🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّكَازِ وَالْمَعْدِنِ
رِکاز اور کان کی زکوٰۃ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3425
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا إِلَى خَرِبَةٍ، يَقْضِي حَاجَتَهُ، فَتَنَاوَلَ لَبِنَةً لِيَسْتَطِيبَ بِهَا فَانْهَارَتْ عَلَيْهِ تِبْرًا، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، قَالَ: زِنْهَا فَوَزَنَهَا، فَإِذَا مِائَتَا دِرْهَمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: هَذَا رِكَازٌ، وَفِيهِ الْخُمْسُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف گئے، ہمارا ایک ساتھی قضائے حاجت کے لئے ایک ویرانے کی طرف گیا، جب اس نے استنجاء کرنے کے لئے ایک اینٹ اٹھائی تو اسے وہاں سے سونے کی ایک ڈلی ملی،اس نے وہ اٹھا لی اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اور ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلا دی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا وزن کرو۔ اس نے وزن کیا تو وہ دو سو درہم کی ہوئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ رکاز ہے اور اس میں خُمُس یعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3425]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن زيد۔ أخرجه البزار 893، والبيھقي: 4/155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12323»
وضاحت: فوائد: … رِکاز کی تعریف میں اختلاف پایا جاتا ہے: جمہور، امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک اس سے مراد دورِ جاہلیت کا زمین میں مدفون خزانہ ہے، جو بغیر کسی محنت و مشقت کے حاصل ہو جاتا ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام ثوری کے نزدیک اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا زمین میں پیدا کیا ہوا اصلی حالت میں معدنیات کا ذخیرہ ہے۔ ابن اثیر اور صاحب قاموس نے رکاز کے یہ دونوں معانی ذکر کیے ہیں، ظاہر بات ہے کہ کسی ایک معنی کا تعین کرنا ضروری ہے۔ جمہور کا مسلک راجح معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ شیخ البانی نے کہا: لغت میں دونوں معنے مراد ہیں، لیکن شرعا صرف جاہلیت کا دفینہ مراد ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے۔ (تمام المنۃ: ص ۳۷۶) تیسرے نمبر پر آنے والی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کییہ حدیث اور اس کی شرح ملاحظہ فرمائیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن زيد۔ أخرجه البزار 893
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3426
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (فِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ؟) ) فَقَالَ: نَعَمْ
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ رِکاز میں خمس یعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3426]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن لھيعة،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14657»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3427
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رِکاز میں پانچواں حصہ زکوٰۃ کا فیصلہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3427]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 225، والطبراني: 11726، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2870 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2870»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 225
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3428
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواں رائیگاں ہے، کان ضائع ہے اور جانور بھی رائیگاں ہے اور رِکاز میں پانچواں حصہ زکوۃ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3428]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2355، ومسلم: 1710، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7120»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے اگر کسی آدمی کو کسی کے کنویں، کان اور چوپائے سے کوئی نقصان پہنچ جائے، جبکہ اصل مالک کا اس میں کوئی دخل نہ ہو، تو وہ مالک اس کے نقصان سے بری ہو گا۔
صحیح بخاری کی حدیث (۱۴۹۹) میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:
((اَلْعَجْمَائُ جُبَارٌ،وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ۔))
اس مسلک کی تائید کرتے ہوئے کہ رکاز اور کان میں فرق ہے، شارح ابوداود امام عظیم آبادی کہتے ہیں: نبی کریم کے الفاظ ”وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ“ (کان ضائع ہے اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔) میں ”اَلْمَعْدِنُ“ پر ”اَلرِّکَاز“ کا عطف ڈالا گیا اور دونوں کا علیحدہ علیحدہ حکم بیان کیا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک کان، رکاز نہیں ہے، بلکہ یہ دو مختلف اور متغایر چیزیں ہیں۔ اگر کان، رکاز ہی ہوتی تو حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یوں ہوتے: ”وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِیْہِ الْخُمْسُ“۔ لیکن چونکہ یہ الفاظ نہیں کہے گئے، اس لیے اس سے یہ ظاہر ہوا کہ رکاز اور کان دو الگ الگ چیزیں ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ عطف مغایرت پر دلالت کرتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واؤ عاطفہ کے ذریعے کان اور رکاز میں فرق کرنا، اس میں جمہور کے حق میں دلیل پائی جاتی ہے، سو ثابت ہوا کہ کان اور چیز ہے اور رکاز اور چیز ہے۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۳۹۷)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رکاز میںپانچواں حصہ زکوۃ ہے۔ رہا مسئلہ کان کا، تو اس کے بارے میں کسی صحیح حدیث کی روشنی میں کوئی خاص حکم نہیں ہے، جو چیز کان سے نکلے گی، اس کو دیکھ کر اس کی زکوۃ کافیصلہ کیا جائے، لیکن اس پر ایک سال کے گزر جانے کی شرط بھی ہو گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2355
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب
زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: Q3429]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ الْمُبَادَرَةِ إِلَى إِخْرَاجِهَا وَتَعْجِيلِهَا قَبْلَ حُلُولِهَا وَدُعَاءِ الْإِمَامِ لِمُعْطِيهَا
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3429
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا، فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ، قَالَ: ( (ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا، فَأَمَرْتُ بِقَسْمِهِ) )
۔ سیدناعقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی، سلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے اٹھ کر اپنی ایک بیوی کے گھر تشریف لے گئے اور پھر واپس آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا کہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلدی کی وجہ سے تعجب ہوا ہے،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوران نماز مجھے یاد آیا کہ ہمارے ہاں سونے کی ایک ڈلی موجود ہے، مجھے یہ ناپسند لگا کہ شام ہو جائے یا رات گزر جائے اور یہ ہمارے پاس ہی ہو، اس لیے میں اسے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3429]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 851، 1430، 1221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19646»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیر کے امور سرانجام دینے میں جلدی کرنی چاہیے، اس طرح سے بندہ پہلی فرصت میں اپنی ذمہ داری سے خلاصی حاصل کر لیتا ہے، دوسروں کی ضرورت جلدی پوری ہو جاتی ہے اور خواہ مخواہ کے ٹال مٹول سے بھی انسان محفوظ رہ جاتا ہے اور آفات اور موانع کے درپے ہو جانے کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 851
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3430
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا فرض ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3430]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1624، وابن ماجه: 1795، والترمذي: 678، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 822»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زکوۃ وقت سے پہلے ادا کی جا سکتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1624
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3431
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا نَقَمَ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهُوَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناعمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا، انہوں نے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بتلایا کہ سیدنا ابن جمیل، سیدنا خالد بن ولید اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدناعباس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن جمیل نے تو انکار نہیں کیا مگر اس وجہ سے کہ وہ پہلے تنگ دست تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے خوشحال کر دیا ہے، البتہ تم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر زیادتی کرتے ہو، اس نے تواپنی زرہیں اور (سارا جنگی سامان) اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ہے، اور رہا مسئلہ عباس رضی اللہ عنہ کا تو ان کے حصے کی زکوۃ، بلکہ ایک گنا مزید مجھ پر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ انسان کا چچا اس کے والد کی مانند ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3431]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1468، ومسلم: 983، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8267»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین افراد کے بارے میں یہ شکایت کی کہ انھوں نے زکوۃ ادا نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں جو جوابات دیئے، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابن جمیل رضی اللہ عنہ نے نعمت کی قدر نہیں کی اور احسان کے مقابلے میں انھوں نے اچھا کردار پیش نہیں کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف سیدنا ابن جمیل رضی اللہ عنہ کی مذمت کرنے پر اکتفا کیوں کیا اور عملاً ان سے زکوۃ وصول کیوں نہیں کی، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ اس وقت تک قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ جب تک ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے متعلقہ یہ بات سن کر خود باز آ گئے ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ رہا مسئلہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا تو ان کے بارے میں راجح قول کے مطابق دو تاویلوں کا امکان ہے: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ذمہ داری قبول کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ انھوں نے زکوۃ ادا نہیں کی، لیکن اب میں اس کی ضمانت دیتا ہوں، کیونکہ وہ میرے چچا ہیں اور چچا باپ کی طرح ہی ہوتا ہے۔ (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی ضرورت کی وجہ سے سیدناعباس رضی اللہ عنہ سے وقت سے پہلے دو سالوں کی زکوۃ لے لی تھی، لیکن اس تاویل پر دلالت کرنے والی جتنی احادیث ہیں، ان میں سے ہر ایک میں کوئی نہ کوئی ضعف پایا جاتا ہے، اگر تمام سندوں کے مجموعہ کو دیکھا جائے تو دوسری تاویل قوی معلوم ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے فتح الباری: ۳ /۴۲۶کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شکایت کے مطابق سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا زکوۃ ادا نہ کرنا، اس کی بھی دو تاویلیں ہو سکتی ہیں: (۱) سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی زکوۃ کی قیمت سے جہاد کیلئے اسلحہ اور دوسرے آلاتِ حرب خرید لیے تھے، جہاد بھی مصارف ِ زکوۃ میں سے ہے، اور اس ضمن میں انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لی ہو گی کہ وہ زکوۃ کے معاملے میں اپنا حساب کتاب خود کر لیا کریں گے۔ (۲) سرے سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و متاع اللہ کے راستے میں وقف کر رکھا تھا، لیکن زکوۃ لینے والوں کو اس چیز کا علم نہیں تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1468
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3432
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ: مَا تَرَوْنَ فِي فَضْلٍ فَضَلَ عِنْدَنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! قَدْ شَغَلْنَاكَ عَنْ أَهْلِكَ وَضَيْعَتِكَ وَتِجَارَتِكَ فَهُوَ لَكَ، فَقَالَ لِي: مَا تَقُولُ أَنْتَ، فَقُلْتُ: قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ لِي: قُلْ، فَقُلْتُ: لِمَ تَجْعَلُ يَقِينَكَ ظَنًّا، فَقَالَ: لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، فَقُلْتُ: أَجَلْ وَاللَّهِ! لَأَخْرُجَنَّ مِنْهُ أَتَذَكَّرُ حِينَ بَعَثَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا فَأَتَيْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَمَنَعَكَ صَدَقَتَهُ فَكَانَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ، فَقُلْتَ لِي: انْطَلِقْ مَعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَا هُ خَاثِرًا، فَرَجَعْنَا، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَيْهِ فَوَجَدْنَاهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَأَخْبَرْتَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ لَكَ: ( (أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ) ) ، وَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ خُثُوئِهِ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ وَالَّذِي رَأَيْنَا مِنْ طِيبِ نَفْسِهِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي، فَقَالَ إِنَّكُمَا أَتَيْتُمَانِي فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ وَقَدْ بَقِيَ عِنْدِي مِنَ الصَّدَقَةِ دِينَارَانِ، فَكَانَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ خُثُوئِي لَهُ، وَأَتَيْتُمَانِي الْيَوْمَ وَقَدْ وَجَّهْتُهُمَا غَدًا، فَذَلِكَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ طِيبِ نَفْسِي، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَدَقْتَ وَاللَّهِ، لَا أَشْكُرَنَّ لَكَ الْأُوْلَى وَالْآخِرَةَ
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: (صدقہ کا) جو مال ہمارے پاس بچ گیا ہے، اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم نے آپ کو آپ کے اہل و عیال، کاروبار اور تجارت سے مصروف کر دیا ہے، اس لیےیہ مال آپ اپنے پاس رکھ لیں۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے مجھ (علی) سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: لوگ آپ کو ایک چیز کا اشارہ کر چکے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا: آپ بھی کچھ کہو۔ میں نے کہا: آپ اپنے یقین کو گمان میں کیوں تبدیل کرتے ہیں؟انہوں نے کہا: تمہیں کھل کر بات کرنا ہو گی۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے، وضاحت سے عرض کرتا ہوں، کیا آپ کو یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے بھیجا تھا، جب آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اورآپ کے اور ان کے درمیان چپقلش بھی ہو گئی تھی۔ آپ نے مجھ سے کہا تھا: میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک چلو۔ پس ہم گئے لیکن جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پریشان حال دیکھا تو ہم واپس لوٹ گئے،جب ہم دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تو آپ کو ہم نے مطمئن اور خوش گوارپایا۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدناعباس رضی اللہ عنہ کی بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چچا والد کی ہی مانند ہوتا ہے۔ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے دن کی پریشانی اور دوسرے دن کی خوشگواری کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: جب تم کل میرے پاس آئے تھے تو اس وقت میرے پاس صدقہ کے دو دینار بچے ہوئے تھے، میں ان کی وجہ سے پریشان تھا، جبکہ آج صبح ہی میں ان کو تقسیم کر چکا تھا، اس لیے تمہاری آمد پر خوش گوار اور مطمئن لگ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے بالکل درست کہا، میں اول و آخر آپ کا شکر گزار ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3432]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو البختري لم يدرك عليا۔ أخرجه الترمذي: 3760، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 725»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نظریہیہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو اس وقت تک انشراحِ صدر نہیں ہوا تھا، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو دینار باقی تھے، اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھییہی زیب دیتا تھا کہ وہ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں اول و آخر آپ کا شکر گزار ہوں۔“ اس قول میں ”اول“ سے مراد یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ بقیہ مال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی اپنے پاس رکھ لیں اور ”آخر“ سے مراد یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک دلیل بیان کرنے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو دیناروں والی بات یاد کرا دی۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے مسئول لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا اندازہ لگا لینا چاہیے، چہ جائیکہ وہ ایسی امانتوں کو ذاتی جائیداد کی طرح ہڑپ کر جائیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3433
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أُحُدًا عِنْدِي ذَهَبًا لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَأْتِي عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، أَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنِّي، لَيْسَ شَيْءًا أَرْصُدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَيَّ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور مجھ سے قبول کرنے والے مستحق لوگ بھی دستیاب ہوں تو میں چاہوں گا کہ تین راتوں سے پہلے پہلے وہ سارا خرچ کر دوں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی باقی نہ رہے، ما سوائے اس کے کہ میں جس کو اپنا قرضہ اتارنے کے لئے بچا رکھوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3433]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8180»
وضاحت: فوائد: … اس میں خیر و بھلائی کے امور میں پہلی فرصت میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7228
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں