویں حصے والا معاملہ ہو گا، کیونکہیہ محنت کا متبادل ہیں، جسے پیسہ خرچ کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔
اب اگر کوئی زمین کسی نہر یا چشمے کے اتنے قریب ہے کہ پانی حاصل کرنے کے لیے کوئی بڑی محنت نہیں کرنا پڑتی، بلکہ زمیندار کی صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پانی کو اپنی زمین میں پھیر لے، تو ایسے زمین کی پیداوار کا دسواں حصہ ادا کرنا پڑے گا، کیونکہ مذکورہ بالا احادیثمیں جن نہروں اور چشموں کا ذکر کیا گیا ہے، ان سے زمین کو سیراب کرنے کے لیے بھی اتنی محنت تو کرنی پڑتی ہے، یہاں اس امر کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ زمیندار لوگ نہری پانی کے عوض میں جو قیمت ادا کرتے ہیں، اس کی مقدار اتنی معمولی ہوتی ہے کہ زکوۃ کے دسویںیا بیسویں حصے کے ساتھ اس کا تعلق نہیں جوڑا جا سکتا، مثلا ۲۰۱۲؁ءمیں مجھے ایک زمیندار نے بتایا کہ وہ ایک سال میں پچاس روپے فی ایکڑ نہر کا معاملہ ادا کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی زمین، نہر سے اتنی دور ہے کہ اس سے زمین تک پانی پہنچانے کے لیے کھالوں وغیرہ کی تیاری کی صورت میں بڑی محنت درکار ہے تو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ ادا کیا جائے گا۔مشینری، کھاد، سپرے، ملازموں یا موچیوں اور حجاموں کی اجرتوں وغیرہ جیسی سہولیات اور امور کا زکوۃ کے دسویںیا بیسویں حصے سے قطعی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح أخرجه البزار: 690
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3411
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (فصل) پر، پانچ اوقیوں سے کم (چاندی) پر اور پانچ اونٹوں سے کم پر کوئی زکوۃ نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3411]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9210»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3412
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلَا حَبٍّ صَدَقَةٌ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم کھجور اور اناج پر زکوۃ نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3412]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11953»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 979
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3413
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک وسق میں (۶۰) صاع ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3413]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو البختري لم يسمع من ابي سعيد، ولضعف شريك أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11807»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3414
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ مَخْتُومًا) )
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (فصل) پر کوئی زکوۃ نہیں ہے اور ایک وسق ساٹھ مہرزدہ صاع کا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3414]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: ((والوسق ستون مختوما)) وھذا اسناد منقطع، انظر الحديث بالطريق الاول أخرجه ابوداود: 1559، وابن ماجه: 1832، والنسائي: 5/ 40، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11564 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11585»
وضاحت: فوائد: اس صاع کے اوپر والے حصے پر امراء کی طرف سے مہر لگائی جاتی تھی، تاکہ اس کی مقدار کو کم یا زیادہ نہ کر دیا جائے۔ زمین سے فصلیں پیدا کرکے انسان کو رزق مہیا کرنا اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس احسان کا بدلہ یوں طلب کیا ہے کہ زرعی پیدا وار کا دسواںیا بیسواں حصہ بطورِ زکوۃ اس کی راہ میں دیا جائے، جو پیدا ہونے والی کل فصل کے مقابلے میں انتہائی کم مقدار ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فصل میں زکوۃ کو لاگو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانچ وسق ہو، اس کو نصابِ زکوۃ کہتے ہیں، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں (۶۰) صاع ہوتے ہیں، اس طرح پانچ اوساق کی کل مقدار (۳۰۰)صاع ہوگئی، جبکہ ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے، اس طرح پانچ وسق کا کل وزن پندرہ من اورتیس کلو گرام بن جاتا ہے، معلوم ہوا کہ فصلوں کا نصابِ زکوۃ (۱۵) من اور (۳۰) کلو گرام ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: ((والوسق ستون مختوما)) وھذا اسناد منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں